76

ویڈیو گیم لہو ولعب ہے اور لہو لعب کو ذریعہ آمدنی بنانا جائز نہیں۔

سوال

میں انٹرنیٹ کی دکان کا مالک ہوں اور میں چاہتاہوں کہ ایسی دکان میں ویڈیو گیم بھی رکھوں جو آج کل مارکیٹ میں چل رہے ہیں جسینوجوان اور چھوٹے لڑکے شوق سے کہتے ہیں کہ مگر میں نے سنا ہے کہ اس ویڈیو گیم کے ذریعہ جو آمدنی ہوتی ہے وہ جائز نہیں ہے اور مکروہ ہے؟
براہ کرم، جواب دیں کہ یہ کمائی کیوں جائز نہیں ہے؟ اور اس کی وجوہات کیا ہیں؟

جواب

بسم الله الرحمن الرحيم
ویڈیو گیم لہو ولعب ہے اور لہو لعب کو ذریعہ آمدنی بنانا جائز نہیں۔ ولا تجوز الإجارة علی شيء من الغناء والنوح والمزامیر والطبل وشیٴ من اللہو ولا علی الحداء وقرارة الشعر ولا غیرہ ولا أجر في لک وہذا کلہ قول أبي حنیفة وأبي یوسف ومحمد رحمہم اللہ؛ لأنہ معصیة ولہو ولعب والاستیجار علی المعاصی واللعب لا یجوز لأنہ منہي عنہ (حاشیة الشبلی علی التبیین)
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

ماخذ :دار الافتاء دار العلوم دیوبند
فتوی نمبر :60287

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں