پندرہویں شعبان کے روزہ کے بارہ میں اکابر کے فرمودات ، فتاوٰی اور معمولات

پندرہویں شعبان کے روزہ کے بارہ میں *
— اکابر کے فرمودات ، فتاوٰی اور معمولات

(۱) سراج الہند حضرت مولانا شاہ عبد العزیز محدث دہلوی حنفیؒ فرماتے ہیں کہ ’’صبح شبِ برأت کے دن کا روزہ اور شش عید کا روزہ بھی مستحب ہے۔‘‘ (فتاویٰ عزیزی ص 502)
(۲) حکیم الامت حضرت مولانا شاہ اشرف علی تھانوی حنفیؒ فرماتے ہیں کہ ’’پندرہ تاریخ کو روزہ رکھیں۔‘‘ (وعظ ذم ہویٰ ص ۸ ملخصاً ، الابقاء شعبان 56 ھ)
(۳) مفتی اول دار العلوم دیوبند حضرت مولانا مفتی عزیز الرحمن حنفیؒ لکھتے ہیں کہ ’’پندرہویں تاریخ شعبان کا روزہ مستحب ہے ، اگر کوئی رکھے تو ثواب ہے اور نہ رکھے تو کچھ حرج نہیں ہے۔‘‘ (فتاویٰ دار العلوم دیوبند ج 6 ص 500)
(۴) شیخ العرب والعجم حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی حنفیؒ فرماتے ہیں کہ ’’البتہ اگر ممکن ہو تو چودہ ، پندرہ شعبان کو نفلی روزے رکھے جائیں۔‘‘ (مکتوبات ج 4 ص 78)
(۵) حضرت مولانا مفتی محمد عاشق الٰہی مہاجر مدنی حنفیؒ فرماتے ہیں کہ ’’رسول اللہ ؐ ماہ شعبان میں روزے رکھنے کا اہتمام فرماتے تھے ، اسی لئے پندرہویں تاریخ کا روزہ بھی اس کے عموم میں داخل ہے۔‘‘ (تبلیغی اور اصلاحی مضامین ج 6 ص 100) مزید فرماتے ہیں ’’مومن بندوں کو چاہیے کہ پورے ماہ شعبان میں خوب زیادہ نفلی روزے رکھیں اور پندرہویں رات ذکر ، دعا اور نماز میں گزاریں اور پندرہویں تاریخ کو روزہ رکھیں۔‘‘ (تحفہ خواتین ص 264)
(۶) حضرت مولانا مفتی محمود حسن گنگوہی حنفیؒ فرماتے ہیں کہ ’’شعبان کی پندرہویں کو روزہ رکھنے کا حکم حدیث میں موجود ہے۔‘‘ (فتاویٰ محمودیہ ج 13ص 415)
(۷) علامہ ابن حجر ہیثمی مکی شافعیؒ فرماتے ہیں کہ ’’اس دن کا روزہ سنت ہے اس وجہ سے کہ یہ من جملہ ایام بیض میں سے ہے نہ کہ اپنی خصوصیت کیوجہ سے ۔‘‘ (الفتاویٰ الکبری الفقیہۃ ج 2 ص 80)
(۸) شیخ دردیر مالکیؒ فرماتے ہیں ’’شعبان کی پندرہویں تاریخ کا روزہ مستحب ہے۔‘‘ (الشرح الصغیر للشیخ الدردیر لکتابہ اقرب المسالک ج 1 ص 692)
(۹) شیخ مرداوی حنبلیؒ فرماتے ہیں کہ ’’شعبان کے روزوں میں پندرہویں شعبان کا روزہ زیادہ اہم ہے۔‘‘ (الانصاف ج3ص347)
(۱۰) حافظ ابن رجب حنبلیؒ فرماتے ہیں کہ ’’نصف شعبان کا روزہ منع نہیں ہے کیونکہ یہ ایام بیض کے روزوں میں سے ہے ، جو ہر مہینے رکھنا مستحب ہے ، اور خاص پندرہ شعبان کے روزے کے بارے میں حکم وارد ہوا ہے ، سنن ابن ماجہ میں ضعیف سند کے ساتھ حضرت علیؓ سے نبی اکرمؐ کا فرمان موجود ہے کہ جب شعبان کی پندرہویں رات آئے تو رات کو عبادت ادا کرو ، اور اگلے دن روزہ رکھو ، کیونکہ سورج غروب ہونے سے ، اللہ تعالٰی آسمان دنیا پر نزول فرمائے رکھتے ہیں اور فرماتے ہیں ، ہے کوئی مجھ سے بخشش مانگنے والا کہ میں اسے بخش دوں ؟ ہے کوئی رزق طلب کرنے والا کہ میں اسے رزق دوں ؟ ہے کوئی مصیبت زدہ کہ میں اسے مصیبت سے نجات دوں ؟ ہے کوئی ایسا ، ہے کوئی ایسا، اللہ تعالٰی کی طرف سے یہ اعلان صبح صادق تک جاری رہتا ہے۔‘‘ (لطائف المعارف فیما لمواسم العام من الوظائف ص 136) (تلک عشرۃ کاملۃ)
فضیلۃ الشیخ العلامہ المحدث عبدالحفیظ ملک عبد الحق المکی الحنفی زید مجدہ لکھتے ہیں کہ ’’ ہمارے مشائخ ائمہ حدیث و فقہ محققین جن میں امام ربانی شیخ رشید احمد گنگوہی انصاری ، حجۃ الاسلام امام محمد قاسم نانوتوی ، امام عارف باللہ محمد اشرف علی تھانوی فاروقی ، شیخ الاسلام امام سید حسین احمد مدنی حسینی یہاں تک کہ ہمارے شیخ امام ربانی شیخ الحدیث عارف باللہ ، نمونہ ، برکۃ العصر علامہ محمد زکریا کاندھلوی صدیقی مدنی وغیرہم رحمہم اللہ ورضی اللہ عنہم اور ان کے عام تلامذہ سب متفق ہیں اس مبارک رات کو مختلف اقسام کی عبادات کیساتھ زندہ کرنے کے اہتمام پر ، ان میں سے جونسی عبادت کو بھی اختیار کرے اسی طرح پندرہویں شعبان کا روزہ رکھنا اور افضل یہ ہے کہ ایام بیض کے تین روزے رکھے۔‘‘ (فضائل لیلۃ النصف من شعبان ص 30)
میرے والد ماجد مفسر قرآن حضرت مولانا صوفی عبدالحمید خان سواتیؒ اور عم مکرم امام اہل السنۃ حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ دونوں حضرات کی صحت نے جب تک اجازت دی انہوں نے پندرہویں شعبان کا روزہ مسلسل رکھا ، اس کا دورانیہ میرے محتاط اندازے کے مطابق ستر ستر سال سے زائد ہے ۔
اللہ رب العزت ہمیں بھی اس رات کی عبادات اور دن کے روزہ کی توفیق عطا فرمائے ، آمین۔

Leave a Reply