51

والدین کے حقوق حصہ اول

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ وَ کَفٰی وَ سَلٰمٌ عَلٰی عِبَا دِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی. أَمَّا بَعْدُ:
فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِيْمِ o بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِo
وَقَضٰى رَبُّكَ اَلَّا تَعْبُدُوْٓا اِلَّآ اِيَّاہُ وَبِالْوَالِدَيْنِ اِحْسَانًاط اِمَّا يَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ اَحَدُہُمَآ اَوْ كِلٰہُمَا فَلَا تَقُلْ لَّہُمَآ اُفٍّ وَّلَا تَنْہَرْہُمَا وَقُلْ لَّہُمَا قَوْلًا كَرِيْمًا۝۲۳
(سورۃ الإسراء: 23)
سُبْحٰنَ رَبِّکَ رَبِّ الْعِزَّۃِ عَمَّا یَصِفُوْنَo وَ سَلٰمٌ عَلَى الْمُرْسَلِیْنَo
وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَo
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ

انسانی حقوق
انسان جب دنیا میں آتا ہے تو جن لوگوں کے ساتھ اسے رہنا ہے ان تمام کے حقوق کا خیال رکھنا اس کے ذمہ آجاتا ہے۔ جن جن کے ساتھ اس کا تعلق ہے سب کے حقوق اس پر لاگو ہو جاتے ہیں۔ لیکن بات سمجھنے کی ہے کہ ان میں درجات کا فرق ہے۔ مثلاً ایک انسان کہیں سفر کا ارادہ کرتا ہے، اس کے لیے وہ ایک بس میں ایک محدود وقت تقریباً چار، پانچ گھنٹے کم وبیش بیٹھتا ہے۔ جو ساتھ مسافر ہے اس کا بھی ایک حق ہے۔ اگرچہ وہ تھوڑے وقت کا پڑوسی ہے، لیکن بہرحال اس کا حق ہے۔ پھر جن کے ساتھ سارا دن رابطہ ہوتا ہے ان کا ایک الگ حق ہے۔ یہ جو گھر والے ہوتے ہیں، زندگی بھر کا ساتھ ہے ان کے ساتھ، ان کا ایک الگ حق ہے۔ حقوق کی ایک لمبی فہرست ہے اور ایک سلسلہ ہے۔ اسی میں سے ایک حق والدین کا بھی ہے جو بہت اہم اور جنت اور جہنم کا فیصلہ کر دینے والا ہے۔ احادیثِ مبارکہ میں والدین کی کیا اہمیت بتائی گئی؟ اس کے بارے میں چند احادیث ذکر کی جائیں گی۔ سب سے پہلی حدیث صحیح بخاری کی ہے۔
پسندیدہ عمل
حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں کہ میں نے جنابِ رسول اللہﷺ سے پوچھا: اللہ کے محبوب! اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ اعمال کون سے ہیں؟ یعنی عنداللہ پسندیدہ ترین عمل کیا ہے؟ حضورﷺ نے ارشاد فرمایا: اپنے وقت پر نماز پڑھنا۔ پھر پوچھا کہ اس کے بعد اللہ تعالیٰ کو کیا محبوب ہے؟ فرمایا: والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرنا۔ پھر پوچھا کہ اس کے بعد اللہ تعالیٰ کو کیا محبوب ہے؟ فرمایا: جہاد فی سبیل اللہ۔ حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں کہ اللہ کے نبیﷺ نے مجھ سے یہ تین باتیں ارشاد فرمائیں جو میں نے ان سے پوچھی تھیں، اگر میں مزید پوچھتا تو آپﷺ اور بھی فرماتے (لیکن میں نے مزید نہیں پوچھا)۔ (صحیح بخاری: رقم 527)
تین باتیں اس حدیث شریف میں ارشاد فرمائیں جن میں سے ایک ہے وقتِ مقرّر پر نماز پڑھنا یعنی نماز قضا نہ ہو۔ جیسے فجر کی نماز فجر کے وقت میں، اور ہر نماز اسی وقت میں جس میں وہ فرض ہوئی۔ دوسرا بہترین عمل ارشاد فرمایا کہ والدین کے ساتھ خیرخواہی کرنا، والدین کی خدمت کرنا اس کا درجہ حج اور جہاد سے بھی بعض دفعہ بڑھ جایا کرتا ہے۔ اور تیسری افضلیت جہاد فی سبیل اللہ کی فرمائی۔
حضرت جاہمہ سُلَمِ
حضرت جاہمہ نبی کریمﷺ کی خدمت حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول! میں جہاد کا ارادہ رکھتا ہوں، میں اس سلسلے میں آپ کے پاس مشورے کے لیے حاضر ہوا ہوں (کیا آپ مجھے اجازت دیتے ہیں؟)۔ نبی کریمﷺ نے پوچھا: کیا تمہاری والدہ زندہ ہے؟ عرض کیا کہ بالکل ہیں۔ نبی کریمﷺ نے فرمایا: اس کو لازم پکڑ لو (یعنی ان کی خدمت کو لازم پکڑ لو) اس لیے کہ جنت اس کے پاؤں کے نیچے ہے۔
(صحیح بخاری: رقم 3104)
خوشخبری اور عمر میں برکت
سعد بن معاذ اپنے والد حضرت معاذ بن اَنس جُہَنِی سے نقل کرتے ہیں کہ حضورپاکﷺ نے ارشاد فرمایا: جس نے اپنے والدین کی خدمت کی اسے مبارک ہو، اللہ ربّ العزّت اس کی عمر میں زیادتی عطا فرمائیں۔ (مستدرکِ حاکم: رقم 7339)
جو والدین کی خدمت کرتا ہے حضورپاکﷺ کی طرف سے اسے مبارک باد بھی مل رہی ہے، اور عمر میں برکت کی دعا بھی مل رہی ہے سبحان اللہ۔
دوسری حدیث حضرت انس بن مالک سے روایت ہے نبی کریمﷺ نے فرمایا: جسے یہ بات خوش کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کی عمر زیادہ کرے، اور اس کے رزق میں اضافہ کرے، اسے چاہیے کہ اپنے والدین کے ساتھ اچھا برتائو کرے اور رشتہ داروں کے ساتھ صلہ رحمی کرے۔ (مسند احمد: رقم 13538)
جو والدین کا حق ادا کرے گا اور گھر والوں کے ساتھ، رشتہ داروں کے ساتھ اچھا سلوک کرے گا، اللہ تعالیٰ اس کی عمر کو بھی بڑھائیں گے اور رزق کو بھی بڑھائیں گے۔ جو لوگ والدین کی خدمت کرنے والے ہیں، آپ غور کر لیجیے! وہ اپنے کسب میں یعنی مال کی کمائی میں پریشان نظر نہیں آئیں گے۔ جہاں مرضی دیکھ لیجیے۔ یہ تجربہ ہے کہ جو لوگ اپنے والدین کو اُن کی زندگی میں تکلیف پہنچاتے ہیں، اَذیت پہنچاتے ہیں، اُن کے لیے آخرت کی سزائیں تو الگ ہیں، لیکن دنیا کے اندر مال کی تنگی میں وہ ضرور مبتلا ہوتے ہیں۔ اور جو والدین کو خوش رکھتے ہیں، اُن کی خدمت کرتے ہیں اُن کا مال کم نہیں ہوتا۔ یہ اللہ تعالیٰ کا ایک نظام ہے جو پکا اور سچا ہے۔
حسنِ سلوک کی برکت
علامہ ابنِ قیم نے اپنی کتاب میں ایک روایت نقل کی ہے۔ فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ نبی کریمﷺ صحابۂ کرام کے پاس تشریف لائے۔ اس وقت صحابۂ کرام صفہ چبوترے پر بیٹھے ہوئے تھے۔ نبی کریمﷺ تشریف لائے اور فرمایا: میں نے رات کو ایک عجیب خواب دیکھا ہے۔ وہ یہ کہ میری اُمت کے ایک شخص کے پاس ملک الموت آئے روح نکالنے کے لیے، لیکن والدین کے ساتھ حسنِ سلوک آگے آگیا تو حسنِ سلوک کو دیکھ کر ملک الموت واپس چلے گئے۔ (کتاب الروح لابن القیم: 82/1)
یعنی کچھ مہلت کے لیے واپس چلے گئے۔ موت تو آنی ہے ہمیشہ دنیا ہی میں رہنا کسی کے لیے بھی نہیں، سب نے ہی ایک دن جانا ہے۔ لیکن بعض اعمال ایسے ہیں جس کی بدولت اللہ تعالیٰ زندگی میں، رزق میں برکت عطا فرماتے ہیں۔
جنت کا درمیانی دروازہ
حضرت ابو درداء حضورپاکﷺ کا ارشاد نقل کرتے ہیں کہ والد جنت کا درمیانی دروازہ ہے، اگر چاہو تو اسے ضائع کر دو اور چاہو تو اس کی حفاظت کرو۔
(سننِ ترمذی: رقم 1900)
جنت کا درمیانی دروازہ ان کے لیے ہے جو والدین کی خدمت کرتے ہیں۔ بس جو والدین کی خدمت کرے گا اس کے لیے جنت کا دروازہ کھول دیا جائے گا۔ اور جو والدین کو ستائے گا، تنگ کرے گا اس کے لیے وہ دروازہ بند کر دیا جائے گا۔ اگر انسان فرائض اور واجبات پورے کرتا رہے اور والدین کی خدمت بھی کرتا رہے تو اعلیٰ علیین میں جائے گا۔
حضرت جی دامت برکاتہم کی دعا
آپ نے حضرت جیs کی دعائوں میں سنا ہوگا۔ حضرت جیs فرماتے ہیں: یااللہ! ہمارے مرحومین کی مغفرت فرما دے۔ اور پھر اس کے بعد حضرت دعا یوں مانگتے ہیں: یااللہ! جن کی آپ مغفرت فرما چکے ہیں ان کو اعلیٰ علیین میں شامل فرما دیجیے۔ یہ بہت بڑا مقام ہے۔ جسے اللہ تعالیٰ ایمان کے بعد والدین کی خدمت سے یہ مقام عطا فرما دے، اس کے تو مزے ہی مزے ہیں۔
جنت یا جہنم کے دروازے کھلنا
حضرت عبداللہ بن عباس سے روایت ہے نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا: جو شخص صبح اس حال میں کرتا ہے کہ والدین کے ساتھ بھلائی کرنے والا ہوتا ہے، ان کا فرمانبردار ہوتا ہے تو اس کے لیے جنت کے دو دروازے کھلتے ہیں، اگر والدین میں سے ایک زندہ ہے تو ایک دروازہ کھلتا ہے۔ اور جو اس حال میں صبح کرتا ہے کہ والدین کے معاملے میں اللہ کا نافرمان ہوتا ہے تو اس کے لیے جہنم کے دو دروازے کھلتے ہیں، اگر والدین میں سے ایک زندہ ہے تو ایک دروازہ کھلتا ہے۔ ایک شخص نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! اگرچہ والدین اس پر ظلم کرنے والے ہوں؟ آپﷺ نے فرمایا: اگرچہ والدین اس پر ظلم کرنے والے ہوں، اگرچہ والدین اس پر ظلم کرنے والے ہوں،اگرچہ والدین اس پر ظلم کرنے والے ہوں۔ (شعب الایمان للبیہقی: 306/10)
والدین کی اطاعت سے جنت کے دروازے آدمی کے لیے کھلتے ہیں، اور والدین کی نافرمانی سے جہنم کے دروازے کھلتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے آدمی کو اختیار دیا ہوا ہے، اب یہ آدمی کی مرضی ہے کہ کسے اختیار کرتا ہے۔ اگر والدین کی جانب سے کوئی تکلیف یا ناانصافی کا معاملہ پیش بھی آجائے تب بھی وہ والدین ہی رہتے ہیں اور کسی بھی صورت میں حقِ خدمت سے محروم نہیں ہوتے۔ چاہے گھریلو معاملات ہوں، بیوی بچوں کے معاملات ہوں، کوئی بھی معاملات ہوں،والدین کے مرتبہ کا لحاظ رکھا جائے۔
مسلم شریف میں ایک روایت ہے۔ حضرت ابوہریرہ روایت کرتے ہیں کہ حضورپاکﷺ نے ارشاد فرمایا: اس کی ناک خاک آلود ہو جائے، اس کی ناک خاک آلود ہوجائے، اس کی ناک خاک آلود ہو جائے۔ پوچھا گیا: یا رسول اللہ! کس کی ناک خاک آلود ہوجائے؟ فرمایا: جس نے اپنے ماں باپ کو، یا کسی ایک کو بڑھاپے میں پایا پھر اس نے جنت حاصل نہ کی۔ (صحیح مسلم: رقم 2551)
ایک مشہور روایت ’’فضائل رمضان‘‘ میں شیخ الحدیث نے ذکر کی ہے۔ حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی کریمﷺ منبر پر چڑھے تو فرمایا: آمین۔ تین مرتبہ آپﷺ نے ایسا ہی فرمایا۔ جب صحابہ نے وجہ پوچھی تو پیارے نبیﷺ نے فرمایا کہ حضرت جبرائیل نے تین شخصوں کے لیے بددعا کی تھی، میں نے اس پر آمین کہی۔ ان میں سے ایک وہ شخص بھی ہے کہ جو والدین میں سے دونوں کو، یا کسی ایک کو بڑھاپے کی حالت میں پائے اور خدمت کر کے جنت حاصل نہ کرے تو حضرت جبرائیل فرمایا: وہ شخص تباہ ہو جائے۔ (البر والصلۃ لابن الجوزی: رقم 77)
آخر عمر میں والدین کو خدمت کی بھی ضرورت ہوتی ہے، اور مال کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ اور اس وقت ان کی طبیعت میں تحمل مزاجی کم ہو جاتی ہے اورچڑچڑاپن پیدا ہونے لگتا ہے۔ دوسری طرف اولاد کی اپنی ذمہ داریاں بڑھ رہی ہوتی ہیں، ان کے اپنے کام بڑھ جاتے ہیں۔ تو اس وقت تحمل کے ساتھ اللہ کو راضی کرنے کے لیے خدمت کے جذبے کے ساتھ اپنے آپ کو تیار کرنا۔ اللہ مجھے بھی اس کی توفیق عطا فرمائے اور ہم سب کو اس کی توفیق عطا فرمائے۔
والدین کی خوشی میں رب کی رضامندی
ہم سب یہ چاہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہم سے راضی ہو جائیں، اور اللہ تعالیٰ بھی یہ چاہتے ہیں کہ میرے بندے مجھے راضی کریں۔ اس کے لیے اللہ تعالیٰ نے آسان فامولہ اپنے بندوں کو دیا ہے۔
حضرت عبداللہ بن عمرو روایت کرتے ہیں کہ حضورپاکﷺ نے ارشاد فرمایا: والد کی خوشی میں اللہ کی خوشی ہے، اور والد کی ناراضگی میں اللہ کی ناراضگی ہے۔
(سننِ ترمذی: رقم 1821)
اَب راضی تو رَب راضی۔ (اَب باپ کو کہتے ہیں) رب راضی تو سب راضی۔ سارا کام ہی آسان ہو جائے گا ان شاء اللہ!
رب کی ناراضگی میں والدین کی رضا جائز نہیں
یہاں ایک بات سمجھنے والی ہے۔ والد کی، والدہ کی، یا والدین کی جب ناراضگی کا ذکر آتا ہے، اس سے مراد وہ ناراضگی ہے جو شریعت کے دائرے میں ہو۔ اگر کوئی والد یا والدہ یا دونوں گناہ کا کہیں، اللہ کے کسی حکم کو توڑنے کا کہیں، پھر ان کی اطاعت بیٹے پر واجب نہیں ہوتی۔ ہمیں والدین کی خدمت کا حکم کس نے دیا؟ یہ ذمہ داری کون دے رہا ہے؟ اللہ تعالیٰ دے رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے یہ تو نہیں کہا کہ میری نافرمانی کرو اُن کی فرمانبرداری کرتے کرتے۔ والدین کی فرمانبرداری کرنی ہے، ہر لحاظ سے کرنی ہے، لیکن اگر کبھی خدانخواستہ وہ کہیں کہ ٹی۔وی لا کر دو، یاکوئی اور گناہ کی بات کرنے کا کہیں، کسی بھی نافرمانی کا، قطع رحمی کا کہیں تو اُن کی بات نہیں مانی جائے گی۔ لیکن اس کے باوجود بھی وہ حقِ خدمت سے محروم نہیں ہو سکتے۔ ایسا ہرگز نہیں ہے۔ ہر چیز کو الگ الگ سمجھنے سے بات پوری سمجھ میں آتی ہے۔ آگے اِن شاء اللہ روایات آرہی ہیں تو بات سمجھ میں آجائے گی۔
نگاہیں کہاں استعمال کریں؟
اللہ تعالیٰ نے جو آنکھیں اپنے بندوں کو عطا کی ہیں، اس کا بھی ایک مقصد ہے۔ یہ بے مقصد نہیں دی گئی ہیں کہ جہاں چاہیں مرضی نگاہیں ڈالو۔ بعض اشخاص اور مقامات ایسے ہیں جن کو محبت کی نظر سے دیکھنے سے اَجر ملتا ہے، اور بعض اشخاص اور مقامات ایسے ہیں جن کی طرف نظر کرنے سے نظریں گندی ہوجاتی ہیں۔
(1) والدین کو محبت کی نگاہ سے دیکھنے پر ثواب ہے۔
(2) بیت اللہ شریف کو دیکھنے کا ثواب ہے۔
(3) آبِ زمزم کو دیکھنے کا ثواب ہے۔
(4) عالمِ حق کو، اہل اللہ کو دیکھنے کا ثواب ہے مردوں اور محرم مستورات کے لیے، نہ کہ غیر محرم مستورات کے لیے۔ جو غیر محرم مستورات ہیں وہ عالم اور شیخ کو دیکھنے کی فکر میں نہ پڑیں۔ وہ کسی عالمہ کو دیکھ لیں، اِن شاء اللہ انہیں اَجر مل جائے گا۔ شیخ بھی نامحرم ہوتا ہے،اس لیے اس کو دیکھنے سے بھی احتیاط کریں۔
ایک اور بھی ثواب ہے دیکھنے کا وہ کونسا؟ کہ جب خاوند اپنی بیوی کو محبت کی نگاہ سے دیکھے، بیوی خاوند کو مسکرا کر دیکھے اللہ دونوں کو رحمت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ تو میاں بیوی آپس میں ایک دوسرے کو محبت کی نگاہ سے دیکھیں اللہ تعالیٰ کی رحمت ملے گی ان شاء اللہ العزیز۔ نامحرم کو دیکھیں گے تو پٹائی ہوگی اور بیوی کو دیکھنے سے اللہ تعالیٰ اجر عطا فرمائیں گے۔
والدین کے حقوق
ایک صحابی نبی کریمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: اے اللہ کے نبی! والدین کے حقوق کیا ہیں؟ آپﷺ نے (سادہ سا جواب دے دیا گویا کہ سمندر کو کوزے میں بند کر دیا، کوزہ بھی کچھ بڑا ہو گا، سمندر بھی کچھ چھوٹا ہو گا، سات سمندروں کو آپﷺ نے کوزے میں بندر کر دیا، سادہ سی بات بتائی) فرمایا: وہ تمہارے لیے جنت ہیں یا جہنم۔ (سنن ابن ماجہ: رقم 3660)
جو آدمی اس کو سوچ لے تو بہت ساری باتیں خود اندر ہی سے اَخذ کر سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کے گناہوں کو معاف فرمائے۔ ہمیں چاہیے معافی مانگتے رہیں، جب تک موت نہیں آتی، توبہ کا دروازہ کھلا ہے۔ ہم توبہ کرتے رہیں اللہ تعالیٰ معافی عطا کرتے رہیں گے ان شاء اللہ۔ لیکن اگر انسان توبہ نہ کرے تو بعض گناہ ایسے ہیں کہ جن کی سزا قیامت کے دن تک مؤخر کر دی جاتی ہے۔ ڈیفر کر دیا جاتا ہے کہ چلو! دیکھیں گے۔ لیکن بعض گناہ ایسے ہیں کہ آخرت میں تو ان کی سزا ہے ہی، لیکن دنیا کے اندر بھی اس کی سزا کاٹے بغیر بندہ مر نہیں سکتا۔ یہ جنابِ رسول اللہﷺ کے الفاظ ہیں۔ ایسے کونسے گناہ ہیں؟ دل کے کانوں سے سنیے گا۔
والدین کی نافرمانی پر نقد سزا
حضرت ابوبکرہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریمﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا: اللہ ربّ العزّت جس گناہ پر چاہتے ہیں اس کی سزا قیامت تک کے لیے مؤخر کر دیتے ہیں، سوائے والدین کی نافرمانی اور ناراضگی کی سزا دنیا میں مرنے سے پہلے پہلے دے دیتے ہیں۔ (مستدرکِ حاکم: رقم 7345)
اللہ تعالیٰ ہماری حفاظت فرمائے آمین۔ جو اللہ تعالیٰ کے حقوق ہیں مثلاً نماز میں کبھی کمی کوتاہی ہو گئی، ہونی نہیں چاہیے، لیکن اگر کمی کوتاہی ہوگئی تو اللہ تعالیٰ اس کی سزا کو آخرت تک مؤخر کر دیتے ہیں، چاہیں تو معاف بھی کر سکتے ہیں۔ لیکن والدین کے حقوق کے اندر کوتاہی اور ان کی ناراضگی کی سزا موت سے پہلے ملتی ہے، اور ایسا شخص دنیا میں تکلیف اٹھا کے جائے گا۔ اس کے بیشمار واقعات ہیں جو ہم سب کے علم میں ہوں گے۔ اور اکثر کیا ہوتا ہے جو والدین کا نافرمان، اس کی اولاد اس کی نافرمان۔ یہ ادلے کا بدلہ تو چلتا ہے، اور یہی چلا آرہا ہے۔ اسلام دینِ فطرت ہے، اور اس کی ہدایات بڑی خوبصورت ہیں اور فطرت کے تقاضوں کے عین مطابق ہیں۔
والدین کے ساتھ مزاح رکھنا
حضرت عبداللہ بن عمر سے روایت ہے جنابِ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا: بے شک میں مزاح بھی کرتا ہوں، لیکن اس دوران بھی میں سچی بات ہی کہتا ہوں۔
(معجم صغیر للطبرانی: رقم 3623)
بھئی! دن میں آدمی کی اپنی مصروفیات ہوتی ہیں۔ نمازیں پڑھنی ہیں، دینی امور انجام دینے ہیں، کوئی ملازمت کر رہا ہے، کوئی دکانداری کر رہا ہے۔ بہت سارے امور ہوتے ہیں۔ لیکن رات کا موقع بہرحال ایک ایسا موقع ہے کہ جب انسان والدین کے پاس بیٹھے، بچوں کے پاس بیٹھے، اور ہنسنے ہنسانے کی گفتگو ہو، خوش طبعی کی باتیں ہوں۔ لیکن یہ سب چیزیں جھوٹ پر مبنی قصے کہانیاں نہ ہوں، حقائق پر مبنی رسول اللہﷺ کے مزاح کے بیشمار واقعات ہیں، ہم سیرت کی کتابوں سے ان کا مطالعہ کرکے، سمجھ کر، فہم و فراست سے بات کریں۔ جب رات کے وقت موقع ہو چاہے 15، 20 منٹ، آدھا گھنٹہ جتنا بھی جس کے پاس وقت ہو تو وہ اپنے بڑوں کے ساتھ، والدین کے ساتھ وقت گزارے۔ یہ (Communication) آپس کے (Gape) کو ختم کرتا ہے۔
گھر والوں کو وقت دیں
آج کل تو اس موبائل فون نے کام ہی خراب کر دیا۔ بتائیے! یہ چھوٹے بچے کہاں سے سیکھیں گے؟ اور کیا سیکھیں گے؟ چند روز پہلے مدینہ طیبہ سے ایک صاحب اپنے چھوٹے بچوں کی تربیت کے لیے مشورہ کر رہے تھے۔ بڑے فکر مند تھے۔ پھر ایک عجیب بات انہوں نے کہی۔ کہنے لگے کہ پاکستان میں جب ہم چھوٹے تھے تو اپنے بڑوں کے ساتھ رہتے تھے، اور ہمارے بڑے بھی اپنے بڑوں کے ساتھ رہتے تھے، ہم دیکھ لیا کرتے تھے اور سیکھ لیا کرتے تھے۔ اب ان بچوں کو کیسے سیکھائیں؟ کسی کے پاس وقت ہی نہیں رہا۔ بچے کب پاس بیٹھیں گے اور ہم بچوں کے ساتھ کب بیٹھیں گے؟ ہر ایک کی اپنی اپنی مصروفیت ہے۔ اب ہم نبی کریمﷺ کی حیاتِ مبارکہ دیکھتے ہیں تو ہمیں کیا ملتا ہے کہ حضور نبی کریمﷺ اپنی ازواج کے ساتھ، اپنے صحابہ کرام کے ساتھ بیٹھتے تھے۔ ان سے مزاح اور دل لگی بھی کیا کرتے تھے۔بڑی دلچسپ اور بہترین باتیں ہوا کرتی تھیں۔ اس لیے میں تو کہتا ہوں، اللہ ہمیں توفیق عطا فرمائےکہ رات کو گھر والوں کے ساتھ بیٹھیں، موبائل کو تھوڑا سا سائیڈ پر کر دیں۔ جن کے والدین حیات ہیں تو وہ موبائل کو دور کر کے ہی بیٹھ سکتے ہیں، یہ ہاتھ میں ہو تو ہتھکڑی کی مانند ہے۔ اور ہتھکڑی ہوتی ہے مجرموں کے لیے۔ اور یہ واٹس اَپ تو بڑے وسوسے پھیلاتا ہے۔
جنت میں تلاوت کی آواز
اُمّ المؤمنین حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: میں نے اپنے آپ کو خواب میں جنت میں دیکھا کہ میں جنت میں ہوں، میں نے وہاں قرآن شریف پڑھنے والے کی آواز سنی۔ میں نے پوچھا کہ یہ کون ہے؟ فرشتوں نے کہا: (آپﷺ کے صحابی) حارثہ بن نعمان، نیکی ایسی ہوتی ہے، نیکی ایسی ہوتی ہے۔ آگے فرمایا (یہ جملہ یا راوی کا ہے، یا حدیث شریف کا حصہ ہے، دونوں احتمالات ہیں): وہ اپنی والدہ کے بڑے خدمت گزار تھے۔ (مشکاۃ المصابیح: رقم 4926، باب البر والصلۃ)
اللہ تعالیٰ نے ماں کے ساتھ حسنِ سلوک کی وجہ سے اُن کو یہ مرتبہ عطا فرمایا کہ رسول اللہﷺ نے اُن کی تلاوت جنت میں سنی۔
مگر والدین کا نافرمان نہ ہو
حضرت عمرو بن مرّہ جُہَنِی روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی کریمﷺ کے پاس حاضرِ خدمت ہوئے اور انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، اور آپ اللہ کے نبی ہیں۔ اور میں پانچ وقت کی نماز پڑھتا ہوں، اپنے مال کی زکوٰۃ ادا کرتا ہوں، ماہِ رمضان کے روزے رکھتا ہوں (آپ کی میرے بارے میں کیا رائے ہے؟) حضورﷺ نے ارشاد فرمایا: جو شخص ان اعمال پر جما رہے، وہ قیامت کے دن انبیاء، صدیقین، شہداء کے ساتھ اس طرح ہوگا۔ آپﷺ نے یہ فرماکر اپنی دو انگلیوں کو آپس میں ملا لیا۔ پھر فرمایا: مگر والدین کا نافرمان نہ ہو۔ (مسند احمد: رقم 24299)
جو انسان اللہ کی وحدانیت کی گواہی دے، جنابِ نبی کریمﷺ کی رسالت کی گواہی دے، پانچ وقت کی نماز پابندی کے ساتھ پڑھے، زکوٰۃ اگر فرض ہو تو اس کی مکمل ادائیگی کرے، رمضان کے پورے روزوں رکھے۔ تب بھی انبیاء، صدیقین، اور شہداء کے ساتھ پہنچنے میں ایک بات رہ جاتی ہے۔ وہ کیا؟ وہ یہ کہ ایسے نیک آدمی نے والدین کی نافرمانی نہ کی ہو، تب وہ انبیاء وغیرہ کے ساتھ کھڑا ہوگا۔ والدین کی نافرمانی انسان کو اس کے مقامِ اعلیٰ سے روک دیتی ہے۔
رحمۃٌ للعالمینﷺ
حضور پاکﷺ رحمۃٌ للعالمین ہیں۔ پوری انسانیت کے لیے رحمت بن کر آئے، صرف مسلمانوں کے لیے نہیں۔ اب جسے اللہ تعالیٰ نے رحمۃٌ للعالمین کا اِعزاز دیا ہو، اور اسے کسی معاملے پر غصہ آئے، یہ عجیب سا لگتا ہے۔ ایک آدمی ہوتا ہی غصہ والا ہے، اس کا غصے میں آجانا بدیہی بات ہے کہ وہ ہے ہی ایسا۔ لیکن جو بڑا ہی نرم مزاج اور ملنسار ہو، وہ غصے میں آجائے تو بندہ سوچتا ہے کہ بھئی! اس کو کیا ہوا؟ غزوۂ اُحد کے موقع پر صحابۂ کرامj نے رحمۃٌ للعالینﷺ سے عرض کیا کہ آپ مشرکین کو بد دعا دیں۔ آپﷺ نے اسے منظور نہیں کیا اور فرمایا: میں لعنت کرنے والا بنا کر نہیں بھیجا گیا، میں تو رحمت والا بنا کر بھیجا گیا ہوں۔ (مشکاۃ المصابیح: رقم 5812)
طائف کے موقع پر پتھر مارے گئے، جسم مبارک لہولہان ہوگیا، نعلین مبارک خون سے بھر گئے، زمین کانپ اٹھی، آسمان کانپ اٹھا، طائف کے پہاڑ کانپ اٹھے، پہاڑوں پر مامور فرشتے آگئے اور عرض کیا کہ ہمیں حکم دیں ہم اس بستی کو ملیامیٹ کر دیں؟ آپﷺ نے فرمایا: نہیں، میں اُمید کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ان کی آیندہ نسلوں میں ایسے افراد کو پیدا کرے گا جو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کریں گے۔(صحیح بخاری: رقم 3059)
لیکن بعض گناہ ایسے ہیں کہ رحمۃٌ للعالمینﷺ نے ان کے کرنے والوں پر لعنت فرمائی ہے۔ وہ کتنے بڑے گناہ ہوں گے۔ ایسے سات گناہ ہیں جن کے کرنے والے پر قرآن و حدیث میں لعنت کی گئی ہے، اُن میں سے ایک گناہ والدین کی نافرمانی ہے۔ والدین کا نافرمان ملعون ہے۔ یعنی اللہ کی رحمت سے دور ہے۔ یہ کتنی بڑی بات ہے۔
والدین سے قطع تعلقی اور صلہ رحمی کرنے والا کا اَجر
اُمّ المؤمنین امی عائشہ روایت بیان کرتی ہیں کہ جناب رسول اللہﷺ نے ایک حدیثِ قدسی میں ارشاد فرمایا: والدین سے قطع تعلقی رکھنے والے سے کہہ دیا جاتا ہے تم جو چاہے کرو میں (اللہ) تمہاری مغفرت نہیں کروں گا۔ اور جو والدین کا خدمت گزار ہوتا ہے، انہیں خوش کرنے والا ہوتا ہے، اس سے کہا جاتا ہے کہ تم جو چاہے کرو میں (اللہ) تمہاری مغفرت کروں گا۔ (حلیہ ابی نعیم: 215/10)
حسن بصری سے پوچھا گیا کہ والدین کے ساتھ نیکی کا کیا مطلب ہے؟ فرمایا کہ ان پر اپنا مال خرچ کرو، جس میں گناہ نہ ہو اور جو خلافِ شرع باتیں نہ ہوں اس میں ان کی فرمانبرداری کرو، اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کسی صورت میں جائز نہیں۔یعنی خلافِ شرع امور میں ان کی فرمانبرداری نہ کرو، اس کے علاوہ معاملات میں فرمانبرداری کرو۔
گناہوں کا کفارہ
والدین کی خدمت گناہوں کا کفارہ ہے، اور اس کی برکت سے انسان کے بڑے بڑے گناہ بھی معاف ہو جاتے ہیں۔ اتنے بڑے گناہ جس کے بارے میں انسان حیران ہو رہا ہوتا ہے کہ کیسے معاف ہوگا؟ ایسے گناہ بھی والدین کی خدمت کی برکت سے معاف ہو جاتے ہیں۔
حضرت عبداللہ بن عمر سے روایت ہے جنابِ رسول اللہﷺ کی خدمت میں ایک شخص آیا اور کہا کہ مجھ سے کچھ بہت بڑے گناہ کا صدور ہو گیا ہے، کیا میری توبہ ہو سکتی ہے؟ بہت بڑا گناہ کر بیٹھا ہوں، کیا معاف ہو جائے گا؟ نبی کریمﷺ نے پوچھا: کیا تمہاری والدہ زندہ ہیں؟ اس نے کہا: نہیں۔ پوچھا: کیا تمہاری خالہ زندہ ہیں؟ کہا: ہاں! خالہ ہیں۔ فرمایا کہ پھر خالہ کے ساتھ نیکی کا معاملہ کرو۔ (سنن ترمذی: رقم 1904)
یعنی اگر سائل کی والدہ ہوتی تو روایت سے ہی سمجھ میں آرہا ہے کہ والدہ کی خدمت کا حکم دیا جاتا، اور یہ خدمت گناہوں کا کفارہ بن جاتی، لیکن جب اس کی والدہ زندہ نہیں تھیں تو فرمایا کہ خالہ کی خدمت کرو اور اپنے گناہ کی معافی اللہ سے چاہو۔
غیر مسلم والدین کی خدمت
اُمّ المؤمنین امی عائشہ کی بڑی بہن حضرت اسماء بنتِ ابی بکر ہیں۔ والد دونوں کے ایک ہیں، لیکن والدہ الگ ہیں۔ بہرحال حضرت اسماء کی والدہ جو مسلمان نہیں ہوئی تھیں، مدینہ طیبہ آئیں۔ حضرت اسماء تو پہلے ہی سے قبولِ اسلام کے بعد ہجرت کر کے مدینہ آچکی تھیں۔ ان کی والدہ پریشان حال تھیں، مدد کی طلبگار تھیں۔ حضرت اسماء نے نبی کریمﷺ سے پوچھا کہ میری مشرکہ ماں میرے پاس آئی ہیں، کیا میں ان کے ساتھ احسان کا معاملہ کروں؟ ان کی خدمت کروں جبکہ وہ مشرکہ ہیں؟ فرمایا کہ ہاں! ان کی خدمت کرو۔ (صحیح بخاری: رقم 5634)
دنیا کے اندر تو اولاد کے پاس یہی حل ہے کہ خدمت، خدمت۔ اور دوسری کوئی بات ہی نہیں چاہے والدین کافر ہی کیوں نہ ہوں۔
اگلی بات کہ کس کا حق مقدم ہے؟ جان لیجیے کہ ماں کا حق والد پر مقدم ہے۔
والدہ کا حق والد پر مقدم ہے
حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ حضورپاکﷺ سے ایک شخص نے پوچھا کہ اے اللہ کے رسول! میرے حسنِ سلوک کا سب سے زیادہ مستحق میرے والدین میں سے کون ہے؟ فرمایا: تمہاری والدہ۔ اس نے پوچھا: پھر کون؟ فرمایا: تمہاری والدہ۔ اس نے پوچھا: پھر کون؟ فرمایا: تمہاری والدہ۔ اس نے پوچھا: پھر کون؟ آپﷺ نے فرمایا: تمہارے والد۔ (صحیح بخاری: رقم 5971، صحیح مسلم: رقم 2548)
والدہ کا حق زیادہ ہے کہ حمل کی تکلیف کو برداشت کیا، ابتدائی چند سال جو والدہ کی خدمت ہوتی ہے اس کا لحاظ رکھا گیا۔ اسی وجہ سے علامہ صنعانی، ابنِ بطّالn فرماتے ہیں کہ ماں کو باپ کی بنسبت تین حق زیادہ حاصل ہیں، کیوںکہ اس کے جو تین اہم کام ہیں، وہ باپ کو حاصل نہیں:
(۱) نو مہینے بچے کو پیٹ میں رکھنا
(۲) بچہ جننے کی تکلیف
(۳) بچے کو دودھ پلانا۔
والدہ کی ناراضگی کی سزا
ایک صحابی کی موت کا وقت آگیا۔ اسے کلمہ کی تلقین کی جارہی ہے، لیکن وہ کلمہ نہیں پڑھ پا رہے۔ نبی کریمﷺ کو بتایا گیا کہ اے اللہ کے نبی! فلاں صحابی کے ساتھ یہ معاملہ ہے۔ نبی کریمﷺ اُن کے پاس تشریف لے گئے۔ حالت دیکھی تو پوچھا کہ کیا اس کے والدین میں سے کوئی زندہ ہے؟ عرض کیا گیا کہ والدہ حیات ہیں۔ چناںچہ والدہ کو بلایا گیا۔ اس سے کہا: کیا تم اس سے ناراض ہو؟ عرض کیا کہ اس نے میرے ساتھ تکلیف کا معاملہ کیا، غم پہنچائے۔ فرمایا: اس کو معاف کر دو۔ کہا: نہیں، میں نہیں معاف کرتی۔ صحابہj سے فرمایا کہ اچھا! لکڑیاں لے کر آئو، اس کو جلا دو۔ عرض کیا کہ اللہ کے نبی! کیا آپ اسے جلائیں گے؟ فرمایا: ہاں، تم معاف جو نہیں کرتی۔ اسے اللہ نے بھی جلانا ہے، تیرے سامنے بھی تجھے ذرا جلا کر دکھا دوں۔ (آپﷺ نے طریقہ ایسا اختیار کیا کہ وہ معاف کر دے) آخر اس نے کہا کہ اچھا اللہ کے نبی! میں معاف کرتی ہوں۔ ادھر ماں نے معاف کیا، ادھر ان کی زبان سے کلمہ نکلا اور دنیا سے تشریف لے گئے۔ (شعب الایمان للبیہقی: 197/6)
صحابۂ کرام کے ساتھ یہ بات ہو سکتی ہے تو میں اور آپ کس کھیت کی مولی ہیں؟ اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی صحیح سمجھ عطا فرمائے آمین۔
وَاٰخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں