والدین کے حقوق حصہ دوم

والدین کے حقوق حصہ دوم

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ وَ کَفٰی وَ سَلٰمٌ عَلٰی عِبَا دِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی. أَمَّا بَعْدُ:
فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِيْمِ o بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِo
وَوَصَّيْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَيْہِ حُسْنًاط (سورۃ الإسراء: 23)
سُبْحٰنَ رَبِّکَ رَبِّ الْعِزَّۃِ عَمَّا یَصِفُوْنَo وَ سَلٰمٌ عَلَى الْمُرْسَلِیْنَo
وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَo
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ

جنت سے محروم لوگ
والدین سے قطع تعلق کرنے والے کی طرف اللہ تعالیٰ قیامت کے دن نہ نظرِ رحمت کریں گے، اور نہ وہ جنت میں جائے گا۔
حضرت عبداللہ بن عمرi سے روایت ہے کہ حضور پاکﷺ نے ارشاد فرمایا: تین طرح کے اشخاص پر اللہ تعالیٰ قیامت کے دن نظرِ رحمت نہیں فرمائیں گے:
(۱) والدین کا نافرمان (۲) زیب و زینت میں مردوں کی مشابہت کرنے والی عورت (۳) دیّوث یعنی جسے اپنے اہلِ خانہ کی فحش اور قبیح حرکات پر غیرت نہیں آتی۔
اور تین طرح کے اشخاص جنت میں نہیں جائیں گے:
(۱) والدین کا نافرمان (۲) شراب کا عادی (۳) احسان کر کے جتلانے والا۔
(سنن نسائی: رقم 2562)
پہلی بات جو عرض کرنی ہے وہ اس حدیث شریف میں والدین کی نافرمانی سے متعلق ہے۔ والدین کا نافرمان رب کی نظرِ رحمت سے محروم رہے گا اور جنت میں جانے سے محروم رہے گا۔ والدین کے حقوق میں کوتاہی کرنے والا، انہیں ستانے والا، انہیں تنگ کرنے والا کیسے سکون رہ سکتا ہے۔ ایسا شخص تو دنیا میں بھی خوش نہیں رہتا، پھر قیامت تو ہے ہی بدلہ کا دن۔ جب اسے اس کی نافرمانی کا بدلہ ملے گا تو وہ کوئی انعام نہیں ہوگا، بلکہ سزا ہوگی۔ اس لیے والدین کے ساتھ احسان کا معاملہ کیا جائے۔
دوسری بات ہے احسان کر کے جتلانا۔ کسی نے کسی کی ضرورت کے وقت اس کا کام کردیا اور پھر گاہے بہ گاہے جتلانے لگا۔ اب یہ جتلانا چاہے والدین کے ساتھ کیوں نہ ہو، بیوی ہی کے ساتھ کیوں نہ ہو، بھائی ہی کے ساتھ کیوں نہ ہو، خواہ کوئی بھی ہو اِحسانات کو جتلانا یہ نیکی کو خراب کرنے والی بات ہے۔ ایسا مرد یا ایسی عورت جنت میں نہیں جاسکے گا۔
حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ پر حق ہے کہ چار آدمیوں کو نہ جنت میں داخل کرے، اور نہ اپنی نعمتوں کا مزا انہیں چکھائے:
(1) شراب کا عادی (2) سود خور (3) یتیم کا مال ناحق کھانے والا (4) والدین سے قطع تعلق کرنے والا۔ (مستدرکِ حاکم: رقم 2197)
اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دور
چار قسم کے آدمی اللہ کی رحمت سے دور ہیں۔ حضرت علی بن ابی طالب سے مروی ہے کہ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا:
(۱) اللہ ربّ العزّت کی لعنت ہو اس پر جو اپنے والدین کو بُرابھلا کہے، یا ماں باپ کو گالیاں دے۔
(۲) اور اللہ کی لعنت ہو اس پر جو غیراللہ کے نام پر جانور ذبح کرے۔
(۳) اور اللہ کی لعنت ہو اس پر جو کسی مبتدع (خلافِ شریعت دین میں نئی نئی چیزیں ایجاد کرنے والے) کو پناہ دے، اس کی حفاظت کرے، اس کے عمل سے راضی ہو۔
(۴) اور اللہ کی لعنت ہو اس پر جو زمین کے نشانات مٹائے (تاکہ دوسرے کی ملکیت کا پتا نہ چلے)۔ (صحیح مسلم: رقم 1978)
بے سُود نیکی
حضرت ثوبان سے روایت ہے کہ جنابِ رسول اللہﷺ نے فرمایا: تین اعمال ایسے ہیں کہ کوئی نیکی اس کے ساتھ فائدہ نہیں دیتی۔ (اگر ان تینوں میں سے کوئی ایک، دو یا تین ہمارے پاس ہوئے اور ساتھ نیکی بھی کرتے رہے تو کوئی فائدہ نہیں ہوگا)
(1) شرک باللہ (2) والدین کی نافرمانی (3) میدانِ جنگ سے فرار ہو جانا۔
(معجم کبیر للطبرانی: رقم 1420)
اکبر الکبائر
ایک صغیرہ گناہ ہوتے ہیں، اور ایک کبیرہ گناہ ہوتے ہیں، اور ایک اکبر الکبائر ہوتے ہیں۔ جو کبیرہ میں سے بھی بڑے بڑے گناہ ہیں، ان کی فہرست میں بڑے تین گناہ ہیں۔
حضرت ابوبکرہ سے مروی ہے کہ ہم نبی کریمﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ آپﷺ نے ارشاد فرمایا: کیا میں تمہیں اکبرالکبائر گناہوں کے بارے میں نہ بتاؤں؟ اکبر الکبائر تین گناہ ہیں:
(۱) شرک باللہ (۲) والدین کی نافرمانی (۳) جھوٹی قسم کھانا۔
صحابی فرماتے ہیں کہ یہ بات ارشاد فرماتے وقت رسول اللہﷺ تکیہ سے ٹیک لگائے تشریف فرما تھے۔ جب یہ بات ارشاد فرمائی تو آپﷺ ٹیک چھوڑ کر بیٹھ گئے اور بار بار یہی بات ارشاد فرماتے رہے، یہاں تک کہ آپﷺ (کی کیفیت کو دیکھ کر ہم دل میں کہنے لگے) کاش! آپﷺ ٹھہر جائیں۔ (صحیح مسلم: رقم 87)
انفاق علی الوالدین
والدین پر خرچ کرنا اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کرنے کی مانند ہے۔ اور بیوی بچوں پہ خرچ کرنا بھی اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کی مانند ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمر سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ کی مجلس سے ایک ایسے شخص کا گزر ہوا جو بہت دبلاپتلا، کمزور تھا۔ کسی نے دیکھ کر کہا کہ کاش! یہ اللہ ربّ العزّت کے راستے میں چلنے کی وجہ سے اتنا دبلاپتلا ہوا ہوتا تو کیا ہی بات تھی۔ اس پر نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا: کیا جہاں شہادت ملتی ہو وہی اللہ کا راستہ ہے؟ ہو سکتا ہے کہ یہ اپنے چھوٹے بچوں کے لیے محنت کرتا ہو تو اس لیے دبلاپتلا ہو، تو یہ بھی اللہ کے راستے میں ہے۔ اور اگر یہ اپنے بوڑھے والدین کے لیے محنت کرتا ہے، کماتا ہے، اُن کا خیال رکھتا ہے، اس وجہ سے دبلاپتلا ہو گیا ہے، تو یہ بھی اللہ کے راستے میں ہے۔ اور اگر یہ اپنی ذات کے لیے محنت کرتا ہے تا کہ کسی کے سامنے اپنے لیے ہاتھ نہ پھیلانے پڑیں، کسی کی محتاجگی سے بچنے کے لیے، تو یہ بھی اللہ کے راستے میں ہے۔ اور اگر یہ ریاکاری اور تفاخر کے طور پر کماتا ہے تو یہ شیطان کے راستے میں ہے۔ (صحیح الترغیب والترہیب: رقم 1692)
اس موقع پر حضراتِ صحابۂ کرام کو کھول کر بتا دیا کہ صرف جہاد ہی نہیں، باقی چیزیں بھی فی سبیل اللہ میں داخل ہیں۔ اگر وہ فرائض کی پابندی کر رہا ہے اور شریعت کے اندر رہتے ہوئے محنت مزدوری کررہا ہے تو یہ سب کسب جائز ہے اور یہ شخص اللہ پاک کے راستے میں ہے۔
جیسی کرنی ویسی بھرنی
اس دنیا میں آدمی جیسا کرتا ہے، ویسا ہی اس کے ساتھ معاملہ ہوتا ہے۔ محاورہ مشہور ہے ’’جیسی کرنی ویسی بھرنی‘‘۔ یہ محاورہ بڑوں سے چلا آرہا ہے، اور پکی بات ہے۔ شریعت کا معاملہ بھی یہی ہے۔ ایک حدیث شریف اگرچہ سنداً کمزور ہے، لیکن بہت ہی قابلِ توجہ ہے۔ حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ حضور پاکﷺ نے ارشاد فرمایا:
(1) ’’لوگوں کی عورتوں سے پاکیزہ رہو، تمہاری عورتیں پاکیزہ رہیں گی‘‘۔
جب ہماری نگاہ کسی پہ اُٹھتی ہے تو اس کے بدلے میں کسی اور کی نگاہ ہمارے کسی محرم رشتے پر بھی اُٹھتی ہے۔ اگر ہم سے کوئی غلطی ہو جاتی ہے، کوئی کبیرہ گناہ ہو جاتا ہے تو اس کا بدلہ ہمارے محرم رشتہ داروں میں سے کسی کو دینا پڑتا ہے۔ امام شافعی فرماتے ہیں:
عُفُّوْا تَعُفُّ نِسَاؤُكُمْ فِي الْمَحْرَمِ
وَتَجَـنَّـبُـوْا مَـا لَا يَلِيْقُ بِمُسْـلِمِ
إِنَّ الـزِّنَـا دَيْـنٌ فَــإِنْ أَقْــرَضْـتَـهُ
كَانَ الْوَفَا مِنْ أَهْلِ بَيْتِكَ فَاعْلَمِ

ترجمہ: ’’لوگوں کی عورتوں سے پاکیزہ رہو، تمہاری محرم عورتیں پاکیزہ رہیں گی۔ اور ان چیزوں سے اجتناب کرو (بچو) جو ایک مسلمان کے شایانِ شان نہیں۔ یقیناً زنا ایک قرض ہے، اگر تم نے یہ قرض لیا تو یاد رکھنا کہ اس کی ادائیگی تمہیں گھر والے کریں گے‘‘۔
یعنی اتنا مبالغہ اس کے لیے کیا جا رہا ہے۔ پس اگر ہم اپنے گھر کے ماحول کو درست رکھنا چاہتے ہیں تو اپنی نگاہوں کو پاک رکھیں۔ اور میں عرض کروں کہ جس چیزوں کو سامنے دیکھنا جائز نہیں اس کو موبائل، اِنٹرنیٹ اور اسکرین پر دیکھنا بھی جائز نہیں۔ اگر کسی عورت کو سامنے دیکھنا منع ہے تو پھر اس کو اسکرین پہ دیکھنا بھی منع ہے۔ اس معاملہ میں احتیاط رکھیں۔
(2) ’’اپنے والدین کی خدمت کرو، تمہاری اولاد تمہاری خدمت کرے گی‘‘۔
یہ نبی کریمﷺ کی بات ہے۔ ہماری آنکھ کا دیکھا تو غلط ہو سکتا ہے لیکن جنابِ رسول اللہﷺ کی زبان سے نکلا ہوا جملہ غلط نہیںہو سکتا۔ والدین کی خدمت کرو، تمہاری اولاد تمہاری خدمت کرے گی۔ کاروباری زبان میں آپ اس کو یہ سمجھیں کہ ریٹ اچھا ملے گا۔
(3) ’’تمہارا بھائی تمہارے پاس معذرت کرنے آئے تو قبول کرو چاہے وہ حق پر ہے، چاہے وہ ناحق ہے، اگر تم نے ایسا نہ کیا تو کل حوضِ کوثر پر میرے پاس نہ آنا‘‘۔
(مستدرکِ حاکم: 154/4)
یہ جملہ بھی بہت سخت جملہ ہے۔ کتنی مرتبہ بیوی معافی مانگ رہی ہوتی ہے، لیکن کیا ہم اسے معاف کرتے ہیں۔ جب تک اس کے پورے خاندان کی ناک نہ رگڑائیں، کلیجہ ٹھنڈا نہیں ہوتا۔ اور رحمۃٌ للعالمینﷺ فرماتے ہیں کہ اگر کوئی میرا اُمتی تم سے معافی مانگے چاہے وہ حق پر ہو یا باطل پر ہو، وہ جب معافی مانگنے آگیا اور تم نے اسے معاف نہ کیا تو کل قیامت کے دن حوضِ کوثر پر میرے پاس نہ آنا۔ یہ حقوق کی جنگ یہ تو الگ باتیں ہیں۔ نبی کریمﷺ کی باتیں اپنی جگہ ہیں۔ ساس اور بہو میں کتنے ایسے معاملے ہیں، بھائی بھائی میں کتنے ایسے معاملے ہیں، گھروں کے اندر کتنے ایسے معاملے ہیں کہ میں حق پہ تھا۔ بھئی! کوئی بات نہیں، معافی مانگ لو۔ بس اگر کوئی معافی مانگنے آگیا اور ہم نے اسے معاف نہ کیا تو پھر نقصان کا سودا ہے۔ تو اس حدیث شریف میں تین باتیں بیان ہوئیں: (۱) تم لوگوں کی عورتوں سے پاکیزہ رہو، تمہاری عورتیں پاکیزہ رہیں گی۔ (۲) اپنے والدین کی خدمت کرو، تمہاری اولاد تمہاری خدمت کرے گی۔ (۳) اور اگر میرا کوئی امتی تم سے معافی مانگنے آجائے چاہے وہ حق پر ہے، چاہے وہ باطل پر ہے، تم اس کو معاف کر دو، اگر معاف نہ کیا تو میرے پاس حوضِ کوثر پر مت آنا۔
حدیث الغار
بخاری شریف کی ایک حدیث بہت مشہور ہے کہ تین آدمی جارہے تھے کہ راستے میں رات کا اندھیرا ہو گیا۔ چناںچہ انہوں نے رات گزارنے کے لیے ایک غار میں پناہ لےلی۔ اللہ کی شان کوئی چٹان گرتی ہوئی آئی اور غار کا راستہ بند ہوگیا۔ وہ بڑے پریشان ہو گئے کہ اب کیا کریں؟ وہ چٹان اتنی بڑی تھی کہ اگر یہ تینوں بھی جان لگاتے، تب بھی چٹان تو ہلنی ہی نہیں تھی۔ اس وقت انہوں نے ایک بڑا ہی پیارا فیصلہ کیا۔ نبی کریمﷺ نے اپنی اُمت کو بنی اسرائیل کے اِن تین آدمیوں کا جو قصہ سنایا ہے، یہ کسی وجہ سے سنایا ہے۔ اس میں ایک سبق بتا رہے ہیں۔ غار کا راستہ بند ہونے کے بعد ان تینوں نے اپنی زندگیوں پر غور کرنا شروع کر دیا۔ اور یہ طے کیا کہ ہر آدمی اپنا وہ عمل پیش کرے جو اس نے اللہ ربّ العزّت کی رضا کے لیے کیا ہو۔ چناںچہ تینوں آدمیوں نے اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کے انداز میں اپنا اپنا عمل پیش کیا۔
ایک نے اپنے والدین کے ساتھ کیے حسنِ سلوک کو پیش کیا کہ میرے والدین بہت بوڑھے تھے۔ شام کے وقت جب میں گھر جاتا تو پہلے اپنے والدین کو بکری کا دودھ نکال کر پلاتا، پھر اپنے بچوں کو پلاتا تھا۔ ایک دن میں گھر جانے میں لیٹ ہو گیا تو میرے والدین میرا انتظار کرتے سو گئے۔ میں دیر سے پہنچا اور دودھ نکالا تو دیکھا کہ وہ دونوں سو رہے ہیں۔ مجھے یہ بات گوارا نہ ہوئی کہ میں اپنے بچوں کو والدین سے پہلے پلاؤں۔ چناںچہ میں دودھ کا برتن ہاتھ میں لیے ساری رات اُن کے سرہانے کھڑا رہا۔ جب صبح کے قریب اُن کی آنکھ کھلی تو میں نے انہیں دودھ پیش کیا، جسے انہوں نے پی لیا۔ اے اللہ! اگر میں نے یہ عمل آپ کی رضا کے لیے تھا تو (اس کی برکت سے) آپ اس چٹان کو ہٹا دیجیے۔ اس کی دعا قبول ہوئی اور چٹان کچھ ہٹ گئی، مگر باہر نکلنے کا راستہ نہیں تھا۔
دوسرے نے کہا کہ اے اللہ! میرے چچا کی ایک بیٹی تھی، جس سے مجھے بہت محبت تھی۔ میں اس سے گناہ کی بات کرتا لیکن وہ منع کرتی تھی۔ آخر ایک مرتبہ وہ مجبور ہوگئی۔ اسے پیسوں کی ضرورت پیش آئی تو وہ میرے پاس آئی۔ میں نے اسے ایک سو بیس دینار دیے اور اسے گناہ پر راضی کر لیا۔جب میں نے پورے طریقے سے اس پر قابو پالیا، اور قریب تھا کہ میں گناہ کر بیٹھتا۔ میری چچازاد نے کہا کہ ناحق کسی مہر کو مت توڑو۔ میں نے اسے چھوڑ دیا اگرچہ میں اسے بہت محبت کرتا تھا۔ اور پیسے بھی اسے دے دیے۔ اے اللہ! اگر میں نے یہ عمل آپ کی رضا کے لیے تھا تو (اس کی برکت سے) آپ اس چٹان کو ہٹا دیجیے۔ اس کی دعا قبول ہوئی اور چٹان کچھ اور ہٹ گئی، مگر باہر نکلنے کا راستہ اب بھی نہیں تھا۔
رسول اللہﷺ فرماتے ہیں کہ تیسرے نے کہنا شروع کیا: اے اللہ! میں نے چند مزدوروں کو اُجرت پر رکھا۔ میں نے اُن سب کو اُن کی اُجرت دی جو انہوں نے لے لی۔ ایک مزدور اپنی اُجرت لیے بغیر چلا گیا۔ اس نے اپنی اُجرتنہیں لی۔ میں نے اس کی اُجرت سے تجارت کی، یہاں تک کہ اس کی اُجرت سے بہت سارے مویشی مثلاً اُونٹ، گائے اور بکریاں اور غلام میرے پاس جمع ہوگئے۔ ایک بڑا سلسلہ ہو گیا۔ کافی سالوں کے بعد وہ مجھ سے اپنی اُجرت مانگنے آیا۔ میں نے اس سے کہا کہ یہ سب اونٹ، گائے، بکریاں، اور غلام تیری اُجرت ہیں۔ اس نے کہا کہ اے اللہ کے بندے! میرے ساتھ مذاق نہ کر۔ میں نے کہا کہ میں مذاق نہیں کر رہا ہوں۔ چناںچہ وہ شخص تمام مویشی اور غلاموں کو اپنے ساتھ لے گیا، اور اس میں سے اس نے کچھ نہیں چھوڑا۔ اے اللہ! اگر میں نے یہ عمل آپ کی رضا کے لیے کیا تھا تو (اس کی برکت سے) آپ اس چٹان کو ہٹا دیجیے۔ اس کی دعا قبول ہوئی اور چٹان ہٹ گئی، اور وہ باہر آگئے۔
(صحیح بخاری: رقم 2272)
اس تیسرے نے اپنے معاملات کو پیش کیا۔ نمازیں پڑھنا تو بہت آسان ہے، لیکن معاملات پر پورا اُترنا یہ اصل ہے۔ نماز پڑھنے والے تو بہت مل جائیں گے، لیکن اخلاقیات اور معاملات میں پورے اُترنے والے بہت تھوڑے ہیں۔ اگر ہم تین اعمال میں پورے اُتریں تو بہت اعلیٰ اور اولیٰ بات ہے، اور ہم اچھے مؤمن بن جائیں گے۔ وہ تین اعمال کیا ہیں؟ (۱) اخلاقیات (۲) معاملات (۳) کسی پر بے جا تنقید نہ کریں۔
تینوں نے اپنے اپنے جو اعمال پیش کیے تو راستہ ہی اُن کا کھل گیا۔ نبی کریمﷺ نے اپنی اُمت کے واسطے صرف واقعہ ہی بیان نہیں کیا، ہمیں ایک سبق دیا کہ اے میری امت کے لوگو! تم بھی حالات کے غار میں پھنس سکتے ہو، پریشانیوں کے غار میں پھنس سکتے ہو، آگے بڑی بڑی چٹانیں تمہارے راستے کی رکاوٹ بن سکتی ہیں۔ اے میری امت! تم بھی ان کی طرح اپنے وہ اعمال پیش کرنا جو تم نے اللہ ربّ العزّت کی رضا کے لیے کیے ہوں۔ اللہ ربّ العزّت تمہارے بند راستوں کو کھول دیں گے۔ بند راستوں کو کھولنے کے لیے اللہ کی رضا میں کیے ہوئے اعمال ہی کام آتے ہیں۔ اس لیے والدین کی خدمت کرنے سے دنیا کی پریشانیاں بھی اللہ پاک دور کرتے ہیں، اور بڑی بڑی چٹانیں، مشکلات جو راستے میں آجاتی ہیں اللہ پاک وہ بھی دور فرما دیتے ہیں۔ چند ایک واقعات والدین کی قدر دانی سے متعلق اور بھی ذکر کر دیتے ہیں۔
ماں کے نافرمان کا انجام
عوام بن حوشب مجاہد سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں سفر کے دوران قضائے حاجت کے لیے راستے سے ایک طرف ہوا۔ وہیں ایک قبرستان تھا۔ اچانک میرے پاس زمین کے اندر سے ایک گدھا نکل کر آیا۔ اس نے تین مرتبہ گدھے کی مخصوص آواز نکالی اور پھر زمین میں چلا گیا۔ میں وہاں سے قریب ایک بستی میں آگیا۔ لوگوں نے میری حالت کو دیکھا کہ چہرہ بدلا ہوا ہے، لگتا ہے کہ کوئی بات پیش آئی ہے۔ چناںچہ نے اُن لوگوں نے مجھ سے پوچھا کہ کیا بات ہے، آپ کا چہرے کا رنگ بدلا ہوا کیوں ہے؟ میں نے لوگوں کو یہ بات سنائی۔ لوگوں نے بتایا کہ وہ شخص اسی بستی کا ایک جوان لڑکا تھا۔ اس کی ماں فلاں جگہ رہتی ہے۔ جب کبھی اس کی ماں اسے کچھ کہتی تو ماں کو گالیاں دیتا اور برے الفاظ کہتا تھاکہ تُو تو گدھے کی طرح چیختی رہتی ہے۔ اور اس کے سامنے گدھے کی آواز نکال کر چیختا۔ ایک روز اس لڑکے کا انتقال ہوگیا تو ہم نے ہی اسے دفن کیا۔ اس وقت سے لے کر اب تک روزانہ وہ قبر سے سر نکالتا ہے، تین مرتبہ گدھے کی آواز سے چیختا ہے اور پھر واپس قبر میں چلا جاتا ہے۔
علامہ ابنِ رجب حنبلی نے اس واقعہ کو اپنی کتاب ’’أَھْوَالُ الْقُبُوْرِ‘‘ میں ابنِ ابی الدنیا سے نقل کر کے لکھا ہے کہ یہ سچا واقعہ ہے۔ علامہ البانی نے بھی اس واقعہ کو حسن موقوف کہا ہے، لیکن کوئی جرح نہیں کی۔
والدین کے لیے استغفار کرنا
اگر کسی کے والدین اس دنیا سے چلے جائیں، ایک یا دونوں، کیا اُن کے ساتھ بھی حسنِ سلوک کیا جا سکتا ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ جی ہاں! یہ اللہ ربّ العزّت کی رحمت ہے کہ دنیا میں اگر کوئی خدمت نہ کر سکا، والدین کی قدردانی نہ کی تو بعد کے لیے اللہ ربّ العزّت نے راستہ رکھا ہے۔
حضرت انس سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا: جس کے والدین یا ان میں سے ایک کا انتقال ہو جائے اور وہ شخص زندگی میں خود نافرمان تھا، اگر وہ ہمیشہ ان کے لیے دعا کرتے رہے گا اور استغفار کرتا رہے گا تو ایک وقت آئے گا جب اللہ تعالیٰ اس کا نام فرمانبرداروں میں لکھ دیں گے۔ (مشکاۃ المصابیح: رقم 4942)
معلوم ہوا کہ اگر کوئی نافرمان اولاد بھی والدین کے لیے خیر کی اور مغفرت کی دعا کرتی رہے گی تو اللہ تعالیٰ اسے اپنے فضل سے فرماںبرداروں میں شامل فرمائیں گے۔
حضرت مالک بن ربیعہ کہتے ہیں کہ ہم ایک دن رسول اللہﷺ کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ بنی سلمہ کے ایک شخص آئے اور پوچھا کہ اے اللہ کے نبی! کیا کوئی ایسی نیکی ہے جو والدین کی وفات کے بعد میں ان کے ساتھ کر سکوں؟ فرمایا کہ ہاں! اُن کے لیے دعا کرنا، اور اُن کے لیے استغفار کرنا، اُن کے وعدوں کو پورا کرنا، اُن کے رشتہ داروں سے حسنِ سلوک کرنا، اور ان کے دوستوں کے ساتھ بھلائی کرنا۔ (سنن ابی داؤد: رقم 5142)
ادائیگیٔ حقِ والدین کی بہترین دعا
علامہ ابنِ شاہین نے والدین کے حق کی ادائیگی کے لیے ایک دعا لکھی ہے۔ ’’فضائلِ صدقات‘‘ میں حضرت شیخ الحدیث صاحب نے بھی اس دعا کو نقل کیا ہے۔ جو شخص ایک مرتبہ یہ دعا پڑھے اور پھر اس کا ثواب والدین کو پہنچائے تو اس نے والدین کا حق ادا کر دیا۔ دعا یہ ہے:
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ، وَلَهُ الْكِبْرِيَاءُ فِي السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَهُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ ، لِلّٰهِ الْحَمْدُ رَبِّ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ ، وَلَهُ الْعَظَمَةُ فِي السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَهُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ ، لِلّٰهِ الْمُلْكُ رَبِّ السَّمَوَاتِ وَرَبِّ الْأَرْضِ وَرَبِّ الْعَالَمِيْنَ ، وَلَهُ النُّوْرُ فِي السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَهُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ.
(فضائل الأعمال لابن شاھین: رقم 302)
اس دعا کو بھی یاد کر لیا جائے، اور جب تک یاد نہ ہو تو دیکھ کر پڑھ لیا جائے۔
والدین کی طرف سے ایصالِ ثواب
ایک صحابی حضرت سعد بن عبادہ کہیں سفر میں گئے ہوئے تھے۔ اطلاع ملی کہ والدہ کا انتقال ہو گیا ہے۔ نبی کریمﷺ کی خدمت میں آئے اور عرض کیا کہ اے اللہ کے نبی! میں موجود نہیں تھا اور اس دوران میری والدہ کا انتقال ہو گیا، اگر میں اُن کی طرف سے صدقہ کروں تو کیا اُنہیں اس کا فائدہ ہوگا؟ اُن کو اجر ملے گا؟ فرمایا: ہاں! اُنہیں اجر ملے گا۔ حضرت سعد نے فرمایا کہ اے اللہ کے نبی! آپ گواہ رہیے گا میں نے اپنا باغ اُن کی طرف سے وقف کر دیا ہے۔ (صحیح بخاری: رقم 2756، 2762)
معلوم ہوا کہ والدین کے بعد ان کے لیے کوئی نہ کوئی خیر کا کام صدقہ جاریہ کرنا چاہیے اگر اولاد کے پاس وسعت ہو۔ پھر اس میں کچھ مسائل بھی ہیں، جن کی تفصیل علمائے کرام سے معلوم کی جائے۔
اُمّ المؤمنین امی عائشہ فرماتی ہیں کہ ایک شخص نے نبی کریمﷺ سے عرض کیا کہ میری والدہ کا انتقال ہو گیا اور اچانک ہو گیا۔ میرا خیال تھا کہ اگر ان کو بولنے کا موقع ملتا تو مجھے صدقہ کرنے کا کہتیں۔ کیا میں اُن کی طرف سے صدقہ کروں؟ کیا اُنہیں اس کا ثواب ملے گا؟ نبی کریمﷺ نے فرمایا کہ ہاںاُنہیں ثواب ملے گا۔ (صحیح بخاری: رقم 1388)
والدین نے پرورش کے دوران کتنی محنتیں، تکلیفیں اٹھائی ہوتی ہیں۔ مال بھی خرچ کیا ہوتا ہے۔ پیدائش سے لے کر جوانی تک۔ یہ پتا تب لگتا ہے جب اپنے بچے بڑے ہوتے ہیں، اس سے پہلے پتا ہی نہیں چلتا۔ بہت ساری چیزیں زندگی میں دیکھنی پڑتی ہیں جو وقت کے ساتھ ساتھ معلوم ہوتی ہیں۔ اس لیے ہر شخص کو چاہیے کہ اپنے والدین کے لیے ایصالِ ثواب کا کوئی طریقہ منتخب کرے۔ کوئی نہ کوئی ایسا طریقہ اختیار کرے جو قیامت تک کے لیے ثواب کا ذریعہ بن جائے۔ ہر آدمی کو اس کی کوشش اور فکر کرنی چاہیے۔ نیز یہ صحابۂ کرام کا طریقہ رہا ہے۔
امام غزالی فرماتے ہیں کہ مجھے یہ روایت پہنچی ہے کہ جس نے زندگی میں اپنے ماں باپ کو ستایا، پھر ان کے ذمہ میں جو قرض تھا وہ ادا کر دیا، اور ان کے لیے مغفرت کی دعا کی، اور ان کے رشتہ داروں کے ساتھ اچھا سلوک کیا، تو اللہ ربّ العزّت اس کی بھی مغفرت فرما دیتے ہیں۔ اگرچہ اس نے دنیا میں اپنی ناواقفیت کی وجہ سے والدین کا خیال نہ رکھا، لیکن مرنے کے بعد ان کے رشتہ داروں کے ساتھ، چچا کے ساتھ، تایا کے ساتھ، اور والدین کے ساتھ جتنے بھی تعلق رکھنے والے ہیں ان کے ساتھ اچھا تعلق رکھا، اور والدین پر اگر کوئی قرض تھا تو اسے اتار دیا تو اللہ ربّ العزّت رحمت فرما دیتے ہیں۔
والدین کی طرف سے حج کرنا
حضرت عبداللہ بن عباس سے مروی ہے کہ جنابِ رسول اللہﷺ کا ارشاد ہے: جو اپنے والدین کی جانب سے حج کرے، یا ان کے قرضے کو ادا کرے، وہ قیامت کے دن نیک لوگوں کی جماعت میں کھڑا ہوگا۔ (سننِ دار قطنی: رقم 2293)
حضرت جابر روایت کرتے ہیں کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا: جو شخص اپنے والدین میں سے کسی کی طرف سے حج کرے تو جس کی طرف سے کیا ہے والد یا والدہ، اسے ایک حج کرنے کا ثواب ملے گا۔ اور اس حج کرنے والے کو دس حج کرنے کا ثواب ملے گا۔ (المغني لابن قدامۃ بروایۃ الدارقطنی: فصل : يستحبّ أن يحجّ الإنسان عن أبويه)
یہ روایت ’’فضائلِ حج‘‘ میں شیخ الحدیث نے بھی لکھی ہے۔ معلوم ہوا کہ والدین کی طرف سے حج کرنا بھی بڑی نعمت ہے۔
حضرت عبداللہ بن عباس سے مروی ہے کہ ایک شخص نبی کریمﷺ کے پاس حاضرِ خدمت ہوئے اور عرض کیا کہ میرے والد بہت کمزور ہو چکے ہیں۔ سواری پر سوار ہوں تو بیٹھ نہیں سکتے، وہ اپنی زندگی میں حج نہیں کرسکے تھے، کیا میں اُن کی طرف سے حج کر سکتا ہوں؟ نبی کریمﷺ نے دریافت فرمایا: اچھا بتائو! اگر تمہارے والد پر کوئی قرض ہوتا اور تم اس کو ادا کر دیتے تو کیا قرض اُن کی طرف سے ادا ہوجاتا؟ اس نے کہا کہ بالکل ادا ہو جاتا۔ فرمایا: تو تم اپنے والد کی طرف سے حج کرلو۔(صحیح ابنِ حبان: رقم 4080)
ایک صاحب کا انداز
ایک مرتبہ دوکان پر والد صاحب کے پاس ایک صاحب آئے۔ کہنے لگے کہ جی! میرے والد کا انتقال ہو گیا ہے۔ وہ آپ سے آٹھ دس سال پہلے کاروبار کرتے تھے، بتائیے کہ کتنے پیسے میرے ابو نے دینے تھے؟ اندازے سے بتا رہا ہوں کہ اُن کے ذمہ دس ہزار روپے تھے۔ جب بات آئی کہ دس ہزار انہوں نے دینے تھے، تو اُن صاحب نے کہا کہ جی! ابو کا تو انتقال ہو گیا ہے، آپ کچھ مہربانی کر دیں اور کم کر دیں۔ میرے والد صاحب نے کہا کہ اچھا! ٹھیک ہے، آپ پانچ ہزار دے دو۔ اس نے کہا کہ ٹھیک ہے۔ یہ کہہ کر چلا گیا اور پھر آج تک واپس نہیں آیا۔ اس لیے عرض کر رہا ہوں کہ ہم نے اس طرح ذمہ داری ادا نہیں کرنی کہ پہلے آدھا معاف کروا لیا، اور پھر کہا کہ جی! باقی آدھا میرے ذمہ ہے۔ اور اس کے بعد چلے جانا ہے اور مُڑ کر واپس نہیں آنا۔
والدین کے جاننے والوں سے حسنِ سلوک
ایک مرتبہ حضرت عبداللہ بن عمر کی ملاقات ایک بَدّو یعنی دیہاتی سے مکہ مکرّمہ کے راستے میں ہوئی۔ حضرت عبداللہ بن عمر نے جب ان کو راستہ میں چلتے ہوئے دیکھا تو اپنی سواری پر اسے سوار کرایا، اور اپنی پگڑی اتار کر اسے دے دی۔ حضرت عبداللہ بن دینار جو اس قصے کے راوی ہیں، فرماتے ہیں کہ ہم بڑے حیران ہوئے اور عرض کیا کہ اللہ آپ کی اصلاح فرمائے! یہ تو ایک عام سا دیہاتی آدمی ہے، اور یہ لوگ تو تھوڑے پر بھی راضی ہو جاتے ہیں، آپ نے اتنا اکرام کیا۔ فرمایا کہ یہ اِکرام میں نے اس لیے نہیں کیا کہ وہ سائل یا غریب لگ رہا تھا۔ میں نے تو اس لیے کیا کہ اس کا والد میرے والد حضرت عمر کا دوست تھا۔ اور میں نے رسول اللہﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ یقیناً بہترین نیکی یہ ہے کہ آدمی اپنے والد کے دوست کے گھر والوں کے ساتھ حسنِ سلوک کرے۔ (صحیح مسلم: رقم 2552)
ایک حدیث پہلے بھی گزر چکی ہے، دوبارہ عرض کرتا ہوں۔ حضرت مالک بن ربیعہ کہتے ہیں کہ ہم ایک دن رسول اللہﷺ کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ بنی سلمہ کے ایک شخص آئے اور پوچھا کہ اے اللہ کے نبی! کیا کوئی ایسی نیکی ہے جو والدین کی وفات کے بعد میں ان کے ساتھ کر سکوں؟ فرمایا کہ ہاں! اُن کے لیے دعا کرنا، اور اُن کے لیے استغفار کرنا، اُن کے وعدوں کو پورا کرنا، اُن کے رشتہ داروں سے حسنِ سلوک کرنا، اور ان کے دوستوں کے ساتھ بھلائی کرنا۔ (سنن ابی داؤد: رقم 5142)
اس حدیث شریف میں ایک تو یہ ہے کہ والدہ اور والد کے لیے دعائے خیر اور دعائے مغفرت کی جائے، اور دوسری بات یہ تھی کہ ان کے عہد، وعدے، اور ان کی وصیت کو نافذ کیا جائے۔ مثلاً: اگر ان کی یہ خواہش تھی کہ میرا فلاں بیٹا عالم بنے، میرے فلاں بیٹے کی شادی فلاں جگہ پر ہوجائے، یا پھر کوئی اور ایسی بات جو انسان باآسانی کوشش سے پوری کر سکتا ہے، تو اس کا وارث اس عہد یا وعدے کو پورا کرنے کی پوری کوشش کرے۔ جائیداد کی تقسیم بھی انسان کو علمائے کرام سے پوچھ کر کرنی چاہیے۔ اور باقی جائز چیزوں کو والدین کے کہنے کے مطابق پورا کرنے کی کوشش کرے۔
تین چیزیں صدقہ جاریہ
ایک حدیث میں حضور پاکﷺ نے ارشاد فرمایا: آدمی جب مرتا ہے تو اس کے عمل کا سلسلہ ختم ہو جاتا ہے۔ (ابھی تو ہمارے عمل کا سلسلہ جاری ہے تو ہم نیکی کی کوشش کر لیں، لیکن جیسے ہی موت آئے گی تو عمل کا سلسلہ ختم ہو جائے گا) مگر تین چیزوں کا ثواب باقی رہتا ہے (اور وہ تینوں چیزیں بہت اہم ہیں):
(1) صدقہ جاریہ۔ مثلاً کوئی مسجد بنا دی، کوئی مدرسہ بنا دیا، کوئی خانقاہ بنا دی، کوئی پھل پودا لگا دیا۔
(2) دین کے علم کا کوئی ایسا سلسلہ جاری کرنا کہ کوئی عالم بن گیا، کوئی قاری بن گیا، کوئی حافظ بن گیا، کوئی عالمہ بن گئی کہ وہ اپنی اولاد کو دین سکھائے گی، پھر وہ آگے اوروں کو سکھائیں گے، اور یہ سلسلہ قیامت تک چلے گا۔ یہ کوئی چھوٹی بات نہیں ہے۔ کسی کو قرآن کا حافظ بنا دینا یہ ایک بہت بڑا انعام ہے۔ وہ لوگوں کو پڑھائے گا۔ پھر حافظِ قرآن یہ بھی چاہے گا کہ وہ اپنی بیٹی کو، بیٹے کو بھی حافظِ قرآن بنا دے تو یہی سلسلہ قیامت تک چلے گا۔
(3) نیک اولاد ہونا۔ یعنی ماں باپ نے اولاد کی ایسی تربیت کی ہو کہ وہ اس کے لیے ہمیشہ دعائے خیر کرتی رہے۔ (صحیح مسلم: رقم 1631)
ان تین چیزیں کا ثواب مرنے کے بعد بھی جاری رہتا ہے۔
جنت میں درجہ بڑھنا
حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا: بے شک اللہ ربّ العزّت اپنے نیک بندے کا جنت میں درجہ بڑھا دیتے ہیں۔ اس کو اچانک یہ پتا چلتا ہے کہ اس کا درجہ بڑھا دیا گیا ہے۔ وہ کہتا ہے: یااللہ! یہ مجھے کیسے مل گیا؟ بتایا جاتا ہے کہ تمہارے بچے نے تمہارے لیے مغفرت کی دعا کی تھی یہ اس کا انعام ہے۔(مسند احمد: 509/2)
نیک بچہ صدقہ جاریہ ہے
ایک واقعہ بزرگوں نے کتابوں میں لکھا ہے۔ ایک شخص نے خواب میں دیکھا کہ وہ قبرستان میں ہے۔ اچانک ساری قبریں پھٹیں اور اندر سے میتیں باہر آگئیں۔ باہر آکر وہ سب کچھ تلاش میں لگ گئے سوائے ایک آدمی کے۔ وہ آدمی آرام سے ایک طرف بیٹھا رہا، اور باقی لوگ تلاش میں لگے رہے۔ خواب میں دیکھنے والے شخص نے اس آرام سے بیٹھے ہوئے آدمی سے کہا کہ یہ سب کیا تلاش کر رہے ہیں؟ اور آپ ایک طرف کیوں بیٹھے ہیں؟ اس نے کہا کہ مسلمانوں کی طرف سے جو عمومی ہدایا آتے ہیں نیک عمل کی شکل میں، یہ وہ تلاش کرتے ہیں، کیوںکہ ان کے لیے اپنا کوئی بھیجنے والا نہیں ہوتا تو یہ عمومی ہدایا کو تلاش کرتے ہیں۔ اور میرا ایک بیٹا ہے جو روزانہ مجھے ایک قرآن پاک پڑھ کر بھیج دیتا ہے۔ مجھے ان کی طرح تلاش کی کوئی ضرورت نہیں پڑتی، اس کا پڑھا ہوا خود ہی میرے پاس پہنچ جاتا ہے۔اس نے پوچھا کہ بھئی! تمہارا بیٹا کون ہے؟ چناںچہ اس نے پتا بتا دیا اور خواب ختم ہوگیا۔ جب یہ شخص اس جگہ گیا تو دیکھا کہ ایک نوجوان حافظِ قرآن ہے، اور قرآن پاک پڑھنے میں مشغول ہے۔ اس نے اس سے سلام دعا کرنے کے بعد تلاوت کا پوچھا کہ تم روز ایک قرآن پڑھتے ہو؟ اس نے کہا کہ ہاں، اور اپنے والد کو بھیجتا ہوں۔ اس شخص نے کہا کہ تمہارا ہدیہ تمہارے والد تک پہنچ رہا ہے۔ پھر اسے اپنا سارا خواب سنایا۔ چند عرصہ بعد اس خواب دیکھنے والے نے دوبارہ خواب دیکھا کہ وہی قبرستان ہے اور پھر اسی طرح میتیں نکل کر ہدایا تلاش کرنے میں لگی ہوئی ہیں۔ اب کی بار وہ شخص تلاش میں لگا ہوا تھا جو پہلے سب سے الگ تھلگ بیٹھا تھا۔ یہ بڑا حیران ہوا کہ اس کا بیٹا تو اسے روز ایک قرآن کا ہدیہ بھیجتا ہے، آج اسے کیا ہوا؟ چناںچہ اس کے قریب جا کر پوچھا کہ بھئی! کیا بات ہے، پہلے تو تم مزے سے بیٹھے تھے اب تم بھی کام میں لگے ہوئے ہو؟ اس نے کہا کہ میرے بیٹے کا انتقال ہو گیا ہے۔ جب یہ خواب دیکھنے والا شخص صبح اسی جگہ پر گیا تو معلوم ہوا کہ اس جوان کا انتقال ہو چکا ہے۔ جب تک نیک اولاد نیک کام کرتی رہتی ہے تو والدین کو ثواب پہنچتا رہتا ہے۔ ایصالِ ثواب ملتا رہتا ہے۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو والدین کی فرماںبرداری کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ جو غلطیاں ہم سے ہو گئیں، ان کو اللہ پاک اپنی رحمت سے معاف فرمائے، اور آگے ہمیں اپنی اصلاح کی توفیق عطا فرمائے آمین۔
وَاٰخِرُ دَعَوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ.

Leave a Reply