28

وضو سے پہلے بسم اللہ پڑھنے کا تفصیلی حکم

وضو سے پہلے بسم اللہ پڑھنے کا حکم:
وضو شروع کرنے سے پہلے ’’بسم اللہ‘‘ پڑھنا سنت ہے، پوری ’’بسم اللہ الرحمٰن الرحیم‘‘ پڑھی جائے تو زیادہ بہتر ہے۔ اس سنت پر عمل کرنے کے نتیجے میں متعدد فوائد حاصل ہوجاتے ہیں، جیسے:
▪ سنت پر عمل کرنے کا ثواب نصیب ہوجاتا ہے۔
▪ وضو کامل ہوجاتا ہے، جبکہ اس کے بغیر وضو کامل نہیں ہوسکتا۔
▪ کامل طور پر جسم کی ظاہری اور باطنی پاکیزگی حاصل ہوجاتی ہے۔
جبکہ بسم اللہ پڑھے بغیر وضو تو ہوجاتا ہے لیکن اس صورت میں مذکورہ فوائد سے محرومی ہوتی ہے، ظاہر ہے کہ یہ کتنی بڑی محرومی ہے! اس لیے ہمیں وضو شروع کرتے وقت بسم اللہ پڑھنے کا بھرپور اہتمام کرنا چاہیے۔
☀️ مصنّف ابن ابی شیبہ میں ہے:
14- حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ كَثِيرِ بْنِ زَيْدٍ قَالَ: حدَّثَنِي رُبَيْحُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: لَا وُضُوءَ لِمَنْ لَمْ يَذْكُرِ اسْمَ اللهِ عَلَيْهِ.
15- حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ: حدَّثَنَا وُهَيْبٌ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حَرْمَلَةَ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا ثِفَالٍ يُحَدِّثُ أَنَّهُ سَمِعَ رَبَاحَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ بْنِ حُوَيْطِبٍ يَقُولُ: حَدَّثَتْنِي جَدَّتِي أَنَّهَا سَمِعَتْ أَبَاهَا يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ ﷺ يَقُولُ: لَا صَلاَةَ لِمَنْ لَا وُضُوءَ لَهُ، وَلَا وُضُوءَ لِمَنْ لَمْ يَذْكُرِ اسْمَ اللهِ عَلَيْهِ.
16- حَدَّثَنَا عَبْدَةُ عَنْ حَارِثَةَ، عَنْ عَمْرَةَ قَالَتْ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ: كَيْفَ كَانَتْ صَلَاةُ رَسُولِ اللهِ ﷺ؟ قَالَتْ: كَانَ إذَا تَوَضَّأَ فَوَضَعَ يَدَهُ فِي الْمَاءِ، سَمَّى فَتَوَضَّأَ، وَيُسْبِغُ الْوُضُوءَ.
17- حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ خَلِيفَةَ عَنْ لَيْثٍ، عَنْ حُسَيْنِ بْنِ عُمَارَةَ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ قَالَ: إذَا تَوَضَّأَ الْعَبْدُ فَذَكَرَ اسْمَ اللهِ حِينَ يَأْخُذُ فِي وَضُوئَهُ طَهُرَ جَسَدُهُ كُلُّهُ، وَإِذَا تَوَضَّأَ وَلَمْ يَذْكُرِ اسْمَ اللهِ لَمْ يَطْهُرْ مِنْهُ، إِلَّا مَا أَصَابَهُ الْمَاءُ.
18- حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ رَبِيعٍ، عَنِ الْحَسَنِ أَنْهُ قَالَ: يُسَمِّي إذَا تَوَضَّأَ، فَإِنْ لَمْ يَفْعَلْ أَجْزَأَهُ.
☀️ مجمع الزوائد میں ہے:
1112- عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: «يَا أَبَا هُرَيْرَةَ، إِذَا تَوَضَّأْتَ فَقُلْ: بِسْمِ اللهِ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ، فَإِنْ حَفَظَتَكَ لَا تَبْرَحُ تَكْتُبُ لَكَ الْحَسَنَاتِ حَتَّى تُحْدِثَ مِنْ ذَلِكَ الْوُضُوءِ».
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي «الصَّغِيرِ»، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.
☀️ سنن النسائی میں ہے:
78- أَخْبَرَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ ثَابِتٍ وَقَتَادَةُ عَنْ أَنَسٍ قَالَ: طَلَبَ بَعْضُ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ﷺ وَضُوءًا فَقَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: «هَلْ مَعَ أَحَدٍ مِنْكُمْ مَاءٌ»؟ فَوَضَعَ يَدَهُ فِي الْمَاءِ وَيَقُولُ: «تَوَضَّئُوا بِسْمِ اللهِ». فَرَأَيْتُ الْمَاءَ يَخْرُجُ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِهِ حَتَّى تَوَضَّئُوا مِنْ عِنْدِ آخِرِهِمْ. قَالَ ثَابِتٌ: قُلْتُ لِأَنَسٍ: كَمْ تُرَاهُمْ؟ قَالَ؟ نَحْوًا مِنْ سَبْعِينَ.
(بَاب التَّسْمِيَةِ عِنْدَ الْوُضُوءِ)
☀️ حاشیہ السندی علی سنن النسائی میں ہے:
«توضئوا بِسم الله» أَي متبركين أَو مبتدئين بِهِ أَو قائلين هَذَا اللَّفْظ، على أَن الْجَار وَالْمَجْرُور أُرِيد بِهِ لَفظه، وعَلى كل تَقْدِير يحصل الْمَطْلُوب، وَعدل عَن الحَدِيث الْمَشْهُور بَينهم فِي هَذِه الْمَسْأَلَة وَهُوَ «لَا وضوء لمن لم يذكر اسْم الله عَلَيْهِ»؛ لما فِي إِسْنَاده من التَّكَلُّم.

▪ فائدہ 1️⃣:
وضو سے پہلے بسم اللہ پڑھنا سنت ہے یا مستحب، اس حوالے سے دو آرا پائی جاتی ہیں: متعدد فقہاء کرام نے اس کو مستحب قرار دیا ہے جبکہ امام طحاوی، امام قدوری، بہت سے متأخرین اور حضرات اکابر نے اس کو سنت قرار دیا ہے۔ جہاں تک امام ابن الہمام رحمہ اللہ کے اس قول کا تعلق ہے کہ وضو سے پہلے بسم اللہ پڑھنا واجب ہے تو اس کو حضرات فقہاء کرام نے قبول نہیں فرمایا ہے۔
☀️ رد المحتار:
[تَتِمَّةٌ]:

مَا ذَكَرَهُ الْمُصَنِّفُ مِنْ أَنَّ الْبدَاءَةَ بِالتَّسْمِيَةِ سُنَّةٌ هُوَ مُخْتَارُ الطَّحَاوِيِّ وَكَثِيرٌ مِنَ الْمُتَأَخِّرِينَ.
وَرَجَّحَ فِي «الْهِدَايَةِ» نَدْبَهَا، قِيلَ: وَهُوَ ظَاهِرُ الرِّوَايَةِ، «نَهْرٌ». وَتَعَجَّبَ صَاحِبُ «الْبَحْرِ» مِنَ الْمُحَقِّقِ ابْنِ الْهُمَامِ حَيْثُ رَجَّحَ هُنَا وُجُوبَهَا، ثُمَّ ذَكَرَ فِي بَابِ شُرُوطِ الصَّلَاةِ أَنَّ الْحَقَّ مَا عَلَيْهِ عُلَمَاؤُنَا مِنْ أَنَّهَا مُسْتَحَبَّةٌ، كَيْفَ وَقَدْ قَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ: لَا أَعْلَمُ فِيهَا حَدِيثًا ثَابِتًا. (سنن الوضوء)

▪ فائدہ 2️⃣:
وضو شروع کرنے سے پہلے بسم اللہ پڑھنے سے متعلق جو روایات وارد ہوئی ہیں ان کو کئی محدثین کرام نے کمزور قرار دیا ہے حتی کہ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس حوالے سے کوئی معتبر حدیث میرے علم میں نہیں۔ البتہ زیادہ صحیح بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ اول تو ان میں سے بعض حسن درجے کی روایات بھی ہیں جو کہ دیگر کمزور روایات کے لیے قوت کا ذریعہ بن جاتی ہیں، دوم یہ کہ یہ تمام کمزور روایات بھی باہمی قوت کا ذریعہ بن جاتی ہیں، سوم یہ کہ ماقبل میں جو سنن ابن ماجہ کی حدیث ذکر کی گئی ہے وہ صحیح درجے کی ہے، جس کی وجہ سے مزید قوت پیدا ہوجاتی ہے۔ اس لیے ایسی تمام روایات مجموعی اعتبار سے قابلِ استدلال ہیں۔
اس بحث کے لیے ’’شرح ابن ماجہ لمغلطائی‘‘ کے ساتھ ساتھ درج ذیل عبارات بھی ملاحظہ فرمائیں:
☀️ مصباح الزجاجۃ لشہاب البوصیری:
(164) حَدثنَا أَبُو كريب مُحَمَّد بن الْعَلَاء: حَدثنَا زيد بن الْحباب، ح: وَحدثنَا مُحَمَّد بن بشار: حَدثنَا أَبُو عَامر الْعَقدي، ح: وَحدثنَا أَحْمد بن منيع: حَدثنَا أَبُو أَحْمد الزبيرِي، قَالُوا: حَدثنَا كثير بن زيد عَن ربيح بن عبد الرَّحْمَن بن أبي سعيد عَن أَبِيه عَن أبي سعيد الْخُدْرِيّ: أَن النَّبِي ﷺ قَالَ: «لَا وضوء لمن لم يذكر اسْم الله عَلَيْهِ».
هَذَا إِسْنَاد حسن، رَوَاهُ الْحَاكِم فِي «الْمُسْتَدْرك» عَن الْأَصَم عَن الْحُسَيْن بن عَليّ بن عَفَّان عَن زيد بن الْحباب بِهِ، وَزَاد فِي أَوله: «لَا صَلَاة لمن لَا وضوء لَهُ»، وَرَوَاهُ الْبَيْهَقِيّ عَن الْحَاكِم، وَسُئِلَ أَحْمد بن حَنْبَل عَن التَّسْمِيَة فِي الْوضُوء فَقَالَ: لَا أعلم فِيهِ حَدِيث كثير عَن ربيح، وَربيح رجل لَيْسَ بِمَعْرُوف. انْتهى. وَالْمَعْرُوف عَن البُخَارِيّ مَا حَكَاهُ عَن التِّرْمِذِيّ عَنهُ أَن أحسن شَيْء فِي هَذَا الْبَاب حَدِيث رَبَاح بن عبد الرَّحْمَن بن أبي سُفْيَان عَن جدته عَن أَبِيهَا سعيد بن زيد. وَسَيَأْتِي، وَقد أخرجه التِّرْمِذِيّ وَابْن ماجه، وَأعله أَبُو زرْعَة وَأَبُو حَاتِم وَابْن الْقطَّان، وَالله أعلم. وَربيح رَوَاهُ أَحْمد بن منيع فِي «مُسْنده» كَمَا ذكره ابْن ماجه، وَكَذَا أَبُو يعلى الْموصِلِي، ذكره ابْن حبَان فِي «الثِّقَات»، وَقَالَ ابْن عدي: أَرْجُو أَنه لَا بَأْس بِهِ، وَقَالَ التِّرْمِذِيّ: فِي «الْعِلَل» عَن البُخَارِيّ: مُنكر الحَدِيث، وَالله أعلم. قَالَ التِّرْمِذِيّ: وَفِي الْبَاب عَن عَائِشَة وَأبي سعيد وَأبي هُرَيْرَة وَأنس وَسَهل بن سعد. وَرَوَاهُ أَبُو بكر بن أبي شيبَة عَن زيد بن الْحباب وَمُحَمّد بن عبد الله بن الزبير عَن كثير بن زيد بِهِ فَذكره.
(165) حَدثنَا الْحسن بن عَليّ الْخلال: حَدثنَا يزِيد بن هَارُون: أَنبأنا يزِيد بن عِيَاض: حَدثنَا أَبُو ثفال عَن رَبَاح بن عبد الرَّحْمَن بن أبي سُفْيَان أَنه سمع جدته بنت سعيد بن زيد تذكر أَنَّهَا سَمِعت أَبَاهَا سعيد بن زيد يَقُول: قَالَ رَسُول الله ﷺ: «لَا صَلَاة لمن لَا وضوء لَهُ، وَلَا وضوء لمن لم يذكر اسْم الله عَلَيْهِ».
قلت: هَكَذَا رَوَاهُ أَبُو دَاوُد الطَّيَالِسِيّ فِي «مُسْنده» عَن الْحسن بن أبي جَعْفَر عَن أبي ثفال، بِهِ رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ فِي «جَامعه» من طَرِيق أبي ثفال بِهِ فَذكره دون قَوْله: «لَا صَلَاة لمن لاوضوء لَهُ».
(بَاب مَا جَاءَ فِي التَّسْمِيَة فِي الْوضُوء)
☀️ الترغیب والترہیب للمنذری:

3- عن رباح بن عبد الرحمن بن أبى سُفيان بن حُويطبٍ عن جدته عن أبيها قال: سمعت رسول الله ﷺ يقول: «لا وضوء لمن لم يذكر اسم الله عليه»، رواه الترمذي واللفظ له، وابن ماجه، والبيهقى، وقال الترمذي: قال محمد بن إسماعيل يعنى البخاري: أحسن شئ في هذا الباب حديث رباح بن عبد الرحمن عن جدته عن أبيها، قال الترمذي: وأبوها سعيد بن زيد بن عمرو بن نفيل.
(قال الحافظ): وفي الباب أحاديث كثيرة لا يسلم منها عن مقال. وقد ذهب الحسن وإسحاق بن راهويه، وأهل الظاهر إلى وجوب التسمية في الوضوء، حتى إنه إذا تعمد تركها أعاد الوضوء، وهو رواية عن الإمام أحمد، ولا شك أن الأحاديث التى وردت فيها وإن كان لا يسلم شئ منها عن مقال فإنها تتعاضد بكثرة طرقها، وتكتسب قوة، والله أعلم.
(الترهيب من ترك التسمية على الوضوء عامدا)

📿 وضو سے پہلے بسم اللہ کب پڑھی جائے؟
مذکورہ مسئلے سے متعلق یہ تفصیل بھی سمجھنے کی ضرورت ہے کہ جس وضو سے پہلے استنجا کرنے کی ضرورت ہو تو حضرات فقہاء کرام کا اس بات میں اختلاف ہے کہ ایسی صورت میں بسم اللہ کب پڑھی جائے؟ بعض حضرات فرماتے ہیں کہ چوں کہ ایسی صورت میں استنجا وضو کی تمہید اور حصہ ہے اس لیے استنجا سے پہلے بسم اللہ پڑھنا سنت ہے، جبکہ بعض دیگر حضرات کا قول یہ ہے کہ ایسی صورت میں بھی وضو ہی سے پہلے بسم اللہ پڑھنا سنت ہے۔ ان دونوں اقوال کو جمع کرتے ہوئے صحیح اور محتاط قول یہ ہے کہ جس وضو سے پہلے استنجا کی ضرورت ہو تو ایسی صورت میں استنجا سے پہلے بھی بسم اللہ پڑھی جائے اور وضو سے پہلے بھی۔

▪ وضاحت 1️⃣:
مذکورہ تفصیل کے مطابق استنجا سے پہلے بسم اللہ پڑھنے کی صورت یہ ہے کہ بیت الخلا میں داخل ہوتے وقت بیت الخلا کی دعا کے ساتھ ساتھ بسم اللہ بھی پڑھی جائے، البتہ اگر بیت الخلا کے علاوہ کسی اور جگہ استنجا کرنا ہو تو ایسی صورت میں بسم اللہ اور دعا ستر کھولنے سے پہلے پڑھی جائے، البتہ اگر استنجا ایسی جگہ کیا جارہا ہو جہاں گندگی ہو تو ایسی صورت میں وہاں جانے سے پہلے ہی بسم اللہ اور دعا پڑھ لی جائے۔ (رد المحتار)

▪ فائدہ:
اسی سے منسلک یہ بات بھی سمجھ لینی چاہیے کہ بعض روایات میں بیت الخلا جانے کی دعا میں بسم اللہ پڑھنے کا بھی ذکر آتا ہے، البتہ اہلِ علم جانتے ہیں کہ ان روایات پر محدثین کرام نے کلام بھی کیا ہے۔ ذیل میں روایات ملاحظہ فرمائیں:
☀️ مصنَّف ابن ابی شیبہ میں ہے:
30522- حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسٍ: أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ كَانَ إذَا دَخَلَ الْكَنِيفَ قَالَ: بِسْمِ اللهِ، اللَّهُمَّ إنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْخُبْثِ وَالْخَبَائِثِ.
☀️ کتاب الدعاء للطبرانی:
356- حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ هَاشِمٍ الْبَغَوِيُّ: حَدَّثَنَا قَطَنُ بْنُ نُسَيْرٍ الذِّرَّاعُ: حَدَّثَنَا عَدِيُّ بْنُ أَبِي عُمَارَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: إِنَّ هَذِهِ الْحُشُوشَ مُحْتَضَرَةٌ فَإِذَا دَخَلَ أَحَدُكُمُ الْخَلاءَ فَلْيَقُلْ: بِسْمِ اللهِ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْخُبُثِ وَالْخَبَائِثِ وَمِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ. قَالَ الطَّبَرَانِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: لَمْ يَقُلْ أَحَدٌ مِمَّنْ رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ قَتَادَةَ فِي مَتْنِهِ «بِسْمِ اللهِ» إِلا عَدِيُّ بْنُ أَبِي عُمَارَةَ.
357- حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بَكَّارِ بْنِ الرَّيَّانِ: حَدَّثَنَا أَبِي، ح: وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ: حَدَّثَنَا أَبُو مَعْشَرٍ عَنْ حَفْصِ بْنِ عُمَرَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ ﷺ إِذَا دَخَلَ الْخَلاءَ قَالَ: بِسْمِ اللهِ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْخُبُثِ وَالْخَبَائِثِ.
358- حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: أَنّ النَّبِيَّ ﷺ كَانَ إِذَا دَخَلَ الْكَنِيفَ قَالَ: بِسْمِ اللهِ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْخُبُثِ وَالْخَبَائِثِ. (باب القول عند دخول الخلاء)
☀️ فتح الباری میں ہے:

وَقَدْ رَوَى الْعُمَرِيُّ هَذَا الْحَدِيثَ مِنْ طَرِيقِ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ الْمُخْتَارِ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ بِلَفْظِ الْأَمْرِ قَالَ: «إِذَا دَخَلْتُمُ الْخَلَاءَ فَقُولُوا: بِسْمِ اللهِ أَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الْخُبْثِ وَالْخَبَائِثِ». وَإِسْنَادُهُ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَفِيهِ زِيَادَةُ التَّسْمِيَةِ، وَلَمْ أَرَهَا فِي غَيْرِ هَذِهِ الرِّوَايَةِ. (قَوْلُهُ: بَابُ مَا يَقُولُ عِنْدَ الْخَلَاءِ)
▪ البتہ ’’سنن ابن ماجہ‘‘ میں بیت الخلا میں داخل ہونے سے پہلے صرف بسم اللہ پڑھنے کا بھی ذکر آتا ہے:
297- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ: حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ بَشِيرِ بْنِ سَلْمَانَ: حَدَّثَنَا خَلَّادٌ الصَّفَّارُ عَنِ الْحَكَمِ النَّصَرِيِّ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ عَنْ عَلِيٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: سِتْرُ مَا بَيْنَ الْجِنِّ وَعَوْرَاتِ بَنِي آدَمَ إِذَا دَخَلَ الْكَنِيفَ أَنْ يَقُولَ: بِسْمِ اللهِ.

وضاحت 2️⃣:
ماقبل کی تفصیل سے معلوم ہوا کہ اگر استنجا کے بعد وضو کی نوبت نہ آرہی ہو تو ایسی صورت میں مذکورہ مسئلے کے مطابق استنجا سے پہلے بسم اللہ پڑھنے والی تفصیل لاگو نہ ہوگی، البتہ چوں کہ بعض روایات میں بیت الخلا جانے کی دعا میں بسم اللہ کا بھی ذکر آتا ہے اس لیے اگر کوئی ان کی اتباع میں بسم اللہ بھی پڑھ لے تو یہ درست ہے۔ جیسا کہ حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ نے ’’بہشتی زیور‘‘ میں بیت الخلا جانے کی دعا سے پہلے بسم اللہ پڑھنے کا بھی ذکر فرمایا ہے۔

📚 فقہی عبارات
☀️ فتاویٰ ہندیہ:
منها: التَّسْمِيَةُ. التَّسْمِيَةُ سُنَّةٌ مُطْلَقًا غَيْرُ مُقَيَّدٍ بِالْمُسْتَيْقِظِ وَتُعْتَبَرُ عِنْدَ ابْتِدَاءِ الْوُضُوءِ …… ويسمى قبل الِاسْتِنْجَاءِ وَبَعْدَهُ، هو الصَّحِيحُ، كَذَا في «الْهِدَايَةِ». وَلَا يسمى في حَالِ الِانْكِشَافِ وَلَا في مَحَلِّ النَّجَاسَةِ، هَكَذَا في «فَتْحِ الْقَدِيرِ». (الْفَصْلُ الثَّانِي في سُنَنِ الْوُضُوءِ)
☀️ الدر المختار:
(وَ) الْبدَاءَةُ (بِالتَّسْمِيَةِ) ….. (قَبْلَ الِاسْتِنْجَاء وَبَعْده) إلَّا حَالَ انْكِشَافٍ وَفِي مَحَلِّ نَجَاسَةٍ فَيُسَمِّي بِقَلْبِهِ ……

☀️ رد المحتار:
(قَوْلُهُ: قَبْلَ الِاسْتِنْجَاءِ)؛ لِأَنَّهُ مِنَ الْوُضُوءِ، وَالْبدَاءَةُ فِي الْوُضُوءِ شُرِعَتْ بِالتَّسْمِيَةِ، «حلْبةٌ»، وَفِيهَا: ثُمَّ هَذَا كُلُّهُ أَيْ مَا ذُكِرَ مِنْ أَلْفَاظِ التَّسْمِيَةِ عِنْدَ ابْتِدَاءِ الْوُضُوءِ. أَمَّا عِنْدَ الِاسْتِنْجَاءِ فَفِي الصَّحِيحَيْنِ: «أَنَّهُ ﷺ كَانَ إذَا دَخَلَ الْخَلَاءَ قَالَ: اللَّهُمَّ إنِّي أَعُوذُ بِك مِنْ الْخُبْثِ وَالْخَبَائِثِ»، وَزَادَ سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ وَأَبُو حَاتِمٍ وَابْنُ السَّكَنِ فِي أَوَّلِهِ: «بِسْمِ اللهِ» ….. (قَوْلُهُ: وَبَعْدَهُ)؛ لِأَنَّهُ حَالَ مُبَاشَرَةِ الْوُضُوءِ، «دُرَرٌ». وَفِيهَا أَنَّ عِنْدَ بَعْضِ الْمَشَايِخِ تُسَنُّ قَبْلَهُ، وَعِنْدَ بَعْضِهِمْ بَعْدَهُ، فَالْأَحْوَطُ أَنْ يُجْمَعَ بَيْنَهُمَا. اهـ. وَاخْتَارَهُ فِي «الْهِدَايَةِ» وَ«قَاضِي خَانْ». (قَوْلُهُ: إلَّا حَالَ انْكِشَافٍ إلَخْ) الظَّاهِرُ أَنَّ الْمُرَادَ أَنَّهُ يُسَمِّي قَبْلَ رَفْعِ ثِيَابِهِ إنْ كَانَ فِي غَيْرِ الْمَكَانِ الْمُعَدِّ لِقَضَاءِ الْحَاجَةِ، وَإِلَّا فَقَبْلَ دُخُولِهِ، فَلَوْ نَسِيَ فِيهِمَا سَمَّى بِقَلْبِهِ، وَلَا يُحَرِّكُ لِسَانَهُ تَعْظِيمًا لِاسْمِ اللهِ تَعَالَى …..
[تَتِمَّةٌ]: مَا ذَكَرَهُ الْمُصَنِّفُ مِنْ أَنَّ الْبدَاءَةَ بِالتَّسْمِيَةِ سُنَّةٌ هُوَ مُخْتَارُ الطَّحَاوِيِّ وَكَثِيرٌ مِنَ الْمُتَأَخِّرِينَ. وَرَجَّحَ فِي «الْهِدَايَةِ» نَدْبَهَا، قِيلَ: وَهُوَ ظَاهِرُ الرِّوَايَةِ، «نَهْرٌ». وَتَعَجَّبَ صَاحِبُ «الْبَحْرِ» مِنَ الْمُحَقِّقِ ابْنِ الْهُمَامِ حَيْثُ رَجَّحَ هُنَا وُجُوبَهَا، ثُمَّ ذَكَرَ فِي بَابِ شُرُوطِ الصَّلَاةِ أَنَّ الْحَقَّ مَا عَلَيْهِ عُلَمَاؤُنَا مِنْ أَنَّهَا مُسْتَحَبَّةٌ، كَيْفَ وَقَدْ قَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ: لَا أَعْلَمُ فِيهَا حَدِيثًا ثَابِتًا. (سنن الوضوء)

✍🏻۔۔۔ مبین الرحمٰن
فاضل جامعہ دار العلوم کراچی
محلہ بلال مسجد نیو حاجی کیمپ سلطان آباد کراچی
27 محرم الحرام 1442ھ/ 16 ستمبر 2020

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں


Notice: Undefined index: HTTP_CLIENT_IP in /home/ibrahim/public_html/wp-content/themes/upaper/functions.php on line 296

Notice: Undefined index: HTTP_X_FORWARDED_FOR in /home/ibrahim/public_html/wp-content/themes/upaper/functions.php on line 298

Notice: Undefined index: HTTP_X_FORWARDED in /home/ibrahim/public_html/wp-content/themes/upaper/functions.php on line 300

Notice: Undefined index: HTTP_FORWARDED_FOR in /home/ibrahim/public_html/wp-content/themes/upaper/functions.php on line 302

Notice: Undefined index: HTTP_FORWARDED in /home/ibrahim/public_html/wp-content/themes/upaper/functions.php on line 304

Notice: Undefined variable: aria_req in /home/ibrahim/public_html/wp-content/themes/upaper/comments.php on line 73

Notice: Undefined variable: aria_req in /home/ibrahim/public_html/wp-content/themes/upaper/comments.php on line 79

اپنا تبصرہ بھیجیں