نکاح میں برکات کیسے حاصل کریں؟

نکاح میں برکات کیسے حاصل کریں؟

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ وَ کَفٰی وَ سَلٰمٌ عَلٰی عِبَا دِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی. أَمَّا بَعْدُ:
فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِيْمِ o بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِo
يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ حَقَّ تُقٰتِہٖ وَلَا تَمُوْتُنَّ اِلَّا وَاَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ۝۱۰۲
(آل عمران: 102)
سُبْحٰنَ رَبِّکَ رَبِّ الْعِزَّۃِ عَمَّا یَصِفُوْنَo وَ سَلٰمٌ عَلَى الْمُرْسَلِیْنَo
وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَo
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِ نَامُحَمَّدٍوَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِ نَامُحَمَّدٍوَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِ نَامُحَمَّدٍوَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ

دولہا و دلہن کو دعاؤں کی ضرورت
یہ ایک شادی کی تقریب ہے تو اِن شاء اللہ شادی کے عنوان سے کچھ مختصر باتیں ہوں گی۔ سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ نکاح مسجد میں ہو، یہ سنت ہے۔ اگرچہ ابھی ہم جہاں بیٹھے ہیں، یہ مسجد نہیں، مدرسہ ہے، لیکن بہر حال ابھی ہم کسی شادی ہال میں نہیں ہیں۔ اس عاجز کو تجربہ ہوا مسجد میں بھی نکاح پڑھانے کا، مدرسے میں بھی، اپنے گھر پر بھی، اور خانقاہ میں بھی۔ اور بعض مرتبہ شادی ہالوں میں بھی نکاح پڑھایا۔ سب جگہوں کے بعد ایک فرق محسوس ہوا۔ شادی ہال میں جب نکاح ہوتا ہے تو کسی کی بھی توجہ دعا کی طرف نہیں ہوتی، سب اپنی اپنی باتوں میں لگے ہوتے ہیں۔ عورتیں اپنے اپنے فیشن ڈیزائننگ میں لگی ہوتی ہیں، اپنے آپ کو دِکھانے میں لگی ہوتی ہیں۔ اور جو نکاح کے کلمات پڑھے جا رہے ہوتے ہیں، خطبہ پڑھا جا رہا ہوتا ہے،دعائیں دی جا رہی ہوتی ہیں، اس وقت حاضرین اس میں شامل نہیں ہوتے۔
یہ کون سا موقع ہوتا ہے؟ نکاح کا موقع ہوتا ہے۔ دو زندگیوں کے جوڑ اور ملاپ کا موقع ہوتا ہے۔ ایک نئی بنیاد پڑ رہی ہوتی ہے۔ اس وقت اس جوڑے کو دعائوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ جب شادی ہالوں میں نکاح کیے جاتے ہیں تو یہ نئے جوڑے دعائوں سے محروم ہوتے ہیں، محروم ہونا تو الگ بات، مزید گناہوں میں مبتلا ہونے کی وجہ سے بعض دفعہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے لعنتوں کے مستحق ہو چکے ہوتے ہیں۔ مرد و زن کا مخلوط ماحول اللہ کی ناراضگی وجہ، تصویریں کھینچنا، ویڈیو بنانا اللہ کی ناراضگی کی وجہ، موسیقی کی آواز سے شیطان کا خوش ہونا اور رحمٰن کا ناراض ہو جانا۔ الغرض کئی قسم کی ایسی چیزیں آ جاتی ہیں جو آنے والی زندگی کو تباہ کر رہی ہوتی ہیں۔ اور جب یہی نکاح مسجد میں ہو تو سبحان اللہ! عین سنت کے مطابق ہے۔ لیکن اگر مدرسے میں بھی ہو رہا ہے تو ایسی محافل میں فرشتے بھی آ جاتے ہیں۔
یہ ایک پوائنٹ ہے اگر کسی کو سمجھ میں آ جائے۔ شادی ہال میں نکاح تو ہو جاتا ہے، لیکن وہ برکتیں ہو ہی نہیں سکتیں جو مسجد میں ہوتی ہیں۔ مسجد کے بعد پھر مدرسہ، خانقاہ وغیرہ کی برکتیں ہیں۔
رب کو راضی کرنے کی فکر ہو
دوسری بات یہ کہ مجھے بتلائیں کہ یہ شادی خوشی کا موقع ہے یا غم کا موقع؟ بتائیں! یہ شادی خوشی کا موقع ہے۔ اس خوشی کے موقع پر ہماری ترتیب کیا ہوتی ہے؟ خوشی کے موقع پر ہماری ترتیب ہوتی ہے سب خاندان والوں کو منالو، رشتے داروں کو منالو، پھوپی، تایا، چاچا، ماما، جو بھی ہے، کوشش ہوتی ہے کہ سب کو منائو۔ کیا اس خوشی کے موقع پہ ہمارے نزدیک اللہ کو اور اس کے نبیﷺ کو خوش کرنے کی کوئی اہمیت اور ضرورت نہیں ہے؟ کبھی ہم نے سوچا آج تک کہ شادی کا موقع ہے اللہ کو منالو۔ اللہ کے محبوبﷺ کو منالو۔
موجودہ رسومات کی تباہ کاریاں
کیا ہمارے گھروں میں یہ ذکر آتا ہے یا نہیں آتا؟ آج چند مہینوں بعد طلاقیں ہو رہی ہیں۔ شادی کے موقع پر کون کون سی تیاری ہم نہیں کرتے۔ لاکھوں روپے خرچ کر دیتے ہیں۔ آج دو آدمیوں نے بتایا ہے حیرت ناک باتیں تھیں۔ ایک نے تو یہ بتایا کہ آج کل کوئی واہیات اور بےغیرتی کی کوئی رسم چل رہی ہے شادی کے اندر۔ پتا نہیں اس کا انہوں نے کیا نام لیا تھا۔ دولہا اور دلہن ہال میں آتے ہیں تو ساتھ میں دلہن کی سہیلیاں اور اس کی کزن لڑکیاں بھی ہوتی ہیں۔ دولہا اکیلا ہوتا ہے۔ پہلے دولہا دولہن کے ساتھ تصویریں کھنچواتا ہے۔ پھر کیک کاٹے جاتے ہیں۔ پھر دولہا دلہن کی سہیلیوں کے ساتھ تصویریں کھنچواتا ہے۔ اور انہوں نے یہ خاص طور سے بتایا کہ اس فنکشن میں پابندی ہوتی ہے کہ گھر کا کوئی بڑا شامل نہیںہوگا تاکہ بے حیائی کی کوئی کسر کسی وجہ سے رہ سکتی ہو تو وہ بھی نہ رہے۔ اور ہم شیطانیت میں پورے ڈوب جائیں۔
اب نئی زندگی کی بنیاد میں یہ ڈالا جائے گا تو شادی کے بعد سکون کیسے آئے گا؟ وہ طریقہ مجھے بتا دیں۔ نئی زندگی کی بنیاد میں دعاؤں کی ضرورت ہے، سنت اعمال کی ضروت ہے، اللہ کی مدد کی ضرورت ہے، اور ہم کیا کر رہے ہیں۔
اسی طرح ایک صاحب نے یہ بتایا کہ فوٹو سیشن بھی ایک بیماری ہے ۔ ایسا ہوتا ہے کہ پوری ڈیل کی جاتی ہے۔ چار، پانچ قسم کے فوٹوگرافر ہوتے ہیں جنہیں اس موقع پر بلایا جاتا ہے۔ وہ بھی پروفیشنل لوگ ہوتے ہیں۔ اب میاں بیوی دونوں کمرے میں تنہا ہوتے ہیں اور چار، پانچ قسم کے یہ پروفیشنل لوگ آ جاتے ہیں۔ اس کے بعد یہ فوٹو لیتے ہیں اور ہر طرح کا پوز لینے کی کوشش کرتے ہیں۔ اب ایمان والے کی غیرت کہاں چلی گئی؟ یہ جو پانچ، چھ فوٹوگرافرز ہیں کیا یہ باحیا ہیں؟ کیا یہ نمازی، متقی، پرہیزگار ہیں؟ کیا یہ جو آپ کی بیوی ہے اس کے سگے بھائی ہیں؟ کس حیثیت سے وہ آئے ہوئے ہیں؟ ہندوانہ رسمیں ہماری شادیوں میں آ گئیں، وہ الگ مسئلہ ہے۔ ان فوٹوگرافروں سے پورے پیکج کی ڈیل کی جاتی ہے۔ شادی کا پیکج بنایا جاتا ہے۔ مالی اعتبار سے کم سے کم پیکج بھی ایک لاکھ کا ہوتا ہے۔ اور اس سے زیادہ پانچ لاکھ، سات لاکھ اور دس لاکھ تک کا بھی پیکج ہوتا ہے۔ یہ پروفیشنل فوٹوگرافرز پہلے دولہا اور دلہن کے مختلف فوٹو کھینچتے ہیں، اس کے بعد اس میں ایڈیٹنگ کرتے ہیں۔ جس طرح کی ڈیمانڈ کی جاتی ہےاس طرح کی وہ بنا کر دیتے ہیں۔
اب شادی کی بنیاد پر رہی ہو، دو خاندانوں کی بنیاد پر رہی ہو، اور وہاں یہ سب کچھ ہو رہا ہو تو بتائیں محبتیں کیسے آئیں گی؟ دونوں میں کس بنیادپر محبت پیدا ہوگی؟ جس بنیاد پر محبتیں پیدا ہونی تھیں وہ تو نبی کریمﷺ بتا گئے۔ اللہ اکبر کبیراً!
محبت کیسے پیدا ہوتی ہے؟
نبی کریمﷺ اپنی ازواجِ مطہرات سے بےپناہ محبت کیا کرتے تھے۔ ایسے ایسے عجیب واقعات ہیں کہ انسان حیران ہو جاتا ہے۔ یہ محبتیں دلوں میں کون ڈالتا ہے؟ اللہ رب العزت ڈالتے ہیں۔ حضرت انس کی روایت میں ہے کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا: بے شک (انسان کا) دل تو اللہ تعالیٰ کی دو انگلیوں کے درمیان ہے، جدھر چاہتے ہیں موڑ دیتے ہیں۔ (سنن ترمذی: رقم 2140)
جو پاک دامن ہوگا، باحیا ہوگا اللہ اس کے دل میں اس کی بیوی کی محبت پیدا کریں گے۔
دیّوث کون شخص ہے؟
ایک لفظ آپ نے سنا ہوگا دیّوث۔ حدیث میں حضرت عمار سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: دیّوث جنت میں نہیں جائے گا۔ (اتحاف: رقم 4495)
اور حضرت عبداللہ بن عمر روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ کا ارشاد مبارک ہے: تین شخصوں پر اللہ تعالیٰ نے جنت کو حرام کر دیا (یہ تین آدمی جنت میں نہیں جائیں گے، اللہ تعالیٰ نے اس بات کو لکھ دیا ہے۔)
1- شراب کا عادی
2- والدین کا نافرمان
3- دیّوث آدمی جو اپنے گھر والوں (بیوی، خادمہ، رشتہ دار) کے بارے میں گندی بات کرتا ہے۔ (مشکاۃ المصابیح: رقم 3655)
بیہقی میں حضرت عمار کی روایت میں یہ بھی ہے کہ صحابہ کرام نے دریافت کیا کہ آدمیوں میں سے دیّوث کون ہے؟ آپﷺ نے ارشاد فرمایا: جو اس بات کی پروا نہیں کرتا کہ اس کی بیوی کے پاس کون آ جا رہا ہے۔
(شعب الایمان للبیہقی: 10076)
یہ باتیں نبی نے بتائی ہیں۔ گھر کی باتیں، میاں بیوی کے پردے کی باتیں گھر سے باہر نہیں بتاتے۔ بھئی! جنت کا ٹکٹ میں نے نہیں دینا۔ ہاں! جس سے غلطی ہوئی، اسے احساس ہوگیا ہے تو توبہ کر لے، معافی مانگ لے۔ اللہ بڑے سے بڑے گناہگار کو جنت میں بڑے سے بڑا مقام عطا کر دیں گے۔ اللہ بڑے کریم ہیں۔
اہم نکتہ
اب یہ جو عمل ہے تصویر والا، فوٹوسیشن والا۔ حدیث شریف میں دیّوث کی جو صفت آتی ہے، میرے خیال میں تو پوری بات اس فوٹو سیشن کے کرانے والے پر صادق آتی ہے۔ وضاحت تو اس کی علمائے کرام سے پوچھ لیں، مگر اپنے دلوں کو ٹٹولیں ضرور کہ جس چیز سے میرے نبیﷺ اپنی ناراضگی، رب کی ناراضگی بتلا کر گئے ہیں۔ اسے کر کے، لوگوں کی چند گھڑی کی واہ واہ لے کر مجھے ملے گا کیا؟ آگ کا عذاب۔ پھر میں ایسے کام کو کروں ہی کیوں جس سے میرا رب ناراض، میرا نبی ناراض، میری آخرت برباد۔ جب شادی کی بنیاد میں ہم نے اللہ تعالیٰ کو ناراض کر لیا، بتائیں! برکتیں کیسے آئیں گی؟
طلاق کی رفتار اور ہمارا اَلمیہ
پرسوں ایک فیملی آ گئی۔ طلاق کا معاملہ شروع ہونے والا تھا اور شادی کو ابھی صرف پانچ مہینے ہوئے تھے۔ آپ اپنے ارد گرد ذرا سا چکر لگائیں یا معلومات لیں۔ آج 2016 کے اندر 3 مہینے، دو مہینے، ایک ہفتہ اور تین دن کی مثالیں بھی موجود ہیں۔ اور سال دو سال والی تو اتنی ہیں کہ اَن گنت ہو چکی ہیں۔ انسان گن بھی نہیں سکتا، کائونٹ لیس ہو چکی ہیں۔ نہیں تو آپ اپنے ماحول میں چیک کر لیں، اپنے خاندان میں، معاشرے کے اندر دیکھ لیں۔ کراچی جانا ہوا تو کچھ دن پہلے وہاں ایک ساتھی نے مجھے باقاعدہ کہا کہ جی! ہماری برادری میں طلاق کی ریشو اس قدر بڑھ گئی ہے کہ آپ آئیں اور ہمارے لوگوں کو بتائیں۔ پھر حضرت جی کی کتابوں سے باتیں تیار کیں، بیان تیار کیے اور جا کے ان کو بات سنائی۔
ایسا ہمارے یہاں کیوں ہو چکا ہے؟ بات سخت ہے، لیکن حقیقت ہے کہ جب شادی کی بنیاد پڑ رہی ہوتی ہے، اس وقت گویا ہم سنت عمل کو دھکے دے کر نکال رہے ہوتے ہیں کہ ایسا نہ ہو کہ کسی اُمتی کے گھر میں نبی کریمﷺ کی سنت زندہ ہو جائے۔ شادی کے وقت یہ کیسے ممکن ہے؟ کلمہ ہم نبی کریمﷺ کا پڑھیں، شفاعت ہمیں ان سے چاہیے، لیکن شادی کے موقع پر نبیﷺ کی سنت ہم نے نہیں پوری کرنی۔ سنت پوری کر دی تو کہتے ہیں کہ ناک کٹ جائے گی۔ شادی اگر سادگی سے ہو جائے تو کہتے ہیں کہ ناک کٹ جائے گی۔ یقین نہ آئے تو کر کے دیکھ لینا، معلوم ہو جائے گا کہ کتنامشکل ترین کام ہے۔ ہاتھ پہ انگارہ رکھنا آسان ہے۔ نبی کریمﷺ کے طریقے کے مطابق آپﷺ کے اُمتیوں کا شادی کرنا آج مشکل ہوگیا۔ ایک بات اور سنیے! یہ جلے ہوئے دل کی باتیں ہیں۔ شاید کسی پر اَثر کر جائیں۔ نہیں تو چلو اپنے دل کی تسلی ہی سہی۔ یہ نوجوان بیٹھے ہیں، شاید کسی کو خیال آجائے کہ شادی سنت کے مطابق کریں گے۔
ایک نوجوان کا واقعہ
ایک نوجوان بیعت ہوا۔ اللہ کی شان کچھ دنوں میں نیکی، و تقویٰ کی طرف اس کی طبیعت راغب ہو گئی۔ کچھ مہینے کے بعد کہنے لگا کہ حضرت! میری شادی ہونے والی ہے۔ میں نے کہا کہ مبارک ہو! پھر میں نے کہا: بیٹا! شادی سنت کے مطابق کرنی ہے۔ کہنے لگا کہ حضرت! میں شادی سنت کے مطابق کروں گا، آپ شادی کی سنتیں بتا دیں۔ اب ہم نے کیا بتانا تھا۔ سیدھا سا جواب دیا کہ نہ مایوں، نہ تیل، نہ مہندی، نہ مکلاوہ، نہ یہ ویڈنگ شوور، اور نہ یہ فوٹو سیشن، نہ کوئی مکس گیدرنگ ہو، میوزک نہ ہو، بینڈ باجے نہ ہو اور کوئی بھی گناہ کا کام نہ ہو۔ مسجد میں نکاح ہو اور صفائی کے ساتھ سارے معاملات طے کیے جائیں جو سنت کے مطابق ہوں۔ بہت حیران ہوا۔ پھر کہنے لگا: حضرت! اگر میں نے ایسا کر دیا تو برادری میں میری ناک کٹ جائے گی۔ دوسرے انداز میں اس کا جملہ سنیں! الفاظ میرے ہیں، لیکن بات اس کی۔ گویا کہ کہہ رہا ہے کہ حضرت! میں نے اگر سنت کے مطابق شادی کرلی تو برادری میں میری ناک کٹ جائے گی۔
مجھے بتائیں! یہ قیامت کے دن کس منہ سے نبی کریمﷺ کے پاس جائے گا شفاعت لینے؟ اور ہماری اولادیں اگر کر رہی ہیں تو ہم کس منہ سے نبی کے پاس جائیں گے کہ ہمارے گھروں میں ہماری اولادیں کیا کر رہی ہیں۔ حدیث شریف میں حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ جنابِ رسول اللہﷺ نے فرمایا:
اَلنِّکَاحُ مِنْ سُنَّتِيْ، فَمَنْ لَّمْ يَعْمَلْ بِسُنَّتِيْ فَلَيْسَ مِنِّيْ. (سنن ابن ماجہ: رقم 1846)
ترجمہ: ’’نکاح کرنا میری سنت ہے، جس نے میری سنت پر عمل نہیں کیا وہ مجھ سے نہیں‘‘۔
میں تو ایسی نسبت میں مرنا چاہتا ہوں، اور قیامت کے دن ایسی نسبت کے ساتھ اللہ کے سامنے کھڑا ہونا چاہتا ہوں۔ اگر میں نے سنت عمل کو سنت طریقے سے پورا نہ کیا، فیشن کی نذر کر دیا، سوسائٹی کی نذر کر دیا تو میرے نبیﷺ تو اعلانِ براءت کر رہے ہیں، پھر قیامت کے دن مجھے کون پوچھے گا۔
تین محبوب چیزیں اور اس کی حکمت
حضرت انس بن مالک سے روایت ہے کہ نبی نے فرمایا: مجھے تمہاری دنیا میں تین چیزیں بہت محبوب ہیں:
(1) بیویاں
(2) خوشبو
(3) اور میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں ہے۔ (سنن نسائی: رقم 3939)
اب ہم نے تو اتنی بات سن لی، ہم نے اس سے کوئی نتیجہ نکالا نہیں۔ لیکن جن کے دل اللہ سے ملے ہوتے ہیں وہ پھر نتیجہ نکال لیتے ہیں۔
حضرت جی دامت برکاتہم نے آگے کتنی عجیب بات فرمائی۔ فرمایا کہ دیکھیں! ذرا غور کریں کہ انسان جب غسل کر کے نہا دھو لیتا ہے اور پھر خوشبو لگاتا ہے تو جسم معطّر ہو جاتا ہے۔ دوسری بات یہ کہ جب میاں بیوی آپس میں ملاقات کرتے ہیں تو انسان کی سوچ پاک ہوجاتی ہے۔ غلط قسم کے خیالات ختم ہو جاتے ہیں۔ اور تیسری چیز ہے نماز۔ جب انسان صحیح طریقے سے نماز پڑھتا ہے تو دل پاک ہو جاتا ہے۔ سبحان اللہ! ان تینوں چیزوں سے جسم بھی پاک ہوگیا، دل بھی پاک ہوگیا اور بدن بھی پاک ہوگیا۔ تو آپﷺ کی پسند کیسی مبارک ہے کہ جس سے انسان کا جسم بھی پاک، دماغ بھی پاک، اور دل بھی پاک ہو جاتا ہے۔ اور پاک لوگوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
وَ یُحِبُّ الْمُتَطَھِّرِیْنَ (البقرۃ: 222)
ترجمہ:’’اور اللہ ان سے محبت رکھتا ہے جو خوب پاک صاف رہیں‘‘۔
اللہ تعالیٰ کی محبت اگر ہم چاہتے ہیں تو پاکی حاصل کرنی پڑے گی۔ ایسے پاکی کسی اور طریقے سے نہیں مل سکتی۔
نبی کریمﷺ کی اپنی ازواج سے محبت
نبی کریمﷺ کو امی عائشہ صدیقہ سے شدید محبت تھی۔ اسود کہتے ہیں کہ حضرت اُمّ المؤمنین حضرت امی عائشہ فرماتی ہیں کہ نبی کریمﷺ روزے کی حالت میں بوسہ لیا کرتے تھے، حالاںکہ حضور نبی کریمﷺ تم سب سے زیادہ اپنی ضرورت پر قدرت رکھتے تھے۔ (صحیح بخاری: رقم 1826)
محبت کی ایک جھلک ہمیں محسوس ہوتی ہے کہ خاص محبت ہے امی عائشہ صدیقہ سے نبی کریمﷺ کو۔ حضرات انبیائے کرام اپنی بیویوں سے شدید محبت کرتے تھے۔ یہ ان کے تقویٰ اور طہارت کی بات تھی۔ علماء فرماتے ہیں کہ جو نوجوان متقی ہوگا، پاک دامن ہوگا، باحیا ہوگا، وہ اپنی بیوی سے محبت کرنے والا ہوگا۔ اور جو اِدھر اُدھر منہ مارنے والا ہوگا اس کو اپنی بیوی سے محبت ہو ہی نہیں سکتی۔ ابنِ قیم نے لکھا ہے کہ بیوی کے ساتھ محبت کا گہرا ہونا یہ انسان کے کمال کی دلیل ہے۔ تو نبی کریمﷺ کو اپنی ازواج سے محبت تھی، آپﷺ کا یہ کمال تھا۔ اسی طرح عام انسان کامعاملہ بھی ہے کہ جس کے اندر کمال ہوگا یقیناً اللہ تعالیٰ اس کو اپنی بیوی کی محبت عطا فرما دیں گے۔ یہ شریعت تو محبتوں کا پیغام دیتی ہے۔ یہ رشتہ اللہ تعالیٰ کی عجیب رحمت ہے۔ اللہ تعالیٰ چاہتے ہیں کہ دونوں میاں بیوی آپس میں خوب محبت سے رہا کریں۔
میاں بیوی کی تکرار کی وجہ
لیکن جب گناہ کی زندگی شروع ہوتی ہے، وہاں محبتیں کم ہونی شروع ہو جاتی ہیں۔ آج کسی عورت سے پوچھو تو خاوند کے شکوے کرنا شروع ہو جائے گی۔ خاوند دھیان نہیںدیتا، خاوند وقت نہیں دیتا، گھر میں دلچسپی ہی نہیں لیتا، میں بن سنور کر بیٹھتی ہوں آنکھ اُٹھا کر نہیں دیکھتا، چہرے پر مسکراہٹ نہیں ہوتی۔ خدا کی بندی! ذرا سوچ تو سہی جو تجھے خاوند سے اتنی شکایتیں ہیں، آخر اس کی کیا وجہ ہے؟ اللہ تعالیٰ نے حسن تمہیں دیا ہے، مال تمہیں دیا ہے، بننے سنورنےکی توفیق تمہیں ملتی ہے، پھر تم جو خاوند کی محبت سے محروم ہو، اس کی کیا وجہ ہے؟ کبھی ہم نے اس طرف بھی غور کیا؟ یا صرف میک اَپ ہی محبت کی بنیاد ہوتی ہے؟ یاد رکھیں! میک اَپ محبت کی بنیاد نہیں ہوتی۔ جو عورت پردہ نہیں کرتی، بال کٹواتی ہے، نمازیں چھوڑ دیتی ہے، غیرمحرم سے باتیں کرتی ہے، اللہ تعالیٰ محبت کی تجلی اس پر کیسے ڈالیں گے؟ کوئی اگر ہم سے محبت کرتا ہے تو اس کی وجہ کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ محبت کی تجلی ہم پہ ڈالتے ہیں۔
محبت کی تجلی
ایک نام میں لیتا ہوں فرعون کا۔ کسی کے دل میں محبت آئی؟ اس کے پاس کیا کچھ دنیا نہیں تھی۔ مصر کا بادشاہ تھا، اپنے آپ کو خدا کہتا تھا۔ اس کے نام کو سن کر کسی کے دل میں محبت نہیں آئی۔ کیوں؟ اللہ نے اس پر محبت کی تجلی نہیں ڈالی تھی۔ ایک اور نام لیتا ہوں حضرت بلال۔ اب مجھے بتائیں کون ان سے محبت نہیں کرتا؟ کوئی ایمان والا ایسا ہو سکتا ہے جو اِن سے محبت نہ کرے؟ ہو ہی نہیں سکتا۔ صحابۂ کرام سے محبت ہمارے ایمان کا حصہ ہے۔ اب یہ کون ہیں؟ غلام، اور غلام کے بیٹے۔ شکل انوکھی، ہونٹ بھی عجیب سے، حبشی کالا رنگ۔ آج ہم اپنے بیٹے کا نام بلال رکھتے ہیں، اور شوق سےرکھتے ہیں۔ کبھی کسی نے فرعون نام رکھا؟ حالاںکہ ایک امیر آدمی تھا، بڑے اسٹیٹس والا تھا، پورے مصر پر اس کی حکومت تھی۔ جتنا آج بل گیٹس کے پاس پاور ہے، اس سے زیادہ اس کے پاس تھا۔ لوگ اسے سجدہ کرتے تھے۔ اس نے ہزاروں بچوں کو ذبح کروا دیا تھا کہ جو لڑکا پیدا ہو جائے، اسے ذبح کر دینا۔ کیا آج دنیا کا کوئی بڑے سے بڑا حکمران یہ آرڈر دینے کے بعد اور ہزاروں بچوں کو اس آرڈر کے ساتھ قتل کروانے کے بعد اپنی حکومت قائم رکھ سکتا ہے؟ جو کام دھڑلے سے اس نے کیا تھا، آج ایسا نہیں ہو سکتا۔ اتنی اسٹیبلشڈ گورنمنٹ تھی اس کی، مذاق نہیں تھا۔ لیکن ہم اس کا نام نہیں رکھتے۔ کیوں؟ اس لیے کہ اس پر محبت کی تجلی نہیں پڑی۔
یہ جو حلال محبت ایک دوسرے سے ہوتی ہے، یہ اللہ تعالیٰ کی محبت کا اثر ہے۔ ہمارے پاس ہماری کون سی صفت ہے۔ جو کچھ ہے اللہ کا دیا ہوا ہے، ہمارا اپنا تو کچھ نہیں۔ تو اللہ کی محبت کی تجلی کب آئے گی؟ کیا جب ہم فیس بک پر گھنٹوں نامحرموں سے باتیں کریں گے؟ اب یہ مرد ہو یا عورت دونوں کےلیے ایک ہی بات ہے۔ اب جو مرد نامحرموں سے تعلقات رکھتا ہے، بات چیت رکھتا ہے، رابطے رکھتا ہے اس کی زندگی میں برکتیں آ ہی نہیں سکتیں۔ گھر میں بیوی موجود ہوگی لیکن وہ بیوی سے فائدہ نہیں اٹھا سکے گا۔ جب انسان اللہ کے حکموں کو توڑے گا، اللہ کی رحمتیں برسنے کے بجائے اس پر لعنتیں برس رہی ہوں گی۔
اب اگر چاہتے ہیں کہ ہمیں اللہ کی محبت مل جائے۔ خاوند چاہتا ہے کہ بیوی کی محبت ملے۔ بیوی چاہتی ہے کہ خاوند کی محبت ملے تو ایک ہی طریقہ ہے۔ اپنے رب سے محبت کرلو، اپنے رب سے محبت کرلو، اللہ سے محبت کرلو۔ اللہ آپس میں محبتیں پیدا کر دیں گے۔
امی عائشہ صدیقہ کی نصیحت
حضرت امیر معاویہ نے امی عائشہ صدیقہ سے کہا کہ آپ اُمت کی ماں ہیں، مجھے کوئی مختصر نصیحت کیجیے۔ امی عائشہ صدیقہ نے خط میں نصیحت کی اور کمال کی نصیحت کی۔ فرمایا:
’’سلام علیک! سلام کے بعد۔ میں نے رسول اللہﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے، آپﷺ فرما رہے تھے:جو دنیا والوں کی ناراضگی کے باوجود اللہ کو راضی کرنے میں لگا رہتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے لوگوں کی تکلیفوں سے کافی ہو جاتے ہیں۔ اور جو دنیا والوں کو راضی کرنے کی وجہ سے اللہ کو ناراض کرتا ہے، اللہ تعالیٰ ان ہی دنیا والوں کے اسے حوالے کر دیتے ہیں ۔ تم پر سلامتی ہو!‘‘ (سنن ترمذی: رقم 2414)
جب ہم اللہ کو چھوڑ کر مخلوق کو راضی کرنے لگتے ہیں تو مخلوق راضی نہیں ہوتی اور اللہ تعالیٰ ناراض ہو جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمارے حال پر رحم فرمائے آمین۔
دیکھیں! اتنے ماشاءاللہ لوگ بیٹھیں ہیں۔ دنیا کو سمجھنے والے، سفید داڑھی والے بھی ہیں اور جوان بھی ہیں۔ آج ہم دیکھیں! کیا ہمارے سارے رشتہ دار ہم سے راضی ہیں؟ ہم بھی کوشش کر چکے، ہمارے باپ دادا پردادا بھی کوشش کر چکے، گزشتہ50 سال سے ہر شادی پر کوشش ہو رہی ہے کہ رشتہ داروں کو منالو۔ آج تک تو نہیں مانے، آخر یہ کب مانیں گے؟ یہ کیا مانیں گے؟ ہم نے تو پروردگار کو منانے کی فکر چھوڑ دی۔ ہم ایک اللہ کو منالیں۔ جس کا رب ہے پھر اس کا سب ہے۔ اللہ تعالیٰ آسانیاں عطا فرما دیں گے۔
مسلمان بے خبر ہوا پڑا ہے
اب آج کی عورت کیا ہے؟ اس کو سنت کا نہیں پتا۔ اس کو رسوم ورواج کا معلوم ہے۔ یہ رسم ہے، یہ رواج ہے۔ سنت کا پوچھو تو نہیں جی! ہمیں کچھ نہیں پتا۔ اس کو انگریز کے، اور ہندوئوں کے سارے طریقے پتا ہیں۔ اس کو پوچھو امی عائشہ صدیقہ کا طریقہ کیا ہے؟ امی خدیجہ کا طریقہ کیا ہے؟ تو چپ۔ طریقہ پتا ہونا تو بڑے دور کی بات، آج کل کے نوجوان سے پوچھیے۔ کسی بھی نوجوان کو کھڑا کرلیں۔ یہ داڑھیوں کے انہوں نے ایسے فیشن بنائے ہوئے ہیں الأمان والحفیظ! عجیب کارٹون نظر آتے ہیں۔ وہ ہمیں کارٹون کہتے ہیں کہ سر پہ پگڑی ہے، چہرہ سنت کے مطابق، ٹخنہ ننگا، یہ کارٹون جا رہا ہے۔ وہ ہمیں کارٹون کہتے ہیں اور ہمیں وہ کارٹون نظر آتے ہیں۔ اپنی اپنی عینک ہے۔ بہر حال اللہ تعالیٰ عافیت والا معاملہ فرمائے۔
آج کسی نوجوان سے پوچھو کہ آپ کو دس صحابیات کے نام معلوم ہیں؟ ایک منٹ میں چپ ہو جائے گا، نہیں بتا سکے گا۔ ان سے کہو نبی کریمﷺ کی گیارہ بیویاں تھیں، ہماری مائیں ہیں، اُمہات المؤمنین ہیں۔ ان گیارہ کے گیارہ کے نام بتا سکتے ہو ؟ چپ ہو جائے گا۔ اسی نوجوان سے پوچھو کہ کیا آپ دس فاحشہ عورتوں کے نام بتا سکتے ہیں جو بےحیا ہیں؟ کہے گا: امریکا کی بتاؤں، یا ہندوستانی، یا پاکستانی بتاؤں؟ ابھی کی بتاؤں یا دس سال پرانی بتاؤں؟ یا 20 سال پرانی بتاؤں؟ اس کو سب پتا ہوگا۔ اس سے پوچھا جائے کہ عشرہ مبشّرہ کے نام بتا دو۔ صحابہ کرام کے کوئی دس بیس نام بتا دو، تو یہ چپ ہو جائے گا۔ اور اسی سے فلم کے ہیروز کا پوچھ لیا جائے، گانے بجانے والوں کا پوچھ لیا جائے تو یہ فوراً بتانے کے لیے تیار ہو جائے گا۔ ہماری زندگیوں میں جو آج شادی کے بعد برکتیں ختم ہو گئیں وہ صرف اس وجہ سے ہے کہ ہماری زندگی سے حیا ختم ہوگئی۔ دین چلا گیا۔ دنیا میں پُر سکون زندگی گزارنے کا فقط ایک طریقہ ہے، اور اس طریقے کا نام شریعت اور اتباعِ سنت ہے۔
عزمِ مصمّم کر لیجیے
آج دل میں پکا ارادہ کر لیجیے۔ پروردگار! ہم نے آپ کے دین کو کھلونا بنائے رکھا، ہم نے اپنے اعمال کے ساتھ آپ کے دین کا مذاق اُڑایا۔ ہم بڑے فیشن ایبل بن کر زندگی گزارتے رہے۔ اللہ! ہم بھولے رہے۔ اللہ! ہم بھٹکے رہے۔ اے اللہ! ہم نے اس پروردگار سے بےوفائی کی جس نے ہمیں بےحساب نعمتوں سے نوازا۔ میرے مالک! آج کے بعد میں اس گناہ سے توبہ کرتا ہوں، توبہ کرتی ہوں۔ اللہ! میں پکا ارادہ کرتا ہوں، پکا ارادہ کرتی ہوں کہ آج کے بعد آپ کی فرماں برداری کی زندگی ہوگی، نماز کی زندگی ہوگی، پردے کی زندگی ہوگی، پاکدامنی کی زندگی ہوگی، سچ کی زندگی ہوگی۔ ہم غیرمحرم سے آپ کو بچ کے دکھائیں گے۔ ہم پرہیزگار بن کے دکھائیں گے۔ اللہ! ہمیں حیاتِ طیبہ عطا کر دیجیے۔ اللہ تعالیٰ! ہمیں گناہوں سے بچ کر زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائیے۔
دولہا اور دلہن کے لیے نصیحت
حیاتِ طیبہ کی ابتدا واقعتاً شادی سے ہی ہوتی ہے۔ یہ جو موقع ہوتا ہے دو لوگوں کی زندگیاں جڑنے والی ہوتی ہیں۔ ان کو دعائوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ دعائوں کے ساتھ ان کو رخصت کریں۔ اور اِن کو بھی چاہیے کہ نیکی تقویٰ کو اپنی زندگی کا شعار بنائیں۔ کوشش کرتے رہیں۔ اللہ تعالیٰ شادی کے بعد عافیت کے ساتھ ان کو خیر سے نیک نرینہ اولاد عطا فرمائے۔ اپنی اولاد کو بھی شریعت و سنت کے مطابق لے کر چلیں۔ آج کل ہمارے جو اسکولز، کالجز اور یونیورسٹیز ہیں، یہ درس گاہیں معاذاللہ! رقص گاہوں میں تبدیل ہو چکی ہیں۔ اور وہاں سے جو لوگ نکل رہے ہیں، تو کوئی ڈانسر ہے، کوئی ایکٹر ہے، کوئی فلاں ہے تو کوئی فلاں ہے۔ اس نکتہ پر پرسوں بھی بات ہوئی کہ ہم اپنے بچوں کو دیکھیں کہاں بھیج رہے ہیں۔ ان کے اسکول کو ٹھیک کریں۔ کہاں میوزک ہے؟ کہاں تصویر ہے، اس سے اپنے آپ کو بچائیں۔ تصویر کا نام آ گیا تو ایک بات کر کے بات مکمل کرتا ہوں۔
تصویر اور رحمت کے فرشتے
صحیح مسلم کی حدیث ہے۔ نبی کریمﷺ ایک مرتبہ گھر میں داخل ہونے لگے تو آپ دہلیز پر رک گئے۔ سامنے دروازے کے پردے پر ایک تصویر نظر آئی۔ رک گئے، اندر ہی نہیں گئے۔ امی عائشہ خود بھی پریشان ہوگئیں اور اللہ کے نبیﷺ کے چہرہ اقدس میں ناپسندیدگی کے آثار محسوس کر لیے۔ پھر آپﷺ نے اس پردے کو پھاڑ دیا اور فرمایا: اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ حکم نہیں دیا ہے کہ ہم پتھروں اور مٹی کی دیواروں پر (تصویر والی) چادر ڈالیں۔ (صحیح مسلم: رقم 2106)
اور بخاری شریف میں حضرت عبداللہ بن عمر سے مروی ہے کہ حضرت جبریل نے رسول اللہﷺ سے فرمایا: ہم اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں تصویر اور کتا ہو۔ (صحیح بخاری: رقم 5615)
ایسے گھروں میں رحمت کے فرشتے نہیں آتے۔ آج ہم نے اپنے گھروں کو، دیواروں کو تصویروں سے سجایا ہوا ہے۔ گویا ہم کہنا چاہتے ہیں کہ اللہ! تیری رحمت سے ہمیں کوئی تعلق نہیں چاہیے۔ العیاذ باللہ! اپنے عمل سے تو ہم یہ ہی کہہ رہے ہیں۔ دیکھیں! ہماری آنکھ کا دیکھا تو غلط ہو سکتا ہے، آقا کی زبان سے نکلا ہوا لفظ غلط نہیں ہو سکتا۔ جب دو ٹوک انداز میں بتا دیا تو اب اس کی مزید تشریح کی کیا ضرورت رہ جاتی ہے۔
حدیث میں دو باتیں ہیں، اس پر ایک واقعہ
ایک واقعہ کئی دفعہ سنا چکا ہوں۔ ابھی کچھ نئے لوگ ہیں، اس لیے دوبارہ سناتا ہوں۔
یہاں قریب ایک جگہ دعوت تھی۔ کھانے کے بعد واپسی میں ہم نے سوچا کہ پیدل ہی جاتے ہیں، کھانا بھی خوب کھایا ہے تو واک بھی ہو جائے گی۔ یہ سوچ کر ہم چند ساتھی چلنے لگے۔ راستے میں ایک گھر سے کتے کے بھونکنے کی آواز آئی۔ تو میں نے ایک نوجوان سے جو ہمارے ساتھ تھا، اس سے پوچھا۔ میں نے کہا کہ بیٹا! یہ آپ کو کتے کے بھونکنے کی آواز آئی ہے تو کیسا لگا؟ اچھا لگا یا برا لگا؟ کہا: حضرت! بڑا برا لگا۔ کتا نجس جانور ہے، ناپاک ہے۔ اور حضرت! آپ کو پتا ہے کہ حدیث شریف میں آتا ہے جس گھر میں کتا ہو، وہاںرحمت کے فرشتے نہیں آتے۔ اس نے یہ حدیث پڑھ دی۔ مولوی کو دیکھ کر مولوی والی باتیں کرنی تھیں۔ بندہ دیکھ کر ہمارا طرز بدل جاتا ہے۔ اب بہرحال کتے سے اسے کراہت محسوس ہو رہی تھی۔
میں نے کہا: اچھا! یہ حدیث جو آپ نے پڑھی، کیا پوری آپ کو معلوم ہے؟ اس نے کہا کہ نہیں۔ میں نے کہا کہ پوری حدیث میں آپ کو سناتا ہوں۔ نبی کریمﷺ حضرت جبریل امین کی بات نقل فرماتے ہیں: جس گھر میں تصویر ہو یا کتا ہو، فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے۔ حدیث شریف میں دونوں چیزوں کو بتایا ہے تصویر کو بھی اور کتے کو بھی۔ یہ دونوں چیزیں رحمت کے فرشتوں کے داخل ہونے کے لیے رکاوٹ ہیں۔
پھر میں نے کہا: ایک بات میں اور پوچھوں؟ کہنے لگا: جی! میں نے کہا! بھئی بتائو! آپ کو کتے سے اتنی کراہت محسوس ہو رہی ہے کہ گھر میں چلتے ہوئے برابر سے کتے کی آواز آ گئی تو آپ کو اچھا نہیں لگ رہا، لیکن اپنے گھر میں اور موبائل میں آپ نے تصویریں بھری ہوئی ہیں، یہ کیا بات ہے؟ نبی کریمﷺ نے تو ایک حدیث میں دونوں کو منع کیا ہے کہ جس گھر میں کتا ہو اور جس گھر میں تصویر ہو رحمت کے فرشتے اس میں نہیں آتے۔ آپ کتا تو نہیں رکھتے کہ حدیث میں آ گیا۔ تصویر کس دلیل سے رکھتے ہیں؟ اگر حدیث کا ریفرنس دے رہے ہیں تو حدیث میں تو دونوں باتیں ہیں۔ ایک کے لیے تو آپ دل میں کراہت محسوس کریں، اور دوسرے کے لیے نہیں۔ بتائیے! تصویر کس دلیل سے رکھ لیتے ہیں؟
لوگوں کا غلط حیلہ
اچھا! بعض مرتبہ یہ ہوتا ہے موبائل میں تصویر ہوتی ہے۔ اس پر بعض لوگ کہتے ہیں کہ جی! یہ تصویر نہیں ہے۔ ایسا نہیں ہے، ویسا نہیں ہے۔ دیکھیں! میں فقہی مباحث میں نہیں جاتا، وہ بڑے علماء ومفتی حضرات کا کام ہے۔ نہ میں عالم ہوں، نہ میں مفتی ہوں۔ میں تو بڑوں کی باتیں، اپنے شیخ کی باتیں سن کے سنا دیتا ہوں، بس اتنا ہی میرا کام ہے۔ اس سے زیادہ مجھے کچھ نہیں آتا۔ دیکھیں! اب موبائل پر جو تصویر آ گئی، آپ بالفرض کہتے ہیں کہ جی! یہ تصویر کے حکم میں نہیں ہے۔ بول اسے تصویر رہے ہیں، لکھ اس کو پکچر رہے ہیں۔ کہتے ہیں کہ مجھے اپنی تصویر بھیجو۔ بول بھی تصویر رہے ہیں، لکھ بھی تصویر رہے ہیں، پھر بھی کہتے ہیں: ہم اسے تصویر نہیں مانتے۔ سبحان اللہ! اچھا جی، نہیں مانتے۔ ایک بات بتائیں! اگر سامنے کسی نامحرم مرد کی تصویر ہے تو وہ نامحرم ہوگا یا نہیں؟ کسی عورت کے لیے کسی مرد کو جو سامنے نہیں، موبائل کی اسکرین پہ ہے، دیکھنا کیسے جائز ہو جائے گا۔ جیسے ہم مرد یہاں بیٹھے ہیں ہمارے لیے قرآن کے حکم کے مطابق نامحرم کو دیکھنا منع ہے:
قُلْ لِّلْمُؤْمِنِيْنَ يَغُضُّوْا مِنْ اَبْصَارِهِمْ (النور: 30)
ترجمہ: ’’مؤمن مردوں سے کہہ دو کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں‘‘۔
قرآن کریم میں یہ واضح حکم ہے۔ اور اس سے اگلی آیت میں عورتوں کو بھی نگاہیں جھکانے کا حکم ہے۔اسی طرح حدیث میں بھی وضاحت کے ساتھ آیا ہے کہ جس نے کسی اجنبیہ کے حسن کی طرف شہوت کی نگاہ ڈالی، اس کی آنکھوں میں گرم سیسہ پگھلا کے ڈالا جائے گا۔ (نصب الرّایۃ في تخريج أحاديث الهداية: کتاب الکراھیۃ، فصل في الوطء والنظر واللمس)
سوچیں! جس چیز کو سامنے دیکھنا جائز نہیں، اسکرین پر دیکھنا کیسے جائز ہو جائے گا؟ اس کی بھی کوئی دلیل لائیں۔ ہم بول تصویر رہے ہیں، لکھ تصویر رہے ہیں۔ فرینڈ کو میسج کرتے ہیں اپنی پک بھیجو، اپنی تصویر بھیجو۔ میں نےاپنی تصویر اَپلوڈ کر دی۔ بول اور لکھ تصویر رہے ہیں اور کہتے ہیں تصویر کے حکم میں نہیں ہے۔ یہ حیلہ آپ کی سمجھ میں آتا ہو گا، ابھی تک ہمیں سمجھ میں نہیں آیا۔
سکون کیسے جاتا ہے؟
بہرحال اگر اچھی ازدواجی زندگی گزارنا چاہتا ہیں تو حیا کی زندگی گزارنا پڑے گی۔ ورنہ زندگی میں برکتیں نہیں آئیں گی۔ اور شادی کی جب ابتدا ہو رہی ہو، اس ابتدا میں اگر ہم نے اپنی شادیوں میں سے ان بےحیائی والی اور غیروں کی، ہندوئوں والی اور دوسرے لوگوں کی ان غلط رسومات کو نہ نکالا تو بنیاد کے اندر جب ہم نے خراب چیز ڈال دی تو اس شادی میں میاں بیوی کو ایک دوسرے سے سکون نہیں مل سکتا۔ ہم ابتدا سے ہی ایسے اعمال اختیار کرتے ہیں کہ سکون تو فوراً ہی چلا جائے۔
یہ چند باتیں تھیں جو دل کی تھیں۔ اللہ کرے کہ کسی کو سمجھ میں آجائے۔ اور اللہ کرے کہ نوجوان ان باتوں کو سمجھ کے ارادہ کر لیں کہ میں اپنی شادی سنت کے مطابق کروں گا۔
مہر کی ادائیگی
اچھا! اب مہر کی کچھ بات کرتے ہیں۔ اگر کسی نے شادی کی اور یہ ارادہ کیا کہ میں مہر ادا نہیں کروں گا، تو قیامت کے دن زانی بن کر اللہ کے سامنے کھڑا ہو گا۔
(معجم صغیر للطبرانی: رقم 98)
بہت سارے لوگوں کو ہم نے دیکھا ہے زندگی بھر مہر نہیں دیتے۔ جب بیوی مر جاتی ہے تو اس کے میکے میں بھجوا دیتے ہیں۔ یہ طریقہ صحیح نہیں ہے۔ یہ اس کا حق ہے۔ اور جو سنت ہے وہ پہلی ملاقات سے پہلے دینا ہے۔ عند الطلب دے سکتے ہیں، گنجائش ہے۔ لیکن میں صرف آپ کی بات نہیں کر رہا، معاشرے کا مسئلہ ہے۔ اچھا! عورتیں محسوس کرتی ہیں لیکن مانگتی نہیں ہیں شرم کی وجہ سے۔ ان کا مانگنا بھی ٹھیک ہے، کوئی بری بات نہیں۔ بہرحال وہ مانگیں یا نہ مانگیں، مرد کو دینا ضروری ہے، ورنہ مرد (شوہر) مقروض رہے گا۔ مر گیا تو بھی اس پر قرضہ ہوگا جو اس کے مال سے ادا کیا جائے گا۔ انسان اپنے آپ کو فارغ کرے، اس حق سے برئ الذمہ کرے۔
زندگی کا رخ ٹھیک کیجیے
یہ جتنی بھی آج باتیں ہوئی ہیں، یہ معاشرے کی چند باتیں تھیں۔ ان کو سمجھنا ہے اور ان کو آگے کسی کو بھی بتانا ہے۔کسی ایک آدمی کو بھی توفیق مل گئی تو آسانی ہو جائے گی، ورنہ آئندہ جو آنے والی ہماری نسل ہے ،یا آج کی جو نوجوان نسل ہے یہ اپنے والدین کو رلاتی ہے اور ہر جگہ حرام تعلقات قائم رکھتی ہے۔ ان کے لیے اَولڈ ہائوس جگہ جگہ بنیں گے۔ ان کی اولاد جب جوان ہوگی تو یہ بڑھاپا اپنے گھروں میں نہیں گزاریں گے، دھکے کھائیں گے اولڈ ہائوس میں۔ کیوں؟ اس لیے کہ ہم انگریزوں کے طریقے پر چل رہے ہیں، وہاں اولڈہائوس آباد ہیں، وہاں ماں باپ کی عزت کم ہے، پالے ہوئے کتے کی عزت زیادہ ہے۔ یہی ان کی عدالتوں کے فیصلے ہیں۔
فرنگی فیصلہ
باہر کسی فرنگی ملک میں ایک ماں نے عدالت میں کیس کر دیا کہ میرا بیٹا مجھے ٹائم نہیں دیتا۔ عدالت میں کیس پروسیڈ ہوا، ساری بات چلی اور آخر میں عدالت نے فیصلہ دیا کہ تمہارا بیٹا اٹھارہ سال سے بڑا ہو چکا ہے۔ ماں نے یہ کہا تھا کہ کتے کو ٹائم دیتا ہے، مجھے ٹائم نہیں دیتا۔ عدالت اس کو کہے، حکم دے کہ پانچ منٹ روز مجھے دے دیا کرے۔ تو فیصلہ عدالت نے کیا دیا؟ جو ڈاکومینٹد اُن کے ہاں آ چکا ہے، یہ کہا کہ یہ اٹھارہ سال سے زیادہ ہو چکا ہے اور تمہاری بات ماننے کا مجاز نہیں۔ اور تم کہاں رہنا چاہتی ہو، تمہارے لیے اولڈ ہائوس موجود ہیں وہاں جا کر زندگی گزارو۔ رہا کتا، وہ اس کی ذمہ داری ہے، اس کی ڈیوٹی ہے کہ وہ اس کا خیال رکھے۔
میرے بھائیو! جس معاشرے میں کتے کی قیمت ماں سے زیادہ ہو، ہم اسی کے پیچھے چل رہے ہیں۔ 30،40 سال بعد یہی نوجوان جو آج راتیں اور دن نامحرموں کے ساتھ گزارتے ہیں، ان کو پتا ہی نہیں اور ان کا بڑھاپا اولڈ ہائوس میں ہوگا۔ اور ان کے بچے ان سے زیادہ جانوروں کو قیمت دے رہے ہوں گے۔ یہ مجھے کوئی اِلہام نہیں ہوا۔ صرف اُن طریقوںکو دیکھ لیجیے جس پر ہم چل رہے ہیں۔ اگر سنت کے طریقے پر ہوتے تو سنت والی بات ہوتی کہ عروج ملتا۔

وَاٰخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ.

Leave a Reply