123

پسندیدہ گوشت

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ وَ کَفٰی وَ سَلٰمٌ عَلٰی عِبَا دِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی. أَمَّا بَعْدُ:
فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِيْمِ o بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِo
لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ (الاحزاب: 21)
سُبْحٰنَ رَبِّکَ رَبِّ الْعِزَّۃِ عَمَّا یَصِفُوْنَ o وَ سَلٰمٌ عَلَى الْمُرْسَلِیْنَ o
وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَo
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ

نقشِ قدم نبیﷺ کے ہیں جنت کے راستے:
حضور پاک کی زندگی ہمارے لیے اُسوۂ حسنہ ہے۔ قیامت تک آنے والے مسلمانوں کے لیے بہترین نمونہ اور مشعلِ راہ ہے۔ حضور پاک کی زبان مبارک سے نکلا ہوا ہر لفظ قیامت تک اس میں سے ہیرے موتی نکلتے چلے جائیں گے۔ حضور پاک افضل الانبیاء ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ہر نبی کو بہترین خصوصیات عطا فرمائیں، لیکن نبی کریم کو جو خصوصیات عطا فرمائیں وہ کسی اور کو نہیں دیں۔ سب سے افضل کتاب قرآن مجید اللہ تعالیٰ نے نبی کریم کو عطا فرمائی۔ اسی طرح نبی کریم کو جو اعمال ملے، وہ بھی جامع اعمال ہیں۔ آپ کا نماز پڑھنا، آپ کا حج ادا کرنا وغیرہ گزشتہ اُمتوں کے تمام اعمال کو جامع ہے۔ ملا عبدالرحمن جامی کا مشہور شعر ہے:
حسنِ یوسف، دمِ عیسٰی، یدِ بیضا داری
آنچہ خوباں ہمہ دارند، تو تنہا داری

ترجمہ: ’’حضور پاکﷺ حضرت یوسف کا حسن رکھتے ہیں،اور حضرت عیسٰی کا دَم (وہ الفاظ جس سے وہ مُردوں کو زندہ کرتے تھے) اور حضرت موسیٰ کا سفید ہاتھ والا معجزہ رکھتے ہیں۔ وہ تمام کمالات جو باقی سب حسینوں (یعنی نبیوں) کے پاس تھے وہ تنہا آپﷺ کی ذات میں اللہ تعالیٰ نے جمع کر دیے‘‘۔
نبی کریم کا اللہ تعالیٰ کی طرف سے لایا ہوا دین قیامت تک کے لیے کامل، اکمل اور مکمل ہے۔ اب قیامت تک کے لیے ایک ہی راستہ ہے جنت میں جانے کا۔ وہ کون سا ہے؟ صرف اور صرف نبی کریمa کے طریقوں پر چلنا۔ جو نبی کریم کی سنتوں پر چلتا چلا جائے گا وہ اِن شاء اللہ جنت میں چلا جائے گا۔ عارف باللہ حضرت شاہ حکیم اختر صاحب کا شعر بہت ہی پیارا ہے۔ فرماتے ہیں:
نقشِ قدم نبی کے ہیں جنت کے راستے
اللہ سے ملاتے ہیں سنت کے راستے

سبحان اللہ! کتنا پیارا شعر ہے۔ اللہ تعالیٰ ساری اُمت کی طرف سے حضرت کو جزائے خیر عطا فرمائے آمین۔ اگر ہم سنت پر عمل کریں گے تو یقیناً اللہ تعالیٰ سے ہماری ملاقات قیامت کے دن اس حال میں ہوگی کہ اللہ ہم سے راضی ہوں گے۔
رضائے الٰہی کا پیمانہ:
لوگ کہتے ہیں لگتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ناراض ہو گئے۔ اچھا! آپ کو کیسے معلوم ہوا؟ کہتے ہیں کہ جی! گھر میں بیماریاں آگئیں، مال ختم ہو گیا، قرض چڑھ گیا، تکلیفیں آگئیں تو لگتا ہے کہ اللہ ناراض ہیں۔ ارے بھئی! یہ پریشانیاں، یہ تکلیفیں اللہ سے دوری کی نشانیاں نہیں ہیں۔ آسان ترین بات میری نظر میں یہ ہے کہ اپنی زندگی کو دیکھیں کہ سنت کے مطابق ہے یا نہیں۔ اگر ہماری زندگی رسول اللہ کے طریقے کے مطابق گزر رہی ہے یا ہم اس کے حصول کی کوشش کر رہے ہیں، فکر لگ گئی اور ہماری زندگی میں ایک ایک سنت آ رہی ہے، تو اِن شاء اللہ العزیز ہمیں یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ راضی ہیں۔ کیوںکہ جس سے اللہ راضی ہوں گے اس کو اتباعِ سنت کی توفیق دیں گے، اور جس سے اللہ ناراض ہوں گے تو اسے اتباعِ سنت کی توفیق نہیں ملے گی، وہ اپنا وقت اِدھر اُدھر ضائع کرے گا۔ بدعات کے اندر، رسوم ورواج کے اندر، اور دوسرے کاموں کے اندر۔ خلاصہ یہ کہ اتباعِ سنت اللہ تعالیٰ کی رضا کی نشانی ہے۔
اس کے لیے ہم اُن کتابوں کا مطالعہ کریں جس سے ہماری زندگی میں سنت اعمال زندہ ہوجائیں۔ گلدستہ سنت کے مواعظ بھی اسی مقصد کی تکمیل کے لیے کتابی شکل میں جمع کیے جا رہے ہیں تاکہ کسی بھی مسلمان بھائی یا بہن کو موقع کی سنت پڑھ کر عمل میں آسانی پیدا ہو۔
آج کی مجلس میں اِن شاء اللہ نبی کریم کی پسندیدہ غذا کا بیان ہوگا۔ کھانا، پینا ہماری زندگی کا ایک حصہ ہے۔ اگر یہی حصہ سنت کے مطابق ہو جائے تو بہت ساری خیر کا باعث بن جائے۔ لوگ اپنے گھروں کے لیے سامان خریدتے ہیں، سودا خریدتے ہیں تو وہ چیزیں خرید لیں جو سنت کے مطابق ہیں، جو نبی کریم کو پسند ہیں۔ اگر ہم ایسا کریں گےتو عبادت بھی ہو گئی اور اپنی حاجت بھی پوری ہوجائے گی۔
سید الطعام:
حضرت ابو درداء سے روایت ہے کہ نبی کریم نے ارشاد فرمایا: دنیا والوں اور جنت والوں کے کھانوں کا سردار گوشت ہے۔ (سنن ابن ماجہ: 311/2)
قرآنِ پاک میں اللہ ربّ العزّت کا اہلِ جنت کے لیے ارشاد ہے:
وَلَحْمٍ طَیْرٍ مِّمَّا یَشْتَھُوْنَ ( الواقعہ: 21)
ترجمہ: ’’اور پرندوں کا وہ گوشت لے کر جس کو اُن کا دل چاہے‘‘۔
معلوم ہوا کہ اہلِ جنت شوق سے جنت میں گوشت کھائیں گے۔ گوشت کھانا سنت ہے، اسے اتباعِ سنت کی نیت سے کھائیں۔
روزانہ گوشت نہ کھائیں:
نبی کریمa کو گوشت پسند تھا، لیکن روزانہ گوشت کھانے کا کوئی اصرار یا چاہت نہیں تھی۔ وہاں تو تین تین چاند گزر جاتے اور گھر میں چولہا نہیں جلتا تھا۔ اس لیے گوشت بالکل نہ کھانا اور اسے غلط سمجھنا، خود غلط ہے۔ اور روزانہ کھانا بھی ٹھیک نہیں ہے۔ جہاں اس کے بے شمار فوائد ہیں، وہاں نقصانات بھی ہیں۔ علامہ ابنِ قیم نے لکھا ہے کہ انسان روزانہ گوشت کا استعمال نہ کرے، اس سے خون میں اَمراض پیدا ہو جاتے ہیں۔ اور فرمایا کہ جو چالیس (40) دن تک روزانہ گوشت ہی گوشت کھائے اس کا دل سخت ہو جاتا ہے۔ نبی کریم اس وجہ سے گوشت کھانے میں ناغہ کیا کرتے تھے۔ اعتدال کے ساتھ رہیں کہ کبھی گوشت کھائیں اور کبھی اللہ تعالیٰ کی باقی نعمتیں کھائیں۔
دستی کا گوشت:
نبی کریم کے بارے میں حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم کے پاس گوشت لایا گیا، اور آپ کو اس میں سے دستی پیش کی گئی، آپ اس میں سے شوق سے نوچ کر کھا رہے تھے۔ (سنن ترمذی: رقم 1837)
نبی کریم دستی پسند فرماتے تھے، کیوںکہ یہ جلدی پک جاتی ہے اور لذیذ ہوتی ہے۔ یہاں پر ہمارے لیے ایک سبق ہے۔ وہ یہ کہ کھانا ایسا پکائیں جو جلدی پک جائے۔ اب ایسا کھانا جس میں گھنٹوں تیاری میں لگیں تو دین کا کام بندہ کب کرے گا؟
حضرت ابو رافع فرماتے ہیں کہ حضور پاک کے پاس کسی نے ہدیۃً بکری کا گوشت بھیجا۔ میں نے اسے پکنے کے لیے ہانڈی میں ڈال دیا۔ آپ تشریف لائے تو (ہانڈی کو اُبلتا دیکھ کر) دریافت فرمایا کہ اے ابو رافع! اس میں کیا ہے؟ میں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول! بکری کا گوشت ہدیۃً آیا تھا، میں نے پکنے کے واسطے ہانڈی میں ڈالا ہے۔ آپ نے فرمایا: اے ابو رافع! مجھے دستی دو۔ کہتے ہیں کہ میں نے ایک دستی آپ کو پیش کی، آپ نے نوش فرما لی۔ پھر آپ دوبارہ طلب کی تو میں نے دوسری بھی نکال کر نبی کریم کے سامنے پیش کر دی۔ پھر نبی کریم نے تیسری مرتبہ دستی طلب فرمائی تو میں نے عرض کیا:
إنما للشاة ذراعان. (مشکاۃ المصابیح: رقم 327، الفصل الثالث، باب ما يوجب الوضوء)
ترجمہ: ’’اے اللہ کے رسول! بکری کے اندر تو دو ہی دستی ہوتی ہیں‘‘۔
آپ نے ارشاد فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے! اگر تم چپ رہتے اور میں طلب کرتا رہتا اور تم ہانڈی میں سے نکالتے رہتے تو ہانڈی میں سے دستیاں نکلتی رہتیں۔ پھر آپ نے پانی منگوایا اور کلی فرمائی، اور اپنی انگلیوں کے کناروں کو دھویا، اور نماز ادا فرمائی۔
شارحینِ حدیث لکھتے ہیں کہ اگر آپ کے صحابی آپ کے کہنے پر ہانڈی میں سے دستی نکالتے رہتے تو یہ آپ کا معجزہ ہوتا۔ انہوں نے اپنی سمجھ سے ایک بات کہی جس کی وجہ سے یہ معجزہ ظاہر نہیں ہوا۔ اسی لیے عرض ہے کہ بڑوں کی بات پر قیاس سے کام نہ لیں۔ جو بڑے کہہ رہے ہیں محض تعمیل کر لیں خاموشی سے بغیر چوں وچراں کے۔ اپنی عقل کو شریعت دائرے میں رہتے ہوئے استعمال کرے۔ اس پر کئی واقعات شاہد ہیں جو امام بیہقی نے اپنی کتاب ’’دلائل النبوۃ‘‘ میں ذکر کیے ہیں۔
یہودی عورت کا نبی کو زہر دینا:
ابھی یہ بات گزری کہ حضور اقدس کو دستی کا گوشت بہت مرغوب تھا اور اسی میں آپ کو زہر دیا گیا تھا۔ امام بیہقی نے ابنِ شہاب زہری کی روایت سے واقعہ نقل کیا ہے کہ فتحِ خیبر کے موقع پر ایک یہودی عورت نے اُمّ المؤمنین حضرت صفیہ کو بھنا ہوا گوشت جو بکری کا تھا، ہدیۃً دیا۔ معلوم یہ ہوتا ہے کہ اس نے ایک خطرناک منصوبہ بنایا تھا۔ وہ یہودی عورت یہ جانتی تھی کہ حضرت صفیہ آپﷺ کے نکاح میں آچکی ہیں۔ جب آپﷺ اپنی زوجہ مطہرہ کے پاس تشریف لائیں گے تو کھانا کھائیں گے۔ چناںچہ اس نے پہلے تو یہ معلوم کیا کہ آپﷺ کو گوشت میں کونسا حصہ پسند ہے۔ پھر جب اسے پتا چلا تو اس نے دستی اور شانے کے گوشت میں زہر ملا دیا خصوصاً دستی میں زیادہ ڈالا۔ حضور پاک ایک صحابی حضرت بِشر بن براء اور دیگر صحابہ کے ساتھ تشریف لائے۔ چناںچہ کھانا سامنے پیش کیا گیا۔ آپﷺ نے دستی میں سے گوشت نوچا، اور اُن صحابی حضرت بِشر نے نوچا اور کھا لیا تو محسوس ہوا کہ یہ ٹھیک نہیں ہے، لیکن ضبط کیا کہ کہیں آقاﷺ محسوس نہ کریں کہ مجھے اچھا نہیں لگ رہا۔ آپﷺ نے صحابہ سے فرمایا کہ اپنے ہاتھوں کو روک لو، اس لیے کہ بکری کا گوشت مجھے بتا رہا ہے کہ اس میں کچھ ملا ہوا ہے۔ حضرت بِشر جو کھا چکے تھے، آخر انہیں قے ہوئی اور بہت تکلیف ہوئی۔ آپﷺ کو بھی اس کا کچھ نہ کچھ اَثر پہنچ گیا تھا۔ چناںچہ کبھی کبھی آپ پر تکلیف کا باعث بن جاتا تھا۔ اور اسی زہر نے حضور پاک کے وصال کے وقت اپنا اثر زیادہ دکھایا اور نبی کریم کی شہادت کا ذریعہ بنا۔
(دلائل النبوۃ: 360/4)
پیٹھ کا گوشت:
حضرت عبداللہ بن جعفر سے منقول ہے کہ نبی کریم نے ارشاد فرمایا: یقیناً بہترین گوشت (جانور کی) پیٹھ کا ہے۔ (مسند احمد: 203/1)
شانے کا گوشت:
حضرت عمرو بن اُمیہ فرماتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ آپﷺ اپنے ہاتھ سے بکری کے شانے کا گوشت کاٹ کر کھا رہے ہیں۔ (صحیح بخاری: رقم 5092)
حضرت عبداللہ بن عباس سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے شانے کی ہڈی کا گوشت کھایا، پھر اُٹھ کر نماز پڑھی اور نیا وضو نہیں کیا۔ (صحیح بخاری: رقم 5010)
گردن کا گوشت:
گردن کا گوشت بھی آپ کو پسند تھا۔ حضرت ضُبَاعَہ بنت زبیر آپﷺ کے چچا زبیر بن عبدالمطلب کی بیٹی تھیں۔ فرماتی ہیں کہ اُن کے گھر میں بکری ذبح کی گئی۔ نبی کریمکو پتا لگا تو آپ نے پیغام بھیجا کہ اپنی بکری میں سے ہمیں بھی کھلائو۔ جب قاصد وہاں گیا تو حضرت ضُباعَہ نے کہا کہ سوائے گردن کے کچھ باقی نہیں، اور مجھے حیا آتی ہے کہ فقط گردن میں آپ کے پاس بھیجوں۔ قاصد نبی کریم کے پاس آکر یہ بات بتائی۔ آپ نے فرمایا: جائو اور ضُباعَہ سے کہو:
أَرْسِلِي بِهَا فَإِنَّهَا هَادِيَةُ الشَّاةِ ، وَأَقْرَبُ الشَّاةِ إِلَى الْخَيْرِ وَأَبْعَدُهَا مِنَ الأَذَى.
(المعجم الکبیر للطبراني: رقم 20336)
ترجمہ: ’’یہی بھیج دے یہ جانور کا اگلا حصہ ہے۔ ہر اچھائی سے قریب ہے اور ہر گندگی (پیشاب، پاخانہ) سے دور ہے‘‘۔
معلوم یہ ہوا کہ نبی کریم کو بکری اور اُونٹ کا گوشت مرغوب تھا۔اور اِن میں بھی دستی، پیٹھ، شانہ اور گردن چار قسم کے گوشت نبی کریم کو پسند تھے۔
بھنی ہوئی کلیجی کھانا:
حضور نبی کریمﷺ اور حضراتِ صحابہ کرام کبھی گوشت کو سالن کے ساتھ بناتے تھے، اور کبھی صرف بھون کر کھا لیتے تھے۔
حضرت عبدالرحمٰن بن ابی بکر سے روایت ہے کہ ہم ایک سو تیس آدمی رسول اللہﷺ کے ساتھ تھے۔ آپﷺ نے دریافت فرمایا: کیا تمہارے پاس کھانا ہے؟ ایک شخص کے پاس ایک صاع یا اسی طرح کچھ اَناج تھا۔ چناںچہ اسے گوندھ کر آٹا بنا دیا گیا۔ پھر ایک لمبے قد کا، بکھرے ہوئے بالوں والا مشرک بکریاں چراتے ہوا آیا۔ رسول اللہﷺ نے اس سے پوچھا: تم بکریاں بیچتے ہو یا یونہی بطور ہدیہ دیتے ہو؟ اس نے کہا: نہیں، بلکہ بیچتا ہوں۔ آپﷺ نے ایک بکری اس سے خرید لی۔ پھر اس بکری کو ذبح کر کے اس کا گوشت بنایا گیا۔ اللہ کے نبیﷺ نے حکم دیا کہ اس کی کلیجی کو بھون دیا جائے۔ راوی کہتے ہیں کہ اللہ کی قسم! ایک سو تیس آدمیوں میں سے ہر ایک کو آپﷺ نے اس کا حصہ دیا، اور اس وقت اگر کوئی موجود نہیں بھی تھا تو اس کا حصہ الگ نکال کر رکھا۔ اور دو پیالوں میں آپﷺ نے گوشت نکالا، سب نے سیر ہو کر کھایا اور پھر بھی گوشت پیالوں میں کچھ بچ رہا۔ صحابی فرماتے ہیں کہ اس بچے ہوئے گوشت کو میں نے اُونٹ پر لاد لیا۔ (صحیح مسلم: رقم 2056)
اس حدیث میں آپﷺ کے دو معجزے ہیں: ایک تو کلیجی میں برکت، دوسرا بکری میں برکت۔ قربانی کے موقع پر ہمارے یہاں بھی کلیجی پہلے کھائی جاتی ہے۔ ایک عام رواج ہمارے یہاں یہی ہے۔ الحمدللہ! اس میں بہت آسانی ہے۔
بھنا ہوا گوشت:
حضرت عبداللہ بن حارث سے روایت ہے کہ ہم نے حضورﷺ کے ساتھ مسجد میں بھنا ہوا گوشت کھایا۔ (شمائل ترمذی: رقم 159)
حضرت مغیرہ بن شعبہ فرماتے ہیں کہ میں ایک رات حضور کا مہمان بنا۔ کھانے میں بھنا ہوا گوشت لایا گیا۔ حضور گوشت کو چاقو سے کاٹ کاٹ کر مجھے کھانے کے لیے دے رہے تھے۔ (مشکاۃ المصابیح: رقم 4236)
حضرت جابر فرماتے ہیں کہ میرے والد نے گھر والوں سے کہا کہ حریرہ بناؤ۔ (حریرہ آٹے اور دودھ کو ملا کر بنایا جاتا ہے۔ عرب بطورِ غذا استعمال کرتے تھے) جب حریرہ تیار ہوگیا تو میرے والد نے مجھ سے کہا: جائو جاکر حضور کی خدمت میں پیش کرو تاکہ آپﷺ اسے کھا لیں۔ فرماتے ہیں کہ میں لے آیا۔ آپ نے پوچھا: جابر! یہ کیا ہے؟ کیا یہ گوشت ہے؟ میں نے عرض کیا کہ نہیں، یہ تو حریرہ ہے جو میرے والد نے بنوا کر آپ کے لیے بھیجا ہے۔ بہرحال آپﷺ نے وہ قبول فرما لیا۔ پھر میں اپنے والد کے پاس واپس آیا تو انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ جو ہدیہ تم نے حضور کو دیا تھا، کیا حضور نے اسے دیکھا تھا؟ میں نے کہا: جی ہاں۔ والد صاحب نے کہا کہ کیا انہوں نے کچھ ارشاد فرمایا تھا؟ میں نے کہا: جی ہاں۔ والد صاحب نے پوچھا کہ کیا فرمایا تھا؟ اس پر میں نے ساری بات سنا دی۔ والد صاحب کہنے لگے کہ اچھا! ہو سکتا ہے کہ نبی کریمa کو گوشت کھانے کی خواہش ہو۔ پھر والد صاحب نے گھر کی پلی ہوئی بکری کو ذبح کرنے کا حکم دیا۔ اس کے بعد گھر والوں نے گوشت کو بھونا اور مجھے حکم ہوا کہ یہ رسول اللہﷺ کی خدمت میں لے جاؤ۔ میں آپ کے پاس دوبارہ حاضر خدمت ہوا تو حضور نے فرمایا: اے جابر! یہ کیا ہے؟ میں نے والد صاحب کی ساری بات سنا دی اور عرض کیا کہ اب میں آپ کے لیے بھنا ہوا گوشت لے کر آیا ہوں۔ آپ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ میری طرف سے تمہارے قبیلہ انصار کو بہترین بدلہ دے، خاص طور پر عمرو بن حرام کے خاندان کو، اور خاص طور پر سعد بن عُبادہ کو (یہ انصار کے سردار تھے)۔
(تاریخ مدینہ دمشق: 237,236/4)
اللہ اکبر! صحابہ کرام کو اللہ تعالیٰ سے کتنی محبت تھی، نبی کریم سے کتنی محبت تھی کہ آپ کی خواہش کو بھی بھانپ لیا کہ آپ کو گوشت کی رغبت ہے۔ حالاںکہ آپ نے فقط اتنا پوچھا تھا کہ گوشت لائے ہو؟ اور اس میں خواہش کا کوئی اظہار نہیں تھا، لیکن محبت اور عشق کی وجہ سے حضرت جابر کے والد نے گھر کی پلی ہوئی بکری ذبح کر ڈالی اور آپ کی خدمت میں پیش کر دی۔
اُمّ المؤمنین حضرت اُمّ ِسلمہ فرماتی ہیں کہ انہوں نے بھنا ہوا گوشت آپ کی خدمت میں پیش کیا۔ آپ نے تناول فرمایا۔ آپa کا وضو پہلے سے تھا تو گوشت کھانے کے بعد نبی کریمa نے دوبارہ وضو نہیں کیا اور نماز پڑھی۔
(تاریخ مدینہ دمشق: 237/4)
ایک روایت میں آتا ہے کہ نبی کریمa بعض اوقات گوشت کو بغیر روٹی کے بھی کھایا کرتے تھے۔ اور اہلِ عرب کی عادت بھی تھی کہ وہ گوشت کو بغیر روٹی کے بڑے شوق سے کھایا کرتے تھے۔ اس کے علاوہ گوشت کے اگر ٹکڑے لمبے کر دیے جائیں اور اس میں نمک وغیرہ لگا کر سکھا لیا جائے تو ایسے گوشت کو کئی ہفتے محفوظ رکھ کر کھایا جاسکتا ہے۔ گوشت کو اس طریقے سے رکھنا، اور اس طرح سے کھانا سنت ہے۔ یہ توکّل اور زُہد کے منافی نہیں۔ بغیر فرج کے بھی گوشت کو بھی سنبھال کر رکھا جا سکتا ہے۔
شوربے دار گوشت:
بھنے ہوئے گوشت کے بعد اب شوربے دار گوشت کی بات کرتے ہیں۔ حضرت انس فرماتے ہیں کہ ایک درزی نے نبی کریم کو کھانے کی دعوت دی۔ میں بھی اس کھانے میں آپ کے ساتھ شریک تھا تو وہاں جَو کی روٹی، شوربہ جس میں گوشت اور لوکی تھی۔ کھانا شروع ہوا تو میں نے دیکھا کہ آپ برتن کے چاروں طرف سے لوکی کو تلاش کر رہے تھے۔ بس اس دن سے مجھے بھی لوکی سے محبت ہو گئی (اور میں لوکی کو رغبت سے کھانے لگا)۔ (سنن ابی داؤد: رقم 3782)
دیکھیں! صحابہ کی محبت کیا تھی کہ جو چیز نبی کریم کو پسند وہ ہمیں بھی پسند۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نبی کریم نے شوربے والا گوشت بھی استعمال فرمایا ہے۔ اور بعض مرتبہ قربانی کے موقع پر شوربے دار گوشت بنوایا، اس کو استعمال کیا۔
حضرت جابر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا: جب تم گوشت پکاؤ تو سالن زیادہ کردو، (یا پانی زیادہ کرو) اس لیے کہ اس میں پڑوسی کو پہنچانے میں آسانی ووسعت ہوگی۔ (مجمع الزوائد: رقم 7881)
حضرت عبداللہ مُزنی سے مروی ہے کہ نبی کریم نے ارشاد فرمایا: تم میں سے جو گوشت خریدے اسے چاہیے کہ اس کا شوربہ زیادہ رکھے کہ اگر کسی کو بوٹی نہ ملی تو شوربہ مل جائے گا، اور یہ (شوربہ بھی) تو گوشت ہے۔ (سنن ترمذی: رقم 1832)
یعنی گوشت کا پورا پورا اثر شوربے کے اندر آجاتا ہے۔ عقل دَنگ رہ جاتی ہے کہ کیسے کیسے آپﷺ نے اپنی اُمت کو طریقے بتائے ہیں۔
حضرت ابوذر غِفَارِی سے روایت ہے کہ میرے دوست نبی کریمa نے مجھے اس بات کی وصیت فرمائی کہ جب شوربہ بناؤ تو پانی زیادہ رکھو، پھر اپنے پڑوسیوں کو دیکھو، اور انہیں طریقے سےیہ شوربہ بھیج دو۔ (صحیح مسلم: رقم 2625)
لوکی یا کدو کھانا:
اُمّ المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ سے فرمایا کہ جب تم شوربہ بناؤ تو اس میں کدو زیادہ ڈالو، یہ غمزدہ دل کو قوت دیتا ہے۔ (الآداب الشرعیۃ: فصل فی خواص القرع)
ایک روایت میں ہے کہ آپﷺ کدو کو پسند کرتے تھے، اور فرماتے تھے کہ یہ میرے بھائی یونس() کا درخت ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے سمندر سے جب انہیں باہر نکالا تو اُن کے لیے بطور غذا اسی کو طے کیا۔ (إحیاء العلوم: 371/2)
نیل گائے کا گوشت:
جب عمرہ یا حج کی نیت ہو تو احرام باندھ کر تلبیہ پڑھنے سے آدمی مُحْرِم بن جاتا ہے۔ اب اس کے لیے احرام کی پابندی ضروری ہوجاتی ہے یہاں تک کہ وہ احرام سے عمرہ یا حج کے ارکان ادا کر کے فارغ ہوجائے۔ ہوا یہ کہ آپﷺ اور دیگر صحابہ کرام نے احرام باندھا، لیکن حضرت ابوقتادہ نے احرام نہیں باندھا اور نیل گائے کا شکار کرکے لائے۔ صحابہ کرام نے آپﷺ سے مسئلہ دریافت کیا کہ کیا ہم یہ شکار کیا ہوا گوشت کھا سکتے ہیں؟ نبی کریمﷺ نے اُن سے پوچھا کہ کیا آپ لوگوں نے شکار کرنے میں کوئی رہبری، کوئی معاونت کی تھی؟ عرض کیا کہ بالکل نہیں۔ آپﷺ نے فرمایا کہ پھر تم کھا سکتے ہو۔ ابو حازم کی روایت میں ہے کہ حضرت ابوقتادہ نے نیل گائے کی بازو کی ہڈی آپ کی خدمت میں پیش کی تو آپ نے قبول فرمائی، اور ہڈی سے گوشت کو نوچ کر تناول فرمایا۔ دوسری روایت میں ہے کہ ٹانگ کا گوشت پیش کیا جو آپﷺ نے لے لیا اور تناول فرمایا۔ تیسری روایت میں ہے کہ دستی پیش کی جو آپﷺ نے تناول کی۔ یہ ساری روایات فتح الباری شرح صحیح بخاری (باب لایشیر المحرم الی الصید۔۔۔) میں لکھی ہوئی ہیں۔
آپa اس ہڈی کو جس میں گوشت لگا ہوا ہوتا، پسند فرماتے تھے۔ نہایت رغبت سے ہڈی کو پکڑ کے گوشت کو نوچ کر تناول فرماتے۔ اکثر تو دانتوں سے نوچ کر کھاتے کبھی چاقو سے کاٹ کر بھی تناول فرماتے۔ آپ گوشت خریدیں تو ہڈی دار گوشت لیں کہ وہ نبی کریم کو مرغوب تھا۔
گوشت کو رکھنا:
نبی کریمﷺ نے ابتدا میں تین دن سے زیادہ قربانی کے گوشت رکھنے کو منع فرمایا تھا۔ حکم یہ تھا کہ تین دن تک استعمال کرلو، پھر جو بچے اسے صدقہ کرو۔ اس کے بعد جب عرض کیا گیا کہ اے اللہ کے رسول! لوگ اپنی قربانی کے گوشت سے فائدہ اٹھاتے ہیں، چربی نکالتے ہیں، مشکیزے بناتے ہیں۔ تین دن بہت تھوڑے ہیں ان سب کاموں کے لیے۔ تو نبی ﷺ نے تین دن کے بعد بھی رکھنے کی اجازت مرحمت فرما دی۔ خود نبی کریمﷺ نے تین دن کے بعد بھی قربانی کا گوشت استعمال فرمایا ہے۔
خادمِ رسولﷺ حضرت ثوبان فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ سفر میں حضورﷺ نے بکری ذبح کی، اور فرمایا کہ اے ثوبان! اس گوشت کو ٹھیک رکھو (اس زمانے کے لحاظ سے گوشت کو محفوظ رکھنے کا جو معروف طریقہ تھا، اسی کے موافق حفاظت کا حکم دیا)۔ حضرت ثوبان فرماتے ہیں کہ میں برابر رسول اللہﷺ کو اس میں سے کھلاتا رہا، یہاں تک کہ آپﷺ مدینہ منورہ تشریف لائے۔ (صحیح مسلم: رقم 1975)
پائے کھانا:
حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا: اگر مجھے بکری کے کُھر کی دعوت دی جائے تو میں اسے قبول کروں گا، اور اگر مجھے وہ کُھر ہدیہ میں دیے جائیں تو میں اسے قبول کروں گا۔ (صحیح بخاری: رقم 4883)
حضرت عبداللہ بن عمر روایت کرتے ہیں کہ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا: اگر تم بلائے جاؤ بکری کے کُھر کی طرف، تو (اس دعوت) کو قبول کرو۔ (صحیح مسلم: رقم 1429)
نبی کریمﷺ کے گھر والے آپﷺ کے لیے قربانی کے پائے رکھتے تھے اور اس کا استعمال کھانے میں ہوتا تھا۔ سنن ابنِ ماجہ میں امی جان حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ ہم لوگ پائے اُٹھا کر رکھ دیتے تھے اور آپa اسے قربانی کے 15 دن بعد تک بھی کھاتے رہتے تھے۔ (سنن ابن ماجہ: رقم 3312)
معلوم ہوا کہ گوشت کو کئی دن تک استعمال کر کے کھانا یہ نبی کریم سے ثابت ہے، اور یہ زُہد وتوکّل کے خلاف نہیں۔
مغز یا گودا کھانا:
حلال جانور کا مغز کھانا بھی رسول اللہﷺ سے ثابت ہے۔ چناںچہ حضرت سعد بن عُبادہ مغز سے بھرا ہوا پیالہ یا بڑی پلیٹ آپﷺ کے پاس لے آئے۔ آقاﷺ نے پوچھا کہ اے ابو ثابت! (حضرت سعد بن عبادہ کی کنیت ہے) یہ کیا ہے؟ حضرت سعد نے عرض کیا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق دے کر بھیجا ہے! آج میں نے چالیس جانور قربان کیے تو میرا دل چاہا کہ آپ کو مغز کھلاؤں۔ حضورﷺ نے اُن کی بات سن کر قبول فرمایا اور کھایا اور اُنہیں بھلائی کی دعا دی۔ (زاد المعاد: ص14)
اُونٹ کا گوشت کھانا:
نبی کریمaنے حجۃ الوداع کے موقع پر اپنی طرف سے 100 اونٹوں کی قربانی کی۔ ان میں سے 63 اُونٹ اپنے دستِ مبارک سے نحر کیے اور باقی 37 اُونٹوں کو نحر کرنے کے لیے حضرت علی کو اپنا وکیل بنایا، پھر حضرت علی نے باقی اُونٹ ذبح کیے۔ (صحیح مسلم: رقم 1218)
البدایہ والنہایہ میں آگے یہ بھی ہے کہ جب 100 کے 100 اونٹ قربان ہو گئے تو نبی کریم نے فرمایا: ہر اُونٹ سے تھوڑا تھوڑا سا گوشت لے لو۔ چناںچہ سب سے تھوڑا تھوڑا سا گوشت لے لیا گیا اور اسے ہانڈی میں ڈال دیا گیا اور پکنے کے بعد سب نے اس کو کھایا اور گرم گرم شوربہ پیا۔
وہ بھی ایک عجیب شان تھی کہ اونٹ آتے، نبی کریم کے مبارک ہاتھ میں خنجر دیکھتے تو اپنی گردن کو آگے بڑھاتے کہ اے اللہ کے نبی! پہلے میں۔ ایک لطیفے کی بات ہے کہ یہ جو چائے پینے والے لوگ ہیں، ان کو حدیث سے تو کوئی دلیل چائے کی نہیں ملتی، البتہ اتنا ثبوت ملتا ہے کہ نبی کریمa نے گرم شوربہ پیا تھا اور یہ گرم چائے پیتے ہیں۔
مرغی کا گوشت کھانا:
حضرت ابو موسیٰ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریمa کو مرغی کا گوشت کھاتے دیکھا ہے۔ (صحیح بخاری: باب لحم الدجاج)
مرغی کے گوشت کو کھانے کا بہتر طریقہ یہ ہے کہ مرغی ذبح کرنے سے تین دن پہلے اسے اپنے گھر میں باندھ کر رکھیں تاکہ وہ کسی طرح کی گندگی نہ کھائے، بعد ازاں حلال طریقے سے ذبح کر دیا جائے۔ ہے تو مشکل کام، لیکن حلال غذا کے لیے اتنی قربانی تو دی جا سکتی ہے۔ باقی موجودہ صورتِ حال پر کسی مستند دار الافتاء سے رجوع کرلیں۔
خرگوش کا گوشت کھانا:
نبی کریمﷺ نے اس کے علاوہ خرگوش کا گوشت بھی کھایا ہے۔ حضرت انس بن مالک خادمِ رسولﷺ خرگوش کا شکار کر کے اپنے سوتیلے والد حضرت ابوطلحہ کے پاس لے آئے۔ انہوں نے اسے ذبح کیا اور ٹکڑے کر دیے۔ پھر حضرت انس سے کہا کہ بیٹا! یہ ران والا حصہ آپﷺ کی خدمت میں لے جاؤ۔ حضرت انس نے آپﷺ کی خدمتِ اقدس میں پیش کیا تو آپﷺ نے اسے قبول فرما لیا۔
(صحیح بخاری: رقم 5535، صحیح مسلم: رقم 1953)
ایک صحابی نے دو خرگوش شکار کیے اور رسول اللہﷺ سے ان کے کھانے سے متعلق مسئلہ پوچھا۔ آپﷺ نے خرگوش کھانے کا حکم فرمایا۔ (موسوعہ فقہیہ: 134/5)
پرندوں کا گوشت کھانا:
حضرت انس روایت کرتے ہیں کہ ایک دفعہ نبی کریمکے سامنے بھنا ہوا چکور لایا گیا۔ آپ نے دعا کی کہ یااللہ! اپنی مخلوق میں سے بہتر کو میرے پاس بھیج دیجیے کہ وہ میرے ساتھ اس پرندے کو کھائے۔ چناںچہ حضرت علی تشریف لائے اور نبی کریمa کے ساتھ چکور کھایا۔ (زاد المعاد: ص114)
گائے کا گوشت کھانا:
ابنِ قیم نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ نبی کریم سے گائے کا گوشت کھانا ثابت ہے۔ (زاد المعاد: ص14)
مچھلی کھانا:
حضرت جابر فرماتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہﷺ نے تین سو سواروں کے ساتھ بھیجا اور ہمارے امیر حضرت ابوعبیدہ تھے۔ ہم قریش کے تجارتی قافلے کے انتظار میں تھے۔ ساحلِ سمندر پر ٹھہرے ہوئے ہمیں پندرہ دن ہوگئے۔ سب بھوک کی حالت میں تھے۔ اور نوبت یہاں تک آپہنچی کہ ہم ببول کے درخت سے پتے کھا کر گزارا کرنے لگے۔ اسی وجہ سے اس لشکر کا نام جیش الخبط (پتوں والا لشکر) ہوگیا۔ پھر (اللہ ربّ العزّت نے) سمندر میں سے ایک مچھلی ہمارے لیے (باہر نکال کر) پھینک دی۔ وہ اتنی بڑی مچھلی تھی کہ کبھی اس جیسی بڑی مچھلی نہیں دیکھی تھی۔ اس مچھلی کو عنبر کہا جاتا ہے۔ ہمارے امیر ابوعبیدہ نے کہا کہ ابھی اس کو کھائو۔ ہم لوگوں نے اس کو کھایا اور اس کی چربی بھی استعمال کی۔ 15 دن برابر اس مچھلی کو پورا لشکر کھاتا رہا۔ ایک مرتبہ حضرت ابوعبیدہ نے (ناپنے کےلیے) اس مچھلی کی ایک پسلی لی (اسے کھڑا کر کے) ایک اونٹ سوار کو اس کے نیچے سے گزرنے کا حکم دیا۔ اونٹ سوار اس کے نیچے سے گزر گیا تو اونٹ پر سوار لمبا آدمی چھوٹا تھا اور اس مچھلی کی پسلی بڑی تھی۔ اس کو استعمال کرتے رہے یہاں تک کہ ہم لوگ مدینہ طیبہ واپس آگئے اور نبی کریم سے اس کا تذکرہ کیا۔ آپ نے فرمایا کہ کھائو، اللہ نے اسے تمہارے لیے رزق کے طور پر نکالا ہے، اور اگر کچھ ہے تو ہمیں بھی کھلائو۔ صحابہ کرام نبی کریم کے سامنے اسے پیش کیا تو آپ نے بھی اسے کھایا۔ (صحیح بخاری: رقم 4362، صحیح مسلم: رقم 1935)
تو مچھلی کھانا نبی کریم سے ثابت ہے۔ اور جنت میں بھی اہلِ جنت کی سب سے پہلی غذا مچھلی کا جگر ہوگی۔ (صحیح مسلم: باب بيان صفة منيّ الرجل والمرأة)
سات ناپسندیدہ چیزیں:
سات چیزیں ایسی ہیں جو نبی کریمa کو جانور میں بطور کھانے کے ناپسند تھیں۔ وہ سات چیزیں یہ ہیں:
(۱) ذَکَر (عضو تناسل) (۲) خصیہ (۳) مثانہ (۴) مادہ جانور کی شرمگاہ
(۵) غدود (۶) بہنے والا خون (۷) پِتّہ
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں حضور پاک کی ہرہر سنت پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ بھئی! دین مشکل نہیں ہے، دین بہت آسان ہے۔ اللہ ربّ العزّت نے آپ کو سارے جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔ آپﷺ کی ہر ہر ادا اللہ تعالیٰ کی رحمت کے حاصل کرنے کا ذریعہ ہے۔ آپ کی سنتوں کو ہم سمجھ لیں، سیکھ لیں۔ 24 گھنٹے کی زندگی ہماری دین ہی دین بن جائے گی۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں نبی کریم کی سچی محبت عطا فرمائے آمین۔
وَاٰخِرُ دَعَوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں