181

نکاح میں جلدی کریں

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ وَ کَفٰی وَ سَلٰمٌ عَلٰی عِبَا دِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی. اَمَّا بَعْدُ:
فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ:
اَلنِّکَاحُ مِنْ سُنَّتِيْ فَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِیْ فَلَیْسَ مِنِّیْ . (ابن ماجہ:133)
سُبْحٰنَ رَبِّکَ رَبِّ الْعِزَّۃِ عَمَّا یَصِفُوْنَ o وَ سَلٰمٌ عَلَى الْمُرْسَلِیْنَ o
وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ o
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَامُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِ نَامُحَمَّدٍوَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَامُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِ نَامُحَمَّدٍوَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَامُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِ نَامُحَمَّدٍوَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ

اللہ اور اس کے رسولﷺ کی پسند
اللہ کے نبیﷺ کو شادی میں جلدی کرنا بہت پسند تھا، اور خود اللہ تعالیٰ کو بھی یہی پسند ہے۔ یہاں تک کہ جو شخص اسباب مہیا ہونے کے باوجود شادی نہیں کرتا، حدیث شریف میں اس پر خدا کی لعنت کی خبر دی گئی ہے۔
حضرت ابو اُمامہ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا: چار طرح کے لوگ ہیں جن پر عرش کے اوپر سے خدا کی لعنت آتی ہے، اور ملائکہ اس پر آمین کہتے ہیں۔ ان میں سے ایک وہ بھی ہے جو شادی اس لیے نہیں کرتا کہ اولاد کے جھنجھٹ میں جانا پڑے گا۔ (مجمع الزوائد: 254/4)
آج کل کے ماحول میں کئی لوگوں سے سنا کہ شادی نہیں کرنا چاہتے، بس اِدھر اُدھر جا کر منہ مار لیتے ہیں۔ ایسے شخص کو شریعتِ اسلامی نے پسند نہیں کیا۔
ایک حدیثِ پاک میں حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ نبی نے فرمایا:
’’اللہ تعالیٰ نے ان مردوں پر لعنت فرمائی ہے کہ جو یہ کہتے ہیں کہ ہم شادی نہیں کریں گے۔ اور ان عورتوں پر لعنت فرمائی ہے کہ جویہ کہتی ہیں کہ ہم شادی نہیں کریں گی‘‘۔ (مجمع الزوائد: 251/4)
ایک عبادت گزار کا واقعہ
حضرت عَکَّاف بن وَدَّاعہ الہلالی کی روایت میں ہے کہ نبی کریمﷺ نے ان سے فرمایا کہ اے عَکَّاف! کیا تمہاری بیوی ہے؟ (تم شادی شدہ ہو؟) حضرت عَکَّاف نے عرض کیا کہ نہیں (میں شادی شدہ نہیں ہوں)۔ حضورِ پاکﷺ نے فرمایا کہ شادی کرو، شادی کرنا ہماری سنت ہے، تمہارے لوگوں میں بُرے لوگ وہ ہیں جو غیر شادی شدہ ہیں یعنی جو شادی نہیں کرتے۔ پھر اسی روایت میں آگے نبی نے یہ بھی بتایا کہ نیک اور صالح، متقی آدمی کوئی بھی ہو، اس کے لیے شادی کرنا ضروری ہے ورنہ شیطان عورتوں کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرتا ہے جیسا کہ اس نے بنی اسرائیل کے ایک روز وشب کے عبادت گزار ’’کرسف‘‘ کو ایک عورت کے عشق میں مبتلا کر دیا تھا۔ اور یہ وہ شخص تھا جس نے تین سو سال متواتر عبادت میں گزارے تھے۔ جب مبتلائے عشق عورت ہوا تو اللہ کو چھوڑ بیٹھا یہاں تک کافر ہوگیا۔ وہ تو اللہ کی رحمت اس کی طرف متوجہ ہوئی تو اُس نے توبہ کی اور نا محرم کو چھوڑا، اور اللہ تعالیٰ نے اس کی توبہ کو قبول کیا اور خاتمہ بالخیر نصیب فرما دیا۔ (مسند عبد الرزاق: 171/6)
نبی کے اِحسانات ہمارے اوپر اتنے ہیں کہ ایک ایک بات بتاگئے اور سمجھا گئے۔ قربان جائیے اپنے اس نبی پر جس نے حیا اور پاک دامنی کی زندگی پر قیامت کے دن عرش کا سایہ ملنے کی بشارت بھی دی۔ (متفق علیہ بروایت ابی ہریرہ )
یہ شادی آدمی کے لیے ایک بہت بڑی مدد کرنے والی چیز اور معاون ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ حضرت! کوئی ایسا وظیفہ بتائیں کہ اندر سے گناہ کا اِرادہ ہی ختم ہوجائے۔ تو بھئی! ایسی کوئی چیز نہیں ہے کہ ارادۂ گناہ ہی نہ ہو۔
غیر محرم کے ساتھ خلوت نشینی کا نقصان
کتابوں میں یہ واقعہ لکھا ہے کہ پرانی اُمتوں میں ایک عبادت گزار آدمی تھا۔ 60سال اُس نے اللہ تعالیٰ کی عبادت کی۔ ساٹھ سال کے بعد من جانب اللہ آزمایش مقصد ہوئی۔ وہ تنہا عبادت کیا کرتا تھا۔ ایک مرتبہ اس کی عبادت کی جگہ پر ایک عورت آئی اور چھ دن اس عابد کے قریب رہی۔ وہ عابد اس کے ساتھ گناہ میں ملوث ہوگیا۔ اندازہ کیجیے کہ ساٹھ سال کی عبادت میں نفس سیدھا نہیں ہوا، اور ساٹھ سال کی عبادت کے بعد نامحرم نظر آئی تو وہ زنا میں ملوث ہوگیا۔ بہرحال شرمندگی ہوئی تو اُس نے توبہ کی کہ یہ میں کیا کر بیٹھا۔ 60سال کی عبادت ایک طرف اور 6 راتیں ایک طرف۔ چناںچہ اس نے اللہ کی طرف رجوع کیا اور تو بہ کی۔ اس کے پاس روٹی تھی۔ اُس نے کہا کہ میں کھانا نہیں کھاؤں گا، میں توبہ کرتا رہوں گا۔ غرض وہ مانگتا رہا، گڑگڑاتا رہا۔ اللہ کی شان کہ ایک سائل آگیا جبکہ روٹی ایک تھی یا 3 تھیں۔ اُس نے وہ ایک روٹی یا 3 روٹیاں اس سائل کو دے دیں اور پھر اس کا انتقال ہوگیا۔ اس کی 60 سال کی عبادت کو ایک پلڑے میں رکھا گیا اور دوسرے پلڑے میں 6 راتیں۔
کہتے ہیں کہ کرو بات ساری رات۔ اتنا آسان نہیں ہے یہ جملہ۔ قیامت کے دن معلوم ہوگا کہ جو راتیں ’’کرو بات ساری رات‘‘ والی وہ دوسرے پلڑے میں رکھ دی گئیں تو پھر معلوم ہوگا کہ یہ کیا ہوگیا۔
اس واقعہ میں ہے کہ 60 سال کی عبادت کی قیمت کوئی نہ لگی اور وزن گھٹ گیا جبکہ 6 راتوں کا گناہ بڑھ گیا۔ پھر کیا تھا؟ معاملہ سخت ہوگیا۔ آگے لکھا ہے کہ وہ جو مرتے وقت روٹی صدقہ کی تھی وہ نامۂ اَعمال میں رکھی گئی تو نیکی کا پلڑا بھاری ہوا اور اس کی مغفرت ہوگئی۔
نفس پر خود اعتمادی نہیں کرنی چاہیے
اس لیے زندگی میں کوئی لمحہ ایسا نہیں آتا کہ انسان اپنے نفس کے اوپر اعتماد کرے کہ میں اب ذکر کرکے اور دین کا کام کر کے اتنا پکا ہوچکا ہوں کہ اب یہ عورت کا ہتھیار میرے اوپر اَثر انداز نہیں ہوگا۔ اس بھول میں کبھی کوئی نہ آئے۔ بات اُصول کی ہے ذرا سمجھیے! اللہ ربّ العزّت نے مخلوقات مختلف بنائی ہیں۔ ایک مخلوق سراپا خیر ہے، وہ فرشتے ہیں۔ اور ایک مخلوق سراپا شرّ ہے، وہ شیاطین ہیں۔ اور ایک مخلوق ایسی ہے جو خیر اور شرّ کا مجموعہ ہے، وہ حضرتِ انسان ہے۔ دنیا میں بُرے سے بُرے آدمی کے اندر بھی کہیں نہ کہیں سے کوئی خیر نکل آئے گی، اور بہترین سے بہترین آدمی کے اندر بھی کوئی نہ کوئی برائی ہوگی۔ شریعت نے ہمیں یہ نہیں کہا کہ سو فیصد خیر کو غالب کرو، بلکہ فرمایا کہ خیر کو غالب کرو، سو فیصد کی بات نہیں۔ جو انسان خیر کو غالب کرلے وہ کامیاب، جس کی خیر مغلوب ہوجائے شرّ غالب ہوجائے وہ ناکام۔ تو خیر اور شرّ دونوں نے ساتھ چلنا ہے۔ اعمال میں نیکیاں بھی تولی جائیں گی، گناہ بھی تولے جائیں گے۔ سو فیصد انسان نیک ہوجائے اور اس کے اندر سے بالکل برائی کے ارادے اور خواہشات بھی نکل جائے، ایسا اللہ نے بنایا ہی نہیں۔
غیر محرم کے ساتھ خلوت نشینی کا نقصان
ایک اور عابد کا واقعہ بھی کتابوں میں ملتا ہے۔ جوان طبقہ اسے دل کے کانوں سے سنے، بوڑھے بھی سنیں! آج کل خواتین روتی پھرتی ہیں۔ فون کرتی ہیں کہ سفید داڑھی ہے میرے شوہر کی، اتنے بچوں کا باپ ہے اور نامحرموں سے تعلقات ہیں۔ مجھے تو دن رات یہ فون آتے ہیں۔ میں تو اللہ سے دعا کرتا ہوں اور اللہ سے مانگتا ہوں کہ عافیت کے ساتھ، کلمے کے ساتھ بلا لیجیے۔ ایک خاتون نے بتایا کہ اس کا 17 سال کا لڑکا پڑوسن کی بچی کے ساتھ Invole ہے۔ بتائیے! وہ ماں کہاں جائے۔ ایک بچہ میرے پاس آیا 17 سال کی عمر کا۔ ہم لوگ سمجھتے ہیں کہ 17 سال چھوٹی عمر ہے۔ خیر ہے، کوئی بات ہی نہیں۔ ویسے بھی ان معاملات میں ہماری حیا کا جنازہ نکلا ہوا ہے۔ یاد رکھیے کہ خیر، اور سراسر خیر تو صرف نبی کی بات ماننے میں ہے۔
وہ سترہ سالہ نوجوان میری دکان پر آیا۔ کہتا ہے کہ حضرت! ایک ہفتہ مشکل سے نکالتا ہوں مجھے گناہ کرنا پڑتا ہے۔ اس سے پوچھا کہ کہاں جاتے ہو؟ کہا کہ کچھ بھی نہیں بس تایا، چچا، پھوپھی، خالہ کی بیٹیاں میرے لیے کافی ہیں۔ دن رات یہ معاملات ہو رہے ہوتے ہیں۔ یہ اس لیے کہ ہم معاملات کو Easy لیتے ہیں کہ خیر ہے، کوئی بات نہیں، ابھی بچہ ہے۔ آپ گناہوں کا راستہ ہموار کر رہے ہوتے ہیں۔ خیر صرف نبی کی بات کو سو فیصد ماننے میں ہے، درمیانی راستہ نکالنے میں کوئی خیر نہیں۔ صراطِ مستقیم سے انسان ہٹ گیا۔
برصیصا راہب کا واقعہ
بنی اسرائیل کا ایک عبادت گزار تھا جس کا نام برصیصا یا برصیص تھا۔ لوگوں میں اس کی عبادت کا بڑا چرچا تھا۔ شیطان نے اس کو بہکانے کے لیے بڑی کوشش کی لیکن کامیاب نہ ہوا۔ بہرحال شیطان نے Long term planningکی کہ میں نے اس کو بہکانا ہے۔ اس زمانے میں جو بادشاہ تھا اس کے 3 بیٹے اور ایک بیٹی تھی۔ شیطان نے Plan کیا کہ میں برصیصا کو گناہ میں ملوث کروں۔ برصیصا نے عبادت کے لیے ایک چھوٹی جگہ بنائی تھی، وہ وہیں رہتا تھا۔ اس کا کسی سے ملنا جلنا نہیں تھا۔ بس اپنی عبادت کیا کرتا تھا۔ شیطان نے اس پر غور کیا، دیکھا کہ دس دن میں وہ ایک مرتبہ کھڑکی سے جھانکتا ہے، اور نو دن روزے رکھ کر دسویں دن افطار کرتا ہے۔ شیطان نے کہا کہ یہ میرے لیے کافی ہے۔
اب اس نے برصیصا کی کھڑکی کے سامنے مصلّی بچھایا اور نماز پڑھنی شروع کر دی۔ نورانی وار کیا۔ برصیصا نے دیکھا کہ اس سے بھی بڑا کوئی عبادت گزار ہے تو وہ حیران ہوگیا۔ کئی دنوں تک دیکھتا رہا۔ ایک دن بارش تھی تو سوچا کہ آج دیکھوں تو سہی۔ دیکھا تو وہ (شیطان) بارش میں بھی کھڑا ہو کر عبادت کر رہا ہے۔ اب برصیصا کے دل میں اس کی جگہ بننی شروع ہوگئی۔ جب چند دن ہفتے گزرے تو برصیصا نے کہا کہ دیکھو بھئی! تم اندر آکر عبادت کرلو، باہر دھوپ بھی ہوتی ہے ۔ یہاں میں نے بھی عبادت کرنی ہے، تم بھی عبادت کرلو۔ شیطان تو شیطان ہے۔ اس نے دیکھ لیا کہ یہ نورانی وار کام کر رہا ہے تو اس نے بناوٹی انداز میں کہا: میاں! اپنے کام سے کام رکھو، میں یہاں باتیں کرنے تھوڑی آیا ہوں، مجھے عبادت کرنی ہے۔ برصیصا بہت Impress ہوا کہ بڑی پہنچی ہوئی ہستی ہے۔
کچھ اور دن گزرے تو شیطان نے اپنے مصلّٰے کو کھڑکی کے قریب کر دیا۔ اس کے بعد پھر ایسا موقع آیا کہ موسم خراب تھا یا کوئی اور وجہ تھی تو برصیصا نے اسے آواز دی کہ یہاں آجاؤ، میں آپ سے بات نہیں کروں گا۔ شیطان نے کہا کہ ہاں بھئی! مؤمن کو مؤمن کی بات مان لینی چاہیے۔ یہ کہہ کر وہ اندر آگیا اور عبادت میں لگ گیا۔ ہفتے، مہینے اور پھر پورا سال گزرا لیکن شیطان کی اس عبادت میں کوئی فرق نہیں آیا۔جب شیطان کا مشن مکمل ہوگیا تو جاتے جاتے کہنے لگا: دیکھو! میں جا رہا ہوں، اور چوںکہ تم میرے عبادت کے ساتھی ہو تو میں جاتے ہوئے تمہیں ایک دَم بتاتا ہوں کہ کسی بیمار کو کردو گے تو وہ ٹھیک ہوجائے گا۔ برصیصا نے کہا کہ مجھے کسی دَم کی ضرورت نہیں ہے۔ شیطان نے کہا کہ بڑے ہی بے شرم آدمی ہو، اتنی محنتوں اور مجاہدے سے جو چیز مجھے ملی ہے تمہیں دے رہا ہوں، اور تمہیں قدر ہی کوئی نہیں۔ بہرحال برصیصا نے اس کا دل رکھنے کے لیے کہا کہ بتاؤ بھئی! کیا ہے؟ اس نے دَم سکھا دیا کہ کسی بیمار پر کرو گے تو وہ ٹھیک ہو جائے گا۔
اس کے بعد شیطان اپنے ٹارگٹ کے فیز 2 کے لیے نکلا۔ وہ فیز 2کیا تھا؟ بادشاہ کی بیٹی۔ بادشاہ کی بیٹی کے اندر اس ملعون نے اَثر ڈال دیا اور وہ مجنونہ ہوگئی، پاگل سی ہوگئی۔ بادشاہ نے بہت علاج کروائے۔ بڑے بڑے ڈاکٹرز، حکیم حضرات آئے مگر کوئی فائدہ نہ ہوا۔ کسی نے بادشاہ کو مشورہ دیا کہ جی! آپ نے بڑے حکیم اور طبیب دیکھ لیے، کوئی دَم والے کو بھی دیکھ لو۔ بادشاہ نے کہا کہ ایسا کون ہے؟ بتلایا گیا کہ برصیصا راہب۔ ہمارے علاقے میں سب سے نیک آدمی ہے، لیکن وہ یہاں نہیں آئے گا۔ بادشاہ نے کہا کہ اس کو بلاؤ، وہ آئے گا تو ٹھیک ہے، نہیں تو ہم اپنی بیٹی کو لے کر وہاں چلے جائیں گے۔ مختصر یہ کہ برصیصا نے تو آنے سے انکار کر دیا اور بادشاہ بیٹی کو لیے وہاں پہنچ گیا۔
برصیصا نے دَم کیا تو شیطان نے اپنا اَثر اُٹھا لیا اور وہ بچی ٹھیک ہوگئی۔ بس اب کیا تھا، لوگوں کو یقین ہوگیا کہ جناب! یہ برصیصا کے دَم سے ٹھیک ہوئی ہے۔ اب شیطان ہر دو چار دن یا ہفتے کے بعد دوبارہ اَثر ڈالتا، وہ پھر پاگل یا مجنونہ سی ہوجاتی اور برصیصا پھر دَم کرتا وہ پھر ٹھیک ہوجاتی۔ کچھ عرصے میں ہی لوگوں کا اعتقاد بن گیا کہ برصیصا کے دَم میں شہزادی کا علاج ہے۔ یہ شیطان کا فیز2 تھا۔
اللہ کی شان اُس زمانے میں کسی برابر والے ملک کے بادشاہ نے اس ملک پر حملہ کر دیا۔ بادشاہ نے کہا کہ ہمیں تو دِفاع کے لیے جانا ہے۔ شہزادوں سے کہا کہ تم نے بھی ساتھ چلنا ہے، مسئلہ یہ ہے کہ بیٹی کو کہاں چھوڑیں؟ یہ بیمار بھی ہوجاتی ہے۔ بہت سوچ بچار کے بعد سب نے طے کر لیا کہ اسے برصیصا کے پاس چھوڑ دیتے ہیں، وہ اپنی عبادت میں لگا رہے گا، اگر یہ بیمار بھی ہوئی تو وہ دَم بھی کر دےگا۔ شیطان بہت خوش ہوا کہ میری چال رنگ لے آئی۔
الغرض بادشاہ اپنی بیٹی کو برصیصا کے پاس لے آیا۔ برصیصا نے کہا کہ خدا کی پناہ! بھلا ایک نامحرم میرے پاس کیوں کر رہ سکتی ہے۔ بادشاہ نے کہا کہ اس کی تم فکر نہ کرو۔ تمہارے گھر میں نہیں رہے گی، سامنے کمرہ بنا کر دیتا ہوں، وہاں رہے گی۔ بیمار بھی ہے، علاج بھی آپ کے علاوہ کوئی نہیں کرسکتا۔ ہم فارغ ہوکر آجائیں تو واپس لے جائیں گے۔ بہرحال بات چیت کے بعد برصیصا مان گیا۔ بادشاہ نے اس کے سامنے ایک جگہ بنوائی اور اپنی بیٹی کی رہائش کا انتظام کر دیا۔ بچی برصیصا کے گھر کے سامنے رہنے لگی۔ ایک دن برصیصا کے دل میں آیا کہ میں اکیلے کھانا کھاتا ہوں، یہ شہزادی ہے پکانا آتا بھی ہے یا نہیں؟ ایسا کرتا ہوں کہ آدھا میں کھا لیا کروں گا، آدھا یہ کھا لیا کرے۔ بیمار بھی ہے، اِکرام بھی ہوجائے گا۔ چناںچہ اس نے کھانا بنا کر شہزادی کو دینا شروع کر دیا۔
چند ایک دن کے بعد شیطان نے برصیصا کے دل میں ڈالا کہ تو اکیلے ہی عبادت کرتا ہے، اس کو بھی سمجھا کہ وہ بھی عبادت کرے، ایک سے دو ہوجائیں گے۔ کہنے لگا کہ بات تو ٹھیک ہے، لیکن کیسے ہو؟ شیطان نے کہا کہ تم اپنی چھت پر جاؤ اور اسے اس کے گھر کی چھت پر بلاؤ، وہاں سے تم اسے سمجھا دینا کہ کیسے عبادت کرنی ہے۔ پردہ بھی ہوگا، بات بھی پوری ہو جائے گی۔ چناںچہ برصیصا نے اس طریقے سے دعوت دینی شروع کر دی۔ کچھ دنوں کے بعد شیطان نے دل میں ڈالا کہ تم اِدھر چھت پر کھڑے ہوتے ہو، وہ اُدھر چھت پر کھڑی ہوتی ہے۔شہزادی ہے، جوان ہے، کوئی دیکھے گا تو باتیں بنائے گا۔ ایسا ٹھیک نہیں ہے، بلکہ تم ایسا کرو کہ اس کے دروازے کے باہرکھڑے ہو کر بات کر لیا کرو، پردہ تو ہوگا ہی سہی۔ چناںچہ برصیصا اب شہزادی کے دروازے پر کھڑے ہو کر اسے تعلیم دیتا۔ اس دوران شیطان نے شہزادی پر بھی نیکی کے اَثرات ڈالنے شروع کردیے، یہاں تک کہ وہ بڑی عبادت گزار بن گئی۔ برصیصا بڑا خوش ہوا کہ میری تربیت سے یہ بھی عبادت گزار بن گئی ہے۔ لڑکی بھی چوںکہ بالکل نارمل رہنے لگی تھی، وہ بھی خوش تھی کہ اب وہ ٹھیک بھی ہوگئی ہے اور عبادت گزار بھی بن گئی ہے۔
اس کے بعد شیطان نے گھناؤنا وار کیا اور دل میں ڈالا کہ تم باہر کھڑے ہو کر اسے تعلیم دیتے ہو، آنے جانے والوں کی نظریں پڑتی ہیں۔ یہ تو اچھی بات نہیں ہے، آخر کیا حرج ہے کہ اندر جا کر اسے تعلیم دے آؤ۔ پوری آواز تو باہر سے اندر ویسے بھی نہیں جاتی ہوگی، کتنی بار اونچا بھی بولنا پڑتا ہے۔ اور اب تو وہ شہزادی بھی نیک اور پرہیزگار بن گئی ہے، اب تو کوئی مسئلہ ہی نہیں ہے۔ شیطان لعین نے ایسا سمجھایا کہ یہ اندر داخل ہوگیا اور بھول گیا کہ نامحرم کے ساتھ تنہائی حرام ہے۔ کسی شریعت میں اللہ نے نامحرم کے ساتھ تنہائی کی اجازت نہیں دی۔ نامحرم کے ساتھ تنہائی تمام شریعتوں میں حرام رہی ہے۔
غور کرنے کی بات ہے کہ مقصد اگرچہ اُونچا ہے کہ دین کی تعلیم دینی ہے، عبادت کرنا سکھانا ہے، مگر جس راستے کو خود اللہ ربّ العزّت نے حرام بتلایا ہے، اس پر چل کر کبھی خیر وجود میں آ ہی نہیں سکتی۔ چناںچہ کچھ دنوں کے بعد دین کی تعلیم تو ختم ہوگئی اور آپس کی باتیں اور ملاقاتیں شروع ہوگئیں اور کرتے کرتے وہ کچھ ہوگیا جو نہیں ہونا چاہیے تھا۔ چند مہینے کام چلتا رہا، انہوں نے میاں بیوی کی طرح زندگی گزارنی شروع کر دی۔ اب دین گیا اور بے حیائی آگئی اور اِدھر سے حمل ٹھہرگیا۔
اس دوران شہزادے بھی آگئے۔ بہن سے ملے تو بہن نے بڑی تعریف کی کہ برصیصا بڑا اچھا آدمی ہے اور میں اس کے ساتھ اب عبادت کرنے لگ گئی ہوں۔ چند دن بعد آجاؤں گی۔ بھائی مطمئن ہوگئے کہ بہن ٹھیک بھی ہے اور خوش بھی۔ یہاں برصیصا گھبرا گیا کہ اب کیا ہوگا؟ یہ مسئلہ تو بڑا خراب ہے، اگر ولادت ہوگئی تو میری زندگی بھر کی کمائی چلی جائے گی۔ شیطان نے دل میں ڈالا کہ فکر نہ کر، تو بھی گناہ چھپائے گا اور یہ بھی چھپائے گی۔ یہاں یہ بات سمجھنے کی ہے کہ ایک ہوتا ہے گناہ کو غلطی سے کرجانا، اور ایک ہوتا ہے کہ گناہ کو گناہ سمجھتے ہوئے بار بار کرنا اور کرتے چلے جانا، اس سے انسان کی عقل ختم ہوجاتی ہے یعنی پھر عقل کام نہیں کرتی۔ شیطان نے دل میں ڈالا کہ جب بچہ پیدا ہوگا تو اس کو قتل کر دینا۔ شہزادی کی بھی عزّت کا مسئلہ ہے اور تمہاری بھی، لہٰذا وہ تمہارا ساتھ دے گی۔ اللہ کی شان کہ بچہ پیدا ہوگیا۔ برصیصا نے شیطان کے سمجھائے ہوئے طریقے کے مطابق بچے کو قتل کیا اور دفنا دیا۔ یہ بنی اسرائیل کا عبادت گزار آدمی ہے جسے شیطان نے اوّل زنا میں مبتلا کیا، اور پھر اس کے بعد قاتل بھی بنا دیا۔ پہلے ہی دروازے پر رُک جاتا تو نہ زانی ہوتا، نہ قاتل ہوتا۔
ہمارا اَلمیہ
یہ بات ہمیں بھی سمجھ نہیں آتی۔ ہم بھی اپنے لیے راستے ڈھونڈتے ہیں، اور بات پوری شریعت کی کرتے ہیں۔ کسی کو کہیں کہ بیٹا! شادی سنت کے مطابق کرلو، کہتا ہے کہ ناک کٹ جائے گی، برادری میں بے عزّتی ہوجائے گی۔ جو شریعت کی بات کرے وہ دقیانوسی آدمی ہے۔ پرانے خیالات کا ہے۔ دورِ حاضر کو نہیں جانتا۔ اسے سوسائٹی کا پتا نہیں ہے۔ زمانے کے ساتھ نہیں چلے گا تو اسے کون پوچھے گا۔ یہ ہمارے القابات ہوتے ہیں۔
دوسرا قتل
شہزادی تو ماں بن چکی تھی۔ ہوش آیا تو ممتا جاگ اٹھی اور اس نے کہا کہ میرا بچہ کہاں ہے؟ برصیصا نے آئیں بائیں شائیں کی تو وہ رونے لگی کہ مجھے بچہ چاہیے، مجھے بچہ چاہیے۔ میرا بچہ کہاں ہے، میرا بچہ کہاں ہے؟ برصیصا تو پریشان ہوگیا کہ یہ قضیہ ابھی ختم نہیں ہوا ہے۔ شیطان نے دل میں ڈالا کہ پہلے تو چھپاتی نہ چھپاتی ساری باتیں الگ تھیں، اب تو یہ نہیں چھپائے گی۔ اس نے چِلّانا شروع کر دیا تو سب ہی کو پتا لگ جائے گا۔ اگر تو اپنی عزّت بچانا چاہتا ہے تو اس کو بھی مار دے۔ چناںچہ اُس نے دوسرا قتل بھی کر دیا اور اس کو بھی دفنا دیا۔ اللہ اکبر کبیراً!
جیسے گناہ کرکرکےعقل ختم ہوجاتی ہے، ایسے ہی موبائل فون استعمال کرکرکے عقل ختم ہوجاتی ہے۔ پھر شیخ کی، استاذ کی باتیں اَثر نہیں کرتیں۔
برصیصا سب کاموں سے فارغ ہو کر واپس اپنے کمرے میں آ گیا اور اللہ اللہ کرنے لگا۔ اُدھر سے بادشاہ نے اپنے بیٹوں سے کہا کہ اب جاؤ اور اپنی بہن کو لے آؤ۔ تینوں شہزادے بہن کو لینے آئے تو وہ ملی نہیں۔ برصیصا سے پوچھا تو اس نے بڑی معصوم صورت بنا کر کہا کہ بڑی عبادت گزار بن گئی تھی، لیکن چوںکہ بیمار تھی اور میں نے بڑا اس کا علاج کیا، لیکن ایک دن طبیعت زیادہ خراب ہوگئی اور وہ مرگئی۔ یہ اس کی قبر ہے۔ برصیصا نے قبر کی نشاندہی کر دی۔ بھائی رو دھو کر کے واپس چلے گئے اور اپنے والد (بادشاہ) کو بتلا دیا کہ اب وہ اس دنیا میں نہیں رہی۔
اب شیطان نے ایک اور کام کیا۔وہ کیا تھا؟ دل کے کانوں سے سنیے! تینوں شہزادوں کے خواب میں ایک ہی رات آیا۔ اور ان سے پوچھا کہ تمہاری بہن کہاں ہے؟ ہر ایک  نے یہی کہا کہ برصیصا کے پاس بیمار تھی، مرگئی ہے، قبر بھی دیکھ کر آئے ہیں۔ شیطان نے کہا کہ کوئی نہیں، سب جھوٹ ہے۔ برصیصا نے اِس اِس طرح کیا ہے، اور یہ یہ ماں اور بچے کی قبریں ہیں۔ صبح جمع ہوئے تو ایک نے اپنا خواب سنایا کہ میں نے اس طرح دیکھا ہے۔ دوسرے اور تیسرے نے بھی اس کی تائید کی کہ ہم نے بھی یہی دیکھا ہے۔ چناںچہ طے کیا کہ ہم ضرور تحقیق کریں گے۔ تینوں بھائی فوج لے کر وہاں پہنچ گئے۔ شیطان نے جو قبریں خواب میں دِکھلائیں تھیں، دونوں کو کھولا تو شہزادی کی لاش بھی برآمد ہوگئی اور چھوٹے بچے کی بھی برآمد ہوگئی۔
برصیصا نے اپنے تمام گناہوں کا اعتراف کرلیا۔ اقرارِ جرم کے بعد عدالت نے حکم دیا کہ اسے پھانسی پر لٹکا دیا جائے۔ پھانسی کا انتظام کیا گیا اور برصیصا کو تختہ دار پر لایا گیا۔ جب رسا گردن پر آگیا تو عین اس موقع پر جب جلّاد نے رسے کو کھینچنا تھا اور پھانسی دینی تھی۔ عین اس موقع پر شیطان اسی عبادت گزار کی شکل میں آیا، جس میں اس نے برصیصا کے ساتھ ایک سال عبادت کی تھی۔ اُسی شکل میں آکر اس کے سامنے کھڑا ہوگیا اور کہنے لگا کہ مجھے پہچانتے ہو؟ اِس نے کہا کہ ہاں! تم وہی ہو جس نے میرے ساتھ ایک سال عبادت کی تھی۔ شیطان نے کہا کہ ٹھیک پہچانا، میں وہی ہوں جس نے عبادت کی تھی۔ وہ دَم میں نے تمہیں سکھایا تھا، شہزادی کی طبیعت کی ناسازی میں میرا کردار تھا، زنا میں نے تم سے کروایا، پہلا قتل میں نے ہی تم سے کروایا، دوسرا بھی تم سے کروایا، پھر تمہاری ساری حرکتوں کی رپورٹ شہزادوں کو میں نے ہی دی۔ اور اگر میں چاہوں تو تمہیں پھانسی کے پھندے سے بچا بھی سکتا ہوں، میرے علاوہ اور کوئی بچا نہیں سکتا۔
جو لوگ گناہ کرتے رہتے ہیں، موبائل فون کا غلط استعمال کرتے رہتے ہیں، ان کی عقل ختم ہوچکی ہوتی ہے۔ عقل کی رَتی نہیں رہتی، خالی شہوت باقی رہتی ہے۔ برصیصا پریشان تو تھا ہی، شیطان سے پوچھا کہ ہاں! بتاؤ کہ میں کون سا عمل کروں کہ تم مجھے بچا لو گے؟ شیطان نے کہا کہ تم اتنا اِقرار کرلو کہ خدا نہیں ہے۔ نَعُوْذُ بِاللهِ مِنْ ذٰلِكَ! میں تمہیں بچالوں گا اور تم بچ جاؤ گے۔ اب عقل تو ختم ہوچکی تھی، چناںچہ اس نے دل میں سوچا کہ میں ابھی کہہ دیتا ہوں کہ خدا نہیں ہے، بعد میں جاکر توبہ کرلوں گا اور اللہ کو منالوں گا۔ آج ہم بھی یہی کہتے ہیں کہ ابھی تو موقع ہے، زندگی پڑی توبہ کرنے کو، ابھی گناہ کرلو بعد میں توبہ کرلیں گے۔ یہی بات اس نےبھی سوچی اور اس نے زبان سے کہہ دیا نَعُوْذُ بِاللهِ مِنْ ذٰلِكَ کہ خدا نہیں ہے۔ یہ کفریہ جملہ زبان سے نکلا اور اُدھر سے جلّاد نے رسا کھینچا اور ایک عبادت گزار کی موت کفرپر آگئی۔ شیطان کا کام تو چوںکہ پورا ہوگیا تھا تو وہ یہ کہتے ہوئے چلا گیا:
قَالَ اِنِّیْ بَرِىْٓءٌ مِّنْکَ اِنِّیْ اَخَافُ اللّٰہَ رَبَّ الْعٰلَمِیْنَ o (الحشر: 16)
’’میں تجھ سے بری ہوں، میں اللہ سے ڈرتا ہوں جو سارے جہانوں کا پروردگار ہے‘‘۔
یہ پورا واقعہ علامہ قرطبی نے تفسیرِ قرطبی میں اسی آیت کے ذیل میں لکھا ہے۔
بے نکاح نہیں رہنا چاہیے
جب نامحرم اکھٹے ہوتے ہیں، گناہ کرکے ہی رہتے ہیں اس لیے کہ تیسرا ان کے ساتھ شیطان ہوتا ہے۔ اس کا ایک ہی طریقہ ہے بچنے کا، ’’نکاح‘‘ اور جلد سے جلد نکاح۔ سیدنا حضرت عمر فاروق کو فاروق کیوں کہتے ہیں؟ حق اور باطل میں تمیز کرنے والا۔ فاروق کا مطلب یہی بنتا ہے۔ کتنی مرتبہ یہ ہوا کہ ان کی زبانِ مبارک سے جو بات نکلی اللہ ربّ العزّت نے اس پر مہر لگا دی۔ نبی کریمﷺ نے فرمایا کہ ’’بے شک اللہ تعالیٰ نے حق کو عمر کی زبان اور دل پر ڈال دیا ہے‘‘۔ (سنن ترمذی، کتاب المناقب: باب فی مناقب عمر) ایک روایت میں ارشادِ نبویﷺ ہے: ’’ اے ابن الخطّاب! اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے! شیطان وہ راستہ چھوڑدیتا ہے جہاں سے آپ گزر رہے ہوتے ہیں‘‘۔ (متفق علیہ) بڑوں کی بات بھی بڑی ہوتی ہے۔ بادشاہوں کا کلام بھی کلاموں کا بادشاہ ہوا کرتا ہے۔ حضرت طائوس نے بیان کیا کہ فاروق اعظم نے ایک نوجوان سے پوچھا کہ کیا تم نے نکاح کیا ہے؟ اس نے کہا کہ نہیں۔ وہ نوجوان ہر اعتبار سے شادی کے قابل تھا۔ حضرت فاروق اعظم نے فرمایا: یا تم احمق ہو، یا پھر گناہ گار ہو۔
(مصنف ابن عبدالرزّاق: 170/4)
غبی یا ولی یہ دولفظ ہیں، دو طرح کے لوگ ہیں جو گناہ سے بچ سکتے ہیں۔ ولی وہ جس کے دل میں خدا کا خوف ہو، اور غبی وہ جو پاگل ہو۔ ورنہ آج کے اس دور میں گناہوں سے بچنا، بے حیائی سے بچنا بہت مشکل ہے۔ اس لیے نکاح کرنا اور بھی زیادہ ضروری ہے۔ حضرت عکّاف کی حدیث پہلے گزری جس میں نبی نے فرمایا کہ تم میں سب سے بدترین اور سب سے زیادہ ذلیل وہ ہے جو بے نکاح ہے۔
(مسند عبد الرزّاق: 171/6)
حضرت فاروق اعظم کو اللہ تعالیٰ نے بہت حکمت دی تھی۔ ان کا دَور آج تک مثالی دَور کہلاتا ہے۔ وہ فرماتے تھے کہ مجھے اس نوجوان سے سخت خوف ہے جس نے شادی نہیں کی، یہ گناہوں میں پڑ جائے گا۔ (کنزالعمّال: 487)
اپنی عزت کو، عفّت کو، پاک دامنی کو نہیں بچا پائے گا۔
حضرت حفصہ کی نصیحت
نبیd کے پردہ فرما جانے کے بعد حضرت عبداللہ بن عمرi نے اِرادہ کیا کہ میں شادی نہیں کروں گا۔ جب اس ارادے کا اُن کی بہن اُمّ المؤمنین حضرت حفصہk کو علم ہوا تو انہوں نے کہا کہ عبداللہ! تم ایسا نہ کرنا۔ بھائی! تم شادی کرو، اس سے تمہاری اولاد ہوگی، اولاد اگر چھوٹی عمر میں انتقال کر گئی تو تمہارے لیے نجات کا ذریعہ بنے گی، اور اگر بڑی ہوگئی تو خیر وبرکت کا ذریعہ بنے گی۔ (مصنف ابنِ ابی شیبہ: 176/6)
باپ پر گناہ
حضرت عمر اور حضرت اَنس بن مالک روایت کرتے ہیں کہ نبی نے ارشاد فرمایا: ’’تورات میں لکھا ہے کہ جس لڑکی کی عمر 12 سال ہوجائے، اور اس کا ولی نکاح نہ کرے (ٹال مٹول سے کام لے) اور بچی سے کوئی گناہ ہوجائے تو اس کا گناہ باپ کو ہوگا‘‘۔ (شعب الایمان للبیہقی)
یعنی پرانی اُمتوں سے یہ بات چلی آرہی ہے کہ شادی میں تاخیر نہ کرنی چاہیے۔ اور آج کل جو فیشن کا ماحول ہے، اور اپنے آپ کو Expose کرنے کا ماحول ہے، اس کے اندر اپنے آپ کو بچالینا واقعتاًاللہ کا خاص کرم ہے۔ اللہ کا کرم ہوگا تو بچے گا ورنہ بچنا مشکل ہے۔ نبی بے نکاح رہنے سے، اور بچوں وبچیوں کو بے نکاح رکھنے سے سختی سے منع فرماتے تھے۔ عذر تراشنا کہ پاؤں پر کھڑا نہیں ہوا، یا ابھی تو پڑھائی کے دن چل رہے ہیں، لڑکا اسٹینڈرڈ کا نہیں ملا ہے، پھر اگر ان بچوں سے گناہ سرزد ہوجاتا ہے تو یہی باپ گناہ گار ہوگا۔ یہ زبانِ نبوت سے نکلے ہوئے کلمات ہیں۔
دیگر اُمتوں پر فخر
حضرت انس سے روایت ہے کہ نبی نکاح کا حکم دیتے، اور بے نکاحی زندگی گزارنے سے سختی سی منع فرماتے تھے۔ اور فرماتے کہ خوب محبت کرنے والی، بچے پیدا کرنے والی عورتوں سے نکاح کرو، میں تمہاری کثرت کی وجہ سے قیامت کے دیگر اُمتوں پر فخرکروں گا۔ (بلوغ المرام لابن حجر عسقلانی بحوالہ مسند احمد، سنن ابی داؤد)
علماء نے لکھا کہ وہ آدمی جو نکاح نہیں کرتا اصل میں شیطان کے ہاتھ میں کھلونا بن جاتا ہے۔ شیطان جیسے چابی بھرتا ہے اس کا جسم ویسے ہی گناہ میں لگ جاتا ہے۔
اصحابِ رسولﷺ کی چاہت
دو عظیم صحابیٔ رسول ہیں: حضرت عبداللہ بن مسعود ،اورحضرت معاذ بن جبل۔ دونوں جلیل القدر صحابی ہیں، اور بہ کثرت روایات کرتے ہیں۔ حضرت ابنِ مسعود فقیہ الامت ہیں، اور حضرت معاذ\ اَعلم بالحلال والحرام ہیں۔ ابنِ مسعود فرماتے تھے کہ اگر مجھے پتا لگ جائے کہ میری عمر کے صرف 10 دن باقی ہیں اور اس حال میں میری بیوی کا انتقال ہوجائے تو میں اس حال میں بھی شادی کروں گا، کیوںکہ میںبے نکاح اللہ کے سامنے نہیں جانا چاہوں گا۔
(أوجز المسالک إلی موطّأ إمام مالك: کتاب النکاح)
حضرت معاذ بن جبل کی دوبیویاں تھیں۔ اللہ کی شان کہ دونوں کا انتقال ساتھ ہوا، اور ایک ہی دن دفن ہوئیں۔ اور حضرت معاذ خود طاعون میں مبتلا تھے۔اس حال میں انہوں نے لوگوں سے کہا کہ میری شادی کرواؤ، میں اللہ کے سامنے اس دنیا سے اس حال میں نہیں جانا چاہتا کہ میری بیوی نہ ہو۔ (شرح احیاء: 288)
غرض یہ کہ صحابۂ کرام نکاح کا اتنا اہتمام فرماتے تھے۔
حکایت
ایک بزرگ فرماتے ہیں کہ معمر نے ابو اسحاق سے نقل کیا ہے کہ ایک نوجوان ان کے پاس آیا تو انہوں نے اس سے پوچھا کہ بیٹا! تم نے قرآن حفظ کرلیا؟ نوجوان نے کہا کہ جی کرلیا۔ پھر اس سے پوچھا کہ تم نے حج کرلیا؟ اس نے کہا کہ الحمدللہ! کرلیا۔ پھر پوچھا کہ تم نے شادی کرلی؟ اس نے کہا کہ نہیں، شادی تو نہیں کی۔ پوچھا کہ تمہیں شادی سے کس چیز نے روکا؟ حالانکہ حضرت ابنِ تھے کہ اگر میری زندگی کا آخری دن بھی باقی رہ جائے اور میری بیوی دنیا میں نہ ہو تو میں شادی کرکے جانا چاہوں گا۔
نکاح کی خوبیاں
نبی نوجوانوں کو شادی کرنے کا حکم دیتے تھے۔ اور اگر وہ کسی عذر کی وجہ سے فوراً شادی نہ کرپاتے تو فرماتے کہ تم کثرت کے ساتھ روزے رکھا کرو۔ حضرت ابنِ مسعود سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا:
’’اے نوجوانو کی جماعت! جو تم میں نکاح کی طاقت رکھے وہ نکاح کرے، یہ نگاہوں کو جھکانے والا اور شرم گاہ کی حفاظت کرنے والا عمل ہے۔ اور جو نکاح نہ کرسکے اس کو لازم ہے کہ وہ روزے رکھے، یہ شہوتوں کو روکتا ہے‘‘۔ (صحیح بخاری:255/2)
نوجوان اپنی حفاظت کریں
جو نوجوان سچے دل سے چاہتے ہیں کہ حلال زندگی گزاریں اور بظاہر ابھی کوئی معقول انتظام نہیں ہے اور گناہ میں پڑنے کا قوی امکان ہے، انہیں چاہیے کہ وہ مسلسل روزے رکھیں۔ دوچار روزوں سے کچھ نہیں ہوتا، مسلسل روزے رکھیں، اتنے روزے رکھیں کہ ناجائز شہوت ختم ہوجائے یا اس پر کنٹرول آجائے۔ ساتھ میں نگاہوں کی حفاظت کریں اور اللہ والوں کی صحبت بھی اختیار کریں، اور ذکر کی پابندی بھی کریں۔ یہ نبی کا بتایا ہوا عمل ہے، اس سے بڑھ کر اور کوئی مجرّب عمل نہیں ہو سکتا۔
شادی کے بعد وُسعت ملنا
بعض لوگ کہتے ہیں کہ جی نکاح اس لیے نہیں کرتے کہ ابھی گنجایش نہیں ہے، یا مال کم ہے۔ جب ذہنوں میں بڑے خیالات بٹھائیں گے تو نکاح مہنگا ہوتا جائے گا، اور حرام کا راستہ کھلے گا۔ ہاں! اگر واقعی سچی نیت ہے کہ مجھے حلال زندگی گزارنی ہے تو پھر شادی سادی کرکے برکتوں کو گھر میں لائیں گے۔ اس کے بارے میں بھی نبی کا ارشاد سن لیں:
امی عائشہ صدیقہ فرماتی ہیں کہ نبی نے فرمایا کہ’’ تم شادی کرو، یہ عورتیں تمہارے لیے مال لے کر آتی ہیں‘‘۔ (مصنف ابنِ ابی شیبہ:127)
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
اِنْ یَّکُوْنُوْا فُقَرَآءَیُغْنِھِمُ اللّٰہُ مِنْ فَضْلِہٖ (النّور: 32)
ترجمہ: اگر وہ تنگ دست ہوں تو اللہ اپنے فضل سے انہیں بے نیاز کر دے گا۔
حضرت ابنِ مسعودh نے فرمایا: اللہ کے فضل یعنی غنیٰ کو نکاح میں تلاش کرو۔ اس آیت کو تلاوت کرنے کے بعد فرماتے کہ اگر تم تنگ دست ہوگے تو اللہ تعالیٰ تمہیں غنی کر دیں گے۔ حضرت ابنِ عباسi فرمایا کرتے تھے کہ اللہ پاک نے نکاح کا حکم دیا ہے، اور اس کی رغبت دلائی ہے، اور لوگوں کو حکم دیا ہے کہ وہ اپنے آزاد اور غلاموں کا نکاح کریں، اور اس نکاح پر اُن سے غنیٰ یعنی مال کا وعدہ کیا ہے۔ (تفسیرِ طبری: 166/19)
یہ اللہ کے وعدے ہیں۔ اسی لیے سنت اور شریعت کے مطابق نکاح کرنے سے عفت وپاک دامنی بھی محفوظ ہوتی ہے اور مال بھی ملتا ہے۔
حضرت جابر بن عبداللہi فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے نبیd سے اپنی تنگ دستی کی شکایت کی تو آپﷺ نے فرمایا کہ نکاح کرلو۔ (تاریخ بغداد: 365/1)
حضرت صدیق اکبرh فرمایا کرتے کہ اللہ تعالیٰ کے حکم نکاح کو پورا کرو، اللہ تعالیٰ اپنے اس غنیٰ کے وعدے کو پورا کریں گے جو تم سے کیا ہے۔
(تفسیر ابنِ ابی حاتم: 2582/8)
شادی کے بعد اخراجات بڑھتے ہیں۔ پہلے اکیلے کا مقدر تھا، اب دوسرے کا مقدر بھی اس کے ساتھ جُڑ گیا، آگے اولاد ہو گی تو ان کا مقدّر بھی جمع ہوگا۔ یہ کیوں سوچتے ہیں کہ کھانے والے بڑھ جائیں گے، یہ سوچیں کہ مقدّر کی روزی بڑھ جائے گی، اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے رحمت بڑھ جائے گی۔ جو چاہے دیکھ لے کہ شادی کے بعد اللہ تعالیٰ نے وُسعت سے نوازا ہوگا۔ یہ اللہ کا وعدہ ہے اور عام ترتیب بھی یہی ہے۔ ہاں! شادی کے بعد اگر کوئی سودی معاملات میں ملوّث ہوگیا، یا جوئے میں ملوّث ہوگیا، کوئی خاص گناہ میں مبتلا ہو کر پکڑا گیا تو وہ معاملہ الگ ہے۔
وُسعت کیسے معلوم ہوگی؟
اس وُسعت کو جاننے ایک بڑا آسان طریقہ ہے۔ اس دفعہ آپ نے کتنی زکوٰۃ دی؟ اس کو دیکھیں۔ 5 سال پہلے کتنی دی تھی؟ 15 سال پہلے کتنی دی؟ 20 سال پہلے کتنی دی تھی اس کو دیکھیں، ابھی پتا لگ جائے گا۔ پہلے سائیکل بھی نہیں تھی، پھر موٹر سائیکل آگئی، پھر گاڑی آگئی۔ بس اللہ کی طرف سے رحمتیں بڑھ رہی ہیں۔ کوئی بھی چیک کرلے کہ نکاح کی وجہ سے مال کم نہیں ہوتا۔ ہاں! یہ کفر کا پروپیگنڈا ضرور ہوسکتا ہے کہ یہ ہوجائے گا، وہ ہو جائے گا۔ اللہ ربّ العزّت کی ذات بہت مہربان ہے، اس کی عنایتیں بڑھ جاتی ہیں۔
پاک دامنی پر جنت کی بشارت
ایک حدیث میں آتا ہے کہ نبی نے قریش کے نوجوانوں سے فرمایا:
’’اے قریش کے جوانو! اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرو، زنا نہ کرنا۔ غور سے سن لو! جو اپنی جوانی کی حفاظت کرے گا (عِفّت اور پاک دامنی کی زندگی گزارے گا) اس کے لیے جنت ہے‘‘۔ (مستدرکِ حاکم: 358/4)
غور تو کیجیے کہ نبی کی طرف سے جنت کی بشارت دی جارہی ہے۔ موبائل فون کے صحیح استعمال پر جنت کی بشارت مل رہی ہے۔ Whatsapp، Facebookپر تصویریں نہ لگانے پر جنت کی بشارت مل رہی ہے۔ جو کوئی عفت اور پاک دامنی کے لیے شادی کرتا ہے، اللہ ربّ العزّت اس کی مدد فرماتے ہیں۔
حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ نبی نے فرمایا کہ 3 بندوں کی اللہ پاک ضرور مدد فرماتے ہیں:
(۱) ایک وہ جو اللہ کے راستے میں جہاد کر رہا ہو۔
(۲) دوسرا وہ غلام جو اپنا بدلے کتابت دے کر آزاد ہونا چاہتا ہو۔ یہ غلاموں کے زمانے کی بات ہے، جب غلام ہوا کرتے تھے۔
(۳) تیسرا وہ نکاح کرنے والا جس کی نکاح سے نیت پاک دامن رہنے کی ہو (نیت میں کھوٹ نہ ہو)۔ (سنن ترمذی: 1655) 
نیتیں مختلف ہوتی ہیں۔ صحیح نیت نکاح کی یہ ہے کہ میں پاک دامن رہوں، میری شرم گاہ محفوظ رہے۔ تو اللہ تعالیٰ کی غیبی مدد و نصرت اس نوجوان کے ساتھ ہوتی ہے جو کسی اور وجہ سے شادی نہیں کرتا، فقط اپنی پاک دامنی کو محفوظ رکھنے کے لیے شادی کرتا ہے۔
شیطان کا دُکھ
جو جوان 20،22 سال کی عمر میں شادی کرتاہے تو سب سے زیادہ دُکھ شیطان کو ہوتا ہے۔ حضرت جابر سے روایت ہے کہ نبی نے ارشاد فرمایا: ’’جو نوجوان اپنی ابتدائی عمر میں شادی کرلیتاہے وہ شیطان کے نرغے سے بچ جاتا ہے۔ شیطان افسوس کرتا ہے کہ اس کا دین اُس سے محفوظ ہوگیا‘‘۔ (مطالبِ عالیہ:12،35)
شیطان کو غم ہوتا ہے کہ اس نوجوان نے اتنی چھوٹی عمر میں شادی کیوں کرلی؟ اگر کوئی شادی نہ کرے تو پھر یہ ملعون نامحرموں سے ملاقاتوں میں ڈال دیتا ہے۔ شادی کرنے کے بعد ایک تو طبیعت پہلے ہی مطمئن ہوجاتی ہے۔ دوسرا بیوی بچوں کے مسائل میں آدمی اتنا گم جاتا ہے، اتنا مصروف ہوجاتا ہے کہ اُسے پھر اِدھر اُدھر کی سوچ آتی بھی نہیں۔ مردوں کے لیے بہتر یہی ہے کہ 20،22 سال کی عمر میں شادی ہوجائے۔ بلکہ جتنی جلدی ہوجائے اتنا بہتر ہے۔ اور شرم گاہ کی حفاظت پر تو جنت کے وعدے ہیں، اس لیے والدین کو چاہیے کہ اپنی اولاد کی فکر کریں۔
چھ چیزوں پر جنت کا وعدہ
مسندِ احمد (323/5) میں حضرت عبادہ بن صامت سے روایت ہے کہ نبی نے ارشاد فرمایا:
’’تم اپنے نفس کی طرف سے 6 چیزوں کی ذمہ داری لے لو، میں تم سے جنت کا وعدہ کرتا ہوں‘‘۔ اپنی اُمت سے کہا کہ 6 باتوں کا وعدہ تم کرلو، 6 چیزوں سے تم بچ جاؤ۔ جنت کا وعدہ محمد رسول اللہﷺ تم سے کریں گے۔ آج بھی یہ وعدہ موجود ہے۔ ہم میں سے جو چاہے اِن چھ چیزوں پر عمل ابھی سے شروع کر دے۔ جو ہوگیا اس پر توبہ کرلے، معافی مانگ لے۔ اور آج سے توبہ کرلے کہ مجھے ان چھ چیزوں پر لازمی عمل کرنا ہے تو جنت کا وعدہ رسول اللہﷺ کی طرف سے ہے۔ یہ پکی ڈیل ہے، اس میں کوئی نقصان نہیں ہوسکتا۔ وہ چھ چیزیں یہ ہیں:
*جب بولو تو سچ بولو۔
آج ہم میں سے ہر آدمی بڑی پارسائی کا دعویٰ لیے بیٹھا ہے۔ ہم صرف 3 دن اپنے دونوں کانوں کو اپنی زبان سے لگادیں کہ اس سے نکل کیا رہا ہے، اور ہر نکلنے والے جھوٹ پر ایک کنکری لیں تو پتا چل جائے گا کہ تھوڑے ہی مہینوں کے بعد گھر میں کنکریوں کا ایک پہاڑ بن جائے گا۔ یقین نہ آئے تو کرکے دیکھ لیں۔ تین دن عمل کرکے دیکھ لیں دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہوجائے گا۔
نبیﷺ کا فرمان ہے کہ ان 6 باتوں پر عمل کی ضمانت مجھے دے دو، میں تمہیں جنت کی ضمانت دیتا ہوں:
(1) جب بولو، سچ بولو۔
(2) وعدہ کرو، اسے پورا کرو۔
(3) اَمانت رکھوائی جائے، اسے ادا کرو۔
(4) اپنی شرم گاہ کی حفاظت کرو۔
(5) نگاہوں کو پست رکھو۔
(6) اپنے ہاتھوں کو دوسروں کو تکلیف دینے سے بچاؤ۔ دوسروں کو تکلیف نہ دو۔
ملّا علی قاری نے لکھا ہے کہ پیٹ اور شرم گاہ کی بے اعتدالیوں کی وجہ سے بہ کثرت لوگ جہنم میں جائیں گے۔
بیوی کے انتقال کے بعد دوسری شادی
اگر کسی نے شادی کرلی، پھر بیوی کا انتقال ہوگیا تو سنت یہ ہے کہ بیوی کے انتقال کے بعد دوسری شادی کرلی جائے۔
اُمّ المؤمنین حضرت خدیجہ کا انتقال ہوگیا تو حضورﷺ غمگین رہنے لگے۔ حضرت خولہ آئیں اور عرض کیا کہ اے اللہ کے نبی! کیا آپ شادی نہیں کریں گے؟ نبی نے دریافت فرمایا: کس سے؟ حضرت خولہ کہنے لگیں کہ چاہیں تو کنواری سے، اور چاہیں تو بیوہ سے۔ نبی نے پوچھا کہ کنواری کون ہے؟ عرض کیا کہ آپ کے محبوب دوست حضرت ابوبکر کی بیٹی عائشہ۔ پوچھا کہ بیوہ کون ہے؟ عرض کیا کہ سودہ بنت زمعہ جو آپ پر ایمان لائیں اور آپ کی اتباع کرنے والی ہیں۔ حضور پاکﷺ نے فرمایا کہ آپ دونوں ہی سے بات کرلیجیے۔ حضرت خولہ نے حضرت سودہ سے بات کی اور نکاح ہوگیا۔ پھر حضرت ابوبکر سے بات کی تو یہاں حضرت عائشہ سے نکاح ہوگیا۔ (مسند احمد:25810)
معلوم ہوا کہ بیوی کی وفات کے بعد بلا نکاح زندگی گزارنا خلافِ سنت ہے۔ اور آج ہمارے معاشرے میں اولاد ناراض ہوجاتی ہے۔ سنت پوری کرنے میں جو عزّتیں ہیں، جو برکتیں ہیں وہ کہیں اور سے آہی نہیں سکتیں۔ خیر تو صرف نبی کی بات کو % 100 ماننے میں ہے۔ جو درمیانی راستے ہم نکالتے ہیں بنی اسرائیل کے اُن لوگوں کی طرح جنہیں بندر بنا دیا گیا تھا۔ جب انہوں نے درمیانی راستہ نکالا اور جس دن مچھلیاں پکڑنی منع تھیں یعنی ہفتے کے دن، اس دن جال ڈال کر چھوڑ دیا اور اگلے دن آکر مچھلیاں پکڑ لیں۔ اس طرح مچھلیاں بھی ہاتھ لگ جاتیں اور سمجھتے کہ ممنوعہ دن کی تعظیم بھی ہوگئی ہے، کوئی بات نہیں۔ اور اللہ تعالیٰ کو ان کی یہ چال بازی پسند نہیں آئی تو انہیں بندر بنا دیا تھا۔ یاد رکھیں کہ درمیانی راستہ نکالنے والے اللہ کے عذاب کا شکار ہوسکتے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم درمیانی راستہ چھوڑ کر صرف صراطِ مستقیم کو پکڑیں۔
نکاح کس نیت سے کرنا ہے؟
موجودہ معاشرے میں نکاح مختلف نیتوں سے کیے جاتے ہیں۔ اس کو دل کے کانوں سے سنیے کہ صحیح نیت کیا ہے؟ بعض نکاح ایسے ہوتے ہیں جن پر اللہ کی رحمت ملتی ہے، اور بعض ایسے ہوتے ہیں جن پر انسان رحمتِ الٰہی سے دور ہوجاتا ہے۔ یہ بات نب نے خود بتائی ہے۔ حضرت اَنس سے روایت ہے کہ نبی نے فرمایا:
(۱) جس نے کسی عورت سے عزّت حاصل کرنے کے لیے نکاح کیا، اللہ تعالیٰ اُسے ذِلّت دیں گے۔
(۲) جس نے مال کی وجہ سے شادی کی، اللہ تعالیٰ اسے فقر دیں گے۔ (زندگی بھر مانگتا ہی رہے گا)
(۳) جس نے حسن وجمال کی بنیاد پر شادی کی، اللہ تعالیٰ اسے کمتری دیں گے۔
(۴) جس نے اس وجہ سے شادی کی کہ اس کی نگاہوں میں جھکاؤ آجائے، یا زنا اور اُمورِ زنا سے بچ جائے، یا صلہ رحمی کرے، خاندانوں کا جوڑ ہوجائے تو اللہ پاک ایسے مرد کو بھی برکتیں عطا فرمائیں گے اور ایسی عورت کو بھی برکتیں عطا فرمائیں گے۔
(معجم اوسط للطبرانی: 2527)
نبیd کی دعائیں لینی ہیں، برکتیں لینی ہیں، اللہ کی مدد لینی ہے تو وہ تب ملیں گی جب دین کی وجہ سے شادی کی جائے گی۔
نکاح کس نیت سے کرنا ہے؟
نکاح سے پہلے استخارہ کرنا بھی سنت ہے۔ حضرت جابر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ نب ہر کام کے کرنے سے پہلے اس طرح استخارہ کرنا سکھاتے تھے جس طرح قرآن پاک کی کوئی سورت سکھاتے تھے۔ (صحیح بخاری: 6382)
استخارے کے بارے میں تفصیلات تو بہت زیادہ ہیں۔ مختصر یہ کہ خود کرنا سنت ہے، کسی اور سے کروانا خلافِ سنت ہے البتہ جائز ہے، لیکن بہتر یہ ہے کہ انسان خود کرے۔ دو رکعت نماز عام نماز کی طرح استخارے کی نیت سے پڑھ لے، اس کے بعد خوب خشوع وخضوع سے اللہ کے حضور میں دعا کرے۔ خواب دیکھنا، روشنیاں دیکھنا کچھ حقیقت نہیں ہے۔ جس طرف دل کا میلان ہو بشرط یہ کہ حلال کام ہو، مشورے کے بعد اس پر عمل کرلے۔
شادی شدی اور غیر شادی شدہ زندگی کا موازنہ
اب ہم ایک موازنہ کرتے ہیں کہ شادی شدہ اور غیر شادی شدہ میں کیا فرق ہے:
(۱) شادی شدہ لوگوں میں دل کی بیماریاں کم ہوتی ہیں۔ شادی شدہ میں ہارٹ اٹیک کا مرض کم ہوتا ہے۔
(۲) غیر شادی شدہ لوگ خاص کر جو زانی بھی ہیں، ان کے اندر بہت ساری بیماریاں آجاتی ہیں جیسے کہ ایچ آئی وی، ایڈز۔ اس کے علاوہ ایچ پی وی، یہ ایک ایسا وائرس ہے جس کے اندر آجائے اس کو کینسر کی طرف لے جاتا ہے۔ زنا کرنے والا بچتا نہیں ہے۔ اور زانی سے تحنیق بھی نہ کرانی چاہیے۔
تحنیق کیا ہے؟
Vaccination ۔ بالکل Vaccination ہے۔ آدمی کے تھوک میں ایک خاص قسم کی چیز ہوتی ہے۔ جب کوئی نیک آدمی کسی کے اندر لعاب ڈالتا ہے، جیسے کہ سنت کے مطابق کھجور چبا کر اس کی تحنیق کرتا ہے تو وہ ساری چیزیں جو انسان کو Vaccination سے، ٹیکے سے ملتی ہیں، وہی اس طریقے سے مل جاتی ہیں۔ اس لیے تحنیق کسی نیک آدمی سے کرانی چاہیے، زانی سے نہ کرانا کیوںکہ اس کے لعاب سے مسائل پیدا ہوجاتے ہیں، بیماریاں پیدا ہوجاتی ہیں۔
(۳) مشی گن یونیورسٹی امریکا میں ہے۔ اس کی ریسرچ ہے کہ شادی شدہ لوگوں کی صحت بہتر ہوتی ہے۔
(۴) شادی شدہ لوگوں کی عمر طویل ہوتی ہے۔
(۵) غیر شادی شدہ لوگ اندر سے کئی طرح کے نفسیاتی مسائل اور بیماریوں کا شکار ہوجاتے ہیں، خاص کر وہ غیر شادی شدہ جو حرام تعلقات میں مبتلا ہوتے ہیں۔ ان کے اندر اور زیادہ یہ چیزیں جیسے نفسیاتی بیماریاں اور دوسرے مسائل پیدا ہوجاتے ہیں۔ یاد رکھیں! اللہ نے جسم کے لیے جو ضرورت رکھی ہے، مرد کی وہ ضرورت عورت سے پوری ہوسکتی ہے۔ اور اس کے لیے ایک ہی راستہ شادی کا ہے۔ اگر کوئی غلط طریقے سے پوری کرتا ہے تو وہ ضرورت اور زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ انسان مطمئن نہیں ہوتا، زندگی بھر غیرمطمئن زندگی گزارتا ہے، اور ذہنی سکون بالکل ختم ہوجاتا ہے۔
(۶) چھٹی بات بہت ہی Important ہے۔ 2013ء میں امریکا میں ایک ریسرچ ہوئی۔ اور تقریباً 3900 طلبا پر یہ ریسرچ ہوئی جو کہ سب عیسائی تھے، کوئی مسلمان نہیں تھا۔ نتیجہ یہ نکالا کہ جو لوگ زنا میں ملوّث تھے اور شادی شدہ نہ تھے ان کے اندر اطمینان تھا ہی نہیں، غیر مطمئن زندگی گزار رہے تھے، اور اپنی نگاہوں میں خود گرے ہوئے تھے، اور احساس کمتری کا شکار تھے۔
قرآن مجید میں ارشاد باری ہے:
’’یاد رکھو کہ جو لوگ یہ چاہتے ہیں کہ ایمان والوں میں بے حیائی پھیلے، ان کے لیے دنیا اور آخرت میں دردناک عذاب ہے‘‘۔ (سورۃ النور: ۱۹، آسان ترجمہ قرآن)
اس بات کو جتنا چاہیں کھولتے چلے جائیں، کیوںکہ اللہ تعالیٰ خود فرما رہے ہیں کہ بے حیائی پھیلانے والوں کے لیے دنیا وآخرت میں دردناک عذاب ہے۔ نہ دنیا میں سکون چین ملے گا اور نہ آخرت میں۔ ذرا غور کیجیے کہ 3900 لوگ احساسِ کمتری کا شکار ہیں حالانکہ ضرورت اپنی پوری کر رہے ہیں، من مانی اپنی پوری کررہے ہیں، خواہش اپنی پوری کررہے ہیں، مرضی اپنی پوری کررہے ہیں۔ ان سب کے باجود احساسِ کمتری کا شکار ہیں۔ زنا کی وجہ سے سکون چھین لیا گیا ہے۔
(۷) نفسیاتی مسائل سے پریشان لوگ۔ ایسے بڑی عمر کے لوگ جن کی شادی نہ ہوئی ہو۔ جب وہ میرے پاس آتے ہیں اور میں دیکھتا ہوں کہ کسی کی عمر 40سال ہے، تو میں سمجھ لیتا ہوں کہ اس نے میرے ساتھ لڑنا بھی ہے اور میری بات سمجھنی بھی نہیں۔ کوئی نہ کوئی مشکل بھی پیدا کرنی ہے۔ اس لیے کہ ان لوگوں کے اندر ہوس بہت زیادہ ہوتی ہے۔ یہ میچور ہوچکے ہوتے ہیں۔ اپنی باتوں کو ایک طرف لے جانا آتا ہے۔ مجھے ایک صاحب بتانے لگے کہ ابراہیم! جو لوگ چھوٹی عمر میں شادی کرلیتے ہیں جیسے کہ لڑکا 22,20 سال کا ہو لڑکی 19,18 سال کی ہو۔ چھوٹی عمر میں شادی والے لوگ آپس میں گزارا کرنا سیکھ لیتے ہیں۔ جب لڑکا 30 سال میں چلا جائے، 40 سال میں چلا جائے، 45 میں چلا جائے۔ لڑکی بھی 40,35 سال میں چلی جائے تو یہ اپنی اپنی چیزوں میں پختہ ہوچکے ہوتے ہیں اور ایک دوسرے کو قبول نہیں کرپاتے۔
ایک صاحب آئے۔ تقریباً 40 سال کے ہوں گے۔ یونیورسٹی میں پروفیسر ہیں۔ ان کی اہلیہ بھی لیڈی ڈاکٹر بلکہ سرجن ہیں۔ دونوں ایسے لڑتے ہیں جیسے چھوٹے بچے لڑتے ہوں۔ معمولی معمولی باتوں پر لڑائی ہو جاتی ہے۔ پروفیسر صاحب کہتے ہیں کہ اہلیہ Facebook پر میری اور گھر کی باتیں پر لگا دیتی ہیں۔ وہ اپنی ماں کے گھر ٹھہری ہوئی ہے، اور یہ اپنے گھر ٹھہرے ہوئے ہیں۔ دونوں پڑھے لکھے ہیں۔ اور شادی کب ہوئی؟ 3 سال پہلے۔ اب ایک دوسرے کو قبول کرنے کو تیار نہیں، ہنسی مذاق کے لیے راضی نہیں، ایک دوسرے کی بات برداشت کرنے کو تیار نہیں۔
ڈاکٹر ولید صاحب اپنا تجربہ بتاتے ہیں کہ ہمارے پاس کوئی ایسا مریض آجائے جس کی عمر 40 سال کے قریب ہو اور وہ شادی شدہ نہ ہو، ہم سمجھ لیتے ہیں کہ اس نے کوئی نہ کوئی پریشانی ضرور ڈالنی ہے، اس نے ہماری تو ماننی ہی نہیں، سننی ہی نہیں، ایسے لوگ غلط راستے کی طرف زیادہ چلتے ہیں اور کسی کی سنتے بھی نہیں، اور ان میں خود کشی کا رجحان بھی بہت زیادہ ہوتا ہے۔ ایسے لوگ جو 40 سال کی عمر میں پہنچ جائیں اور شادی نہ ہوئی ہو اور پاک دامن بھی نہ ہوں تو یہ اکثر Fight کرتے ہیں، لڑائی بھڑائی کے ماہر ہوتے ہیں۔ ایسے لوگ بیمار ہوکر یا آپس کی لڑائی میں زخمی ہوکر آتے ہیں ۔ یہ ایک ڈاکٹر کا تجربہ ہے، اسے سمجھنے کی ضرورت ہے۔
(۸) آٹھویں بات کوئی ریسرچ تو نہیں ہے، ایک تجرباتی بات ہے۔ ڈاکٹر صاحب فرماتے ہیں کہ زانی ہمیشہ حرام کمائی میں پڑھ جاتا ہے۔ جو زندگی حلال گزر رہی ہوتی ہے اگر وہ کہیں سے درمیانی راستہ نکال کر حرام کمائی کی طرف جاتا ہے، پھر حرام کمائی سے حرام عمل بھی شروع ہوجاتے ہیں۔ حضرت جی دامت برکاتہم فرماتے ہیں:
’’جسم کا کوئی ٹشو جو حرام کمائی سے بنے گا، اس کو پھر گناہ کیے بغیر چین نہیں آئے گا‘‘۔
اس لیے اپنی کمائی کو حلال کرنے کی ضرورت ہے۔ روکھی سوکھی انسان کھالے، لیکن حرام کمائی سے اپنے آپ کو بچا لے تو یقیناً گناہوں سے بچا رہے گا، اور جو حرام میں پڑگیا وہ ضرور زنا کا راستہ اختیار کرے گا۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو حلال اور پاکیزہ زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔
وَاٰخِرُ دَعَوَانَا اَنِ الْحَمْدُلِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں