126

نکاح کے مقاصد

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ وَ کَفٰی وَ سَلٰمٌ عَلٰی عِبَا دِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی. أَمَّا بَعْدُ:
فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّ جِیْمِ o بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِo
فَانْكِحُوْا مَا طَابَ لَكُمْ مِّنَ النِّسَآءِ مَثْنٰى وَ ثُلٰثَ وَ رُبٰعَ١ۚ فَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا تَعْدِلُوْا فَوَاحِدَةً اَوْ مَا مَلَكَتْ اَيْمَانُكُمْ١ؕ ذٰلِكَ اَدْنٰۤى اَلَّا تَعُوْلُوْاؕ۰۰۳ (النساء:3)
سُبْحٰنَ رَبِّکَ رَبِّ الْعِزَّۃِ عَمَّا یَصِفُوْنَo وَ سَلٰمٌ عَلَى الْمُرْسَلِیْنَo
وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَo
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَامُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِ نَامُحَمَّدٍوَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَامُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِ نَامُحَمَّدٍوَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَامُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِ نَامُحَمَّدٍوَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ

نکاح وشادی کا عمل سنت ہے:
اللہ رب العزت کے جتنے احکامات ہیں، نبی کریمﷺ کی جتنی تعلیمات ہیں تمام کا کوئی نہ کوئی بہترین مقصد ہے، جس سے انسان کی دنیا بھی سنورتی ہے اور آخرت بھی سنورجاتی ہے۔ شادی اصل میں کیا ہے؟ آسان الفاظ میں یہ سمجھ لیجیے کہ ایک مرد اور ایک عورت کے درمیان شرعی گواہوں کی موجودگی میں اللہ تعالیٰ کے نام پر ہونے والے معاہدہ کو شادی کہتے ہیں۔ یہ ایک معاہدہ ہوتا ہے اور یہ نکاح اللہ تعالیٰ کے نام پر ہوتا ہے۔ ذرا غور کریں! اللہ رب العزت کا نام کتنی برکتوں والا ہے۔ کتنی برکتوں والا ہے کہ وہ مردوعورت جن کا آپس میں دیکھنا حرام، بات کرنا حرام، ملاقات کرنا حرام اللہ کے نام کی برکت سے ایک ہوجاتے ہیں۔ اور وہ عورت جس کو دیکھنا بھی منع تھا وہ بیوی بن جاتی ہے اور اب اپنوں سے زیادہ اپنی بن جاتی ہے۔ جانور کو اللہ کا نام لے کر قربان کیا جائے تو وہ بھی حلال ہوجاتا ہے۔ اسی طرح نکاح کے عمل سے میاں بیوی دونوں ایک دوسرے کے لیے حلال ہوجاتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
وَ اتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِيْ تَسَآءَلُوْنَ بِهٖ وَ الْاَرْحَامَ١ؕ (النساء: 1)
ترجمہ: ’’اور اللہ سے ڈرو جس کا واسطہ دے کر تم ایک دوسرے سے اپنے حقوق مانگتےہو‘‘۔
یعنی اس اللہ سے ڈرو جس کا واسطہ دے کر، جس کے نام کی برکت سے تم رشتہ داریوں کو جوڑتے ہو اور ایک دوسرے سے حق مانگتے ہو۔ اور دیکھو! رشتہ داری کے تعلقات کو بگاڑنے سے بچے رہواور اللہ سے ڈرتے رہو۔
نکاح کے مقاصد سے ناواقفیت:
آج اگر نوجوانوں سے پوچھا جائے کہ شادی کا مقصد کیا ہے؟ یا والدین سے جو تقریبا اپنی زندگی گزار چکے ہیں اُن سے پوچھا جائے کہ ہماری شادیاں ہوتی ہیں اس کا مقصد کیا ہے؟ ہم کسی سے اگر یہ سوال پوچھ لیں تو جواب دے نہیں پائے گا۔ بہت سے نوجوان ایک ہی بات سمجھتے ہیں کہ بس میاں بیوی کے جو تعلقات ہیں وہی مقصد ہے۔ اگر یہی مقصد ہے تو یہ کیا ہے؟ سُروْرُ شَھْرٍ ایک مہینے کا مزہ ہے۔ لُزومُ مَھْرٍ مہر کا لازم ہوجانا ہے۔ غُمُومُ دَھْرٍ پھر زندگی بھر کے غم کُسُوْرُظَھْرٍ کمر کا جھک جانا ہے۔ دخولُ قَبْرٍ اور آخر میں قبر میں چلا جانا ہے۔ یہ تو کوئی مقصد نہیں ہے۔
ایمان والے کے لیے سبق:
ایمان والے کو یہ عمل دیا فرمایا:
اَلنِّکَاحُ مِنْ سُنَّتِیْ، فَمَنْ لَّمْ یَعْمَلْ بِسُنَّتِیْ فَلَیْسَ مِنِّیْ. (سننِ ابن ماجہ:1846)
ترجمہ: ’’نکاح میری سنت ہے اور جس نے میری سنت پر عمل نہیں کیا وہ مجھ سے نہیں‘‘۔
بخاری اور مسلم کی ایک اور روایت میں ہے کہ جس نے میری سنت سے اعراض کیا وہ مجھ سے نہیں۔ تو اس کا مقصد فقط اتنا ہی ہے؟
آج ہمارے نوجوانوں کو اگر اس کو مقصد کا پتا لگ جائے کہ اس کا مقصد کیا ہے تو شاید کسی کے دل میں تبدیلی آجائے کہ صرف گوری چمڑی کو نہیں دیکھنا کسی اور چیز کو بھی دیکھنا ہے۔ آج ہماری چھوٹی سی بچی تین چار پانچ سال کی ہوتی ہے اور بننا سنورنا شروع کر دیتی ہے، اور زندگی بھر بننے سنورنے میں ہی گزار دیتی ہے۔ کیوں کہ آج نوجوانوں کی ڈیمانڈ ہی یہی ہے کہ ہمیں خوبصورت چاہیے۔ اگر ان کی ڈیمانڈ یہ ہو کہ ہمیں وہ چاہیے جو ہمیں اللہ کا قرب دے دے، وہ چاہیے جو اولاد کی تربیت کردے، وہ چاہیے جو ہمیں گھر کا سکون دے دے، وہ چاہیے جو ہمیں دنیا اور آخرت کی عزتیں دے دے۔ تو پھر ان کی تمنا ہوگی کہ مجھے عالمہ مل جائے، مجھے پردے والی مل جائے، مجھے نیک مل جائے۔ یہ ان نوجوانوں کی غلط سوچ نے بے راہ روی کو جنم دیا ہوا ہے۔ بہت ساری باتوں میں سے ایک یہ بھی بات ہے۔ بہرحال شادی یہ ایک بندھن ہے۔
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں: 
وَّ اَخَذْنَ مِنْكُمْ مِّيْثَاقًا غَلِيْظًا۰۰۲۱ (النساء: 21)
ترجمہ: ’’انہوں نے (یعنی عورتوں) نے تم سے بڑا بھاری عہد لیا تھا‘‘۔
یہ ایک پکا عہد ہوتا ہے جس کے کچھ مقاصد بھی ہوتے ہیں۔ چند مقاصد درپیش ہیں ان کو سنیں اور پھر دیکھیں کہ آیا ہم نے اپنی زندگی میں کیا ان مقاصد کو پورا کیا اور یہ وہ مقاصد ہیں جو اللہ اور اس کے نبی نے بھی بتائے ہیں ان سے زیادہ سچی اور پکی بات کسی کی نہیں ہوسکتی۔
پہلا مقصد گناہوں سے بچنا:
شادی کے مقاصد میں ذہن میں رکھنے والی سب سے بنیادی بات ہے ’’گناہوں سے بچنا‘‘۔ بے حیائی والے کاموں سے بچنا۔ خاوند بیوی کے ذریعے گناہوں سے بچتا ہے اور بیوی خاوند کے ذریعے گناہوں سے بچتی ہے۔ یہ بنیادی مقصد ہے، اس مقصد کے تحت جو شادی کرتا ہے حدیث کے اندر نبی نے دونوں کو برکت کی دعا دی ہے۔ تو بنیادی مقصد گناہوں سے بچنا ہے۔ ہم سب کی تقریباً شادیاں ہوئی ہیں، جو بڑے ہیں کسی نے شادی کے وقت اس مقصد کو ذہن میں رکھا کہ یہ بھی ایک مقصد ہے۔ یا والدین نے بچوں کو سمجھایا کہ یہ بھی مقصد ہے گناہوں سے اپنے آپ کو بچانا ۔
دوسرا مقصد تکمیلِ ایمان:
دوسری بات یہ ہے کہ شادی کے ذریعے ایمان مکمل ہوجاتا ہے۔ حدیث مبارک کے اندر یہ بات آتی ہے کہ جب آدمی نکاح کرتا ہے تو اس کا آدھا دین مکمل ہوجاتا ہے بس اس کو چاہیے کہ باقی آدھے دین میں اللہ سے ڈرے۔ (الترغیب والترھیب:1916)
نکاح کے ذریعے نصف ایمان تو مکمل ہوگیا آگے جو نصف دوسرا حصہ ہے اس میں ڈرنے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کے احکامات اور رسول اللہﷺ کی تعلیمات کے مطابق زندگی گزارے من مرضی نہ کرے۔ شادی سے پہلے انسان جتنا بھی نیک بن جائے اس کا ایمان آدھا ہی رہتا ہے، شادی کرنے کے بعد ایمان مکمل ہوتا ہے اور اس کے درجے کو بڑھادیا جاتا ہے۔ شادی سے پہلے انسان نماز پڑھتا ہے ایک نماز کا ثواب ملتا ہے، اور شادی کرنے کے بعد مختلف روایات میں مختلف باتیں فرمائیں۔ بعض روایات میں ایک نماز کی جگہ 70 نمازوں کا ثواب ملتا ہے، اور بعض کے مطابق 82 نمازوں کا ثواب ملتا ہے۔ یہ کیوں ہے؟ اللہ رب العزت فرماتے ہیں کہ میرے بندے پہلے تمہارے اوپر صرف حقوق اللہ تھے، تمہیں صرف حقوق اللہ کو پورا کرنا ہوتا تھا۔ اب حقوق اللہ بھی ہیں اور حقوق العباد بھی ہیں۔ تم حقوق العباد کو پورا کرتے ہوئے میرے حقوق کو پورا کروگے ہم اجر کو بڑھادیں گے۔ تو ایمان کی تکمیل نکاح کا ایک مقصد ہے۔
تیسرا مقصد عزت ملنا:
شادی کے ذریعے ان دونوں کو عزت ملے گی۔ بیوی کو خاوند کے ذریعے سے عزت ملے گی اور خاوند کو بیوی کے ذریعے عزت ملے گی۔ یاد رکھیں! اگر میاں بیوی دونوں ایک دوسرے کے عیوب، غلطیوں اور کوتاہیوں پرپردے ڈالے رکھیں گے۔ تو اُن کی معاشرے میں اور خاندان میں عزت ہوگی۔ اور جو خاوند جہاں جائے بیوی کی شکایتیں کرے اور بیوی اپنے خاوند کا رونا روئے تو ان دونوں کی عزت کسی کے ہاں نہیں رہتی اگرچہ لوگ سنتے ہیں اس لیے کہ غیبت کا چسکا لگا ہوا ہے،لیکن عزت افزائی نہیں ہوتی۔ اور جو ایک دوسرے پر پردے ڈالتے ہیں کسی کو نہیں بتاتے، یہ پکی بات ہے کہ ان کی عزت معاشرے کے اندر ہوتی ہے۔ ایک دوسرے کو عزت دیں گے تو عزت ملے گی۔ تو عزت کا حصول بھی شادی کے مقاصد میں سے ایک مقصد ہے۔
چوتھا مقصد محبت ملنا:
میاں بیوی کو ایک دوسرے کے ذریعے محبت ملا کرتی ہے۔ دیکھیں! گھر کی ٹینشن ہوتی ہے عورت کو اور باہر کی ٹینشن مرد کو جب یہ ایک دوسرے سے ملاقات کرتے ہیں تو دن بھر کی ٹینشنز دور ہوجاتی ہیں۔ محبتیں کب ہوں گی؟ جب ہم نبی کی ان تعلیمات کو پڑھیں گے اور انہیں اپنی عملی زندگی میں لے آئیں گے۔ جو شادی کے بارے میں ہمیں بتائی ہیں۔
امی عائشہ صدیقہ فرماتی ہیں کہ نبی جب گھر تشریف لاتے تو مسکراتے چہرے کے ساتھ آتے اور سلام میں پہل فرماتے۔ (زادالمعاد: جلد2صفحہ381)
خاوند گھر آئے ٹینشن کو باہر چھوڑ آئے، اور آنے کے بعد سلام میں پہل کرے، مُسکراتے ہوئے سلام کرے اور بیوی مسکرا کر جواب دے۔آگے محبتیں ہی محبتیں ہیں۔
مسلم شریف کی روایت میں ہے کہ ایک مرتبہ نبی گھر تشریف لائے، امی عائشہ پانی پی رہی تھیں۔ نبی تشریف لائے دیکھا کہ پانی پی رہی ہیں۔ فرمایا: حمیرا! یہ Nick Name رکھا ہوا تھا۔ حمیرا احمر سے ہے آج کے زمانے میں اگر ہم اس کا ترجمہ کریں تو پنکی۔ احمر سرخ کو کہیں گے۔ حمیرا! میرے لیے پانی بچا دینا۔ غور کرنے کی بات ہے کہ نبی کے لیے کوئی پانی کی کمی تو نہیں تھی۔ صحابہ کو کہتے تو کہاں کہاں سے نہ لے آتے۔ اللہ کو کہتے تو جبرائیل اور میکائیل بھی لے آتے۔ پانی کی تو کوئی کمی نہیں تھی پھر نبی امی جان کا بچا ہوا پانی پیئیں۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ نبی کا بچا ہوا پانی امتی پیے، مرتبے اور مقام کے اعتبار سے بھی اگر سوچیں، لیکن محبت اظہار مانگتی ہے۔ نبی نے فرمایا: حمیرا! پانی بچادینا۔ امی عائشہ نے پیالے میں پانی بچادیا، آقا قریب آئے امی نے پیالہ پکڑادیا۔ نبی نے پیالے کو ہاتھ میں لیا اور پوچھا: حمیرا! تم نے کہاں سے لب لگاکر پانی پیا تھا؟ امی عائشہ نے اشارہ کردیایہاں سے۔ روایت میں آتا ہے کہ نبی نے پیالے کے رُخ کو پھیرا اور وہیں سے لب لگا کر پانی پیا جہاں سے امی عائشہ نے لب لگا کر پانی پیا تھا۔ خاوند یہ محبتیں دے پھر گھر کے اندر کیسے لڑائی اور طلاق کی بات آئے گی؟ محبتیں تو دیں۔ تو محبت اس نکاح کا ایک مقصد ہوا کرتا ہے۔
پانچواں مقصد شریکِ حیات کامل جانا:
انسان نکاح کے ذریعے اپنی زندگی کا ایک ایسا ساتھی بنالیتا ہے جو زندگی کے اُتار چڑھاؤ میں، پریشانیوں میں، غموں میں ایک دوسرے کا مدد گار ہوتا ہے۔ اپنا غم کسی سے شیئر کرسکتا ہے، خوشی کسی سے کہہ سکتا ہے۔ اس کو ایک احساس ہوتا ہے کہ میں تنہا نہیں ہوں میرے ساتھ کوئی ہے۔ شریک حیات کا مقصد ایک دوسرے کے غموں کو سنبھالنا ہوتا ہے، تو میاں بیوی دونوں مل کر زندگی کے غموں کو سنبھال لیتے ہیں۔
چھٹا مقصد اولاد کا ہونا:
ہم یہ ساری نیتیں کریں ہمارا اجر بڑھتا چلا جائے گا۔نکاح سے اولاد کا ہونا۔ یہ فطرتِ انسانی ہے۔ چنانچہ ہر انسان کی فطری خواہش ہوتی ہے کہ اس کی شادی کے بعد اولاد ہو۔ عام آدمی تو عام آدمی انبیاء کی بھی اولاد کی خواہش تھی۔ قرآن مجید کے اندر آتا ہے کہ زکریا نے دعا مانگی:
هُنَالِكَ دَعَا زَكَرِيَّا رَبَّهٗ١ۚ قَالَ رَبِّ هَبْ لِيْ مِنْ لَّدُنْكَ ذُرِّيَّةً طَيِّبَةً١ۚ اِنَّكَ سَمِيْعُ الدُّعَآءِ۰۰۳۸ (آل عمران: 38)
ترجمہ: ’’اس موقع پر زکریا نے اپنے رب سے دعا کی، کہنے لگے: یارب! مجھے خاص اپنے پاس سے پاکیزہ اولاد عطافرمادے۔ بے شک تو دعا کا سننے والا ہے‘‘۔
جوانی میں شادی ہوتی ہے پھر کوئی ستر سال کے لگ بھگ عمر تھی۔ تب کہیں جا کے آج حضرت زکریا کو اولاد ملی اور حضرت یحیٰی پیدا ہوئے۔ سب لوگ نرینہ اولاد کے لیے پریشان ہوتے ہیں تو
حضرت زکریا کی اس دعا کو لے لیجیے:
رَبِّ هَبْ لِيْ مِنْ لَّدُنْكَ ذُرِّيَّةً طَيِّبَةً١ۚ اِنَّكَ سَمِيْعُ الدُّعَآءِ۰۰۳۸ (آل عمران: 38)
حضرت زکریا نے اللہ تعالیٰ سے ایک اور دعا بھی کی:
وَ زَكَرِيَّاۤ اِذْ نَادٰى رَبَّهٗ رَبِّ لَا تَذَرْنِيْ فَرْدًا وَّ اَنْتَ خَيْرُ الْوٰرِثِيْنَۚۖ۰۰۸(الأنبیاء: 89)
ترجمہ:’’ اور زکریا کو دیکھو! جب انہوں نے اپنے پروردگار کو پکارا تھا کہ یارب! مجھے اکیلا نہ چھوڑیے، اور آپ سب سے بہتر وارث ہیں‘‘۔
اور حضرت ابراہیم نے بھی نرینہ اولاد کے لیے دعا کی تو ان کو اس دعا کے بدلے حضرت اسماعیل ملے۔
رَبِّ هَبْ لِيْ مِنَ الصّٰلِحِيْنَ۰۰۱۰۰ (الصافّات: 100)
ترجمہ: ’’میرے پروردگار! مجھے ایک ایسا بیٹا دیدے جو نیک لوگوں میں سے ہو‘‘۔
ایک عمل اللہ نے خود ہی اولاد کے حصول کے لیے بتادیا:
سورۂ نوح میں ارشاد ہے:
فَقُلْتُ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ غَفَّارًاۙ۰۰۱۰ يُّرْسِلِ السَّمَآءَ عَلَيْكُمْ مِّدْرَارًاۙ۰۰۱۱ وَّ يُمْدِدْكُمْ بِاَمْوَالٍ وَّ بَنِيْنَ وَ يَجْعَلْ لَّكُمْ جَنّٰتٍ وَّ يَجْعَلْ لَّكُمْ اَنْهٰرًاؕ۰۰۱۲ (نوح:10,12)
ترجمہ: ’’چنانچہ میں نے کہا کہ اپنے پروردگار سے مغفرت مانگو! یقین جانو وہ بہت بخشنے والا ہے۔ وہ تم پر آسمان سے خوب بارشیں برسائے گا اور تمہارے مال اور اولاد میں ترقی دے گا، اور تمہارے لیے باغات پیدا کرے گا، اور تمہاری خاطر نہریں مہیا کردے گا‘‘۔
استغفار کی کثرت پر بہت ساری برکتیں:
حضرت زکریاd اپنی دعا میں فرمارہے ہیں کہ اللہ! بال سفید ہوگئے، میں بوڑھا ہوگیا لیکن تیری رحمت سے نااُمید نہ ہوا۔ کسی اور کا در میں نے نہیں پکڑا کہ اس دربار پہ چلا جائوں یا فلاں عامل کے پاس چلا جائوں۔ مجھے تجھ ہی سے امید ہے، تجھ ہی سے لینا ہے۔ یقین بنا کر اللہ سے لینے کی ضرورت ہے اللہ دیتے ہیں۔ حدیث میں آتا ہے کہ ’’میں تمہاری کثرت پر قیامت کے دن فخر کروں گا‘‘۔ (سنن ابی دائود: رقم الحدیث 2050، سنن النسائی: رقم3227)
تو شادی کے مقاصد میں سے اولاد کا ہونا یہ بھی ایک مقصد ہے۔
ساتواں مقصد پُرسکون زندگی گزارنا:
اس سکون کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ آج کل کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ سکون کا مطلب یہ ہے کہ اب زندگی میں کوئی غم، کوئی ٹینشن، کوئی پریشانی آئے گی ہی نہیں۔ یہ نہیں ہوسکتا۔ ایک لطیفہ ہے سن لیں۔
ایک آدمی تھا۔ شادی سے پہلے جب وہ گھر سے باہر نکلتا تھا تو یہ دعا کرتا اللہ! اپنی حفاظت میں رکھنا، اور شام کو جب گھر آتا تو دعا کرتا کہ اللہ! تیرا شکر ہے الحمدللہ۔ بیچارے کی شادی ہوگئی۔ اب شادی کے بعد جب وہ گھر آتا شام کو تو کہتا کہ اللہ! اپنی حفاظت میں رکھنا۔ صبح گھر سے باہر نکلتا تو کہتا کہ الحمدللہ۔
سکون ایک مقصد ہے تو پھر سکون کا مقصد کیا ہے؟ کیا کوئی غم پریشانی نہیں آئے گی کافر یہ سوچ تو سوچ سکتا ہے، ایمان والا کیسے سوچ سکتا ہے۔ نبیd بتاگئے ہیں کہ یہ امتحان گاہ ہے یہ دنیا چراہ گاہ نہیں یہ عیش گاہ نہیں، یہ سیر گاہ نہیں یہ تماشا گاہ نہیں یہ امتحان گاہ ہے ہم نے اس کو چراہ گاہ بنایا ہوا ہے حالات تو آئیں گے۔ اللہ فرماتے ہیں:
وَ لَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَ الْجُوْعِ وَ نَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ وَ الْاَنْفُسِ وَ الثَّمَرٰتِ١ؕ وَ بَشِّرِ الصّٰبِرِيْنَۙ۰۰۱۵۵ (البقرۃ: 155)
ترجمہ: ’’اور دیکھو! ہم تمہیں آزمائیں گے ضرور، (کبھی) خوف سے، اور (کبھی) بھوک سے، اور (کبھی) مال وجان اور پھلوں میں کمی کرکے‘‘۔
اس لفظ (وَلَنَبْلُوَنَّکُمْ) کے اندر تاکید ہے کہ ہاں! ہم تمہیں ضرور آزمائیں گے۔ وہ کیسے آزمائیں گے؟ کبھی خوشی کے حالات دے کر، کبھی غمی کے حالات دے کر، کبھی اولاد کو غم دے کر، کبھی اولاد کو واپس لے کر، کبھی اولاد ہی نہ دے کر، کبھی تنگی دے کر، کبھی وسعت دے کر۔ غرض ہم مختلف طرح سے تمہیں آزمائیں گے کیونکہ تم امتحان گاہ میں ہو۔ اب سکون کا کیا مطلب ہوا؟ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ہمیں پریشانی کوئی نہیں آئے گی۔ اور بعض لوگ سمجھ لیتے ہیں کہ بڑے لوگ بڑے پرسکون ہوتے ہیں، مال ان کے پاس ہوتا ہے، کوٹھیاں ان کے پاس، گاڑیاں ان کے پاس۔ ارے! ان بڑے لوگوں کی پریشانیوں کو علاقے میں تقسیم کردیا جائے سارے علاقے والے پریشان ہوجائیں، اتنے پریشان ہوتے ہیں۔ مال پیسہ سکون کی علامت نہیں ہے۔
شادی کا مقصد سمجھیں کہ نکاح کے ذریعے دونوں میاں بیوی پرسکون ہوجاتے ہیں اگرچہ حالات میں تنگی ہو، پریشانی ہو، بیماریاںہوں لیکن دل پرسکون ہوتا ہے۔ مشکلات کا ہونا یہ الگ بات ہے دل کے سکون کامل جانا ایک الگ بات ہے۔ جب انسان کو یہ محسوس ہوتا ہے کہ میں اکیلا نہیں ہوں،کوئی ہے میرے ساتھ میرے غموں کو اُٹھانے والا۔ اس لیے شریعت نے سکون کا اتنا خوبصورت لفظ استعمال کیا ہے کہ انسان کی زندگی کا مقصد ہی بدل جائے کہ کوئی میرے ساتھ ہے جس سے میں نے شیئر کرنا ہے، جس سے میں نے اپنے جذبات کو شیئر بھی کرنا ہے کاموں کو سوچ کر مشورے سے نبھانا بھی ہے۔ کسی نے کہا کہ شادی کے بعد زندگی کا اصول یہ بن جاتا ہے۔
Being together sharing together doing things together
اکٹھے رہنا، سوچ کا ایک ہوجانا اور مل کر سارے کام کرنا یہ چیزیں ایسی ہیں جو انسان کو زندگی کا سکون عطاکردیتی ہیں۔
آٹھواں مقصد تعلیماتِ نبویہ کی ترویج:
ختم نبوت کے صدقے امت کو ایک کام ملا ہے، ایک مقصد ملا ہے۔ صحابہ کرام نے علوم حاصل کیے نبی سے وہ آگے پہنچائے تابعین کو، تابعین نے تبع تابعین کو پہنچائے، آگے یہ سلسلہ قیامت تک چلے گا۔ اس لیے نکاح کے ذریعے دونوں کی ماں کی بھی باپ کی بھی ذمہ داری ہوتی ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کے احکامات کو، طریقوں کو، دین کو خود عمل میں لانا ہے اور اگلی نسلوں میں منتقل کرنا ہے۔ آج تو والدین ہی عمل نہیں کرتے۔
کل رات کو ایک نوجوان گھر پر آیا۔ ماشاءاللہ ڈاڑھی پوری رکھی ہوئی تھی۔ پہلے جب مجلس میں آتا تھا تو عجیب سا حلیہ تھا۔ اب الحمدللہ! ڈاڑھی پوری ہوگئی اور ساتھ پگڑی بھی پہن لی۔ کہنے لگا کہ میری منگنی ٹوٹ گئی ہے۔ کہتے ہیں کہ جی! تم نے جو حلیہ بنالیا ہے تمہیں اب ہم لڑکی نہیں دے سکتے تم اس قابل نہیں رہے۔ یعنی تم نے نبی کا حلیہ بنالیا ہے اب تمہاری قابلیت ختم ہوگئی۔ کوئی دجالی نقشہ بناکر آئو۔ بال کھڑے کرو اور اسٹائل بناکر آئو پھر ہم لڑکی دے دیں گے۔ نبی کے بال تم نے رکھ لیے اب ہم تمہیں اپنی لڑکی نہیں دے سکتے۔
آٹھواں مقصد نبی کی تعلیمات کو آگے منتقل کرنا:
والدین کی بہت بڑی ذمہ داری ہے کہ اپنے بچوں کو ان اداروں میں بھیجیں جہاں ان کو شرم وحیا، اخلاقیات اور قیامت کے دن کی تیاری کی تعلیمات دی جائیں۔ ابھی آتے ہوئے میڈیکل کالج کے بچے کا فون آیا۔ اس نے اپنے میڈیکل کالج کا ایک واقعہ سنایا، روز اتنے واقعات آتے ہیں۔ بعض دفعہ تو دل کرتا ہے اللہ! کلمہ کے ساتھ جلدی واپس بلالیجیے۔ اتنا پریشان ہوجاتا ہوں۔ اس بچے نے چند منٹ زیادہ لگائے ہوں گے، میں ایک دو جملوں میں پورا کرتا ہوں۔ ایک بچی تھی لاکھوں روپے فیس دے کر والدین نے میڈیکل کالج میں داخلہ کروایا۔ خوبصورت بہت تھی کسی سے تعلق ہوگیا۔ 150 لوگوں کے سامنے لڑکے نے کہا کہ میرے ساتھ شادی کرو۔ اس سے پہلے کلاس میںبھی اس کی عزت برباد کرچکا تھا، اب کہتا ہے کہ شادی بھی کرو۔ لڑکی نے منع کیا تو 150 لوگوں کے سامنے اس نے اس کی شرٹ پھاڑی اور 30 گولیاں کھالیں۔ اور اس کے بعد اسے ہوسپٹل لے گئے، کسی نے اس کا کیس بھی نہیں لیا۔بڑی مشکلوں سے ایک ڈاکٹر نے اس کا کیس لیا۔
ہم پڑھانے سے ہرگز منع نہیں کرتے۔ P.H.Dکرانے سے منع نہیں کراتے۔ انجینئر بنانے سے منع نہیں کرتے۔ کچھ بھی آپ ان کو دنیا کا پڑھائیے لیکن خدا کے لیے ان کو دین کا علم دیں اور پاکدامنی سکھائیے۔ وہ کب ہوگا جب ہم خود بھی باحیا بنیں گے۔ ہماری تنہائیاں پاکیزہ ہوں گی۔ جب تک ہماری تنہائیاں  پاکیزہ نہیں ہوں گی یہ دین ہم اگلی نسلوں میں پوری طرح منتقل نہیں کرسکیں گے۔ وہ سب ظاہر کی باتیں ہوں گی، اندر کچھ نہیں ہوگا۔ تو نبیd کی تعلیمات اپنی زندگی میں عمل میں لے کر آنا اور پھر اگلی نسلوں میں منتقل کرنا یہ ہماری ذمہ داری ہے، ورنہ یہی اولاد جس کی لاکھوں روپے فیس دی ہوگی دنیا کی ذلت کا سبب بنے گی۔ قرآن کے اندر آتا ہے کہ چھوٹے اپنے بڑوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے قیامت کے دن کہیں گے:
رَبَّنَاۤ اٰتِهِمْ ضِعْفَيْنِ مِنَ الْعَذَابِ وَ الْعَنْهُمْ لَعْنًا كَبِيْرًاؒ۰۰۶۸ (الأحزاب: 68)
اللہ! ہمارے والدین کو دُگنا عذاب دیجیے گا اور ان کو تکلیف پہنچائیے لعنتیں دُگنی کیجیے کہ ا نہوں نے ہمیں قرآن نہیں سکھایا، دین نہیں سکھایا، پردہ نہیں سکھایا، بے دینی والی ساری باتیں سیکھا دیں۔ ہمارے ہاں مدرسے میں ایک MBBS بچی پڑھنے آتی ہے۔ ا ب ت ث اس نے اب ہمارے ہاں آکر پڑھا ہے۔ زندگی بھر کی نمازیں کدھر گئیں، زندگی بھر اس نے روزے کہاں رکھے ہوں گے۔ کیا کیا ہوگا اس نے، وہ تو ایک چلو آگئی، کتنی اور ہوں گی جو نہیں آئیں اور حال کیا ہورہا کہ اپنے والدین سے جھوٹ بولتی ہیں کہ میں اپنی کلاس فیلو کے پاس پڑھنے جارہی ہوں۔ اس نے ماں کو کہا کہ میں قرآن پڑھنا چاہتی ہوں۔ ماں نے کہا یہ کلیئر کرلو آگے House job بھی ہے اور کام بھی بڑے پڑے ہیں پھر پڑھتی رہنا بعد میں۔ 
قرآن تو والدین کی ذمہ داری ہے۔ اولاد میں نبی کا دین منتقل کرنا والدین کی ذمہ داری ہے۔ دین سیکھیں گے عمل کریں گے پھر ہی بات بنے گی۔
یہ آٹھ مقاصد ہیں۔ ایک آخری بات کرکے بات مکمل کررہا ہوں۔ میری بعض دفعہ باتیں کڑوی ہوجاتی ہیں اس کے لیے معافی بھی مانگتا رہتا ہوں لیکن دل کا درد نہیں جاتا۔
شادی میں کسے راضی کرنا ہے؟
یہ شادی کیا ہے؟ غمی کا موقع ہے یا خوشی کا؟ جواب دیں؟ آپ سب گواہی دے رہے ہیں خوشی کا موقع ہے۔ شادی غمی کا نہیں خوشی کا موقع ہے۔ اس خوشی کے موقعے پر  پھوپھی ناراض ہوتی ہے ہم منالیتے ہیں، چاچا ناراض ہوتے ہیں ہم مناتے ہیں، رشتہ دار ناراض ہوتے ہیں مناتے ہیں، گھر کا خانساماں، ڈرائیور، کام والی ماسی ناراض ہوجائے مناتے ہیں۔ میرے بھائیو! کیا اس خوشی کے موقعے پہ اللہ اور اس کے رسول خوش کرنے کا کوئی ہمارے پاس جواز نہیں ہے؟ ہم میں سے کتنے ہیں جو شادی کے موقع پر اللہ اور اس کے رسولﷺ کو خوش کرتے ہیں کہ ہندوانہ رسمیں نہ ہوں، مکس گیدرنگ نہ ہو، برات سے پہلے مرد الگ اور عورتیں الگ ہوتی ہیں، پھر برات کے بعد دولہا کو دوستوں کے ساتھ لے جاتے ہیں لڑکیوں کے پاس کہ دلہن کے ساتھ بٹھاتے ہیں اور وہاں سے رخصتی کے لیے لے جاتے ہیں۔ کبھی اس عمل کی قباحت کو سوچا ہے؟ خوشی کے موقع پر ہم اللہ کو کیوں نہیں خوش کرنا چاہتے؟ نبی کو کیوں نہیں خوش کرنا چاہتے؟ ہر وہ عمل کرتے ہیں جس سے اللہ اور اس کے رسولﷺ ناراض ہوتے ہیں۔ تصویر ہم نے بنوانی ہے، مکس گیدرنگ، میوزک اور باجے وغیرہ سب کچھ کرنا ہے۔ عجیب بات ہے کہ ماسی کو خوش کرنے کی کوشش کرتے ہیں رسول اللہﷺ کو ناخوش کردیتے ہیں۔
بعض باتیں ایسی بھیانک ہیں کہ زبان سے نکالتے ہوئے کچھ ہوتا ہے۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ کن الفاظ سے بیان کروں۔ نوجوانوں کی عجیب عجیب باتیں ہیں جب توبہ کرتے ہیں پھر روتے ہیں پھر اللہ سے مانگتے ہیں پھر اللہ ان کو رحمتیں دیتے ہیں۔ پھر مکمل ہے ان کی زندگی تبدیل ہوجاتی ہے۔ ایک نوجوان کی بات سن لیجیے۔ اپنے دل کی جب میں اپنے دوست دولہا کے ساتھ گیا رخصتی کے عمل میںتو میں نے دلہن کو دیکھا۔ دل میں خیال آیا کہ کاش! یہ میرے اس دوست کے پاس جانے سے پہلے آدھا گھنٹہ مجھے مل جائے۔
میرے بھائیو! ہم کہاں جارہے ہیں؟ کب ہم سدھریں گے؟ کب ہم اپنی نسلوں کو دین کی طرف لے کر آئیں گے؟ حیا اور پاکدامنی کی تعلیم دیں گے؟ ایک ہی طریقہ ہے کہ ہم نبی کریمﷺ کے عمل کو اپنا عمل بنالیں، آپﷺ کے طریقے پر آجائیں، حیا اور پاکدامنی کو اپنی زندگی کا حصہ بنالیں۔ اور آپﷺ کی تعلیمات پہلے عمل میں لائیں پھر آگے منتقل کریں۔ پھر ان شاء اللہ رحمتیں ہی رحمتیں ملیں گی۔ یہ مقاصد جب ہمارے سامنے ہوں گے پھر ہمیں گوری چمڑی کی ضرورت نہیں رہے گی۔ پھر ہمیں اس چیز کی ضرورت ہوگی جو اللہ اور اس کے نبی نے بتایا ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں نیکی اور تقویٰ کی زندگی عطا فرمائے۔ ان باتوں کی صحیح سمجھ عطا فرمائے۔ ہمارے نوجوانوں کو، بوڑھوں کو، ہم سب کو نبی کریمﷺ کو خوش کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔
وَاٰخِرُ دَعَوَانَا أَنِ الْحَمْدُلِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں