پردہ پوشی

پردہ پوشی

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ وَ کَفٰی وَ سَلٰمٌ عَلٰی عِبَا دِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی. أَمَّا بَعْدُ:
قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم:
مَنْ سَتَرَ مُسْلِمًا سَتَرَہُ اللّٰهُ فِي الدُّنْیَا وَالْآخِرَۃِ. (صحیح مسلم: رقم 2699)
سُبْحٰنَ رَبِّکَ رَبِّ الْعِزَّۃِ عَمَّا یَصِفُوْنَo وَ سَلٰمٌ عَلَى الْمُرْسَلِیْنَo
وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَo
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِ نَا مُحَمَّدٍ وَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِ نَا مُحَمَّدٍ وَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِ نَا مُحَمَّدٍ وَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ

علاج کے لیے تشخیصِ مرض ضروری ہے
آج کی اس مجلس میں پردہ پوشی سے متعلق بات عرض کی جائے گی اِن شاء اللہ۔
دیکھیے! جس طرح جسمانی بیمار شخص اپنے اندر کی بیماری اپنے معالج کو بتاتا ہے اور اس بات کو عیب نہیں سمجھتا۔ اگر نہیں بتائے گا تو اس کا علاج نہیں ہوگا۔ اسی طرح روحانی بیمار روحانی معالج کو اپنے اندر کی کمی بتاتا ہے، تو یہ عیب نہیں ہے۔ اگر نہیں بتاتا تو بغیر مرض کی تشخیص کیے علاج کیوںکر ہو سکے گا۔
اپنی غلطی دوسروں کو بتانا درست ہے؟
ایک ہے گناہوں کو جگہ جگہ ذکر کرنا، فون پر یاروں کو بتانا۔ آج کے زمانے میں تو Facebook ایک ایسی مصیبت آگئی ہے کہ گھر کی کوئی پارٹی ہوتی ہے تو فیس بک پر لگانے کی سب سے پہلے فکر ہوتی ہے۔ جو غلطیاں ہوئیں، کوتاہیاں ہوئیں، اللہ تعالیٰ کے احکامات ٹوٹے۔ شوشل میڈیا کے ذریعہ سب کو بتا دیتے ہیں۔ گناہوں کا پرچار کرنا خود بہت بڑا گناہ ہے۔ لیکن اپنی اِصلاح کی نیت سے اپنے مربی۔۔۔ّ کو، اپنے شیخ کو یا اپنے استاذ کو بتادینا کہ اِصلاح ہوجائے، یہ جائز ہے۔ یہ گناہ نہیں ہے۔
ایک ایسا موقع بھی آتا ہے کہ کسی کے گناہ کو یا عیب کو ظاہر کرنا ہوتا ہے تاکہ باقی لوگ بچ جائیں۔ مثلاً کسی گھر سے رشتہ آیا اور اس کے بارے میں کسی نے آپ سے پوچھا کہ فلاں صاحب کا رشتہ آیا ہے، کیا کروں؟ اب آپ کی ذمہ داری یہ ہے کہ اگر وہاں خدانخواستہ کوئی کمی ہے، آپ کو پتا ہے تو آپ اس کو بتادیں، تاکہ اس کا معاملہ خراب نہ ہو۔ اس میں شرعاً کچھ گنجائش ہے، لیکن بات یہ ہے کہ دل میں نیک نیتی ہو، کیوںکہ اعمال کا دارومدار نیت پر ہے۔
إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالـنِّـیَّاتِ. (صحیح البخاري: رقم 1)
ترجمہ: ’’تمام اعمال کا دارو مدار نیت پر ہے‘‘۔
اگر خیر خواہی کے ساتھ اور صحیح جذبے کے ساتھ دائرۂ شریعت میں رہتے ہوئے بات بتائی جا رہی ہے تو اس کی کسی قدر گنجائش ہے، لیکن اس کے علاوہ کی گنجائش کوئی نہیں۔ اگر بری نیت کے ساتھ اچھا کام بھی کررہے ہیں تو وہ بھی نقصان کا ذریعہ بنے گا۔
مسلمان کے عیب کی پردہ پوشی پر اِنعامات
حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ نبی نے ارشاد فرمایا: جو شخص کسی مسلمان کی پردہ پوشی کرے گا، اللہ ربّ العزّت اس کی دنیا میں بھی پردہ پوشی کریں گے اور آخرت میں بھی پردہ پوشی کریں گے۔ (صحیح مسلم: رقم 2699)
جنت میں داخلہ ہم سے ہر ایک ہی چاہتا ہے۔ آئیے ہم ڈیل کرتے ہیں اللہ تعالیٰ سے کہ ہم کسی مسلمان کی برائی کا چرچا نہیں کریں گے۔ مسلمان کے راز کو راز رکھیں گے جب تک کہ کسی دوسرے کے نقصان کا اندیشہ نہ ہو۔
حضرت ابوسعید خدری سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا: جس نے اپنے کسی مسلمان بھائی کے کسی عیب کو دیکھا اور اسے چھپا لیا، وہ جنت میں جائے گا۔ (تخریج أحادیث إحیاء علوم الدّین: رقم 1731)
آج اگر یہ حدیث ہم لوگوں میں رَچ بس جائے تو اِن شاء اللہ جنت کے فیصلے ہمارے لیے آسان ہوجائیں گے۔ کرنا کیا ہے؟ اپنے اوپر کنٹرول اور جنت۔
ایک حدیث میں حضرت عقبہ بن عامر سے روایت ہے کہ نبی نے ارشاد فرمایا: جس نے کسی مؤمن کی پردہ پوشی کی اس نے گویا زندہ درگور کو زندگی عطاکر دی۔
(تخریج أحادیث إحیاء علوم الدّین: رقم 1642)
یعنی جب کسی کے عیب کا آپ کو معلوم ہوگیا تو گویا وہ آپ کی نظروں میں زندہ درگور ہوگیا۔ اگر آپ نے اس کے عیب کی پردہ پوشی کرلی تو اس کو گویا نئی زندگی مل گئی، وہ آرام سے کام کرسکتا ہے۔ اب صحابۂ کرام کا عمل دیکھیے!
حضرت عقبہ بن عامر کا عمل
حضرت عقبہ بن عامر کے غلام ایک دفعہ ان کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ حضرت! آپ کا ایک پڑوسی شراب پیتا ہے۔ آپ اس کے بارے میں خبر آگے کر دیجیے، تاکہ کوتوال یا پولیس آئے اور اس کو سزا دے۔ صحابی رسول حضرت عقبہ نے فرمایا: اس کو چھوڑ دو، کوئی بات نہیں کرنا۔ اس لیے کہ میں نے رسولﷺ سے سنا ہے کہ جو شخص کسی مؤمن کے عیب کو چھپائے، اس نے گویا قبر میں دفن شدہ کو زندہ کر دیا۔ نئی زندگی، نئی حیات اس کو مل گئی۔ (تخریج أحادیث إحیاء علوم الدّین: رقم 1642)
اب اگر ہم اس عمل کو نہیں اپنائیں گے تو پھر کیا ہوگا؟ اس کو بھی سن لیجیے۔
ٹوہ میں پڑنے کا دنیاوی نقصان
حضرت ابو برزہ اسلمی سے روایت ہے کہ آپﷺ نے خطبہ دیا جس میں یہ بات ارشاد فرمائی:
’’اے اُن لوگوں کی جماعت جو زبان سے تو ایمان لائے ہیں، مگر ان کے دل ابھی ایمان سے خالی ہیں! مسلمانوں کی غیبت نہ کیا کرو، اور نہ اُن کے پوشیدہ امور کی ٹوہ میں پڑو۔ اس لیے کہ جو شخص لوگوں کے رازوں کے پیچھے پڑے گا، اللہ تعالیٰ اس کے راز کے پیچھے پڑجائے گا، اور اللہ تعالیٰ جس کے راز کے پیچھے پڑجائے اسے گھر بیٹھے ذلیل ورسوا کر دے گا‘‘۔ (سنن ابی داؤد: رقم 4880)
جب کوئی شخص کسی دوسرے کے عیبوں کے پیچھے پڑجاتا ہے کہ کسی طرح مجھے معلوم ہوجائے کہ فلاں کے گھر میں کیا مسائل ہیں؟ کیا خرابیاں ہیں؟ کیا اُن کی لڑائیاں چل رہی ہیں؟ جھگڑے کیا ہیں؟ کھود کُرید میں لگ جائے تو بظاہر اس کی یہ محنت ہے، مگر اللہ ربّ العزّت کو اس آدمی کا یہ عمل اتنا ناپسند ہے کہ اللہ تعالیٰ اس ٹوہ میں پڑنے والے کو اس کے اپنے گھر میں بیٹھے ذلیل ورسوا کردیں گے۔ اگر ہم یہ چاہتے ہیں کہ ہمارے عیبوں پر پردہ رہے، ہم دوسروں کے عیوب پر پردہ رکھیں۔ پھر بات سمجھنے کی ہے کہ دنیا میں تو یہ معاملہ ہوگیا کہ انسان ذلیل ورسوا ہوجائے گا، لیکن قیامت کے دن کیا ہوگا؟ وہ تو ہماری ضرورت کا بڑا دن ہے۔ اس دن کی ذلت و رسوائی معمولی نہیں ہے۔
ٹوہ میں پڑنے کا اُخروی نقصان
حضرت عبداللہ بن عباس سے روایت ہے کہ نبی نے ارشاد فرمایا: جو اپنے مسلمان بھائی کی ستر پوشی کرے گا، اللہ ربّ العزّت قیامت کے دن اس کے ساتھ ستاری کا معاملہ فرمائیں گے (بروزِ قیامت اس کی پردہ پوشی کی جائے گی)، اور جو شخص اپنے کسی مسلمان بھائی کی پردہ دری کرے گا، اللہ تعالیٰ اس کی پردہ دری فرمائیں گے حتّٰی کہ اس کو گھر بیٹھے رسوا کر دیں گے۔ (سنن ابن ماجہ: رقم 2079)
یعنی صرف دنیا میں نہیں، آخرت کی رسوائی بھی انسان مول لے لیتا ہے۔ آج ہم اپنی زبان کی باتوں پر غور تو کریں۔ ہم 24 گھنٹے کی زندگی پر غور تو کریں کہ کتنی گفتگو ہماری اچھی ہوتی ہے، اور کتنی گفتگو ہماری بری ہوتی ہے۔ اندازہ ہوجائے گا کہ دنیا اور آخرت میں ہمارے ساتھ کیا ہونے لگا ہے۔
معاشرے کی تباہی
ابھی کچھ پہلے سنن ابی داؤد کی روایت بیان ہوئی۔ جس میں ہے کہ حضور نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ’’مسلمانوں کی غیبت نہ کیا کرو، اور نہ اُن کے پوشیدہ اُمور کی ٹوہ میں پڑو‘‘۔ مطلب یہ کہ ہر ایک کے اندر کوئی نہ کوئی خامی تو ہوتی ہے۔ ٹوہ میں پڑے رہنے سے یہ ہوگا کہ تم دوسروں کی غلطیوں کو بتانے والے اور کھولنے بن جائو گے۔ اگر ہر آدمی اس طرح کرنے لگ جائے تو پورا معاشرہ خراب ہوجائے گا۔ ماحول خراب ہوجائے گا۔ تعلقات خراب ہوجائیں گے۔ اُمت کا سراسر نقصان ہی نقصان ہے۔ لوگوں کے عیب کو تلاش کرنے میں کوئی خیر نہیں ہے۔ ہمارے اختیار میں تو ہے نہیں کہ ہم لوگوں کی اِصلاح کرسکیں، سب ٹھیک کرسکیں۔ عیب تلاش کرنے کے بعد ایک تو آدمی کا اپنا دل خراب ہوگا۔ اور دوسرا یہ کہ اپنا دل خراب ہونے کے بعد ہم وہ بات کسی سے شیئر بھی کریں گے تو اس کا دل بھی خراب ہوگا۔ پورے گھر کا ماحول، معاشرے کا ماحول، مدرسے کا ماحول، سارے ماحول خراب ہوجائیں گے۔ اس لیے فرمایا کہ دیکھو! مسلمانوں کے پوشیدہ اُمور کی ٹوہ میں نہ پڑو۔
سربراہ کے لیے قیمتی نصیحت
حضرت جُبیر بن نُفیر، حضرت کثیر بن مُرَّہ، حضرت عمرو بن اَسود، حضرت مقدام بن معدیکر ب اور حضرت ابو اُمامہ  سے یہ روایت نقل کی گئی ہے کہ حضور پاکﷺ نے ارشاد فرمایا: جب سربراہ لوگوں سے سوئے ظن یا شکوک وشبہات میں رہتا ہے تولوگوں کے درمیان فساد پیدا ہوجاتا ہے۔ (سنن ابی داؤد: رقم 4889)
یعنی ملک کا سربراہ ہو، یا کوئی عہدیدار ہو، یا کسی مدرسے کا بڑا ہو، یا کسی بھی تنظیم کا، یا معاشرے کے کسی بھی شعبہ کا بڑا ہو۔ ان بڑوں کے لیے پیغام ہے کہ انہیں چاہیے کہ اپنے چھوٹوں کے ساتھ حُسنِ سلوک و حسنِ ظن رکھیں۔ اگر سوئے ظن یعنی بدگمانی رکھیں گے اور شکوک وشبہات میں رہیں گے تو کیا ہوگا کہ ایک دوسرے کی جاسوسی کرائیں گے اور کسی پر اطمینان نہیں ہوگا، کسی سے کام نہیں لے سکیں گے۔ ان کو کسی پر اعتماد ہی نہ ہوگا تو ملازمین سے کام بھی نہیں لے سکیں گے۔ ایک سے کہیں گے کہ اس کی خبر مجھے دو، دوسرے سے کہیں گے کہ اس کی خبر مجھے دو۔ ایک دوسرے کی جاسوسی ہی ہمیشہ کرواتے رہیں گے اور اپنے ماتحتوں سے بلا جھجک کام نہیں لے سکیں گے۔
اس لیے اللہ تعالیٰ جس کسی کو ادارے کی سربراہی سے نوازے اسے چاہیے کہ اعتماد کی فضا کو قائم رکھے۔ شکوک وشبہات کی فضا کو قائم رکھا تو لوگوں کے درمیان اطمینان ختم اور فساد شروع ہوجائے گا۔ ہر ایک اپنی مخلصی کو ظاہر کرنے کے لیے دوسرے کو غیر مخلص ظاہر کرے گا، تو اس منتظم اور سربراہ کو مخلص اور غیر مخلص کا فرق پتا ہی نہیں لگے گا اور بلاوجہ لوگوں کی برائیاں کھل جائیں گی۔ حضور پاکﷺ نے اربابِ انتظام کو ایک نصیحت فرمائی کہ دیکھو! اپنے سے نیچے والوں سے برا گمان مت رکھو، اچھا گمان رکھو۔ اللہ مہربانی فرمادیں گے۔
نبی کریمﷺ کی خندق کے موقع پر دعا
حضور پاکﷺ نے ایک خاص دعا اپنی امت کو سکھائی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ذات ستّار العیوب ہے۔ اس سے اپنے گناہوں پر پردہ پوشی مانگو۔
حضرت ابوسعید خدری سے روایت ہے کہ ہم نے خندق کے دن جب ایک طرف کفارِ مکہ کی فوج اور دوسری طرف یہود بنی قریظہ تھے۔ آپﷺ سے پوچھا کہ ہم کیسے دعا مانگیں؟ اللہ کے نبیﷺ نے اِرشاد فرمایا: ہاں! پھر انہیں یہ دعا سکھائی:
اَللّٰھُمَّ اسْتُرْ عَوْرَاتِنَا وَاٰمِنْ رَوْعَاتِنَا. (المقاصد الحسنۃ: رقم 164، حدیثٌ مرفوعٌ)
ترجمہ: ’’اے اللہ! ہمارے عیبوں کی پردہ پوشی فرما اور ہمیں خوف سے امن عطا فرما‘‘۔
اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی دعائوں میں اس دعا کو شامل کریں کہ اے اللہ! ہمارے گناہوں پر پردے ڈال دیجیے، اور ہمارے خوف کو امن سے تبدیل کر دیجیے۔ ہر شخص کو یہی خوف ہوتا ہے کہ اگر اس کے گناہ کسی کو پتا لگ گئے تو دنیا میں بھی رسوائی اور آخرت میں بھی رسوائی۔ اس لیے نبی نے جو دعا سکھائی ہے، اللہ سے مانگیے۔
یہی دعا خوف اور دہشت کے موقع پر بھی پڑی جاتی ہے۔حضراتِ صحابۂ کرام نے غزوۂ خندق کے موقع پر یہی دعا پڑھی جیسا کہ بات اوپر آئی تو اللہ تعالیٰ نے انہیں دشمنوں کے دو لشکروں کے درمیان سے اَمن عطا فرما دیا۔ آج کل ہمارے ملک کے بھی حالات ہیں، تو ان حالات کی بہتری کے لیے اس دعا کو پڑھیں گے تو یہ سنت ہے اِن شاء اللہ۔ اور اللہ تعالیٰ سے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ سکون اور اطمینان نصیب فرمائیں گے۔
گھر کی باتیں گھر میں رہیں
اب مسلم شریف کی ایک روایت اور سن لیجیے۔ نبیﷺ نے گھر اور گھریلو راز کی باتیں ظاہر کرنے پر منع فرمایا ہے۔ آج کل کے میڈیا اور ماحول نے سبق ہی کچھ اور پڑھا دیا، اور اُمت کو نبی کے راستے سے بالکل ہٹا دیا۔
حضرت ابوسعید خدری روایت کرتے ہیں کہ حضور پاکﷺ نے ارشاد فرمایا:
إِنَّ مِنْ أَشَرِّ النَّاسِ عِنْدَ اللّٰهِ مَنْزِلَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ الرَّجُلَ يُفْضِيْ إِلَى امْرَأَتِهِ وَتُفْضِي إِلَيْهِ ثُمَّ يَنْشُرُ سِرَّهَا. (صحیح مسلم: رقم 1437)
ترجمہ: ’’لوگوں میں سب سے زیادہ برا اللہ تعالیٰ کے نزدیک قیامت کے دن وہ شخص ہے جو اپنی عورت کے پاس جائے اور عورت اس کے پاس آئے (یعنی صحبت کرے) اور پھر وہ شخص اس کا بھید ظاہر کر دے‘‘۔
قیامت کے دن سب سے بدترین شخص وہ ہے جو بیوی کے ساتھ پیش آنے والی باتوں کو لوگوں میں ظاہر کرتا ہے۔ بیوی کے ساتھ جو معاملات پیش آتے ہیں، ان کو لوگوں پر ظاہر کرنا بری بات ہے۔ شریفانہ اَخلاق کے بھی خلاف ہے کہ آدمی گھریلو باتیں گھر سے باہر کسی کو بغیر ضرورت بتائے۔ جب گھریلو راز اِفشا ہوتا ہے، اس سے انسان لوگوں کی نگاہوں میں ذلیل ہوجاتا ہے۔ اس کا وقار وقار ختم ہوجاتا ہے۔ بہت ساری عورتیں ایسی ہیں جو اپنے خاوند کی شکایت جگہ جگہ جاکر کرتی ہیں۔ اگر جگہ جگہ جا کر نہ بھی کرے، تو اپنے والدوالدہ سے، اپنے بھائیوں اور بہنوں سے تو ضرور کرتی ہیں۔
میکے میں شوہر کی برائی کا نقصان
میکے میں برائیاں اور ذکر کرنے سے کیا ہوتا ہے؟ نہ اس سے اس کا شوہر ٹھیک ہوتا ہے، اور نہ معاملات ٹھیک ہوتے ہیں۔ البتہ شوہر کی عزّت ختم ہوجاتی ہے، اس کا وقار نہیں رہتا، ختم ہوجاتا ہے۔ خود اس عورت کی بھی وہ عزّت نہیں رہتی۔ جب یہ جھگڑے کا ذریعہ بنتی ہے تو اس پر بھی کیچڑ اُچھالنے والے کیچڑ اُچھالتے ہیں۔ اگر یہ عورت اپنے گناہوں کو چھپاتی، اپنے گھر کی باتوں کو چھپاتی، اِدھر اُدھر نہ کرتی تو اس کی ایک عزّت، ایک وقار، ایک دبدبہ قائم ہوجاتا۔ انسان اپنے آپ کو خود ہی خراب کرتا ہے۔
جو عورت اپنی زندگی میں اپنے خاوند کا مقام اپنے میکے میں اور معاشرے میں نہ بنا سکی، اس نے خاوند کی کیا عزّت کی؟ اس رشتے کی اس نے کیا لاج رکھی؟ اس نے تو کچھ بھی نہیں کیا۔ خاوند کے ساتھ ساری زندگی اسے رہنا ہے۔ خاوند کی عزّت کرنا ضروری ہے۔ اس کے ساتھ رہے بغیر یہ گزارا کر ہی نہیں سکتی۔ پھر اُسی کو ذلیل کرکے اس نے کیا حاصل کیا؟ یہ سب ہوش میں لانے کی باتیں ہیں۔
بیوی کو عزّت دیں
اسی طرح مردوں کو چاہیے کہ بیوی کو زندگی بھر کے لیے اپنا بنا کرلے آئیں۔ اس کو ذلیل کرنا، اس کو رسوا کرنا، یہ بڑی بے وقوفی کی بات ہے۔ دنیا میں تو آپ اپنے پائوں پر کلہاڑی مار ہی رہے ہیں۔ قیامت کے دن کی جو پریشانیاں ہیں وہ الگ ہیں۔ نبی نے بتایا ہے کہ سب سے بدترین شخص اللہ تعالیٰ کے نزدیک قیامت کے دن وہ ہوگا جو اپنی بیوی کے ساتھ پیش آنے والی باتوں کو لوگوں پر ظاہر کرتا ہے۔ جب آپ اسے عزّت نہیں دیں گے تو آپ کی اپنی عزّت معاشرے میں کیا رہ جائے گی۔ جو جیسا کرتا ہے، ویسا بھرتا ہے۔ اولاد پر اس کا کیا اثر پڑے گا؟ اور کل جب ان کے رشتے ہوں گے تو پھر وہ اسی کو کر کے بتائیں گے تو بتلائیے کہ اس وقت کیسی شرمندگی ہوگی۔ یہ باتیں انہیں بتائی جا رہی ہیں جن کے دلوں میں اللہ کی محبت ہے۔ وہ بچنے والے ہوں گے۔
پروپیگنڈے سے بچنا
آج کل کے شوشل میڈیا نے گھر کے اندر کی باتوں کو برسرِعام کرنے کی ایک مہم شروع کی ہے۔ ہر ایک کے گھر کی کہانی کو اوپن کر کے اظہارِ رائے کرنا فخر سمجھتے ہیں۔ آپ جب کسی دوسرے کے گھر میں داخل ہوگئے تو پھر آپ کو سب کچھ پتا لگ جائے گا کہ اس گھر میں ہوکیا رہا ہے۔ اس دینِ اسلام کی یہ خوبی ہے کہ گھروں کو توڑتا نہیں، جوڑتا ہے۔ اور بتائیے کہ عیب کس میں نہیں ہے؟ پھر گھر گھر کی کہانیاں سنانا اور اس پر تبصرے اور تذکرے کرنا، یہ جوڑنا تو نہ ہوا، یہ توڑنا ہوا۔ مثال کے طور پر کسی کے گھر کی داستان منظرِ عام پر لاکر کیا بتلایا جاتا ہے کہ اتنا سب کچھ ہو رہا ہے، پھر یہ کیوں جڑے ہوئے ہیں؟ انہیں توڑو۔ یہ اخلاق تو کیا، انسانیت سے بھی گری باتیں ہیں۔ پتا نہیں، یہ کس درجے تک یہ باتیں ٹھیک ہیں۔
ہم کسی کے عیب کو کہیں بھی ذکر نہ کریں۔ کسی کی کوئی بات پتا چل جائے تو خاموشی اختیار کریں، کسی سے ذکر نہ کریں۔ اللہ تعالیٰ سے مانگتے رہیں۔ اللہ! ہمارے گناہوں کی ستّاری فرما، اور ہمیں امن عطا فرما۔
راز کی حفاظت
دوسری بات یہ کہ بعض مرتبہ کسی کو کوئی خاص کام بتایا جاتا ہے، تو اس کو چاہیے کہ اگر دوسرے نے اس کو عزّت دی ہے اور خاص کام میں رازدار بنایا ہے تو اس کی بہت ہی زیادہ حفاظت کرے۔
خادمِ رسولﷺ حضرت انس فرماتے ہیں کہ میں بچوں میں کھیل رہا تھا کہ حضور پاکﷺ تشریف لائے۔ اور نبی نے مجھے اپنے کسی کام سے بھیجا۔ اس کام سے فراغت پر واپس اپنی امی کے پاس پہنچا تو مجھے دیر ہوگئی۔ امی نے پوچھا کہ بیٹا انس! آج دیر کیوں ہوئی؟ میں نے کہا کہ رسول اللہﷺ نے مجھے ایک کام سے بھیج دیا تھا، اس لیے دیر ہوگئی۔ امی نے پوچھا کہ کیا کام تھا؟ میں نے کہا: امی! کوئی خاص راز کی بات تھی، آپ سے ذکر نہیں کرسکتا۔ میری والدہ نے کہا: بیٹا! یہ راز کی بات کسی سے مت ذکر کرنا۔ حضرت انس نے جب یہ روایت بیان فرمائی تو اپنے شاگرد حضرت ثابت سے کہنے لگے: اگر میں یہ راز کی بات کسی (باصلاحیت) کو بتاتا تو اے ثابت! میں تجھے بتاتا، لیکن میں نے کسی کو بھی نہیں بتائی۔ (صحیح مسلم: رقم 4539)
نبی نے حضرت انس پر اعتماد کر کے کسی کام سے بھیجا تھا جو کہ خاص نوعیت کا کام تھا۔ دیر سے آنے پر اپنی امی کو اتنا بتایا کہ نبی نے ایک خاص کام سے بھیجا تھا، مگر ماں کے سوال پر اس راز کو ظاہر نہیں کیا۔ اور ماں نے بھی فوراً کہہ دیا کہ بیٹا! کبھی کسی کو نہ بتانا۔ حضرت انس کا یہ واقعہ نبی پاکﷺ کی زندگی میں ہوا، کسی کو نہیں بتایا۔ اپنے آخری وقت میں لوگوں کو اتنا تو بتا دیا کہ ایک ایسا معاملہ پیش آیا تھا، لیکن بتلایا کسی کو نہیں۔ زندگی بھر اس پر خاموش رہے۔
غصہ کے تقاضے پر برا عمل
بعض مرتبہ ہم لوگ آپس میں ایک دوسرے سے خاص بات شیئر کر دیتے ہیں۔ پھر وہ ہر جگہ جاکر بتا رہے ہوتے ہیں۔خاص کر اس موقع پر جب آپ کی اور اس کی دوستی ختم ہو جائے اور اسے کسی وجہ سے آپ پر غصہ آ جائے تو پھر کوئی راز راز نہیں رہتا۔ جب تک دوستی ہوتی ہے، تب تک راز راز رہتا ہے۔ جیسے ہی غصہ چڑھ جاتا ہے، اس کے بعد یہ معاملہ ختم ہوجاتا ہے اور ہم غصے میں آکر دوسروں کی باتوں کو کھول رہے ہوتے ہیں۔ یہ بڑی ناپسندیدہ بات ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
وَالْکَاظِمِیْنَ الْغَیْظَ وَالْعَافِیْنَ عَنِ النَّاسِط وَاللّٰہُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَo
(آل عمران: 134)
ترجمہ: ’’اور جو غصے کو پی جانے اورلوگوں کو معاف کر دینے کے عادی ہیں، اللہ تعالیٰ ایسے نیک لوگوں سے محبت کرتا ہے‘‘۔
غصہ آنا انسان کی صفت ہے۔ غصہ کا آنا برا نہیں ہے، اس کو باقی رکھنا، اس کے تقاضوں پر عمل کرنا، یہ برا ہے۔ بعد میں بھی شرمندگی ہی ہوتی ہے۔ نبی نے ایسے شخص کو پہلوان فرمایا جو غصے پر کنٹرول کرسکے۔ (صحیح البخاري: باب الحذر من الغضب)
غصے کے بارے میں دو واقعات سنیے!
میمون بن مہران کا واقعہ
امام غزالی نے اپنی کتاب إحیاء میں ایک واقعہ لکھا ہے۔ فرماتے ہیں کہ میمون بن مہران کے پاس مہمان بیٹھے ہوئے تھے۔ انہوں نے اپنی باندی سے کہا کہ جلدی سے کھانا لے آؤ۔ وہ ایک بھرے ہوئے پیالے میں گرم گرم سالن یا شوربہ لے کر آئیں۔ جلدی میں تھیں کہ اچانک پاؤں پھسل گیا اور وہ شوربہ میمون بن مہران کے سر پر گر گیا۔ میمون نے کہا کہ کیا تم مجھے جلانا چاہتی ہو؟ (خیال ہوا کہ میں اس کو سزا دوں)  باندی نے فوراً کہا کہ اے خیر کا درس دینے والے، اور لوگوں کو ادب کی باتیں بتانے والے! اللہ تعالیٰ کا فرمان پڑھ لیجیے۔ انہوں نے پوچھا کہ وہ کیا؟ باندی نے یہ آیت پڑھی: وَ الْكٰظِمِيْنَ الْغَيْظَ
میمون نے فرمایا کہ میں نے غصے کو پی لیا ہے۔ باندی نے پھر پڑھا:
وَالْعَافِیْنَ عَنِ النَّاسِ.
میمون نے فرمایا کہ میں نے تجھے معاف کر دیا۔ باندی نے پھر آگے پڑھا:
وَاللّٰہُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ.
میمون نے فرمایا: تو اللہ تعالیٰ کے لیے آزاد ہے۔ (إحیاء علوم الدین: حقوق المملوک)
حضرت علی بن حسین کا واقعہ
امام بیہقی فرماتے ہیں کہ حضرت سیدنا علی بن حسینi کی ایک کنیز انہیں وضو کرا رہی تھیں کہ اچانک پانی کا برتن اس کے ہاتھ سے چھوٹ کر حضرت علی بن حسین کے چہرے پر گر پڑا۔ (کپڑے بھی بھیگ گئے اور برتن لگنے سے تکلیف بھی ہوئی) غصہ سے کنیز کو دیکھا تو اسے خطرہ ہوا کہ کہیںمجھ پر غصہ نہ ہو جائیں۔ اس نے فوراً یہ آیت پڑھی:
وَ الْكٰظِمِيْنَ الْغَيْظَ .
یہ سنتے ہی خاندانِ نبوت کے اس عظیم بزرگ نے کہا کہ میں نے اپنا غصہ پی لیا۔ یہ سن کر کنیز نے اگلا جملہ پڑھا:
وَالْعَافِیْنَ عَنِ النَّاسِ.
انہوں نے فرمایا: اللہ تجھے معاف کرے۔
کنیز بھی اسی خاندان سے تعلق رکھنے والی تھی۔ سمجھتی تھی کہ لوہا گرم ہے تو آگے بھی پڑھا جائے۔ اس نے تیسرا جملہ بھی پڑھ دیا:
اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ.
حضرت علی بن حسین نے فرمایا کہ جاؤ، تم آزاد ہو۔ (شعب الایمان: رقم 7824)
یہ وہ لوگ تھے جب اللہ کا حکم اُن کے سامنے آجاتا تو بس اپنی ہر بات کو ختم کرکے اللہ کے حکم کی طرف متوجہ ہوجایا کرتے تھے۔
نکتہ کی بات
اس لیے طالباتِ علم کو چاہیے کہ اپنے اندر ان صفات کو پیدا کریں۔ جو اَحکامات یہ پڑھ رہی ہیں، دن رات کے اوقات جن چیزوں میں گزر رہے ہیں کہ اللہ کا حکم یہ ہے، رسولِ پاکﷺ کا طریقہ یہ ہے۔ دورانِ طالبِ علمی میں ان کو عمل کے سانچے میں ڈھالتی جائیں۔ یہ نہ سوچیں کہ جب ہم چھ سال پورے کرلیں گی اور ہمیں وفاق کی ڈگری مل جائے گی، ہم مستند عالمہ ہوں گی اور ساری دنیا میں ہمارا نام ہو جائے گا۔ اور کہا جائے گا کہ جناب! یہ دیکھو عالمہ جارہی ہے۔ اس کے بعد ہم عمل کریں گے۔
یاد رکھیے! اگر طالبِ علمی کے دوران عمل نہ کیا تو بعد میں اِکٹھا عمل نہ ہوسکے گا۔ آہستہ آہستہ اپنے عمل کو بڑھانے کی فکر کریں۔
غصہ کو پی جانے کے فضائل
حضرت عبداللہ بن عمر سے مروی ہے کہ نبی نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے محبوب اور پسندیدہ غصے کا وہ گھونٹ ہے جسے اللہ کے واسطے پی لیا جائے۔ (سنن ابن ماجہ: رقم 4189)
یہاں بھی ایک بات سمجھنے والی ہے کہ جب کسی کمزور یا ماتحت پر غصہ آجائے، اسے اللہ کے لیے پی جائے تو بہت ثواب کی بات اور پسندیدہ عمل ہے۔ ایسا نہ ہو کہ کسی کے ڈر کی وجہ سے رُک گیا۔ یہ اللہ کے لیے نہ ہوا۔ اللہ تعالیٰ کے لیے تو یہ ہے کہ آدمی کو غصہ آیا اور اپنے پروردگار کا نام سن کر رک گیا۔ تو ہم اللہ کے لیے غصے کو پینے والے بن جائیں۔ بس اللہ کے لیے غصہ کی حالت میں نہ ہم چھوٹے کو جواب دیں، نہ بڑے کو جواب دیں۔ کمزور پر خوب غصہ اتارا جا سکتا ہے تو اتار لیا، اور طاقتور پر غصہ نہیں کر سکتے تو وہاں سیدھے ہوگئے۔ یہ مجبوری کا معاملہ ہے۔ یہ اللہ کے لیے نہیں کہلایا جائے گا۔
حضرت معاذ بن انس کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا: جو شخص غصے کو پی جائے انتقام لینے کی طاقت رکھنے کے باوجود، تو اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن ساری مخلوق کے سامنے بلائیں گے اور اسے اختیار دیں گے کہ جس حورِ عین کو چاہے، پسند کرلے۔ (سنن ابی داؤد: رقم 4777)
اسی حدیث شریف کے آگے امام ابو داؤد ایک اور روایت نقل کی ہے۔ اس میں ہے کہ جو شخص غصہ کو پی جائے، اگر وہ چاہتا تو اس غصہ پر عمل درآمد کر سکتا تھا، لیکن اس نے (اللہ کی رضا کے لیے) پی لیا تو اللہ ربّ العزّت اس شخص کو (یعنی اس کے دل کو) امن اور ایمان سے بھر دیں گے۔ (سنن أبي داود: باب من کظم غیظًا)
غصہ کیسے دور کیا جائے؟
حضرت عطیہ سے روایت ہے کہ حضورﷺ نے ارشاد فرمایا: غصہ شیطان کے اَثر سے ہے، اور شیطان آگ سے پیدا کیا گیا ہے، اور آگ پانی سے بجھتی ہے۔ جب تم میں سے کسی کو غصہ آجائے تو اسے چاہیے کہ وضو کرلے۔ (سنن ابی داؤد: رقم 4784)
غصہ کا بہترین علاج نبی نے فرمایا کہ انسان وضو کرلے۔ اس کے علاوہ غصہ دفع کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ آدمی اُس جگہ سے جہاں غصے کی بات ہوئی، اس جگہ سے دور ہوجائے۔ اور تعوّذ یعنی أَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ پڑھ لے۔
ایک گنوار کا عجیب واقعہ
بخاری شریف میں ایک واقعہ اس سے متعلق نقل کیا گیا ہے۔ حضرت سلیمان بن صرد صحابی فرماتے ہیں کہ دو آدمیوں کے درمیان کسی معاملے میں بات بڑھ گئی۔ اس موقع پر نبی موجود تھے۔ ان میں سے ایک کو شدید غصہ آیا ہوا تھا جس کی وجہ سے اس کا چہرہ اور رگیں پھول رہی تھیں۔ (دوسری روایت میں ہے کہ چہرہ سرخ اور رگیں پھول رہی تھیں) حضورﷺ نے ارشاد فرمایا: میں ایک ایسا کلمہ جانتا ہوں اگر یہ اسے پڑھ لے تو اس کی غصہ کی کیفیت ختم ہوجائے۔ ایک اور شخص اس کے پاس گیا اور حضورنبی کریمﷺ کی بات سنائی اور کہا کہ تعوّذ پڑھ:
أَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ.
اس غصہ کرنے والے شخص نے اس بات سنانے والے سے کہا: تم میرے متعلق کیا گمان کر رہے ہو؟ کیا میں کوئی پاگل ہوں؟ جاؤ، اپنا کام کرو۔ (صحیح بخاری: رقم 5701)
علامہ ابنِ حجر نے لکھا ہے کہ یہ غصہ کرنے والا شخص یا تو منافق تھا، یا غیر مسلم، یا کوئی سخت بدّو تھا جس نے نصیحت کرنے والے کی نصیحت کو ماننے سے انکار کر دیا تھا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ وہ اتنا شدید غصہ میں ہو کہ اسے سمجھ ہی نہیں آ رہی تھی کہ یہ مجھے میرے بھلے کے لیے کہہ رہا ہے۔ اس لیے ہمیں بھی چاہیے کہ غصہ کے موقع پر تعوّذ پڑھ لیا کریں۔
ناک پر غصہ
اچھا! غصہ چوںکہ شیطان سے ہے، اور شیطان آگ سے پیدا کیا گیا ہے، تب ہی غصہ کو آگ بتایا ہے، اور آگ کو پانی سے بجھایا جاتا ہے۔ آج کل ہمارے نوجوانوں کی حالت ایسی ہے جیسے کہ ماچس۔ ماچس کی تیلی کو جیسے ہی ماچس کے ساتھ رگڑتے ہیں تو آگ لگ جاتی ہے، کیوںکہ اندر آگ بھری ہوتی ہے۔ ہمارے نوجوانوں میں بھی آگ بھری ہوئی ہے، ذرا سی رگڑ لگتی ہے تو فوراً غصے میں آجاتے ہیں۔ ناک پہ جیسے غصہ دھرا رہتا ہے۔ ہم اپنے آپ کو بہتر کرنے کی کوشش کریں۔ غصہ کا بھی علاج کریں اور ساتھ ہی ساتھ عین غصے کے عالم میں کسی کی برائی نہ بیان کریں۔ پردہ پوشی کا معاملہ کریں۔ اللہ تعالیٰ بڑے رحیم ہیں، بڑے کریم ہیں۔ ان معاملات کو ہم پابندی کے ساتھ کریں، پھر دیکھیں کہ ہم پر اللہ تعالیٰ کی کیسی رحمت آئے گی۔ اور ہم کوشش کریں کہ کسی کی بھی غلطی کو، کسی کی بھی برائی کو بیان نہ کریں۔ حضرت معاویہ فرماتے ہیں کہ صحابۂ کرام کے نزدیک لوگوں میں سب سے افضل وہ ہیں جن کا دل صاف ہے۔ دوسروں کی برائیوں کی طرف ان کی نظر ہی نہیں اُٹھتی۔ اور دل اور سینے کو صاف کرنا ایک تو مراقبے سے ہوتا ہے، دوسرا ذکر سے، تیسرا قرآن پاک کی تلاوت سے۔
حضورﷺ کی حضرت انس کو ایک نصیحت
حضرت انس فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے مجھ سے فرمایا تھا کہ اے میرے بیٹے! اگر تجھ سے ہوسکے تو تم صبح وشام اس حالت میں کرو کہ تمہارے دل میں کسی کے لیے کھوٹ نہ ہو۔ پھر فرمایا کہ یہ میری عظیم الشان سنت ہے۔ اور جس نے میری سنت کو زندہ کیا، تحقیق اس نے مجھ سے محبت کی۔ اور جس نے مجھ سے محبت کی، وہ میرے ساتھ جنت میں ہوگا۔ (سنن ترمذی: رقم 2678)
کسی دوسرے کے لیے کوئی کدورت، کوئی مخالفت نہ ہو۔ اور یہ واقعتًا بہت مشکل کام ہے۔ مراقبہ کرنا آسان، قرآن پڑھنا آسان، ذکر کرنا آسان۔ لیکن اپنے دل کو دوسروں سے صاف کرلینا، یہ بہت مشکل کام ہے۔ذکر کی کثرت، اور اس پر اہتمام اپنی جگہ ہے، لیکن اگر ہم ویسے ہی اپنے دل کو ہر ایک سے صاف کرلیں تو یہ چیز اللہ کے ہاں انسان کا مقام اونچا کر دے گی۔
حضرت عبداللہ بن مسعود سے روایت ہے کہ نبی نے ارشاد فرمایا: میرے اصحاب کی جانب سے یعنی میرے صحابہ کی جانب سے کوئی بھی آدمی مجھے بری بات نہ پہنچایا کرے۔ میں یہ چاہتا ہوں کہ میں جب تمہارے پاس سے آئوں تو میرا دل تم سب سے صاف ہو۔ (سنن أبي داود: رقم 4860، باب في رفع الحدیث من المجلس)
یعنی ایک کی بات جب دوسرے سے کی جاتی ہے تو دل میںبرائی آجاتی ہے۔ کوئی اَثر آہی جاتا ہے۔ اس لیے اُمت کو اصول بتایا کہ دیکھو! ایک کی بری باتیں دوسرے کو نہ بتائو، اسے چھپائو تاکہ جب اللہ کے ہاں جائو تو تمہارے دل صاف ہوں۔ صحابہ کے نزدیک سب سے افضل اور بزرگ لوگ وہ شمار ہوتےتھے جن کا دل صاف ہوتا تھا، جن کی نظر دوسروں کی برائیوں کی طرف نہیں اُٹھا کرتی تھی۔ ہمیں بھی چاہیے کہ ہم اس عمل کو اپنالیں اور اللہ تعالیٰ کے برکت والےاور مقبول بندوں میں شامل ہوجائیں۔
وَاٰخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ.

Leave a Reply