13

نمازِ جنازہ کے اَرکان یعنی اندرونی فرائض:


نمازِ جنازہ کے ارکان یعنی اندرونی فرائض دو ہیں:
قیام: یعنی کھڑے ہوکر نمازِ جنازہ ادا کرنا فرض ہے، اس لیے بلا عذر بیٹھ کر ادا کرنا جائز نہیں۔
چار تکبیرات: نمازِ جنازہ کی یہ تکبیرات زبان سے کہنا فرض ہے اور ان میں سے ہر تکبیر ایک رکعت کے قائم مقام ہے۔ یاد رہے کہ یہ حکم امام اور مقتدی دونوں کے لیے ہے۔

غلط فہمی کا اِزالہ:
بہت سے لوگ نمازِ جنازہ کی یہ چار تکبیرات زبان سے نہیں کہتے، یا صرف پہلی تکبیر زبان سے کہہ دیتے ہیں، پھر اس کے بعد بقیہ تکبیرات زبان سے نہیں کہتے، بلکہ صرف امام کے کہنے کو کافی سمجھتے ہیں، واضح رہے کہ ان حضرات کی نمازِ جنازہ ادا نہیں ہوتی کیوں کہ ماقبل کی تفصیل سے یہ بات واضح ہوچکی ہے کہ نمازِ جنازہ کی چاروں تکبیرات زبان سے کہنا فرض ہے، تو جو لوگ تکبیرات زبان سے نہیں کہتے تو یہ ایک واضح سی بات ہے کہ فرض چھوڑنے کی وجہ سے ان کی نمازِ جنازہ ادا نہیں ہوتی۔

فقہی عبارات
☀ الدر المختار:
(وَرُكْنُهَا) شَيْئَانِ (التَّكْبِيرَاتُ) الْأَرْبَعُ، فَالْأُولَى رُكْنٌ أَيْضًا لَا شَرْطٌ، فَلِذَا لَمْ يَجُزْ بِنَاءُ أُخْرَى عَلَيْهَا، (وَالْقِيَامُ) فَلَمْ تَجُزْ قَاعِدًا بِلَا عُذْرٍ.
☀ البحر الرائق:
وَرُكْنُهَا: التَّكْبِيرَاتُ وَالْقِيَامُ؛ لِأَنَّ كُلَّ تَكْبِيرَةٍ منها قَائِمَةٌ مَقَامَ رَكْعَةٍ.
☀ الفقہ الاسلامی واَدِلتہ:
رابعًا: أركان صلاة الجنازة وسننها وكيفيتها: أما مذهب الحنفية: فللصلاة عندهم ركنان: التكبيرات الأربع، والقيام. والتكبيرة الأولى تكبيرة الإحرام ركن لا شرط، فلم يجز بناء تكبيرة أخرى عليها. والتكبيرات أربع، كل تكبيرة قائمة مقام ركعة. ويجب السلام مرتين بعد التكبيرة الرابعة. فالواجب عندهم شيء واحد هو السلام، والركن: اثنان: التكبير والقيام. والنية شرط لا ركن، ولا تجوز الصلاة على الجنازة راكبًا ولا قاعدًا بغیر عذر استحسانًا.
☀ الموسوعۃ الفقہیہ الکویتیہ:
وَأَرْكَانُ صَلَاةِ الْجِنَازَةِ عِنْدَ الْحَنَفِيَّةِ: التَّكْبِيرَاتُ وَالْقِيَامُ، فَلَا تَصِحُّ مِنَ الْقَاعِدِ أَوِ الرَّاكِبِ مِنْ غَيْرِ عُذْرٍ، فَلَوْ تَعَذَّرَ النُّزُول عَنِ الدَّابَّةِ لِطِينٍ وَنَحْوِهِ جَازَ أَنْ يُصَلِّيَ عَلَيْهَا رَاكِبًا اسْتِحْسَانًا، وَلَوْ كَانَ الْوَلِيُّ مَرِيضًا فَأَمَّ قَاعِدًا وَالنَّاسُ قِيَامٌ أَجْزَأَهُمْ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ وَأَبِي يُوسُفَ، وَقَال مُحَمَّدٌ: تُجْزِئُ الإمَامَ فَقَطْ.

۔۔۔ مفتی مبین الرحمٰن صاحب مدظلہ
فاضل جامعہ دار العلوم کراچی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں