وضو میں بازو دھونے کا سنت طریقہ


سوال
کیا ہاتھ کے چلو میں پانی لے کر بازو پر ڈالنا سنت ہے؟ اگر یہ سنت طریقہ ہے تو جو شخص اس کو سنت نہ مانے ایسی سوچ کا شرعی حکم کیا ہے؟

سنتِ مؤکدہ و غیر مؤکدہ کے بارے میں تفصیلاً ذکر فرمائیں کہ ان کو پڑھنے سے ثواب اور نہ پڑھنے سے گناہ ملتا ہے یا نہیں؟ جو شخص سنت مؤکدہ و غیرمؤکدہ کے بارے میں یہ تصور رکھتا ہے کہ ان کے پڑھنے سے ثواب ملتا ہے اور اگر نہ پڑھیں تو کوئی گناہ نہیں تو ایسے شخص کی یہ ایمانی حالت شرعاً کیسی ہے؟
جواب
وضو کے دوران بازو دھونے کا سنت طریقہ یہ ہے کہ اپنے بائیں ہاتھ کے چلو میں پانی لے کر دائیں ہاتھ پر انگلیوں کی طرف سے ڈالے اور پورے بازو پر کہنی سمیت پانی بہائے۔ اور اس ہاتھ کو مل کر دھوئے۔ یہ عمل تین دفعہ دُھرائے۔ پھر دائیں ہاتھ کے چلو میں پانی لے کر اسی طریقے سے بائیں ہاتھ کو دھوئے۔ بخاری شریف کی ایک روایت میں ہے:
عن ابن عباس رضی اللہ عنہ: أنہ توضأ، ثم أخذ غرفۃ من ماء فغسل بہا یدہ المینی، ثم أخذ غرفۃ من ماء فغسل بہا یدہ الیسری۔۔۔ ثم قال: ہکذا رأیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم یتوضأ۔ (با ب غسل الوجہ بالیدین من غرفۃ واحدۃ، 1/26)
فتاویٰ عالمگیری میں ہے:
و من السنن البدائۃ من رؤوس الأصابع فی الیدین و الرجلین کذا فی فتح القدیر(1/ 8)۔
یہی طریقہ سنت ہے۔ جیسا کہ نمبر 1 کی تفصیل میں گزرا ہے۔ البتہ جو شخص اس عمل کو سنت نہ مانے، اُس کے بارے میں واضح ہونا ضروری ہے کہ وہ اس طریقے کو سنت کیوں نہیں مانتا؟
سنت مؤکدہ کے نہ پڑھنے پر گناہ ہوتا ہے۔ البتہ اگر کسی عذر کی وجہ سے چھوڑے تو الگ بات ہے۔ اور سنت غیر مؤکدہ کے نہ پڑھنے پر گناہ نہیں ہے۔ جو شخص اِن دونوں عملوں کو برابر کہتا ہے، اس کا یہ تصور خلافِ شریعت ہے۔

دار الافتاء والتحقیق

Leave a Reply