33

نبی کریمﷺ کے پسندیدہ پھل اور میوے

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ وَ کَفٰی وَ سَلٰمٌ عَلٰی عِبَا دِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی. اَمَّا بَعْد:
فَاَ عُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّ جِیْمِ o
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْمِo
﴿قُلْ اِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْکُمُ اللّٰہُ﴾ (آل عمران:31)
سُبْحٰنَ رَبِّکَ رَبِّ الْعِزَّۃِ عَمَّا یَصِفُوْنَo وَ سَلٰمٌ عَلٰی الْمُرْسَلِیْنَo
وَ الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ o
الَلّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَامُحَمَّدٍوَّعَلٰی اٰلِ سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍوَّبَارِکْ وَسَلِّمْْ
الَلّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَامُحَمَّدٍوَّعَلٰی اٰلِ سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍوَّبَارِکْ وَسَلِّمْْ
الَلّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَامُحَمَّدٍوَّعَلٰی اٰلِ سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍوَّبَارِکْ وَسَلِّمْْ

کی محمدسے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں

حضورپاکﷺ سے محبت کرنا، آپﷺ کی سنتوں کو اپنانا، یہ اصل زندگی کی کامیابی ہے۔ کسی کہنے والے نے کہا
نسبت مصطفی بھی عجب چیز ہے
جسکو نسبت نہیں اسکی عزت نہیں
یعنی ہماری عزت ہی فقط نبی کے ساتھ نسبت سے ہے۔
خود خدا نے نبیﷺ سے یہ فرما دیا:
اے نبیﷺ! جو تمہارا نہیں وہ ہمارا نہیں۔
سنتوں کو بیان کرنے کا مقصد :
نبیﷺ کی سنتوں کو بیان کرنے کا اصل مقصد یہ ہے کہ نبی کی محبت ہمیں مل جائے۔ اور نبی کی محبت کے حاصل کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ نبی کے طریقوں پر عمل کرے۔ جو انسان نبی کے طریقوں پر عمل کرتا ہے اس کے اندر نبی کی محبت بڑھتی چلی جاتی ہے۔ قرآن میں فرمایا:
فَاتَّبِعُوْنِیْ
’’تم میری اتباع کرو‘‘۔
اتباع کسے کہتے ہیں؟ اتباع کو سمجھ لیجیے۔ اتباع کہتے ہیں کہ انسان حکم کی تعمیل کرے مجبوری سے نہیں بلکہ رغبت اور شوق کے ساتھ ہو۔ یہ اس وقت ہو سکتا ہے جب اتباع کرنے والے کو اپنے متبوع کی مکمل محبت حاصل ہو، یعنی امتی کو حضور ﷺ کی کامل محبت حاصل ہو، جب یہ محبت حاصل ہوگی تواس کے بعد اتباع کرنا Automatically آسان ہوجائے گا اور عمل کرنا بھی آسان ہو جائے گا۔ جیسے گائے کا بچہ یا اونٹنی کا بچہ ، جہاں اونٹنی جاتی ہے بس وہیں جاتا ہے،اونٹنی تیز چلے گی تو تیز چلے گا، اونٹنی رک جائے گی تو وہ رک جائے گا، اونٹنی اگر کسی گڑھے میں چھلانگ لگا دے تو وہ گڑھے میں بھی چھلانگ لگا دے گا، یہ نہیں دیکھے گا کہ ماں کہاں جا رہی ہے۔ اتباع یہ ہوتا ہے کہ ہمیں حضور ﷺ کی ہر سنت کو شوق اور محبت سے اپنی زندگی میں لانا ہے۔
مجبوری اور اتباع میں فرق:
ایک آدمی اپنے ملازم کو حکم دیتا ہے کہ تم میرے لیے یہ چیز بازارسے لے کر آؤ۔ اب وہ پیسے تو لے جاتا ہے لیکن اس نوکر کے دل میں غصہ آتا ہے کہ اس کے بغیر ان کا گذارا نہیں ہو سکتا تھا جو اتنی گرمی میں مجھے بھیج دیا ،وہ دل کی خراب کیفیت کے ساتھ اسکا کام کر دیتا ہے اس کو اتباع نہیں کہتے مجبوری کہتے ہیں۔ اس کے با لمقا بل کوئی عالم ہے، کوئی اللہ والے ہیں وہ اپنے کسی شاگرد کو مرید کو کہتے ہیں کہ بھئی تم یہ کام کر لو، شام کے وقت کر لینا ذرا سورج ڈھل جائے ، آسانی کے وقت کر لینا یہ میرا کام ہے اورمجھے اس سے خوشی ہوگی۔ اب وہ جو شاگرد ہوتا ہے بات کو سمجھ لیتا ہے کہ انہوں نے کہا ہے کہ آسانی کے وقت کر لینا ، لیکن وہ اس لیے کہ میرے استاد خوش ہو جائیں گے وہ مجھ سے راضی ہو جائیں گے وہ اسی وقت دھوپ میں چلا جاتا ہے اس کو دھوپ کی پرواہ نہیں ہوتی اس کو کسی اور چیز کی پرواہ نہیں ہوتی ، اتباع اسی کو کہتے ہیں۔ سعادت مند شاگرد کڑکتی اور چل چلاتی دھوپ اور جھلسا دینے والی گرمی کو خاطر میں نہیں لاتااور وہ سعادت مندہونے کی وجہ سے دوڑتا ہوا جاتا ہے، پورے قلبی اطمینان سے چیز لیکر آتا ہے اسے پسینے میں شرابور ہونے کی پرواہ نہیں ہوتی، بلکہ اسے استاد کے دل کی خوشی مطلوب ہوتی ہے۔
پہلی صورت میں جو خادم نے کام کیا وہ ناگواری سے کیا، اور دوسری صورت میں جو شاگرد نے کام کیا وہ خوشگواری سے کیا، تو پہلی صورت کا نام مجبوری ہے اور دوسری صورت کا نام اتباع ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیںنبی کی اتباع نصیب فرمائے کہ آپﷺ کی سنتوں کو ہم شوق اور محبت سے کرنے والے بن جائیں۔ کسی نے کہا:
عجب چیز ہے عشقِ شاہِ مدینہ
یہی تو ہے عشقِ حقیقی کا زینہ
ہے معمور اِس عشق سے جس کا سینہ
اسی کاہے مرنا اسی کا ہے جینا

جس کے دل میں نبی uکی محبت نہیں اسکا نہ جینا ہے اور نہ مرنا، اس کی زندگی تو نامکمل ہے ۔اللہ تعالیٰ ہمیں نبی کی سچی محبت عطافرمائے۔
پھل اور میوے:
ہماری بات چیت چل رہی تھی کھانے پینے کے متعلق،تو آج پھلوں اور میوہ جات کا تذکرہ کرتے ہیں کہ نبی کا اس بارے میں کیا طریقہ تھا؟اسوئہ حسنہ اس میں کیا تھا؟
کھجور:
امی عائشہ صدیقہ فرماتی ہیں کہ ہم لوگ یعنی حضورِپاک ﷺ کے گھر والے آپﷺ کے اہل و عیال کے یہاں ایک ایک مہینے تک چولہے میں آگ نہیں جلتی تھی۔ پوچھا گیا کہ گذارا کیسے ہوتا تھا؟ بتایا کہ پانی اور کھجور پر۔ ایک صحابی t فرماتے ہیں کہ میں حضورِ پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ کے باغوں میں سے کسی باغ میںگیا، آپﷺ کچے ہی کھجور کے دانے نوش فرما نے لگے، اور مجھ سے کہا کہ اے ابن عمر! تم بھی کھائو۔ کھجور کے بارے میں آتا ہے کہ مکہ مکرمہ کی برکت کے بارے میں حضرت ابراہیم نے دعا کی، اے اللہ! اِس شہر کے پھل میں برکت عطا فرما۔ جب نبی کریم ﷺ نے مدینہ طیبہ کی کھجور اور پھلوں کے لیے برکت کی دعا کی تو قیامت تک مدینہ کی کھجورمیں برکت ہوتی رہے گی۔
کھجورکی پیدائش:
ایک حدیث میں آتا ہے حضرت علی tسے روایت ہے کہ نبی نے فرمایا کہ کھجور کی پیدائش اس مٹی سے ہوئی جس سے حضرت آدم پیدا ہوئے تھے۔
آپﷺ کی پسندیدہ کھجور ’’عجوہ‘‘:
کھجوروں کے اندر بہت ساری نسلیں ہیں، پہلی بات تو یہ ہے کہ تمام کھجوریں باعثِ برکت ہیں اور وہ کھجوریں جو مکہ و مدینہ سے تعلق رکھتی ہوں اوربھی زیادہ باعث برکت ہیں۔ مدینہ کی کھجوروں میں ایک کھجور ہے اس کا نام ہے عجوہ، نبی u کو بہت زیادہ پسند تھی۔ امی عائشہ r فرماتی ہیں کہ آپ ﷺ کو سب سے زیادہ عجوہ کھجور پسند تھی۔
جادو سے حفاظت:
بخاری شریف کی روایت ہے کہ اگر روز انہ صبح کے وقت سات دانے عجوہ کے کھا لے گا اس کو اس دن جادو یا زہر اثر نہیں کرے گا۔ اورایک حدیث میںآتا ہے کہ عجوہ جنت سے ہے یعنی جنت کے پھلوں میں سے ہے۔اور کھجور کے بارے میں ذرا اہتمام دیکھیں کہ نبی کریمﷺ آقا ﷺ نے فرمایا کہ جس گھر میں کھجور نہ ہووہ گھر والے بھوکے ہیں ، یعنی اگر گھر میںکھجور ہے تو کھانے کے لیے بہت بڑی نعمت ہے۔ یہ غذا بھی ہے اور میوہ بھی ہے، اور اہلِ عرب تو اسکو بہت ہی پسند کیا کرتے تھے اور ہمارے لیے تو سب سے بڑی بات یہ ہے کہ نبی کی پسند ہے اور آقاﷺ کی پسند کا اظہار ہے۔
آقاﷺ کی پسند کا اظہار:
خادمِ رسول حضرت انسt فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے امّی عائشہ r سے فرمایا تھا کہ جب تازہ کھجور آ جائے تو اس کی بشارت خوش ہو کر سنایا کرواور اس کی گھر والوں کو بھی اطلاع دیا کرو۔ عبداللہ ا بن عباس سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جس گھر میں کھجور نہ ہو گویا وہ گھر والے بھوکے ہیں، اور جس گھر میں سرکہ نہ ہو وہ گھر والے بنا سالن کے ہیں، اور جس گھر میں چھوٹا بچہ نہ ہو اس گھر میں برکت نہیں، اور سن لو تم میں سے بہتر وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے بہتر ہے۔ مردوں کو خطاب کرکے کہہ رہے ہیں کہ دیکھو خاوندو!تم میں سے بہتر خاوند وہ ہے جو اپنی بیوی کے لیے زیادہ بہتر ہو ا ور یہ بھی یاد رکھو کہ میں اپنی بیویوں کے لیے بہت اچھا ہوں۔یہاں نبینے اپنی مثال دی۔ امی عائشہ فرماتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ کا پسندیدہ ترین میوہ تازہ کھجور اور خربوزہ ہے۔ خربوزے کو بھی آپﷺ شوق سے نوش فرماتے تھے،اور کھجور کو بھی بہت شوق سے کھاتے تھے۔ ایک صحابی فرماتے ہیں کہ نبی کے پاس کھجوریں لائی گئیں تو آپﷺ انکو نوش فرما رہے تھے اور اس وقت بھوک کا اتنا عالَم تھا کہ نبی اپنے سہارے سے تشریف فرما نہیں تھے بلکہ اکڑو ںبیٹھ کر کسی چیز سے سہارا لگائے ہوئے تھے، یعنی بھوک اتنی زیادہ تھی۔ کئی دن کا فاقہ ہوگا کہ نبی صرف اپنے اوپر سہارا نہیں لے پارہے تھے کسی دوسری چیز کاسہارا لینا پڑا اور کھجور کو نوش بھی فرما رہے تھے۔
دستر خوان پر موجود ہر چیز کھانا ضروری نہیں:
ایک مرتبہ ایسا ہوا کہ نبی کے سامنے ایک برتن کے اندر کچھ کھجور یں لائی گئیں ، ان میں کچی بھی تھیںاور پکی بھی توآپﷺ نے پکی پکی کھجوروںکو تو کھا لیا اور کچی کو چھوڑ دیا۔ یہاں سے معلوم ہوا کہ دسترخوان پر جو بھی کچھ آئے ہر چیز کھانا ضروری نہیں ہوتا ، جو چیز مناسب نہ ہوکچی ہو اسکو چھوڑا جاسکتا ہے۔لیکن نہ رزق کو برا کہے، نہ لانے والوں کو برا کہے، نہ پکانے والوں کو برا کہے۔ اب پیچھے جو حدیث بیان کی کہ وہ گھر جس میں کھجور نہیں ہے ایسا ہے جیسے اس میں کھانا ہی نہیں، توہمیں چاہیے کہ ہم گھر کے اندر کھجور لازمی رکھا کریں اور اس کو کھانے کا اہتمام کریں۔ نبیسے محبت کی علامت یہ ہے کہ آج سے ہمیں کھجور سے محبت ہو جائے ۔
خواتین کے لیے کھجور:
ایک جگہ نبی uکا یہ قول نقل کیا گیاہے کہ بچے والی عورت کو جس نے بچہ جنا ہو یاجس کا بچہ چھوٹا ہو کھجور کھلائو ،اگر کھجور نہ پا سکو تو چھوہارا ہی کھلاؤ۔اور آگے فرمایا: اس درخت سے بہتر کوئی درخت نہیں جس کے نیچے اللہ تعالیٰ نے بی بی مریم کو رکھا۔ حضرت مریم کے لیے اللہ رب العزت نے فرمایا تھا کہ
﴿فَکُلِیْ وَاشْرَبِیْ﴾
’’پس تم کھائو بھی اور پیو بھی‘‘۔ (مریم:26)
تو وہ درخت کھجور کا تھا اور ان کو کھجور کھانے کا حکم دیا ، یعنی کہ جب عورت ان دنوں کے اندر ہو یا ایسی حالت میں کہ پیدائش کا وقت قریب ہو ، بچے چھوٹے ہوں اسکو خاص طور سے حضورپاک ﷺ نے تلقین فرمائی کہ یہ کھجور کا استعمال کرے۔ اس کے بیشمار جسمانی فوائد ملیں گے۔ اب ہم ڈاکٹر سے وٹامنز Vitamins تولیتے ہیں اور بہت ساری چیزیں لیتے ہیں ، لیکن یہ کھجور ایک ملٹی وٹامن Multivitamin چیز ہے، یہ ہمیں کھانی چاہیے اور آقاﷺ کی سنت بھی ہے حکم بھی ہے۔
بچے کو کھجور کی گھٹی:
غور کیجیے کہ کھجور کے بارے میں اسلام میں کتنا اہتمام ہے۔ بخاری شریف کی روایت ہے ابو موسیٰt فرماتے ہیں کہ میرے یہاں ایک لڑکا پیدا ہوا اور میں چھوٹے بچے کو حضورﷺ کی خدمت میں لے کر آیا ، آپ ﷺ نے اس کا نام ابراہیم رکھا اور آپﷺ نے کھجور چبا کر اس کے منہ میں ڈالی اور برکت کی دعا دی۔تو یہاں پہ دو تین باتیں قابل غور ہیں۔ اس عمل کو ہمارے ہاں گھٹّی کہتے ہیں اور عربی میں تَحْنِیْکْ کہتے ہیں۔ یہ حضورِ پاکﷺ کی مبارک سنت ہے اور آج امت سے یہ ختم ہوتی چلی جا رہی ہے۔ بچہ پیدا ہوگا تو سب سے پہلے ٹیکے لگانے کی فکر کریں گے، گھٹّی کی فکر نہیںکرینگے۔
گھٹی کا طریقہ یہ ہوتاہے کہ کسی نیک صالح بزرگ ، کسی اللہ والے کو کھجور دی جائے وہ اسکو اپنے منہ سے چبا کر نرم کر کے دے دیں اور بچے کو چٹا دی جائے ۔ فرمایا کہ سب سے پہلا کھانا کوشش کر کے انسان اپنے بچے کویہ گھٹّی یعنی کھجور کی گھٹّی دے۔اس کی برکتیں ملیں گی، کیونکہ نبی نے اس درخت کو مومن کے ساتھ تشبیہ دی ہے، اس لیے کسی صالح آدمی سے چبوا کر چٹانا چاہیے ان شاء اللہ اس کی برکت سے بچے میں نیکی آئے گی۔
کھجور اور مکھن:
بعض اوقات نبی uنے کھجور کے ساتھ مکھن کو بھی ملایا ہے۔ روایت میں آتا ہے کہ نبی کریم ﷺ کسی کے یہاں تشریف لائے ، ان لوگوں نے آپ ﷺ کے لیے چادر بچھا دی اور آپﷺ چادر پر تشریف فرما ہوئے۔ اللہ تعالی نے وہاںپہ جہاں آپ ﷺ مہمان کے طور پہ موجود تھے وحی نازل ہوئی۔ اور اس کے بعد گھر والوں نے آپ ﷺ کی خدمت میں کھجور اور مکھن پیش کیا، اور آپ ﷺ کو مکھن بہت مرغوب تھا۔
اہم نکتہ:
یہاں سے ایک بات یہ بھی معلوم ہوئی کہ کسی کو جب ہم بطور مہمان گھرپہ بلائیں تو اگر میزبا ن اس کے لیے اہتمام کرے، اس کے لیے چادر بچھائے، گھر کو صاف کرے یا کسی بھی طریقے سے اس کی عزت کرے تو یہ توکل اور زہدکے خلاف نہیں بلکہ ایک اچھی بات ہے۔
آپﷺ کا گھر والوں سے برتاؤ:
ا ب کھجور اور مکھن سے ایک بڑا عجیب اور بہت پیارا قصہ یاد آیا۔ ہمارے آقا ﷺ اپنے گھر والوں کے ساتھ بہت دل لگی اور دل جوئی کی باتیںکیا کرتے تھے۔ اور یہ دین کاحصہ ہے سنت ہے اور بہت بڑا ثواب ہے۔ بعض لوگ جب دین میں لگ جاتے ہیں تو مرد حضرات اس کے بعد خشک مزاج ہو جاتے ہیں۔ لطافت اور ظرافت ختم ہو جاتی ہے، حالانکہ ایسا تو دین نے نہیں سکھایا ہے۔ ذرا غور کیجیے! کہ نبی اپنے گھر والوں کے ساتھ کس طرح رہتے تھے۔ ایک حدیث پاک میں آتا ہے ایک مرتبہ حضور پاکﷺ امی عائشہ صدیقہ کے پاس تھے۔ آپ ﷺ نے بہت محبت کی نظر سے اپنی بیوی کومسکرا کے دیکھا تو امی عائشہ نے پوچھا: اے اللہ کے محبوبﷺ!آپﷺ کیوں مسکرا رہے ہیں؟ تو نبی نے فرمایا: عائشہ! تم مجھے ایسے پسند ہو جیسے کھجور اور شہد کو ملا کر کھانا پسندیدہ ہوتا ہے۔ یہ بات سن کر امی عائشہ بہت خوش ہوئیں اور فوراً آگے سے کہنے لگیں: اے اللہ کے نبی ﷺ! آپ تو مجھے ایسے مرغوب ہیں جیسے شہد اور مکھن کو کھانا مرغوب ہوتا ہے۔ نبی مسکرائے اور فرمانے لگے: عائشہ! تیرا جواب بہت اچھا ہے۔تو معلوم ہوا کہ بیوی کے ساتھ اس طرح دل لگی کی باتیں کرنا گھر کے ماحول کو دین پر رکھنے کے لیے ضروری ہے۔ ورنہ کیا ضرورت تھی اللہ کے نبیﷺ کو کہ بیوی کو ایسے الفاظ کہتے اور بیوی آگے سے یوں جواب دیتیں۔ یہ نبی نے گھر والوں کے ساتھ محبت کا اظہار کیا، اور نبی کا یہ طریقہ امت کے خاوندوں کے لیے سنت ہے کہ یہ اپنے گھر میں محبتیں دیں پھر محبتیں پائیں۔
ایک صاحب کا واقعہ:
ایک مرتبہ ایک صاحب حضرت جی کے پاس آئے بیعت ہوئے۔ نیکی تقوی پرکچھ زندگی آئی تو حضرت فرماتے ہیں کہ چند دنوںکے بعد بڑے غصے میں آئے ہوئے تھے اور انکی طبیعت کے اندربڑا غصہ تھا۔ کہنے لگے کہ حضرت! یہ جو عورتیں ہوتی ہیں پوری شیطان کی چیلیاں ہوتی ہیں ، سنت پر عمل نہیں کرتیں ، یہ نہیں کرتیں وہ نہیں کرتیں۔ حضرت جی نے ان سے پوچھا کہ بھئی مسئلہ کیا ہے ؟ کہنے لگے کہ جی میں اپنی بیوی کو کہتا ہوں کہ یہ نیکی کا کام کرو، وہ کرتی ہی نہیںہے۔ تو حضرت نے اس سے پوچھا: بھئی آپ کو تو صحبت ملی تو آپ نے ذکر شروع کیا، اللہ کی یاد میں بیٹھنا شروع کیا، اس کو تو ابھی یہ ماحول نہیں ملا۔ ماشاء ا للہ ویسے کیا آپ ساری سنتوں پر عمل کرتے ہیں ؟ کہا: جی حضرت جی! میں توبالکل ساری سنتوں پر عمل کرتا ہوںلیکن وہ نہیںکرتی۔آپ مجھے بتائیں کہ میں اس کا کچھ کروں؟ حضرت نے فرمایا: ماشاء اللہ آپ ساری سنتوں پر عمل کرتے ہیں ، کیا آپ نے محبت کے ساتھ اپنی بیوی کے منہ میں کبھی لقمہ ڈالا؟ اب وہ چپ۔ حضرت نے پوچھا کہ کیا آپ نے یہ سنت پوری کی؟ اب خاموش۔ حضرت نے فرمایا کہ دیکھو بھئی! گھر جائو اور جب کھانا کھانے لگو تو اپنی بیوی کے منہ میں اپنے ہاتھوں سے ایک لقمہ ڈال دینا۔ پھر بتانا، تو وہ نوجوان چلا گیا۔
گھروالوں سے خوش اخلاقی کا خوشگوار اثر:
اگلے وقت جب آیا تو بڑا خوش ہوکے کہنے لگا: حضرت! جب میں گھر گیاہوں ، کھانا لگ گیا، تو میں نے کھانا کھاتے کھاتے ایک لقمہ اٹھایا اور بیوی کے منہ کی طرف کیاتو حیران ہوگئی۔ میں نے کہا کہ تمہیں کھلانا ہے، تو اسنے منہ کھول دیا۔ اور اس کے بعد مجھے کہنے لگی کہ یہ طریقہ تم نے کہاں سے سیکھا؟ میں نے اس کو بتایا کہ بھئی یہ حضور پاک ﷺ کی پیاری سنت ہے ۔ حضرت نے فرمایاکہ اس نوجوان نے بتایا کہ اس سنت کی برکت سے بیوی کا اتنادین پر آنے کا ارادہ ہو گیا کہ کہنے لگی کہ اچھا اگر سنتیں ایسی ہیں تو اب میںسنت پر عمل کرنے کے لیے تیار ہوں۔ پھر حضرت نے فرمایا کہ اس نوجوان نے بتایا کہ وقت کے ساتھ ساتھ چند مہینوں کے اندر وہ عورت تہجد گذار بن گئی۔ تو بیویوں سے کام کروانا محبت کے ذریعے آسان، تلوار کے ذریعے مشکل بات ہوتی ہے۔ بہر حال نبیuکے پسندیدہ ترین میوہ جات میںسے تازہ کھجور اور خربوزہ بھی ہیں ۔
کھجور دودھ کے ساتھ:
ایک حدیث کے اندر آتا ہے کہ بعض صحابہj نے نقل کیا کہ آپ ﷺ دودھ اور کھجور کو ساتھ نوش فرماتے اور ارشاد فرماتے کہ دونوں خوشگوار چیزیں ہیں۔ دودھ اور کھجور یہ دونوں بہت اچھی چیزیں ہیں۔ دود ھ میں اگر کھجو ر کو ڈال دیا جائے اور اسکو تھوڑا سا جوش دے دیا جائے گرم کر لیا جائے تو بہت اچھا ٹانک بن جاتا ہے اور صحت کے لیے بہت اچھی چیز بن جاتی ہے اور خاص طور پر جسمانی قوت کے لیے بے حدنفع بخش ہے۔
کھانے کے ساتھ کھجوریں:
ایک صحابی t فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ ہمارے یہاں تشریف لائے ہم نے کھانا پیش کیا اور کھجوریں خدمت ِ اقدس میںپیش کیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں چیزوں کو نوش فرمایا۔ کھانابھی کھایا اور کھجور بھی نوش فرمائی۔
(مسلم ،ترمذی،سیرت صفحہ283)
حضرت جابر t فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ ان کے گھر تشریف لائے انہوں نے نبی کو کھجوراور پا نی پیش فرمایا اور نبی نے کھجور کھائی پانی پیا، اور فرمایا کہ یہ وہ نعمت ہے جس کا سوال کیا جائے گا ، اللہ تعالی ہمیں قیامت کے دن کی پریشانی سے محفوظ رکھے۔ آمین (مسند طیالسی،سیرت صفحہ323)
کھجور اور خربوزہ:
اسی طرح خربوزہ اور کھجو ر کے بارے میں حضرت انس t فرماتے ہیں کہ میں نے حضور اقدسﷺ کو خربوزہ اور کھجور اکٹھے کھاتے دیکھا ۔ علماء نے اس کی حکمت یہ لکھی ہے کہ کھجور گرم ہوتی ہے اور خربوزہ ٹھنڈا، تو اس طرح دونوں چیزوں میں اعتدال ہوجاتا ہے۔ یعنی نبی uکے مزاج کو دیکھیے کہ صحت کی رعایت ساتھ ساتھ رکھتے ہیں۔ ایک چیز گرم کھارہے ہیں تو ایک ٹھنڈی تاکہ طبیعت میں اعتدال رہے۔
کھجور ککڑی کے ساتھ:
اسی طرح نبی u ایک جو ڑ اوربھی رکھا کرتے تھے۔ و ہ جو ڑ کون سا تھا ؟ ککڑی اور کھجور کا، یعنی نبی u ککڑی کو کھجور کے ساتھ نوش فرماتے تھے، کیونکہ ککڑی ٹھنڈی ہوتی ہے اور کھجور گرم، تو یہاں بھی اعتدال بھی پیدا ہوجاتا ہے اور غذائیت بھی ہو جاتی ہے۔
ایک صحابی فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کے پا س دیکھا کہ ایک ہاتھ میں ککڑی ہے اور ایک ہاتھ میں کھجور ہے اور کبھی نبی ککڑی کو کھا رہے تھے اور کبھی نبی کھجور کو کھا رہے تھے۔ یعنی ایک وقت میں دونو ں چیزوں کو کھا تے دیکھا، لیکن دائیں ہاتھ سے کھانا سنت ہے ، ایک وقت میں دونوںچیزوں کا موجود ہونا یہاں مراد ہے۔ اسی طرح کبھی کبھی ایسا بھی ہوا کہ آپﷺ ککڑی کھانے لگتے تو ذرا نمک لگا لیاکرتے۔ ہمارے یہاں بھی بعض لوگ کالا نمک لگا لیا کرتے ہیں،تو ککڑی کھانا اور ساتھ میں نمک کا استعمال کرنا بھی سنت ہے ۔
کھجور تربوز کے ساتھ :
امی عائشہ فرماتی ہیں کہ حضورِ اقدس ﷺ کو تربوز کے ساتھ تازہ کھجور کھاتے ہوئے دیکھا اور نبی نے فرمایا کہ اس کی ٹھنڈک اس کی گرمی کو آپس میں معتدل کردے گی۔ اس سے معلوم ہوا کہ کھانے پینے میں اعتدال ہونا چاہیے۔ کھانے میں اعتدالِ مزاج کی رعایت بھی رکھنی چاہیے۔ حضرت ربیع فرماتی ہیں کہ مجھے میرے چچا معاذ بن عفراء نے تازہ کھجور کاایک طبق جن پر چھوٹی چھوٹی ککڑیاں موجود تھیں، دیا اور کہا کہ جائو رسول اللہﷺ کی خدمت میں لے جائو۔ آپ ﷺ کو ککڑیاں بہت مرغوب تھیں۔ حضرت ربیعrفرماتی ہیں کہ میں اس طبق میں کھجوریں اور ککڑیاں لیکر گئی، آقا ﷺ کی خدمت میں حاضِر ہوئی اور میں نے پیش کیں۔ اس وقت آپ ﷺ کے پاس بحرین کے کچھ زیورات آئے ہوئے تھے، سونے چاندی وغیرہ کے ہونگے، تو آپ ﷺ نے ان میں سے ایک مٹھی بھر کر وہ زیورات مجھے عطا فرمائے۔
(شمائل صفحہ 14)
کھجور کو ککڑی کے ساتھ ملانے کا ایک فائدہ:
کھجور کو ککڑی کے ساتھ ملانے کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ اس سے بدن موٹا ہوتا ہے۔ بدن کو موٹا کرتا ہے، ایک روایت ہے کہ امی عائشہ صدیقہr نے فرمایا کہ میری رخصتی کے وقت میری والدہ نے مجھے چاہا کہ میرا بدن موٹا ہوجائے ،تو مجھے کھجور اور ککڑی کھلائی گئی تاکہ میرا وزن تھوڑا سا بڑ ھ جائے اور میں مناسب حد تک موٹی ہوگئی۔
(ابن ماجہ جلد 2صفحہ244)
آپﷺ کے اعلیٰ اخلاق کا ایک نمونہ:
ایک موقعے پر حضور پاک ﷺ صحابہ کرامj کے ساتھ کھجوریں نوش فرما رہے تھے تو جو اچھی اچھی کھجوریں تھیں وہ تو پہلے کھائی گئیں، آخر میں جو خراب ردی کھجوریں آگئیں تو آپ ﷺ نے اپنا ہاتھ مبارک روک لیا۔ کوئی ساتھی ساتھ بیٹھے ہوئے تھے ، کہاکہ اے اللہ کے نبیﷺ! یہ خراب والی مجھے دے دیجیے۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ جس چیز کو میں اپنے لیے پسند نہیں کرتا وہ دوسرے کے لیے کیسے پسند کر لوں۔ سبحان اللہ!
(سیرت الشامی جلد7صفحہ 318)
اگر آج یہ اخلاق ہمارے اندر آجائیں تو گھروں کے اندر محبتیں پیدا ہو جائیں۔ بعض گھروں میں سنا ہے کہ کوئی چیز آتی ہے تو ان باتوں کا خیال نہیں رکھا جاتا، اور اچھی چیز اپنی طرف کر لی جاتی ہے جبکہ خراب چیز دوسرے کی طرف کر دی جاتی ہے ، یہ نبیکی سنت نہیںہے۔
روٹیوں کی تقسیم:
ایک صحابی فرماتے ہیں کہ میں نبی کے ساتھ ان کے گھر گیا، نبی اپنے کسی گھر میں داخل ہوئے اور وہاں میری وجہ سے پردہ کرایا۔ اس کے بعد کھانے کو پوچھا توبتایا گیا کہتین روٹیاں ہیں۔ آپﷺ نے کہا: دسترخوان لگائو ! دسترخوان بچھا دیا گیا، روٹیاں پیش کر دی گئیں تو ایک روٹی نبی نے اپنے سامنے رکھی دوسری میرے سامنے رکھی، اور تیسری روٹی کے دو ٹکڑے آدھے، آدھے کیے آدھا اپنے سامنے رکھا آدھامیرے سامنے رکھا۔ یعنی نبی ہر جگہ اچھے اخلاق کا مظاہرہ فرماتے تھے۔
کھانے میں آپﷺ کی سادگی:
اسی طرح ایک مرتبہ رسول اللہﷺ نے جو کی روٹی کا ایک ٹکڑا لیا اور اس پر کھجور رکھی اور فرمایا کہ یہ اس کا سالن ہے۔ سبحان اللہ
(ابوداؤد،سیرت جلد7صفحہ318)
مطلب یہ کہ کھجور کو روٹی کا سالن بنایا جا سکتا ہے۔ تو اگرکبھی ہم اتباعِ سنت کی نیت سے جو کی روٹی پکائیں اور اس کے اوپر چند کھجوریں رکھ لیں اور کھجور کے ساتھ وہ روٹی کھائیں تو سنت کا ثواب ہمیں مل جائے گا۔
سنت کو زندہ کرنے کا ثواب:
نبیu نے ارشاد فرمایا کہ جس وقت میری امت میں بگاڑ آجائے گا ،اس وقت جو میری ایک سنت کو زندہ کرے گا اسکو سو شہیدوں کے برابر ثواب ملے گا۔یہ نبی کی بشارت ہے، اور آج بگاڑ کا وقت ہے ، آج انسان کادل فیشن کو کرتا ہے ، آج رواج کے پیچھے چلنے کو دل کرتا ہے لیکن رسول اللہ ﷺ کے طریقوں پر چلنے والے بہت تھوڑے ہیں۔
آپﷺ کیسے کھانا کھاتے تھے؟
امی عائشہ فرماتی ہیں کہ جب آپ ﷺ کھانا کھاتے تو اپنے سامنے سے ہی کھاتے، اِدھر ادھر ہاتھ نہ ڈالتے، لیکن جب کھجور کسی چیز میں سامنے لائی جاتی توآپﷺ کے دست مبارک چاروں طرف گھومتے۔(بزار،سیرت صفحہ272)
یعنی کھانااگر ایک ہی قسم کا ہے تو نبی فقط اپنے سامنے سے کھاتے لیکن اگر مختلف قسم کی کھجور یںہیں، پھل ہیں یا اس قسم کی اور چیزیں ہیں توپھر اس میں چنائو کرنا یہ بھی نبی کی سنت ہے ۔ ایک صحابی عکراش فرماتے ہیں کہ ایک کافی بڑے پیالے میں بہت سا ثرید اور چربی لائی گئی،اور ہم لوگ کھانا کھا رہے تھے نبی بھی ساتھ تھے تو میں کھانا کھاتے ہوئے ہاتھ چاروں طرف لے جا رہا تھا کبھی دائیں کبھی بائیں کبھی آگے کبھی پیچھے، تو آپ ﷺ نے اپنے بائیں ہاتھ سے میرا ہاتھ پکڑکر فرمایا: اے عکراش! ایک ہی جگہ سے کھانا کھائو ،کھانا ایک ہی قسم کا تو ہے۔ تو فرماتے ہیں کہ میں نے ایک ہی طرف سے کھانا شروع کردیا۔ اس کے بعد فرماتے ہیں: ایک طبق میں یعنی ٹرے کے اندر مختلف قسم کی کھجوریں لائی گئیں تو اب میں صرف اپنے سامنے سے کھانے لگا اور آپﷺ کا مبارک ہاتھ چاروں طرف پھر رہا تھا۔ یعنی آپ ﷺ حسبِ منشا دیکھ کر پسند کر کے کھا رہے تھے۔ تو دسترخواں پراگر مختلف چیزیں پھیلی ہوئی ہوں تو اپنی جانب کے علاوہ سے دائیںبائیں سے اٹھانے میں کوئی قباحت نہیں۔
کھجور کھانے کا ناپسندیدہ انداز:
کھجور کے بارے میں بتایا کہ ایک وقت میں ایک عدد کھانا مناسب ہے۔ عبداللہ بن عمر کی روایت ہے نبی کریم ﷺ نے منع فرمایا کہ آدمی ایک ساتھ دو کھجور یں کھائے۔ ہاںجودسترخواں پر ساتھی بیٹھے ہوئے ہیں اگران کی اجازت ہو تو ایک ساتھ دو کھا سکتا ہے۔ اس کے اندر حکمت کیا ہے ؟ یہی کہ سب ساتھی بیٹھے ہوئے ہیں اور کھجورکھائی جا رہی ہے یا کوئی بھی چیز کھائی جا رہی ہے، تو جس طرح سب کھا رہے ہیں ایک ایک کر کے اسی طرح یہ بھی کھائے، اگر سب ایک ایک کھائینگے اور یہ دو دو کھائے گا تو یہ طبیعت کے لالچ اور حرص کی دلیل ہوگی اور ہو سکتا ہے کہ کسی کو حصہ کم ملے یہ اوروں سے زیادہ کھا جائے۔ اس لیے بتایا کہ احتیاط رکھو جیسا سب کا مزاج ہے ویسا کرو، اگر سب دو دو کھا رہے ہیںتو ٹھیک ہے گنجائش ہوگی لیکن بہتر بتایاکہ ایک ایک کر کے ہی کھائی جائے۔
پرانی کھجوروں میں آپﷺ کی احتیاط:
بعض اوقات ہمارے پاس پرانی کھجوریں آجاتی ہیں۔ انسان حج پہ گیا عمرے پہ گیا تو وہاں جو کھجوریں انہوں نے رکھی ہوتی ہیں چھ، چھ مہینے پرانی بھی ہوتی ہیں مارکیٹ میں سیل کر رہے ہوتے ہیں۔ اور ہمارے یہاں بھی دیکھا گیا ہے کہ کئی لوگ مہینوں کے حساب سے کھجور کو سنبھال کے رکھ لیتے ہیں۔ اس بارے میں سنت کیا ہے؟ حضرت انس بن مالک t فرماتے ہیں کہ میںنے حضور اقدس ﷺ کو دیکھا کہ پرانی کھجوریں لائی گئیں تو آپ ﷺ اس کی تفتیش کر رہے تھے دیکھ رہے تھے کہ کہیں اس کے اندر کوئی کیڑایا کوئی ایسی چیز تو نہیں ، یعنی چیز اگر پرانی ہو جائے اور ا س بات کا احتمال پیدا ہو جائے گمان پیدا ہو جائے کہ ہو سکتا ہے کہ اس کے اندر کوئی خرابی پیدا ہو گئی ہو، کوئی کیڑا وغیرہ آگیا ہو تو اسکو بغیر دیکھے کھانا ٹھیک نہیں اسکو دیکھ کر کھانا سنت ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں نبی کی ایک ایک سنت کو شوق اور محبت سے عمل میں لانے کی توفیق عطا فرمائے۔
محبت کی بہترین تعریف:
جنید بغدادی نے فرمایا:
’’محبت یہ ہے کہ محب کی ساری صفات ختم ہو جائیں اور محبوب کی تمام صفات اس کے اندر آجائیں‘‘۔
محبت کیا ہوئی؟ کہ ہم اپنی باتوں کو ختم کر یں اور نبی کی باتوں کو اپنی زندگی میںلیکر آئیںاسکو محبت کہتے ہیں۔ عام چیزوں کے بارے میں توحکم ہے کہ بیٹھ کر کھائوکھڑے ہو کر شیطان کھاتا ہے، کھڑے ہوکر کھانے سے منع کیا گیا، لیکن کھجور کے بارے میں آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کسی انصاری کے باغیچے میں داخل ہوئے اور کھجور نوش فرما رہے تھے اور آپﷺ چل بھی رہے تھے ا ور میں بھی آپﷺ کے ساتھ چل رہا تھا۔(طبرانی، سیرت الشامی صفحہ265)
معلوم ہوا کہ کوئی ایسی چیز ہو مختصر سی جیسے کھجوریا کچھ اور تو انسان اسکو چلتے پھرتے ہوئے کھا سکتا ہے۔اچھا کھجور کھانے کا ایک طریقہ اوربھی ہے۔ دیکھیں نبی کی ہر سنت کے اندر کوئی نہ کوئی حکمت ہے اور اسکے کوئی نہ کوئی فائدے ہیں اور سب سے بڑھ کر اللہ کی محبت انسان کو ملتی ہے۔ ذرا توجہ سے سنیں!
کھجور کی گھٹلی سے متعلق آپﷺ کا طریقہ:
حضرت انسtفرماتے ہیں کہ آپ ﷺ کی خدمت میں ایک طبق کھجوروں کا پیش کیا گیا ، آپ ﷺ گھٹنے کے بل بیٹھے۔ ذرا غور کیجیے گا کہ آپ ﷺ کی خدمت میں کھجوروں کا ایک ٹوکرا سا پیش کیا گیا،اورآپ ﷺ گھٹنوں کے بل بیٹھے اور ایک ایک مٹھی لینے لگے اور اور اپنی بیویوں کے گھر میں بھیجنے لگے اورپھر آپ ﷺ نے اس طرح سے کھجوریں کھائیں جس سے معلوم ہو رہا تھا کہ آپ ﷺ کو بہت زیادہ بھوک لگی ہوئی تھی، اور گٹھلی کو نبی بائیں ہاتھ سے پھینک رہے تھے ، دائیں ہاتھ سے کھجور کھانا سنت اور گٹھلی کو بائیں ہاتھ سے نکالنا سنت ہے، تو جب ہم کھجور کھائیں گٹھلی نکالنے کا موقع آئے تو سیدھے ہاتھ سے نہ نکالیں الٹے ہاتھ سے نکالیں یہ نبی کی سنت ہے۔
صفائی پسندی:
اور اس کے اندر علماء نے لکھا کہ گٹھلی الٹے ہاتھ سے نکالنا صفائی اور نظافت ہے یعنی دائیں ہاتھ سے ہی انسان کھائے اوربائیں ہاتھ سے گٹھلی نکالے۔ نبیu کی طبیعت بہت ہی زیادہ خوبصورت اور صفائی پسند تھی اب Hygienically بھی اسکو دیکھیں تو یہ سب سے بہترین بات ہے ۔
میزبان کے لیےدعا:
عبد اللہ بن بسرt فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ ہمارے ابو کے گھر تشریف لائے، ہم لوگوں نے کھانا اور کھجور کا ملیدہ پیش کیا ،آپ ﷺ نے کھانا کھایا۔ پھر کھجور پیش کی گئی آپ ﷺ کھجور کھا رہے تھے اور اس کی گٹھلی کو دو انگلیوں شہادت کی انگلی اوراسکے ساتھ والی لمبی انگلی سے نکال رہے تھے۔ پھر پانی لایا گیا تو آپ ﷺ نے پانی نوش فرما کر دائیں جانب والے کو دے دیا۔ کھانے وغیرہ سے میرے والدفارغ ہو کر نبی کو چھوڑنے کے لیے See off کرنے کے لیے سواری تک آئے اور انہوں نے آپﷺ کی سواری کی لگام پکڑی اور دعا کی درخواست کی کہ اے اللہ کے نبیﷺ! میرے لیے دعا کر دیجئے۔ تو آپ ﷺ نے دعا دیتے ہوئے فرمایا:
اَللّٰھُمَّ بَارِکْ لَھُمْ فِیْمَا رَزَقْتَھُمْ فَاغْفِرْلَھُمْ فَارْحَمْھُمْ (مسلم جلد 2صفحہ 180)
اہم نکات:
اس واقعہ کے اندر کئی باتیں سمجھنے کی ہیں کہ نبی کسی کی دعوت پر گئے، ان لوگوں نے کھانا پیش کیا، آپ ﷺ نے کھانا کھایا، وہ کھجور لے کر آئے تو نبی دائیں ہاتھ سے کھجور کھا تے رہے اور الٹے ہاتھ کی دو انگلیوں شہادت والی اور اس کے برابر والی جوبڑی لمبی انگلی ہوتی ہے ان دونوں کی مدد سے نبی اپنے منہ مبارک سے گھٹلیاں نکال رہے تھے ۔ اور جب کھانا کھا چکے تو میزبان نے درخواست کی کہ اے اللہ کے نبیﷺ! دعا کر دیجئے۔ تو نبی نے ان کے لیے دین اور دنیا کے لیے برکت کی دعا کی۔ اس سے معلوم ہوا کہ اگرکوئی انسان کسی کی دعوت کرے تو مہمان سے دعا کروانا بھی سنت ہے۔اور مہمان کو بھی چاہیے کہ جب کہیں جائے تو وہ میزبان کو و سعت رزق کی اور مغفرت کی دعا دے۔ یہی صحابی عبد اللہ بن بسر فرماتے ہیں کہ ہمارے یہاں نبی کریمﷺ تشریف لائے اور میری والدہ نے چادر بچھائی اور آپ ﷺ اس چادر پر تشریف فرما ہوئے پھر کھجور پیش کی گئی آپﷺ نے اسکو کھایا اور اس طرح کھا رہے تھے کہ دائیں ہاتھ سے کھاتے اورگٹھلی کوالٹے ہاتھ کی شہادت اور بیچ والی انگلی سے نکال رہے تھے۔ (سیرت جلد2صفحہ318)
ایک صحابیt فرماتے ہیں کہ میں آپ ﷺ کے پاس بیٹھا ہوا تھا اور آپﷺ کھجور کے درخت کا گوند کھا رہے تھے ۔ (بخاری جلد2صفحہ819،سیرت جلد 7صفحہ322)
پیلو کا درخت:
اسی طرح حضرت جابربن عبد اللہt فرماتے ہیں کہ ہم کسی جگہ پر تھے اورپیلو (ایک درخت) کو توڑ کر کھا رہے تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ کالی کالی توڑنا، تو ہم نے کہا کہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے بکریاں چرائی ہیں۔ آپ ﷺنے ارشاد فرمایا کہ ہاں، کوئی نبی ایسا نہیں جنہوں نے بکریاںنہ چرائی ہوں یعنی تمام انبیاء نے بکریاں چرائی ہیں اور میں نے بھی بکریاں چرائی ہیں ۔ نبیکے بارے میں آیا ہے کہ آپ نے پیلو نوش فرمایا، پیلوکے درخت کی ایک چیز ہوتی ہے اسکو نبی نے کھایا ۔ علامہ عینی نے لکھا کہ ابتدائے اسلام میں جب تنگی تھی اور وسعت نہیں تھی اس وقت نبی نے اسکو استعمال فرمایا ، لیکن جب اللہ رب العزت نے وسعت عطا فرما دی پھر آپﷺ نے اس چیز کو نہیں کھایا ۔
زیتون:
اسی طرح اگلی چیز ہے زیتون۔ یہ بھی بہت بڑی نعمت ہے،اور قرآن مجید کے اندر اللہ رب العزت نے اس کی قسم کھائی:
وَالتِّیْنِ وَالزَّیْتُوْنِ (التین1)
’’قسم ہے زیتون کی ‘‘۔
زیتون کے متعلق آپﷺ کے ارشادات:
زیتون کے بارے میں عمر بن خطابt فرماتے ہیں کہ نبی نے فرمایا کہ زیتون کا تیل کھائو اور اس کا تیل لگائو یہ مبارک درخت ہے ۔ اور ابو ہریر کی روایت میںنبی نے فرمایا کہ زیتون کھائو بھی اور لگائو بھی یہ برکت والا ہے۔
(ابن ماجہ جلد2صفحہ242)
اور حضرت علیt سے روایت ہے کہ نبی نے مجھ سے فرمایا کہ اے علی! زیتون کھائو اور اس کا تیل لگائو جو اس کا تیل لگائے گا شیطان اس کے پاس چالیس رات تک نہیں آئے گا ۔ (مطالب عالیہ جلد3صفحہ322)
اور حضرت عمران نے نبی سے روایت کی ہے کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ زیتون کا سالن استعمال کرو، اس کا تیل لگائو یہ مبارک درخت سے نکلا ہے۔
(آداب،بیہقی صفحہ 314)
زیتون کے فوائد:
ایک روایت کے اندر یہ بھی ہے کہ زیتون میں 70 بیماریوں سے شفا ہے۔
(جمع صفحہ205)
ملا علی قاری نے لکھا کہ زیتون کو روٹی کے ساتھ کھانے کی بہت تاکید آئی ہے ۔ اور اس کے مبارک ہونے کا ذکر قرآن مجید میںبھی ہے۔ اور یہ مبارک اس وجہ سے ہے کہ اس کے فائدے بہت زیادہ ہیں، یا اس وجہ سے کہ اس کی پیدائش مقدس سر زمین یعنی ملک شام میں ہوئی جو ایسا علاقہ ہے جس میں70 انبیاء آئے۔ زیتون کے فائدوںکے بارے میں حضرت عبد اللہ بن عباسi فرماتے ہیں کہ زیتون کے درخت کی ہر ہر چیز میں فائدہ ہی فائدہ ہے۔ اس کا جوتیل ہے Olive Oil جلانے کے بھی کام آتا ہے ،کھانے کے بھی کام آتا ہے ، لگانے کے بھی کام آتا ہے۔ اور اس کا درخت دباغت(کھالوں کو پاک کرنے )کے کام آتا ہے ، ایندھن کے طور پر جلانے کا کام بھی لیا جا سکتا ہے۔ بعض درخت ایسے ہوتے ہیں کہ جن کو جلایا نہیں جا سکتا تو زیتون کا درخت اس کام بھی آسکتا ہے ۔ اور جب اس کی راکھ بن جاتی ہے تو وہ بھی ریشم کے دھونے کے لیے خاص طور سے مفید ہے۔ کہتے ہیں کہ اس درخت کی عمر بہت زیادہ ہوتی ہے، 40 سال کی عمر میں تو یہ پھل دینا شروع کرتا ہے اور اکثر اس کی عمر ایک ہزار سال تک ہوتی ہے۔ تو زیتون کو کھانا بہت طرح سے فائدہ مند ہے۔ (خصائل صفحہ133)
کولیسٹرول میں کمی:
آج میڈیکل سائنس نے اس کو ثابت کیا کہ زیتون کھانے سے کولیسٹرول کم ہو جا تا ہے۔ جب انسان زیتون استعمال کرتا ہے کھاتا ہے یا پیتا ہے ،کھانا ہی بلکہ زیتون میں پکاتا ہے تو انسان کا کولیسٹرول کم ہوجاتا ہے اور یہ بہت سے لوگوں پر تجربہ کیا گیا۔ وہ لوگ جن کا کولیسٹرول 300تھا، انہوں نے چالیس دن فقط زیتون کھایا پیا ،حتی کہ پراٹھے بھی زیتون میںکھائے،تو اللہ رب العزت کی طرف سے یہ معاملہ ہوا کہ ان کا کولیسٹرول لیول 200سے بھی کم ہوگیا۔ تو زیتون کو استعمال کرنا سنت ہے۔ میرا اپنا بھی ایک چھوٹا سا تجربہ ہوا ہے کچھ دن پہلے مجھے ڈاکٹر نے منع کر دیا کہ جی آپ بیان کرنا بند کر دیںاور دو تین مہینےVoice Restکریں۔اللہ کی شان کچھ دن تو antibiotcکھانا پڑی اس کے بعد زیتون کا تیل نیم گرم کر کے آئے دن کھا لیتا ہوں،کبھی روز کھا لیتا ہوں تو یہ گلاپھر دوبارہ خراب نہیں ہوتا، اور اندر کی Lubrication ہوتی رہتی ہے ۔ تو بہر حال زیتون کے منافع بہت زیادہ ہیں۔ تو زیتون لگانا بھی اور کھانابھی دونوں طرح استعمال کرنا چاہیے۔
انجیر:
اسی طرح انجیر نبیu کو پسند تھی۔ ابو ذغفاریt فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ کو انجیر ایک طبق میںہدیتاً پیش کیے گئے، اور آپ ﷺ نے اپنے صحاب سے فرمایا کہ کھائو اگر میں کہتا کہ جنت میں سے کوئی میوہ اتارا گیا ہے تو انجیر کے متعلق کہتا۔ اور یہ فرمایا کہ یہ بواسیر کے لیے نافع ہے۔ قبض اور پائلز کی بواسیر کے لیے بہت مفید ہے ۔
(ابن سنی،ابو نعیم ،سیرت جلد7صفحہ 319)
ذاتی تجربہ:
میرا اپنا انجیر کا بھی تجربہ رہا کہ مجھے ذاتی طور پر قبض آٹھ، دس دن تک رہتی تھی۔ سات دن ،چھ دن تو معمولی بات تھی۔ بہت علاج کرائے ایلو پیتھک، ہومیوپیتھک بھی اور حکمت کے بھی اور جو گھریلو ٹوٹکے ہوتے ہیں سارے کیے چند دنوں کے لیے وقتی طور پہ فائدہ ہوتا لیکن اس کے بعد معاملہ پھر گھوم پھر کے ادھر ہی آجاتا ، حتی کہ اس قبض کے لیے میں نے ایک مائنرسا آپریشن کروایا اوراللہ کی شان وہ ری ایکشن کر گیا ، اور میرا پروسیٹریٹ بڑھ گیا۔ اب ڈاکٹر کے پاس دکھانے گیا، الٹرا سائونڈ ہوا تو انہوں نے کہا کہ اس عمر میں پروسیٹریٹ انسان کا بڑھ ہی نہیں سکتا یہ تمہاری رپورٹ ہی نہیںہے۔ میں نے کہا: جناب! یہ میری رپورٹ ہے۔ اور بعض اوقات تو ساری ساری رات مجھے واش روم میں بیٹھنا پڑتا تھا۔ ایک دفعہ ایسا ہوا کہ ساڑھے چار پانچ گھنٹے واش روم میں بیٹھا رہا اور اس دوران مستقل پیشاب ہی آتا رہا۔ بہر حال بہت علاج کرائے اور تقریباتین مہینے گھر پہ رہا پھر جاکے کہیں طبیعت بہتر ہوئی ، اور الحمد للہ! ٹھیک ہوا۔ لیکن قبض کا مسئلہ پھر وہی، سب کچھ کرانے کے بعد پھر نقصان کا نقصان۔ کوئی فائدہ نہیںہوتا تھا، جو فائدہ ہو تا تو وقتی ، کبھی کوئی دوائی کبھی کوئی دوائی۔
اس کے بعد اللہ کی شان یہ ہی حدیث پڑھ لی، میں اپنی صورت حال بھی بتا دوںکہ جب میں واش روم میں جاتا، فلیش میں بیٹھتا اس میں اتنا خون نکلتا تھاکہ پورا فلیش اپنی آنکھوں سے کئی مرتبہ لال دیکھا، خون سے بھرا ہوا۔ خون بہت زیادہ نہیں ہوتا تھا لیکن وہ پھیل کے ایسا لگتا تھا کہ جیسے ہر طرف خون ہی خون ہے۔ بہرحال میں نے اپنی آنکھوں سے اتنا خون دیکھا ، اور بڑا پریشان بھی تھا کہ یا اللہ کیا کروں؟ جس دن یہ حدیث مبارکہ پڑھی کہ انجیربواسیر کے لیے، قبض کے لیے، پائلز کے لیے بہت نافع ہے، ساری چیزیں چھوڑ کر فقط انجیر کھائی۔ اللہ کو حاضر ناظر جان کے کہتا ہوں کہ اس کے بعد میں نے قبض کے لیے قطعاً کوئی دوائی نہیں کھائی۔
اس کے ایک ڈیڑھ سال بعد ایسا ہوا کہ ایک رمضان گذرا اس رمضان میں مجھے دوبارہ خون آنا شروع ہوگیا۔ میں بڑا پریشان کہ یا اللہ! یہ کیا ماجرا ہوا، پھر کیوں پریشانی ہو گئی؟ سوچنے سے یاد آیا کہ ہاں بھئی! مہینہ ڈیڑھ مہینہ ہو گیا کہ انجیر نہیں کھائی، تو دوبارہ انجیر کھانی شروع کر دی، الحمد للہ! آٹھ نو دن انجیر کھائی تودوبارہ وہ خون آنا بند ہو گیا۔ چند دن تو آیا دو تین دن چار دن لیکن آٹھ نو دن کھانے سے دوبارہ طبیعت ٹھیک ہو گئی ۔ اور اس کے بعد الحمد للہ! مستقل انجیر کھانے کی عادت ہے، اور اب مجھے یہ مسئلہ نہیں ہے۔ تو انجیر کے بارے میں نبی نے بتایا کہ کھائو اگر میں کہتا کہ جنت سے کوئی میوہ اتارا گیا ہے تو انجیر کے متعلق کہتا ۔
انگور :
اسی طرح انگور کے بارے میں نعمان بن بشیرt فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ کی خدمت میں طائف کے انگو رہدیتا پیش کیے گئے، آپ ﷺ نے مجھے بلایا اور کہاکہ یہ خوشہ لے جائو اور اپنی والدہ کو دے دو۔ فرماتے ہیں کہ میں چھوٹا تھا میں نے پورا خود ہی کھا لیا۔ چند دنوں کے بعد نبینے مجھ سے پوچھا کہ بھئی! وہ انگور کا کیا کیا؟ کیا اپنی امی کو دے دیئے تھے؟ میں نے کہا نہیں۔ تو نبی نے مجھے فرمایا: غدر یعنی دھوکا دینے والا۔ مذاق سے فرمایا کہ دیکھو تم نے کیا کیا ۔
حضرت عبد اللہ بن عباسi فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کو دیکھا کہ خوشے سے انگور کھا رہے تھے۔ (سیرت صفحہ319)
اور ایک حدیث میں آتا ہے کہ میوے میں انگور اور خربوزہ آپﷺ کو بہت مرغوب تھے۔ (ابن سنی،سیرت جلد 7صفحہ319)
ایک حدیث میں آتا ہے کہ انگو ر بہترین پھل ہے۔ اور ایک ضعیف حدیث میں آتا ہے کہ انگو ر روٹی سے کھانا آپ سے منقول ہے۔ (مواہب جلد 4صفحہ337)
کشمش:
علاوہ ازیں کشمش کھانا بھی نبیﷺ سے ثابت ہے۔ حضرت انس بن ثابتt نے ذکر کیا ہے کہ آپﷺ سعدبن عبادہt کے گھر میں آئے اور انہوں نے کشمش پیش کی اور آپﷺ نے کشمش کو نوش فرمایا اورفارغ ہونے کے بعد ان کو دعا دی:
اَکَلَ طَعَامَکُمُ الْاَبْرَارُ وَصَلَّتْ عَلَیْکُمُ الْمَلاَئِکَۃُ وَ اَفْطَرَ عِنْدَکُمُ الصَّائِمُوْنَ
(مسند احمدِسیرت الشامی صفحہ320)
انار:
اسی طرح انار کے متعلق مسند ابن حبان میں یہ روایت ہے کہ عرفہ کے دن آپ ﷺ کی خدمت میں انار بھیجا گیا اور آپ نے حج کے موقع پر انار کھایا۔
(سیرت ،مواہب لدنیہ صفحہ 340)
حضرت علیt کا ایک قول ہے کہ انار کھایا کرو اس میں معدے کی صفائی ہے ۔
(مجمع5 / 48)
اسی طرح کچھ چٹ پٹی بات بھی ہو جائے یہ تو میوو ں کی باتیں تھیں ۔
ہمارے یہاں ایک چیز ہوتی ہے اس کو بھی نبی نے پسند فرمایا۔
سونٹھ :
یہ ہندوستان، پاکستان کی ایک چیز ہے۔ ایک صحابی فرماتے کہ نبی کریمﷺ کی خدمت اقدس میں ہندوستان کے ایک راجہ نے ایک گھڑا بھیجا جس کے اندر سونٹھ تھی، آپ ﷺ نے اس میں سے ہر ایک کو کھلایا اور ہمیں بھی کھلایا۔ (ترمذی،حاکم جلد4صفحہ 135)
اس حدیث میں یہ ذکر تو نہیں ہے کہ آپﷺ نے خود کھایا لیکن غالب گمان یہ ہے کہ جب باد شاہ نے ہدیہ بھیجا تو آپﷺ نے صحابہj کو کھلایا تھا جیسا کہ حدیث میں ذکر ہے تو امید یہ ہے کہ آپ ﷺ نے قبول فرمایا تو کھایا بھی ہوگا۔
شہتوت:
اسی طرح شہتوت کے بارے میں ایک صحابی فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کو شہتوت کھاتے ہوئے دیکھا کہ ایک پیالا تھا اس میں شہتوت رکھے ہوئے تھے آپﷺ نوش فرما رہے تھے ۔(سیرت صفحہ 321،مواہب جلد4صفحہ340)
ایک بڑی حکمت کی بات :
پھلوں سے متعلق حکمت کی بڑی بات ہمیںنبی کی زندگی میں ملتی ہے۔ وہ یہ ہے کہ آپ ﷺ کی عادت مبارکہ یہ تھی کہ آپﷺ اپنے علاقے کے پھلوں کو کھاتے تھے جب ان کا موسم ہوتا تھا۔ یہ اللہ کی شان ہے اور اللہ کی رحمت ہے اپنے بندوں پر کہ اللہ تعالیٰ نے پھلوں میں ہر جگہ کے بندوں کے مزاج کی رعایت رکھی ہے ، جیسا عربوں کے لیے اللہ تعالی نے کھجور پیدا کی تو وہاں والوں کے لیے کھجور زیادہ نافع ہے۔ اب ہمارے لیے جیسے گرمی کا موسم ہے تو آم کھانا چاہیے۔ جو بھی سیزن کا پھل آئے اسکو کھانا چاہیے کہ اس علاقے والوں کے لیے اس کے اندر خیر ہوتی ہے ۔ اور اللہ رب العزت نے اس کی تقسیم ہی ایسے کی ہے کہ جس پھل کو جس علاقے میں اگایا جاتا ہے وہ ان علاقے والوں کے لیے بہت خیر کا ذریعہ ہوتا ہے۔ اسی طرح سبزی کے اندر بھی یہی اصول اپنایا جائے گا کہ جن دنوں کے اندر جو سبزی آرہی ہواسے کھانا سنت ہے تو سیزن کا فروٹ کھانا، اپنے علاقے کاپھل کھانا بھی سنت ہے اور صحت کے اعتبار سے بھی بہترین ہے۔
(مواہب جلد 4صفحہ 340)
موسم کا پہلا پھل اور آپﷺ کا عمل:
پھلوںکے بارے میں نبیu کی ایک مبارک عادت یہ تھی کہ جب آپ ﷺ کے پاس موسم کا پہلا پھل آتا تو آپﷺ اسے بوسہ دے دیتے، کبھی کبار آنکھوں سے بھی لگا دیتے اور پھر یہ دعا مانگتے:
اَللّٰھُمَّ کَمَا اَطْعَمْتَنَا اَوَّلَہٗ فَاَ طْعِمْنَا اٰخِرَہٗ (المعجم الکبیر للطبرانی)
’’اے اللہ! جس طرح آپ نے اس کا شروع کاحصّہ ہمیں کھلادیا اللہ! آخری حصہ بھی کھلادیں‘‘۔
یعنی تمام سیزن کے لیے دعا کر دی ، شروع سے لیکر آخر تک کی۔ پھر وہ پھل کسی چھوٹے بچے کو دے دیتے۔ اور ایک روایت میںہے کہ حاضرین میں سے جو کوئی چھوٹا بچہ ہوتا تو اسے آپ ﷺدے دیتے۔ ابو ہریرہt فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ کے پاس جب موسم کا پہلا پھل آتا تو آپ یہ دعا پڑھتے:
اَللّٰھُمَّ کَمَا اَرَیْتَنَا اَوَّلَہٗ وَ اَرِنَا آخِرَہٗ (مسلم جلد2صفحہ248)
’’اے اللہ! جیسا کہ آپ نے اس کا اول حصہ ہمیں دکھلایا اے اللہ! آخر بھی دکھا دیجیے‘‘۔
ابن ماجہ کی روایت میں ہے کہ نبی دعا کرنے کے بعد جو پہلا پھل ہوتا وہ کسی چھوٹے بچے کو دے دیتے ۔(ابن ماجہ جلد 2صفحہ 245)
علماء نے لکھا کہ موسم کا پہلا پھل دیکھنے پر یہ دعا کرنا سنت ہے اور یہ قبولیت دعا کا وقت ہے۔ ذرا غور کیجئے گا جب بھی کسی موسم کی سبزی یا پھل پہلی دفعہ گھر آئے انسان اس کو دیکھے تو اس وقت دو چیزیں سنت ہیں! ایک دعا کرنا، اور ایک چھوٹے بچے کو دے دینا۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں حضور پاکﷺ کی ایک ایک سنت کو شوق اورمحبت سے اپنانے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین)
محبت کی ایک تعریف:
علامہ شبلی نے لکھا ہے کہ محبت کسے کہتے ہیں ؟ کہتے ہیں کہ محبت اس چیز کو اختیار کرنا ہے جس کو دوست محبوب رکھتا ہے اگرچہ تمہیں نا پسند ہو، اور محبت اس چیز کو مکروہ سمجھنا ہے جسے محبوب مکروہ سمجھے اگرچہ تمہیں پسند ہو۔ یعنی آج ہم ایسے ارادہ کریں کہ جو نبی کی پسند وہ ہماری پسند اور جو چیز نبی کو ناپسند وہ بھی ہمیں نا پسند ، یہ محبت کا ایک درجہ ہے اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے یہ نعمتہمیں عطا فرمائے ۔

وَآخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُلِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْن

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں