نکاح کے موقع پر دولہا سے چھے کلمے پڑھوانا

سوال: السلام علیکم، مفتی صاحب! ہمارے معاشرے میں بعض جگہ پر یہ رواج ہے کہ قاضی نکاح کرنے سے پہلے دولہا سے چھ کلمے پڑھاتے ہیں، جبکہ بعض قاضی کوئی کلمہ نہیں پڑھاتے، کیا نکاح کے وقت کلمے پڑھانا ضروری ہے یا نہیں؟


جواب: واضح رہے کہ نکاح فقط ایجاب اور قبول سے ہوجاتا ہے، جس کے لیے دو گواہوں کا ہونا شرط ہے، البتہ قاضی حضرات کا دولہا سے کلمہ پڑھوانا شرعاً ضروری نہیں ہے، غالبا اس کا رواج اس لئے ہوا کہ لوگ جہالت کی وجہ سے بسا اوقات کفریہ کلمات کہہ دیتے ہیں، اور ان کو یہ بھی معلوم نہیں ہوتا کہ یہ کفریہ کلمہ کہنے سے انسان اسلام سے نکل جاتا ہے، اسی وجہ سے نکاح سے پہلے کلمہ پڑھا دیا جاتا ہے، تاکہ خدانخواستہ اگر ایسی صورت پیش آئی ہو، تو کلمہ پڑھ کر مسلمان ہوجائیں، بہرحال عام حالات میں نکاح سے پہلے کلمہ پڑھانا ضروری نہیں ہے، اور اگر کبھی پڑھا لیا جائے، تو کوئی حرج بھی نہیں۔

“واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

دارالافتاء الاخلاص، کراچی”

Leave a Reply