ورثاء کا میت کی طرف سے حج بدل کرنا

سوال: مفتی صاحب ! اگر میت نےعمرہ اور حج نہ کیا ہو تو ورثاء یا کوئی بہن وغیرہ اپنے خرچے پر جا کر یا میت کے پیسوں سے حج ادا کرلے، تو کیا میت کی طرف سے فرض ساقط ہو جائے گا؟

❓❓❓❓
جواب: واضح رہے کہ میت کی طرف سے حج بدل کرنا اس وقت ضروری ہوتا ہے کہ جب میت پر اس کی زندگی میں حج فرض ہوا ہو، اور اس نے اپنے مال میں سے حج بدل کرنے کی وصیت بھی کی ہو، ایسی صورت میں ورثاء پر لازم ہے کہ وہ ایک تہائی ترکہ میں سے میت کی طرف سے حج بدل ادا کریں، لیکن اگر میت نے حج بدل کی وصیت نہیں کی، تو ایسی صورت میں ورثاء پر حج بدل کرنا لازم نہیں ہے، البتہ اگر میت کا کوئی وارث یا بہن اپنے خرچے پر اس میت کی طرف سے حج کرنا چاہتے ہوں، تو کرسکتے ہیں، اور اللہ کی ذات سے امید ہے کہ اس سے میت کی طرف سے حج ادا ہوجائے گا، اور وہ مؤاخذہ سے بری ہوگا۔نیز میت کی طرف سے عمرہ کرنا اور اس کا ایصال ثواب کرنا جائز ہے۔

“واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

دارالافتاء الاخلاص، کراچی”

Leave a Reply