63

نابالغ بچے کے احرام کی پہننے کی صورتیں

نابالغ بچے کے احرام کی پہننے کی صورتیں

سوال: السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاتہ، اگر والد بچے کی طرف سے احرام کی نیت کرے تو جو اپنے لئے طواف اور سعی کی، اسی میں بچے کی طرف سے بھی نیت کی جا سکتی ہے یا الگ سے طواف اور سعی کرنی چاہیے؟جزاک اللہ خیر

جواب: نابالغ بچوں کی تین قسمیں ہیں:1_سمجھ دار بچے جوخود نیت کرسکتے ہوں اور تلبیہ بھی پڑھ سکتے ہوں اور افعال حج وعمرہ اداکرنے کی سمجھ رکھتے ہوں، ایسے بچے بالغ افراد کی طرح خود طواف وغیرہ اداکریں گے اور ان کی طرف سے ولی یعنی والد وغیرہ کا ادا کرنادرست نہیں ہوگا۔2_ایسے بچے جو سمجھ دار ہوں، مگر افعال حج وعمرہ خود ادا نہیں کرسکتے ہوں تو ایسے بچوں کو ولی گود میں اٹھائےگا اور ہرایک اپنے طواف کی نیت کرےگا۔3_ناسمجھ بچے ایسے بچوں کو ولی یعنی والد وغیرہ گود میں اٹھائےگا اور دونوں( اپنے اوربچے)کی طرف سے طواف کرے گا اور ایک ہی طواف دونوں کی طرف سے کافی ہوگا، چاہےولی یعنی والد۔وغیرہ نے بچے کی طرف سے نیت کی ہو یا نہ کی ہو۔

“واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

دارالافتاء الاخلاص، کراچی”

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں