60

نبی کریمﷺ کی پسندگوشت

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ وَ کَفٰی وَ سَلٰمٌ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی. اَمَّا بَعْدُ:
فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّ جِیْمِ o بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْمِ o
وَلَحْمِ طَیْرٍ مِّمَّا یَشْتَہُوْنَ (الواقعہ: 21)
الَلّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَامُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِ نَامُحَمَّدٍوَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ
الَلّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَامُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِ نَامُحَمَّدٍوَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ
الَلّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَامُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِ نَامُحَمَّدٍوَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ

حضورپاکﷺ کی زندگی ہمارے لئے اسوئہ حسنہ ہے۔ قیامت تک کے آنے والے انسانوں کے لئے اسوئہ حسنہ ہے۔ حضورِپاکﷺ کی زندگی کا ہر ہر عمل ہمارے لئے مشعلِ راہ ہے۔ حضور پاکﷺ کی زبانِ مبارک سے نکلے ہوئے الفاظ میں سے قیامت تک ہیرے اور موتی نکلتےچلے جائیں گے۔
افضل نعمتیں اور افضل اعمال:
حضور پاکﷺ افضل الانبیاء ہیں۔ اللہ رب العزت نے ہر نبی کو بہترین نعمتیں عطا فرمائیں ہیں، لیکن نبی کریمﷺ کو جو نعمتیں عطا فرمائیں وہ سب سے اعلیٰ ہیں۔ مختلف انبیاء کو کتابیں ملیں لیکن جو کتاب آقاﷺ کو ملی وہ سب کتابوں سے اعلیٰ ہے، اسی طرح حضورﷺ کو جو چیز عطا فرمائی گئی وہ سب سے اعلیٰ ہے۔ ہر نبی کو امت ملی لیکن نبی کو خیر الامم ملی امتوں میں سے جوسب سے بہترین امت تھی وہ ملی، تو نبیکو اللہ رب العزت نے ہرچیز بہترین عطا فرمائی۔ کسی بھی چیز میں کمپرو مائز (Compromise)نہیں کیا کہ کسی دوسرے نبی کو آقاسے بڑھ کے کوئی چیز مل گئی ہو۔ باقی انبیاء کو بہترین نعمتیں ملیں، لیکن نبی کو اُن سے بھی بڑھ کر نعمتیں ملیں۔
اسی طرح نبی کو اعمال میں سے افضل اعمال ملے۔ آپﷺ کا زکوٰۃ کو ادا کرنا، آپﷺ کا نماز کا پڑھنا، آپﷺ کا حج اداکرنا اور باقی کا اہتمام کرنا گذشتہ تمام انبیاء کے اعمال کو جامع ہے، تو حضور پاکﷺ کو جو دین ملاوہ تمام ادیان کا سردار ہے۔ پچھلی امتوں کو بھی دین ملا، لیکن نبی کو کامل دین ملا، اکمل دین ملا۔
جنت میں جانے کا واحد راستہ:
قیامت تک کے لیے جنت میں جانے کا ایک ہی راستہ ہے، اور وہ کون سا ہے؟ صرف اور صرف نبی کریمﷺ کے طریقے پر چلنا۔ جو نبی کریمﷺ کے راستے پر چلتا چلا جائے گاانشاء اللہ جنت میں پہنچ جائے گا۔ ایک بزرگ گزرے ہیں حضرت حکیم اختر ان کا ایک بہت ہی پیارا شعر ہے، فرماتے ہیں:
نقشِ قدم نبیؐ کے ہیں جنت کے راستے
اللہ سے ملاتے ہیں سنت کے راستے
سبحان اللہ! کتنا پیارا شعر ہے۔ اگر ہم سنت پر عمل کرنا شروع کردیں گے تو یقیناً اللہ تعالیٰ سے ہماری ملاقات قیامت کے دن اس حال میں ہوگی کہ اللہ ہم سے راضی ہوں گے۔ اگر ہم چاہیں کہ اللہ ہم سے راضی ہوجائے تو ایک ہی طریقہ ہے کہ سنتوں کے اوپر اپنی زندگی کو لے آئیں۔ یہی وہ طریقہ ہے جس سے پتا چل سکے گا کہ اللہ ہم سے راضی ہے یا نہیں۔ اگر سنتوں پر عمل ہے تو یہ اللہ کے راضی ہونے کی نشانی ہے نہیں ہے تو ناراض ہونے کی نشانی ہے۔
علمائے کرام کی دینی خدمات کا ایک نمونہ:
علمائے امت نے دین کی نشرو اشاعت کے لیے بہت بڑے بڑے کام کیے ہیں۔ ایک کتاب لکھی گئی شمائلِ کبریٰ، بہت عظیم کتاب ہے اس میں نبی کریمﷺ کی زندگی کی اداؤں کو جمع کیا گیا ہے۔ آپﷺ کھانا کیسے کھاتے تھے، آپﷺ پانی کیسے پیتے تھے، آپﷺ سوتے کیسے تھے، جاگتے کیسے تھے۔ کھانوں میں کیا پسند تھا؟ لوگوں کے ساتھ رہن سہن کیسا تھا، قرض کے معاملے میں کیا برتاؤ تھا، تجارت میں صداقت کیسی تھی، تمام معاملات کو بہت پیارے انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ اور آج ایسا زمانہ آگیا ہے کہ کتابیں پڑھنے کا وقت بھی نہیں اور وقت سے زیادہ شوق بھی نہیں۔
کھانے میں آپﷺ کی پسند:
آج کی اس مبارک مجلس میں اس بات کو بیان کیا جارہا ہے کہ رسول اکرمﷺ کھانے میں کس چیز کو زیادہ پسند فرماتے تھے۔ کھانا پینا ہماری زندگی کا ایک حصہ ہے اگر ایک یہی کام سنت کے مطابق ہوجائے تو کیا بات ہے۔ دیکھا جائے تو ایک طرف بشری ضرورت، بشری تقاضے کو پورا کیا جارہا ہے لیکن چوں کہ اللہ تعالیٰ کے محبوب کی ادا پر پورا کیا جارہا ہے اس لیے یہ بشری ضرورت بھی ہے عبادت بن جائے گی۔
اپنی پسند کو سنت کے مطابق بنائیے:
بہت سارے لوگ سامان خریدتے ہیں، سودا خریدتے ہیں تو وہ چیز یں خرید لیں جو سنت کے مطابق ہوں، جو نبی کوپسند ہیں۔ کھانا تو کھائیں گے لیکن سنت کا ثواب بھی مل جائے گا۔ نبی نے ارشاد فرمایا کہ جس نے امت کے بگاڑ کے وقت میری ایک سنت کو زندہ کیا، پروردگارِ عالم اس کو 100شہیدوں کے برابر اجرو ثواب عطا فرمائیں گے۔ اب کھانا پینا تو ہمارا روز مرہ کا کام ہے اگر ہم اس کو تھوڑا سا سیکھ اور سمجھ لیں سنت کے مطابق کرلیں تو بتائیں کہ عبادت بھی ہوگئی اور کھانا بھی ہوگیا۔
کھانوں کا سردار:
حضرت انس فرماتے ہیں کہ نبی نے ارشاد فرمایا کہ بہترین سالن گوشت ہے جو سالنوں کا سردار ہے۔ (کنز العمال، جلد19صفحہ204)
ایک حدیث میں فرمایا کہ دنیا اور آخرت کے کھانوں کا سردار گوشت ہے۔
(مجمع الزوائد، جلد5صفحہ 38)
ایک روایت میں ہے کہ نبی کریمﷺ گوشت کے ہدیے کو یا گوشت کی دعوت کو رد نہ فرماتے بلکہ قبول فرمالیا کرتے تھے۔ (ابن ماجہ:جلد2صفحہ 241)
قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے:
وَلَحْمِ طَیْرٍ مِّمَّا یَشْتَہُوْنَ (الواقعہ: 21)
’’ترجمہ: اور پرندوں کا گوشت جس قسم کا ان کا(جنتیوں کا) جی چاہے‘‘۔
تو گوشت کھانا سنت ہےاور اس کی دعوت کو قبول کرنا یا ہدیہ میں قبول کرنا یہ بھی سنت مبارکہ ہے۔
اتباع سنت کی نیت:
گوشت تو پکے گاہی لیکن آج تک ہمیں اس بات کا پتا نہیں تھا تو ہم نے اس میں اتباع سنت کی نیت نہیں کی تھی، اب ہم گوشت کھائیں تو اس نیت سے کہ اللہ کے نبیﷺ کو بھی پسند تھا۔ پھر دیکھیں ان شاء اللہ گوشت کی برکتیں اللہ رب العزت عطا فرمائیں گے۔
آپﷺ کی چاہت:
نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اگر میں چاہتا کہ مجھے روزانہ گوشت ملے تو میں نوازا جاتا اور اللہ رب العزت میری اس چاہت کو قبول فرمالیتے، لیکن میں نے نہیں چاہا۔
علماء نے لکھا ہے کہ گوشت کھانا گوشت کو ہی بڑھاتا ہے یعنی گوشت کھانا انسان کے گوشت کو ہی بڑھاتا ہے۔
کثرتِ گوشت نقصان دہ ہے:
مگر یہ خیال رہے کہ جہاں اس کے فوائد ہیں وہاں اس کی کثرت سے نقصانات بھی ہیں۔ ابن قیم نے لکھا ہے کہ انسان روزانہ گوشت کا استعمال نہ کرے، اس سے خون کے امراض پیدا ہوجاتے ہیں۔ اور فرمایا کہ جو شخص چالیس دن تک گوشت ہی گوشت کھائے اس کا دل سخت ہوجاتا ہے، اسی وجہ سے نبی کریمﷺ اسے ناغہ کرکے کھاتے تھے۔
(مواہب، جلد4 صفحہ427)
یعنی اپنی جسمانی صحت میں اعتدال رکھے، کبھی گوشت کھائے تو کبھی باقی اللہ کی نعمتوں کو بھی کھائے۔
ہدیہ کو قبول کرنا تو نبی کی سنت ہے۔
گوشت میں آپﷺ کی پسند:
اب گوشت کے اندر کونسا گوشت آپﷺ کو پسند تھا۔ نبی کو دستی کا گوشت پسند تھا۔
(شمائل ترمذی، جلد2صفحہ 12)
ایک روایت میں ہے کہ نبی کی خدمت میں گوشت لایا گیا، دست یعنی دستی آپﷺ کے سامنے رکھی گئی، یہ آپﷺ کو بہت پسند تھی تو آپ اس کو اپنے دانت مبارک سے نوچ کر کھانے لگے۔ (بخاری، صفحہ 814،ابن ماجہ، جلد2صفحہ 241)
اور ایک روایت میں ہے کہ نبی کو ہڈی دار گوشت میں دست کاگوشت بہت مرغوب تھا یعنی بکری کی دستی۔ (ابو داؤد، صفحہ530)
نبی کے بارے میں امی عائشہ فرماتی ہیں کہ نبی کو دستی بہت مرغوب تھی، لیکن آپ کے یہاں روزانہ گوشت نہیں ہوتا تھا۔ آپﷺ دستی کو پسند فرماتے تھے۔ کیونکہ دستی کا گوشت جلدی پک جاتا ہے۔ (شمائل ترمذی، صفحہ12)
اہم نکتہ:
ام المؤمنین بتارہی ہیں کہ نبی دستی کے گوشت کو کیوں پسند فرماتے تھے؟ کیوں کہ جلدی پک جاتا ہے۔ اس بات میں بھی ہمارے لی ایک (Massege)ہے کہ ہم کھانا وہ پکائیں جو جلدی پک جایا کرے۔ ایساکھانا کہ جس میں گھنٹوں تیاری میں لگ گئے تو دین کا کام بندہ کب کرے گا؟ اس لیے ہم بھی یہ کوشش کریں کہ اپنے یہاں ایسا کھانا تیار کریںجس میں وقت زیادہ نہ لگےتاکہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لیے زیادہ وقت مل سکے۔
آپﷺ کا اپنی پسند کے اظہار کا ایک انداز:
ایک اور حدیث میں آتا ہے کہ حضورِ پاکﷺ کے لیے ہانڈی میں گوشت پکایا گیا۔ آپﷺ کو چوں کہ دستی کا گوشت زیادہ پسند تھاتو ایک صحابی کہتے ہیں کہ میں نے ایک دستی نبی کے سامنے پیش کی اور باقی گوشت ہانڈی میں رکھا ہوا تھا۔نبی نے وہ نوش فرمائی اور نبی نے نوش فرمانے کے بعد ایک اور طلب کی، فرماتے ہیں کہ میں نے دوسری نکالی اور وہ بھی نبی کے سامنے پیش کردی، پھر نبی نے تیسری مرتبہ طلب فرمایا کہ نکالو! تو فرماتے ہیں کہ میں نے کہا کہ اے اللہ کے نبی! بکری کے اندر تو دو ہی دست ہوتے ہیں۔ تو فرمایا کہ اس ذات کی قسم جس کے اختیار میں میری جان ہے! اگر تم چپ رہتے اور انکار نہ کرتے، میں طلب کرتا رہتا تم ہانڈی سے نکالتے رہتے تو ہانڈی سے دستیاں نکلتی رہتیں۔ (شمائل ترمذی، صفحہ12)
ہمارے لیے سبق:
فائدہ میں لکھتے ہیں کہ اگر یہ صحابی آپﷺ کے کہنے پر ہانڈی میں دست دیکھتے یعنی تلاش کرتے تو نکالتے ہی رہتے اور یہ آپﷺ کا معجزہ ہوتا اور انہوں نے انکار کردیا جس کی وجہ سے یہ معجزہ نہ ہوا۔ اس سے کیا معلوم ہوا کہ بڑوں کی بات پر قیاس سے کام نہ لے۔ جو بڑے کہہ رہے ہیں محض تعمیل کرے، خاموشی کے ساتھ بلا چوںو چراں جس طرح کہتے چلے جائیں کرتا چلا جائے۔ اپنی عقل کو استعمال نہ کرے شریعت کے دائرے میں رہتے ہوئے ان کی بات کو مانے، البتہ وہ اگر کوئی ایساحکم دیں جو اللہ تعالیٰ اور اس رسولﷺ کے خلاف رہو تو پھر تعمیل نہ کرے۔ (خصائل، صفحہ832)
آپﷺ کا ایک معجزہ:
حضرت ابو ہریرہ کے پاس ایک تھیلے میں کھجوریں تھیں۔ نبی نے اور ان کے صحابہ کو کسی غزوے کے موقع پر یہ معاملہ پیش آیا کہ کھانے کے لیے کچھ بھی میسر نہ تھا سوائے حضرت ابوہریرہ کی اس تھیلی کے۔ نبی نے ان سے پوچھا: کچھ کھانے کو ہے؟ انہوں نے عرض کیا اے اللہ کے نبی! چند کھجوریں اس تھیلی میں رکھی ہوئی ہیں ۔ نبی نے اپنے دست مبارک سے اس تھیلی میں سے کھجوریں نکال لیں اور ان کو پھیلا دیا وہ کل 21 کھجوریں تھیں۔ آپﷺ نے ہر کھجور پر بسم اللہ پڑھی اور دعا پڑھی اور دعا کرنے کے بعد کہا کہ ابو ہریرہ تم جاؤ اور دس دس لوگوں کو بلاتے رہو، اور کھلاتے رہو۔ دس دس آدمی آتے رہے اور دسترخوان پہ بیٹھ کے کھجوریں کھاتے رہے اور پورا لشکر فارغ ہوگیا۔ اس کے بعد جو کھجوریں بچیں، اُن کے بارے میں نبی نے فرمایا کہ ابو ہریرہ! اپنی تھیلی میں واپس رکھ دو، اور خیال رکھنا تھیلی میں سے کھجوریں نکالتے رہنا کبھی اس کو اُلٹ کر پورا خالی نہ کرنا۔ چنانچہ حضرت ابوہریرہ کے پاس وہ تھیلی رہتی تھی اور حضرت ابوہریرہ تھیلی میں سے کھجوریں نکال کر خود بھی کھاتے اور اس میں سے صدقہ بھی کرتے، اوروں کو بھی کھلاتے تھے ،فرماتے ہیں کہ نبی کی زندگی میں وہ تھیلی میرے پاس رہی میں کھاتا رہا، اُن کے بعد حضرت صدیقِ اکبر

کی زندگی میں میرے پاس رہی میں کھاتا رہا، کھلاتا رہا۔ اُن کے بعد حضرت عمر فاروق کی زندگی میں رہی میں کھاتا رہا، کھلاتا رہا۔
فرماتے ہیں کہ پھر حضرت عثمان غنی کا دورِ خلافت گیارہ سال کا رہا، تو اُن کی شہادت کے وقت حادثے میں کسی نے مجھ سے وہ تھیلی چھین لی اور وہ مجھ سے دور ہوگئی۔ تقریباً پچیس سال کے قریب وہ اس تھیلی سے نکال کرکھاتے رہے اور کھلاتے رہے، جو ابتداء میں دانے تھے وہ سالوں چلے۔ حضرت ابوہریرہ نے جب اپنے شاگردوں کو یہ واقعہ سنایا تو پوچھا کہ کیا تم جانتے ہو کہ میں نے اس میں سے کتنی کھجوریں کھائے ہوں گی؟ انہوں نے عرض کیا: انہوں نے عرض کیا ہمیں نہیں معلوم فرمایا کہ دو سو وسق سے زیادہ۔ (ایک وسق دو سوچالیس کلو گرام ہوتا ہے تو دو وسق اڑتالیس ہزار کلو گرام ہوا اور فرمارہے ہیں کہ اس سے بھی زیادہ اس سے کھجوریں نکالی ہیں۔) (خصائل، صفحہ 832)
آپﷺ کا ایک اور معجزہ:
اسی طرح ایک اور واقعہ بڑا عجیب ہے ۔ حضرت انس خادمِ رسولﷺ تھے، وہ فرماتے ہیں کہ حضور اقدسﷺ کا ولیمہ تھا۔ اس میں میری امی نے ایک ملیدہ تیار کیا اور پیالہ میرے ہاتھ نبی کی خدمت میں بھیجا، جب وہ پیالہ لے کر میں پہنچا، نبی نے اس کو دیکھ کر فرمایا کہ انس! اس پیالہ کو نیچے رکھ دو، اور فلاں فلاں کو بلاؤ اور اس کے علاوہ جو تم کو ملتا چلا جائے سب کو بلالو،آج ولیمہ کی دعوت ہورہی ہے۔ چنانچہ میں گیا اور جن لوگوں کو نبی نے کہا تھا کہ اُن کو بلاؤ، اُن کو بھی بلایا اور جو جو مجھے ملتا گیا سب کو کہتا رہا۔ کہ آئیے۔ حتیٰ کہ نبی کے تمام مکانات ازواجِ مطہرات کے رہنے کی جگہ اور اہلِ صفہ کے رہنے کی جگہ سب کی سب آدمیوں سے پُر ہوگئی، حضور اقدسﷺ نے ارشاد فرمایا کہ دس، دس آدمی اس پیالہ کے گرد حلقہ بناکر بیٹھ جائیں۔ پیالہ ایک ہے دس آدمی اس کے گرد حلقہ بنا کر بیٹھیں اور کھاتے رہیں۔ چنانچہ دس، دس آدمی آتے رہے اس پیالہ میں سے کھاتے رہے جب پیٹ بھر جاتا اُٹھ جاتے، پھر دوسری جماعت دس آدمیوں کی آتی وہ بیٹھتی وہ کھاتی اور جب وہ جاتی تیسری جماعت آتی حتیٰ کہ ہر آدمی نے کھانا کھالیا۔ جب سب فارغ ہوگئے تو حضورِ پاکﷺ نے مجھ سے ارشاد فرمایا کہ انس! اس پیالہ کو واپس اُٹھالو۔ حضرت انس فرماتے ہیں کہ میں نہیں کہہ سکتا کہ وہ پیالہ ابتدا میں زیادہ بھرا ہوا تھا یا آخر میں سب کے کھانے کے بعد جب میں نے اُٹھایا تو اس وقت زیادہ بھرا ہوا تھا۔ تو یہ نبی کے معجزات تھے۔
غیر بھی آپﷺ کی پسند سے واقف اور ہم؟
جیسا کہ ابھی یہ بات سامنے آئی کہ حضور پاکﷺ کو دستی کا گوشت مرغوب تھا، اور اسی میں آپﷺ کو زہر دیا گیا۔ (شمائل، صفحہ 12)
فتح خیبر کے وقت ایک یہودی عورت کو جب معلوم ہوا کہ آپﷺ کو دستی کا گوشت خوب مرغوب ہے، تو اُس نے بکری کو بھونا اور اس میں زہر ڈال دیا اور خصوصاً دستی میں زیادہ ڈالا اور نبی کے سامنے پیش کیا۔ نبی نے لقمہ منہ میں رکھا، لیکن ابھی نگلنے کی نوبت نہیں آئی یا ہلکا سا کچھ اثر اندر گیا، آپﷺ نے اس کو تھوک دیا اور ارشاد فرمایا کہ گوشت نے مجھے اطلاع دی ہے کہ اس میں زہر ہے۔ لیکن اس کا کچھ نہ کچھ اثر اندر پہنچ گیا تھا جو کبھی کبھی نبی کے اوپر تکلیف کا باعث بن جاتا تھا۔ اور اسی زہر نے حضورِ پاکﷺ کے وصال (دنیا سے پردہ کر جانے کے وقت) اپنے اثر کو زیادہ دکھایا اور نبی کی شہادت کا ذریعہ بنا۔ (خصائل نبویﷺ،130)
پیٹھ کا گوشت:
ایک تو دستی کے گوشت کی بات ہوگئی۔ اس کے علاوہ حدیث میں آتا ہے کہ نبی نے فرمایاکہ پیٹھ کا گوشت بہت بہترین گوشت ہے۔
اور ایک حدیث میں آتا ہے کہ عبداللہ ابن جعفرi سے منقول ہے کہ آپﷺ نے فرمایا کہ پیٹھ کا گوشت تم پر لازم ہے کہ وہ اچھا ہوتا ہے۔(مجمع ، جلد5صفحہ39)
ہمارے یہاں کی ایک مثال ہے۔ کہتے ہیں کہ ’’لے آویں پٹھ ورنہ آجاویں اُٹھ‘‘ یعنی اگر تم قصائی کی دُکان پر جاؤ اور تمہیں پٹھ کا گوشت ملے تو لے آنا، وہ نہ ملے تو واپس آجانا کچھ اور نہ لے کر آنا۔
شانے کا گوشت :
حضرت عبداللہ بن عباس سے روایت ہے کہ آپﷺ کا پسندیدہ گوشت شانے کا تھا۔ (سیرۃ، جلد7صفحہ 290)
ایک صحابی عمر بن امیہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کے ہاتھ میں دیکھا کہ شانے کا گوشت ہے اور آپﷺ اُسے کاٹ کر کھا رہے ہیں۔ (بخاری، جلد2صفحہ814)
گردن کا گوشت:
یہ بھی نبی کو پسند تھا۔چنانچہ ضباعہ بنت زبیر فرماتی ہیں کہ اُن کے گھر میں بکری ذبح کی گئی تو نبی نے پیغام بھیجا کہ اپنی بکری میں سے ہمیں بھی کچھ کھلاؤ جب قاصد وہاں گیا تو انہوں نے کہا کہ بھئی! سب کچھ تو استعمال ہوگیا، اب سوائے گردن کے اور کچھ بھی باقی نہیں، مجھے لحاظ معلوم ہوتا ہے کہمیں یہ نبی کے پاس بھیجوں۔ قاصد نبی کے پاس واپس آیا اور یہ بات بتائی تو آپﷺ نے فرمایا کہ جاؤ اور ضباعہسے کہو کہ بھیج دو کہ گردن جانور کا اگلا حصہ ہے، ہر اچھائی سے قریب ہے گندگی سے دور ہے۔ (شرح مواہب، جلد4 صفحہ329)
یعنی کہ اگلا حصہ ہر اچھائی سے قریب ہے۔ پیشاب، یا پاخانہ کی گندگی سے دور ہے معلوم ہوا کہ دست، پیٹھ، شانہ اور گردن یہ چار قسم کے گوشت نبی کو پسند تھے۔
بھُنا ہوا گوشت:
اب ذرابار بی کیو کے بارے میں بھی بات ہوجائے۔ کچھ لوگ ہوتے ہیںجو بڑے شوق سے کھاتے ہیں۔ ایک صحابی عبداللہ بن حارث فرماتے ہیں کہ ہم نے نبی کے ساتھ بھُنا ہوا گوشت مسجد میں کھایا یعنی نبی بھی موجود تھے صحابہ بھی موجود تھے، تو سب نے بھُنا ہوا گوشت کھایا۔ (ابن ماجہ، جلد2صفحہ241)
حضرت مغیرہ بن شعبہ فرماتے ہیں کہ میں ایک رات حضورِ اقدسﷺ کے پاس مہمان ہوا، کھانے میں بھُنا ہوا گوشت لایا گیا اور حضورﷺ چاقو سے کاٹ کاٹ کر مجھے مرحمت فرمانے لگے۔ (شمائل ترمذی، صفحہ11)
غور کرنے کی بات ہے کہ اس دین میں کتنی اپنائیت ہے اور کسی آسانی ہے۔ اللہ اکبر کبیرا۔
صحابہکی آپﷺ سے محبت کا ایک انداز:
ایک حدیث میں آتا ہے حضرت جابر فرماتے ہیںکہ میرے والد نے مجھے حریرہ بنانے کا حکم دیا۔ میں نے حریرہ بنایا۔ پھر میرے والد نے کہا کہ دیکھو! حریرہ تیار ہوگیا ہو تو جاؤ، حضور پاکﷺ کی خدمت میں لے جاؤ، کہ آپﷺ اس کو کھالیں۔ چنانچہ میں اس کو لے کر آیا تو اس وقت نبی مسجد میں تھے۔ آپﷺ نے مجھ سے پوچھا کہ جابر! یہ کیا ہے؟ کیاگوشت لے کر آئے ہو؟میں نے عرض کی کہ نہیں اے اللہ کے نبی! یہ تو حریرہ ہے۔ بہرحال میں اپنے والد کے پاس آیا۔ انہوں نے مجھ سے کہا کہ حضورﷺ نے دیکھا تھا جو تم نے ہدیہ دیا تھا؟ تو میں نے کہا: جی ابا جان! انہوں نے دیکھا تو تھا، لیکن ایک بات پوچھی تھی کہ جابر! کیا تم گوشت لے کر آئے ہو؟ کیا لائے ہو؟ تو میں نے کہا تھا کہ نہیں یہ تو حریرہ ہے۔ والد صاحب کہنے لگے کہ اچھا! ہوسکتا ہے کہ نبی کو آج گوشت کی خواہش موجود ہے۔اب تم ایسا کرو، ہماری پالی ہوئی ایک بکری ہے۔ تم اس کو ذبح کردو۔ ذبح کرکے اس کو بھونو۔ جب بھون دیا گیا،پھر حکم دیا کہ رسول اللہﷺ کی خدمت میں بھنی ہوئی بکری لے جاؤ۔ آپﷺ کے پاس میں دوبارہ گیا تو نبی نے دوبارہ پوچھا کہ جابر یہ کیا ہے؟ میں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے نبی! میں آپ کے لئے بھُنا ہوا گوشت لے کر آیا ہوں۔ آپﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ میری طرف سے قبیلہ انصار کو بہترین جزادے اللہ اکبر۔ (نسائی، سیرۃ جلد،7صفحہ292)
صحابہ کرا کو نبی سے کتنی محبت تھی کہ آپﷺ کی خواہش کو بھانپ لیا کہ آپﷺ کو گوشت کی رغبت ہے حالانکہ آپﷺ نے صرف پوچھا تھا کہ کیا گوشت لائے ہو یا کچھ اور لائے ہو؟ اور اس میں خواہش کا کوئی اظہار نہیں تھا، لیکن محبت اور عشق کی وجہ سے حضرت جابر کے والد نے گھر کی پالی ہوئی ایک بکری ذبح کر ڈالی اور خدمت میں بھیج دی۔
بھنا ہوا گوشت اور وضو:
حضرت ام سلمہr فرماتی ہیں کہ انہوں نے پہلو کا بھنا ہوا گوشت حضور اکرمﷺ کی خدمت میں پیش کیا جسے آپﷺ نے تناول فرمایا۔ آپﷺ کا پہلے سے وضو تھا،اس لیے گوشت کھانے کے بعد آپﷺ نے دوبارہ وضو نہیں کیااورنماز پڑھی۔
(شمائل، طحاوی، جلد1صفحہ39)
روٹی کے بغیر صرف گوشت کھانا:
اہل عرب کی عادت تھی کہ وہ گوشت کو بڑے شوق سے روٹی کے بغیر کھایا کرتے تھے۔ اس لیے ایک روایت میں آتا ہے کہ حضور نبی کریمﷺ بھی کبھی بغیر روٹی کے صرف گوشت کھالیا کرتے تھے۔
گوشت کو محفوظ کرکے رکھنا:
ایک صحابی فرماتے ہیں کہ ہم لوگ نبی کے ساتھ سفر کی حالت میں تھے۔ ہم نے نبی کے لئے ایک بکری ذبح کی تو آپﷺ نے اس کو ٹھیک کرنے کا حکم دیا، یعنی فرمایا کہ اس کو نمک لگا کر سکھا کر رکھ لو۔ چنانچہ ہم نے اس گوشت کو نمک اور مصالحہ وغیرہ لگا کر رکھا اور مدینہ منورہ پہنچنے تک اس کو کھاتے رہے۔ (سنن اربعہ،مواہب جلد4صفحہ331)
گوشت کو اگر لمبے ٹکڑے کرکے اس میں نمک وغیرہ لگا کر سکھا لیا جائے، تو ایسا سوکھا ہوا گوشت کئی کئی ہفتے کھایا جاسکتاہے۔ یہ توکل اور زہد کے منافی نہیں ہے اور اس میں فریج کی بھی ضرورت نہیں رہتی۔ نبی نے قربانی کے گوشت کو بھی کئی کئی دن استعمال کیا ہے۔
(عینی جلد21صفحہ65)
بلکہ پندرہ دن تک ایک ایک مہینہ تک قربانی کے گوشت کو سنبھال کر رکھا۔ اوربخاری شریف میں امام بخاری نے باب القدید کے نام سے اس امر کے مسنون ہونے کی طرف اشارہ کیا ہے۔ (بخاری، باب القدید)
شوربہ دار گوشت:
حضرت انسفرماتے ہیں کہ ایک درزی نے آپﷺ کی کھانے کی دعوت کی۔ میں نبی کے ساتھ کھانے پر گیا وہاں جو کی روٹی تھی اور گوشت کا شوربہ تھا جس کے اندر لوکی یعنی گھیا پڑا ہوا تھا۔ جب کھانا شروع ہوا تو میں نے دیکھا کہ آپﷺ برتن کے چاروں طرف سے لوکی یعنی گھیے کو تلاش کررہے تھے۔ حضرت انس فرماتے ہیں کہ اس دن سے مجھے بھی لوکی سے محبت ہوگئی اور میں بھی لوکی رغبت سے کھانے لگا۔
(بخاری، جلد2صفحہ817)
دیکھیں! صحابہ کی محبت کیا تھی کہ جو چیز نبی کو پسند وہ ہمیں بھی پسند۔ مذکورہ واقعہ سے معلوم ہوا کہ نبی نے شوربے والا گوشت بھی استعمال فرمایا۔
ایثار کی تعلیم:
بعض دفعہ آپﷺ نے قربانی کے موقع پر بھی شوربے والا گوشت بنوایا، اور یہ بھنے ہوئے گوشت سے بہتر ہے، کیونکہ آپﷺ نے شوربہ پڑوسی کو دینے کی تاکید فرمائی ہے۔
(عینی، جلد21صفحہ64)
ایک حدیث میں آتا ہے کہ نبی نے فرمایاکہ تم میں سے جو گوشت خریدے اسے چاہیے کہ شوربہ زیادہ رکھے، پس اگر کوئی بوٹی نہ پائے گا تو شوربہ تو پاہی لے گا۔ اور آگے فرمایا کہ یہ بھی تو گوشت ہے۔ (ترمذی،جلد2صفحہ5)
یعنی گوشت کا پورا پورا اثر شوربہ کے اندر آجاتا ہے۔
شوربہ بڑھانا:
حضرت ابو ذر غفاریt فرماتے ہیں کہ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا کہ کسی نیک کام کو معمولی نہ سمجھو، اگر نیکی نہ کرسکو تو یہ بھی نیکی ہے کہ تم اپنے بھائی کو مسکراتے ہوئے ملو۔ اور فرمایا کہ جب گوشت خریدو تو شوربہ زیادہ رکھو اور اس میں سے اپنے پڑوسی کو بھیج دیا کرو۔
(ترمذی، جلد2صفحہ 5)
ایک اور روایت ہے کہ فرمایا کہ جب گوشت پکاؤ تو شوربہ زیادہ کرو۔ پانی ڈال دیا کرو، تاکہ پڑوسی کو بھیجنا آسان ہوجائے۔ (مجمع الزوائد، جلد5 صفحہ22)
کدو کے فوائد:
ایک حدیث میں آتا ہے نبی نے فرمایا کہ لوکی یعنی کدو کھاؤ۔ آگے فرمایا کہ اس سے زیادہ نفع دینے والا کوئی درخت ہوتا تو اللہ تعالیٰ حضرت یونس پر اس ہی کو اُگاتے۔ اور فرمایا کہ اگر تم میں سے کوئی شوربہ بنائے تو لوکی کا اضافہ کردے ، وہ عقل اور دماغ کو قوت دیتی ہے۔ (کنز العمال، جلد19صفحہ 202)
گھیا اور کدو نبیu نے فرمایا کہ اچھی چیز ہے۔ ایک حدیث میں آتا ہے کہ نبی نے شانے کی ہڈی کا گوشت منہ مبارک سے نوچ کر نوش فرمایا۔ (بخاری، جلد2صفحہ824)
ہڈی والا گوشت:
آپﷺ کو وہ ہڈی جس پر گوشت لگاہوا ہو، بہت مرغوب تھا۔ نہایت رغبت سے ہڈی پر سے گوشت نوچ کرتناول فرماتے۔ اکثر تو دانت سے نوچ کر کھاتے اور کبھی کبھی چاقو سے کاٹ کر بھی تناول فرماتے تھے۔ (شمائل، کبریٰ جلد1صفحہ 91)
بخاری شریف کی ایک روایت میں ہے کہ نبینے ہانڈی سے ہڈی دار گوشت کو نکالا اور اسے تناول فرمایا۔ (بخاری، جلد2صفحہ814)
غرض یہ کہ ہڈی دار گوشت نبی کو پسند تھا۔ ہم گوشت خریدیں تو ہڈی دار گوشت لیں کہ نبی کو ہڈی والا گوشت محبوب تھا۔
کلیجی:
اس کے علاوہ کلیجی یہ بھی نبیکو پسند تھی۔
حضرت ابو رافع فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کے لئے کلیجی بھونی اور نبی نے اسے نوش فرمایا اور (جب نماز کا وقت ہوا تو) نماز پڑھی۔(بخاری، مسلم، صفحہ 157، نسائی)
محمد بن منکدر فرماتے ہیں کہ میں ازواج مطہرات میں سے حضرت ام سلمہ کے پاس گیا،تو انہوں نے مجھے بتایا کہ ہمارے پاس حضورِ اکرمﷺ تشریف لائے اور ہمارے یہاں کلیجی اور دل وغیرہ لٹکے ہوئے تھے۔ آپﷺ نے فرمایا کہ اگر کلیجی ہمارے لیے پکا دو تو کتنا اچھا ہو، ہم اسے کھالیں۔ اُم سلمہ فرماتی ہیں کہ ہم نے اُسے پکا دیا اور آپﷺ نے اس کو کھایا۔ (طحاوی، جلد 1صفحہ 39)
تو کلیجی کھانا بھی سنت ہے۔ اب کلیجی قربانی کے موقع پر ہمارے یہاں کھائی جاتی ہے۔ یہ ایک عام رواج ہے۔ دارِ قطنی کی ایک حدیث میں ہے کہ قربانی کے جانوروں کی اولاً آپﷺ کلیجی ہی کھاتے تھے۔ (مواہب، جلد4صفحہ332)
ہمارے یہاں بھی الحمدللہ! جیسے ہی جانور صبح کو ذبح ہوجاتا ہے تو ذبح ہونے کے بعد سب سے پہلے کلیجی اس میں سے نکالی جاتی ہے اور اس کو تیار کرکے کھالیا جاتا ہے۔ اگر آسانی ہو اور بہت زیادہ تاخیر نہ ہورہی ہو تو اس طرح سے کھانا یہ مناسب ہے۔
قربانی کے گوشت کو بچا کر رکھنا:
یہ بات بھی نہایت اہم ہے کہ نبی ایک مہینہ تک بھی گوشت کو اپنے پاس رکھتے تھے۔ حضرت عائشہ سے قربانی کے گوشت کے متعلق سوال کیا گیا کہ کیا تین دن سے زیادہ اس کو رکھ سکتے ہیں؟ تو حضرت عائشہ نے فرمایا کہ ہم لوگ نبی کے لیے پائے ایک ماہ تک رکھتےجسے آپﷺ کھاتے تھے۔ (نسائی، جلد2صفحہ208)
تو یہاںسے پتا لگا کہ پائے کھانا بھی سنت ہے۔ پائے تو ہم کھاتےہی ہیں آگے پیچھے، لیکن یہ شاید آج معلوم ہوا ہو کہ پائے کھانا بھی سنت ہے۔ نبی گھر والے آپﷺ کے لیے قربانی کے جانور کے پائے رکھتے تھے اور ایک ماہ تک اس کا استعمال ہوتا رہتا تھا۔ ابن ماجہ کی روایت ہے امی عائشہ سے کہ ہم لوگ پائے اُٹھا کر رکھ دیتے تھے اور آپﷺ اُسے پندرہ یوم کے بعد تک کھاتے رہتے تھے۔ معلوم ہوا کہ قربانی کے گوشت کو کئی دن تک کھاتے رہنا یہ بھی نبی سے ثابت ہے اور یہ زہد وتوکل کے خلاف نہیں۔
(عمدۃ، جلد21صفحہ 56)
مغز اور گودا:
اس کے علاوہ مغز اور گودا، ہڈیوں کےاندر جوگودا ہوتا ہے۔ حضرت سعد بن عبادہ سے روایت ہے کہ میں نے ایک پیالہ مغز بھرا اور آپﷺ کی خدمت میں لایا تو نبی نے پوچھا کہ اے ابو ثابت! یہ کیا ہے؟ میں نےکہا کہ قسم ہے اس ذات کی جس نے آپﷺ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا! میں نے چالیس جانور ذبح کیے تو خواہش ہوئی کہ آپﷺ کو پیٹ بھر کر مغز کھلاؤں، تو پھر میں آپﷺ کے لیے لے کر حاضر ہوا ہوں۔ نبی نے اُسے نوش فرمایا اور میرے لیے خیر کی دعا کی۔ (سیرۃ الشامی، جلد7صفحہ 298)
صحابہ کرام اپنے گھر میں کوئی نعمت دیکھتے تو خوشی ہوتی اور اسے تو نبی کے لیے لے کر آیا کرتے تھے۔
اُونٹ کا گوشت:
جب نبی نے حج کے موقع پر قربانی کی تو 100 اونٹ ذبح ہوئے۔ 23اونٹ تو نبی نے اپنے مبارک ہاتھوں سے ذبح کیے وہ بھی ایک عجیب شام تھی کہ اونٹ آتے تھے اور نبی کو دیکھتے اور آپﷺ کے مبارک ہاتھوں میں خنجر دیکھتے اور اپنی گردن آگے بڑھا دیا کرتے کہ اے اللہ کے نبی! پہلے میں پہلے میں۔ تو 23اونٹ تو نبیu نے اپنے ہاتھوں سے ذبح کیے اور 37اونٹ حضرت علیt کے ہاتھوں سے ذبح ہوئے، تو نبی نے حج کے موقع پر اپنی طرف سے100 اونٹوں کی قربانی دی۔ اب جب100کے 100اونٹ قربان ہوگئے تو نبی نے فرمایا کہ ہر اونٹ سے تھوڑا تھوڑا سا گوشت لے لو جب سب میں سے تھوڑا تھوڑا گوشت لے لیا گیا اور اسے ہانڈی میں ڈال دیا گیا اور پکنے کے بعد سب نے گوشت کھایا اور اس کا گرم گرم شوربہ پیا۔ (مواہب، جلد4صفحہ 332)
یخنی اور شوربہ پینے کا ثبوت:
یہ جو چائے پینے والے لوگ ہیں، اُن کو حدیث سے تو کوئی دلیل تو ملتی نہیں، کہنے کو ملتا ہے کہ نبیu نے گرم گرم شوربہ پیا تھا۔ ہم اپنے نبیﷺ کی مبارک زندگی کو دیکھیں اور صحابہ کرامj کی زندگی کو دیکھیں۔ زندگی گزارنا آسان ہوجائے گا۔ ہماری زندگیاں تکلفات سے پُر ہیں نہ اگلا پتا نہ پچھلا۔ اس لیے ہمیں ان مبارک لوگوں کی مبارک زندگیوں کو دیکھ کر عمل کرنا چاہیے۔
مرغی کا گوشت:
حضرت ابو موسیٰ فرماتے ہیں، کہ میں نے نبی کو مرغی کا گوشت کھاتے دیکھا ہے۔
(بخاری، صفحہ829،مسلم)
حضرت عبداللہ بن عمر فرماتے ہیں کہ نبی جب مرغی کھانے کا ارادہ فرماتے تو چند یوم تک اُسے اپنے گھر میں باندھ کر رکھتے، پھر اس کے بعد کھاتے۔ مرغی کھانا بھی سنت ہے اور یہ نبی نےکھائی اور اس کو کھانا مناسب ہے،لیکن اس کے اندر ایک احتیاط یہ ہے کہ اگر مرغی گندگی وغیرہ کھاتی ہو اس کی غذا ٹھیک نہ ہو تو بہتر یہ ہے کہ تین دن تک اس کو باندھ کے اپنے پاس رکھا جائے، اُسے حلال پاک غذا دی جائے اور پھر اس کو استعمال کیا جائے ویسے یہ تھوڑا سا مشکل کام ہے۔ (شمائل کبریٰ، جلد1صفحہ 93)
خرگوش کا گوشت:
علامہ ابن قیم نے لکھا ہے کہ نبی نے خرگوش کا گوشت بھی کھایا۔
(زاد المعاد، جلد1صفحہ54)
نیل گائے:
اس کے علاوہ یہ بات حدیث شریف سے ملتی ہے کہ نبی نے نیل گائے کا گوشت بھی کھایا ہے۔ (مواہب، جلد4صفحہ 332)
حضرت ابوقتادہt فرماتے ہیں کہ میں مکہ کے کسی راستے میں رسول اکرمﷺ کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا اور آپﷺ ہمارے درمیان تشریف فرما تھے اور تمام لوگ احرام کی حالت میں تھے، میں محرم نہیں تھا۔ میں نے نگاہ اوپر کی تو میں نےنیل گائے کو دیکھ لیا۔ پھر میں گھوڑے پر سوار ہوا اور کوڑا اور نیزہ بھول گیا۔ میں نے لوگوں سے کہا کہ کوڑا مجھے پکڑا دو۔ انہوں نے کہا کہ خدا کی قسم! ہم تمہاری مدد نہیں کریں گے۔ کیوں کہ ہم حالت احرام میں ہیں۔ چنانچہ مجھے غصہ آیا میں اُترا میں نےنیزہ لیا سوار ہوا اور میں نے نیل گائے کو سخت وار کیا اور اس کے پیر کو کاٹ ڈالا اور اسے شکار کرکے لے آیا اب اس کی جان نکل چکی تھی، ہم سب نے نبی کے ساتھ مل کر اسے کھایا۔
حالت احرام سے متعلق ایک اہم مسئلہ:
اس کے اندر مسئلہ یہ ہے کہ محرم (جس نے احرام باندھ رکھا ہو) وہ شکار نہیں کرسکتا۔ ایک صحابی ایسے تھے جنہوں نے احرام نہیں باندھا ہوا تھا تو وہ شکار کرسکتے تھے جب انہوں نے شکار کو دیکھا گھوڑے پر سوار ہوئے اور بغیر نیزے کے تھے اس لیے انہوں نے باقی لوگوں سے کہا کہ بھئی! نیزہ مجھے پکڑاؤ، مگر لوگوں نے انکار کیا کہ ہم نہیں دے سکتے، کیونکہ ہم احرام کی حالت میں ہیں۔ چنانچہ انہوں نے خود اپنا نیزہ لے کر نیل گائے کا شکار کیا اور اس کے بعد نبی نے بھی اور سب نےمل کر کھایا۔ (بخاری، سیرۃ خیر العباد جلد7صفحہ297)
چکور:
ایک مرتبہ نبی کی خدمت میں بھنا ہوا چکور لایا گیا تو آپﷺ نے دعا کی: یا اللہ! اپنے بندوں میں سے بہتر کو میرے پاس بھیج دیجئے جو میرے ساتھ اس پرندے کو کھائے، چنانچہ حضرت علی تشریف لائے اور نبی کے ساتھ چکور کو کھایا۔ (ترمذی، جلد2صفحہ 213)
حباری:
اس کے علاوہ ایک پرندہ حباری ہے۔ (شمائل، صفحہ11)
اور ایک پرندہ ہے اس کا نام ہے سرخاب تو ان کا گوشت بھی نبی نے تناول فرمایا ہے۔
پہاڑی بکرا:
اس کے علاوہ پہاڑی بکرے کا گوشت کھانا بھی ثابت ہے۔
(سیرت خیر العباد، جلد7صفحہ297)
گائے کا گوشت:
اس کے علاوہ نبی نے گائے کا گوشت بھی کھایا۔ نبی کا گائے کو ذبح کرنا اور اس کے گوشت کا آپﷺ کے گھر میں آپﷺ کی بیویوں کے پاس آنے کا ذکر صحیح مسلم اور صحیح بخاری میں بھی ہے تو گائے کا گوشت کھانا نبی کی سنت سے ثابت ہے۔
مچھلی:
نبی نے مچھلی کو بھی کھایا ہے۔ حضرت جابر ذکر فرماتے ہیں کہ ہم لوگوں نے ایک جگہ جہاد کے لیے سفر کیا اور ہمارے امیر ابو عبید تھے ہم لوگ سخت بھوک کی حالت میں ہوگئے۔ کافی دن گزر گئےکچھ کھانے پینے کو نہ ملا تو اللہ رب العزت نے سمندرسے ایک مچھلی باہر نکال کر ہمارے لیے پھینک دی۔ اتنی بڑی مچھلی تھی کہ ہم نے اس سےپہلے اس جیسی بڑی مچھلی نہیں دیکھی تھی اور اس کو عنبر کہا جاتا ہے۔ ہمارے امیر ابو عبیدہ نے اس کی ایک ہڈی لی تو اونٹ پر ایک سوار اس کے نیچے سے گزر گیا، یعنی ناپنے کے لیے ایک پسلی کو زمین کے اوپر کھڑا کیا گیا جس کو ہم کانٹا بھی کہہ سکتے ہیں سمجھنے کے لیے تو اونٹ چھوٹا تھا اور وہ پسلی یا کانٹا اس سے بڑا تھا۔ صحابہ فرماتے ہیں کہ مچھلی اتنی بڑی تھی کہ اس کی آنکھ کا جو حلقہ تھا اس میں پانچ آدمی بیٹھ جاتے تھے۔ اتنی بڑی مچھلی ہم نے کبھی نہ دیکھی، ہم نے خوب انجوائے کیا، کھانا کھایا اور اس کو استعمال کرتے رہے حتی کہ ہم لوگ مدینہ واپس آئے تو نبی کے سامنے اس مچھلی کا گوشت پیش کیا گیا اور نبی سے اس کا تذکرہ کیا تو آپﷺ نے فرمایا کہ کھاؤ اللہ تعالیٰ نے اسے تمہارے رزق کے طور پر نکالا ہے اور اگر کچھ ہے تو ہمیں بھی کھلاؤ۔ صحابہ فرماتے ہیں کہ ہم نے نبی کے سامنے پیش کیا اور نبی نے اس مچھلی کو کھایا تو مچھلی کا کھانا بھی ثابت ہے۔ حضور اکرمﷺ سے۔ اور جنت میں مسلمانوں کی سب سے پہلی غذا مچھلی ہوگی۔
(بخاری، جلد2صفحہ 265)
ناپسندیدہ چیزیں:
چند چیزیں ایسی بھی ہیں جو آپﷺ کو ناپسندیدہ ہیں۔ گردے کو پیشاب وغیرہ کی وجہ سے نبی نے پسند نہیں فرمایا۔ (سیرۃ خیرالعباد، جلد7صفحہ337)
عبداللہ بن عباسi فرماتے ہیں کہ نبی کریمﷺ جانور کی سات چیزوں کو مکروہ سمجھتے تھے اور انہیں استعمال نہیں کرتے تھے:
1۔ پِتّہ
2۔مثانہ
3۔ شرمگاہ
4۔ غدود
5۔ خون
6۔ خصیے
7۔ فرج مادہ(مادہ کی شرم گاہ) (سیرت الشامی جلد7صفحہ 338)
تو یہ چیزیں ایسی ہیں جو نبینہیں کھاتے تھے اور دوسروں کو بھی منع فرماتے تھے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں حضورِ پاکﷺ کی ایک ایک سنت پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین ۔
ہمارے کرنے کا کام:
کھانا تو ہم روز کھاتےہیں، پکاتے ہیں۔ ہم مچھلی پکائیں تو اتباع سنت کی نیت سکتے ہیں۔ گائے کا گوشت پکائیں تو نیت کرسکتے ہیں۔ مرغی کا گوشت پکائیں تو کرسکتے ہیں۔ ہم جب نبی کے طریقوں کے مطابق یہی کھانا بنا لیں گے تو یہ ہمارے لیے سنت بن جائے گا، اور نبی کی محبت کا ذریعہ بھی بن جائے گا، اور اتباعِ سنت کا ثواب الگ ملے گا۔ اب مرغی کھانا جیسے سنت ہے اگر کوئی آدمی مرغی منگوائے تو سنت کی بھی نیت کرلے۔ بہرحال یہ دیسی مرغی کی بات ہے، فارمی مرغی علماء نے اس کو بھی حلال قرار دیا ہے، اگر اس کی غذا ٹھیک ہے تو اس میں بھی اللہ تعالیٰ برکتیں عطافرمائیں گے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں حضورِپاکﷺ کی سچی محبت عطا فرمائے۔ ایک ایک کام کو نبی کے طریقے پر کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ دین مشکل نہیں ہے دین بہت آسان ہے۔ اللہ رب العزت نےہمارے اوپر بہت احسان فرمایا کہ نبیu کو ہمارے اندر مبعوث فرمایا ہمیں ان کی امت میں سے بنایا۔ آپﷺ کی سنتوں کو اگر ہم سمجھ لیں گے سیکھ لیں گے تو چوبیس گھنٹے کی ہماری زندگی دین ہی دین بن جائے گی۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں نبی کی سچی محبت عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین۔

وَآخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُلِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں