134

پگڑی، عمامہ

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ وَ کَفٰی وَ سَلٰمٌ عَلٰی عِبَا دِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی. اَمَّا بَعْدُ:
فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّ جِیْمِo بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْمِ o
يٰبَنِيْۤ اٰدَمَ قَدْ اَنْزَلْنَا عَلَيْكُمْ لِبَاسًا يُّوَارِيْ سَوْاٰتِكُمْ وَرِيْشًا١ؕ وَلِبَاسُ التَّقْوٰى ١ۙ ذٰلِكَ خَيْرٌ١ؕ (الاعراف: 26)
سُبْحٰنَ رَبِّکَ رَبِّ الْعِزَّۃِ عَمَّا یَصِفُوْنَo۔ وَ سَلٰمٌ عَلَی الْمُرْسَلِیْنَo وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ
الَلّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَامُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی آلِ سَیِّدِ نَامُحَمَّدٍوَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ
الَلّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَامُحَمَّدٍوَّعَلٰی آلِ سَیِّدِ نَامُحَمَّدٍوَّبَارِکْ وَسَلِّمْ
الَلّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَامُحَمَّدٍوَّعَلٰی آلِ سَیِّدِ نَامُحَمَّدٍوَّبَارِکْ وَسَلِّمْ

گلدستئہ سنت کے بیانات ابھی تک تو الحمدللہ!مدرسۃ البنات کے اندر طالبات کی تربیت کے لیے چل رہے تھے، اور ان کی اصلاح کے لیے ہورہے تھے لیکن اُمت کو نبیکی سنتوں کے بارے میں آگاہی ہوجائے اس کے لیے حضرت پیر ذوالفقار احمد نقشبندی صاحب کے حکم پر آج پہلی مرتبہ گھر سے باہر لاہور میں کہیں کیا جارہا ہے۔ محبت کے ساتھ، توجہ کے ساتھ بات کو سنیں، ان شاء اللہ دلوں میں اثر آجائے گا۔
اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَذِکْرٰی لِمَنْ کَانَ لَہُ قَلْبٌ (قٓ:37)
’’یہ باتیں اس کو فائدہ دیں گی جس کے سینے میں دل ہوگا‘‘۔
اور جس کے سینے میں سِل ہوگا اس کو فائدہ نہیں ملے گا۔
گلدستئہ سنت کیا ہے؟
یہ بتادوں کہ گلدستئہ سنت کیا ہے؟ یہ اصل میں حضورِ پاکﷺ کی سیرت ہے۔ آپﷺ کا چلنا کیسا تھا، اُٹھنا کیسا تھا، بیٹھنا کیسا تھا اور کھانا کیسا تھا۔ کھانے میں کیا پسند فرماتے تھے، کیا ناپسند فرماتے تھے۔ کب کیا کھایا، کب کیا پہنا، پہنتے کیا تھے۔ ہر ہر چیز کے بارے میں ان شاء اللہ تفصیلات آئیں گی۔ تو مقصد اس کا یہی ہے کہ مجھے بھی نبی کی اتباع مل جائے اور سننے والوں کو بھی جہاں تک اللہ چاہیں، پوری امت ہے اللہ کے حبیب کی جہاںتک چاہیں اللہ آواز کو پہنچا دیں۔
آپﷺ کی افضلیت :
ایک بات دیکھیے! یہ ہمارا عقیدہ ہے کہ حضورِ پاکﷺ افضل الانبیاء ہیں، اور اللہ رب العزت نے اپنے پیارے حبیب حضورِ پاکﷺ کو ہر وہ چیز عطا کی جو سب سے افضل ہے۔ تفصیلات اس کی بہت ہیں۔ چند ایک اشارے دے کر بات کو شروع کرتے ہیں۔ کتابیں کتنی آئیں؟ چار۔ سب سے افضل کون سی؟ ’’قرآنِ پاک‘‘ اور وہ ہمارے نبیﷺ کو ملی۔ امتیں بے شمار آئیں، سب سے افضل امت کس کی؟ حضورِ پاکﷺ کی۔ پانی بیشمار ہیں لیکن افضل پانی کونسا ؟ ’’آبِ کوثر‘‘ اس سے افضل علماء نے لکھا ’’آبِ زمزم‘‘۔
آبِ زمزم کی افضلیت:
جب معراج کی رات میں حضرت جبرائیل تشریف لائے اور سینہ مبارک کو چاک کیا تو اس وقت جو پانی استعمال کیا گیا وہ آبِ زمزم تھا۔ اگر جنت کا پانی آبِ کوثر کا پانی افضل ہوتا توحضرت جبرائیل وہ لے کر آتے۔ زمزم استعمال ہوا یہ دلیل ہے اس بات کی کہ افضل نبیﷺ کے لیے افضل پانی استعمال ہونا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے کہیں کوئی (Compromise) نہیں کیا کہ افضل کوئی چیز کسی اور کو دے دی ہو کسی جگہ ایسا نہیں ہوا۔
آبِ زمزم سے افضل پانی:
غور کیجیے! اس سے بھی افضل پانی علماء نے لکھا وہ کونسا ہے۔ ایک مرتبہ سفر کے موقع پر پانی کی (Shortage) ہوگئی تو آقا کی انگلیوں سے پانی نکلنے لگا سبحان اللہ! اور سب کا کام ٹھیک ہوگیا۔ تو علماء حضرات نے لکھا ہے کہ یہ پانی زمزم سے بھی افضل ہے کہ آپﷺ کی مبارک انگلیوں سے نکلا ہے۔
افضل نماز:
نماز کو دیکھ لیجیے! پہلی امتوں پر جو نمازیں تھیں وہ اس وقت کے حساب سے بالکل ٹھیک تھیں، لیکن یہ کہ قیام بھی ہو، رکوع بھی ہو، سجدہ بھی ہو، یہ ساری چیزیں نہیں تھیں کہیں کچھ تھا، کہیں کچھ تھا۔ اس امت کو جو نماز ملی وہ کامل ملی، اکمل ملی اور وہ بھی نبیکی برکت سے ملی۔
حضرات صحابہ کرا کی افضلیت:
صحابہj کو ہی دیکھ لیجیے! ہر ایک نبی کو ساتھی ملے۔ عیسیٰ کو بھی ملے، موسیٰ کو بھی ملے سب کو ملے لیکن آقا کو جو ساتھی ملے کسی اور کو اُن جیسے نہیں مل سکے۔ ایسے یار اللہ نے عطا فرمائے اللہ اکبر۔ ابھی تفصیلات تو اس میں اور بھی بہت سی بیان کرسکتے ہیں، لیکن ایک بات کو سمجھنے کے لیے کہ ہم یہ مانتے ہیں کہ نبی تمام مخلوقات میں سب سے افضل ہیں، انبیاء میں سب سے افضل ہیں اور جو کچھ آپﷺ کو ملا ہر چیز سب سے افضل اور بہتر سے بہتر ملی، کوئی ایسی چیز نہیں تھی جو کسی اور کو آپﷺ سے اچھی دیدی گئی ہو۔ اگر ہم ان باتوں کو مانتے ہیں دوسری چیزوں کے بارے میں، تو اعمال کے بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں کہ نبی سے اچھے اعمال کسی کو مل سکتے ہیں؟
غیر مسلموں کی تقلید:
آج ہم کافروں کی تقلید کرتے ہیں، یہودیوں کی تقلید کرتے ہیں، نصاریٰ کی تقلید کرتے ہیں، اللہ کے دشمنوں کی تقلید کرتے ہیں۔ لباس میں، اپنے انداز میں، چلن پھرن میں، کھانے پینے میں۔ ارے میں تو بڑھ کے کہوں گا کہ کسی نبی کو اللہ نے وہ طریقہ نہیں دیا جو میرے نبی کو اللہ نے دیا۔ کافروں اور یہودیوں کی بات کیا کرنی، کسی نبی کو وہ طریقہ نہیں ملا جو میرے آقا کو ملا۔ آقا کا لباس سب سے افضل، آقا کا مبارک چہرہ داڑھی والا سب سے افضل، عمامہ پہن لینا (پگڑی) سب سے افضل۔ ہر چیز آقا کی سب سے افضل ہے۔
داڑھی میں یقیناً خوبصورتی ہے:
آج لوگ کہتے ہیں کہڈاڑھی شادی کے بعد رکھیں گے، خوبصورتی میں فرق آجاتا ہے۔ بیچارے کھڑے ہوتے ہیں شیو کرواکے شیشے کے سامنےکہ خوب نظر آرہے ہیں، یقین مانیںاس جیسا بد صورت کوئی نہیں۔ مجھے بتائیں کہ اگر ڈاڑھی خوبصورتی میں رکاوٹ ہوتی، تو یوسف کو اللہ نہ دیتے آپ کو دیکھ کر تو مصر کی عورتوں نے ہاتھ کاٹ لیے تھے، اتنا حسن تھا۔
مَا ھٰذَا بَشَرًا اِنْ ھٰذَآ اِلَّا مَلَکٌ کَرِیْمٌ (یوسف: 31)
اور آقا کو جو حسن دیا اس کے بارے میں بی بی عائشہ نے کیا فرمایا؟ کہنے لگیں کہ اے مصر کی عورتو! تم نے یوسف کو دیکھا تو ہاتھ کاٹ لیے، میرے محبوبﷺ کو دیکھتیں تو سینہ کاٹ لیتیں، سینے پر چھریاں پھیر دیتیں۔ تو آقا کا چہرہ مجھے بتائیں! داڑھی والا تھا یا بغیر داڑھی کے تھا؟ کہیں کوئی روایت ملتی ہے کہ نبی نے شیو کروائی ہو۔ اس کا مطلب کیا کہ افضل نبیﷺ کے لیے ہر چیز افضل اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملی ہے۔
اب اپنے موضوع سے متعلق چند باتیں ہم کریں گے۔ جیسے پہلے کھانے پینے کے بارے میں نو اور دس بیان چلے، اب لباس کے بارے میں بات چل رہی ہے۔ قمیض اور پاجامہ کے بیان کے بعد اب عمامہ کے متعلق بات عرض کی جارہی ہے۔ جس کو ہم پگڑی کہتے ہیں۔ اب اتباعِ سنت کے شوق کے ساتھ ذرا آقا کی سنتیں پڑھیے میری دعا ہے اللہ کرے کہ یہ مبارک باتیں، نبی کی باتیں تو جہاں بھی ہوں مبارک ہیں اور یہ تو اللہ کا گھر ہے، مسجد ہے ہوسکتا ہے کہ آج کوئی ارادہ کرہی لے کہ آج کے بعد میں نبی کا ہر طریقہ اپناؤں گا۔ کوئی ایک بھی ارادہ کرلے تو مجھے لگتا ہے کہ حضرت کا یہاں بُلانا فائدہ مند ہوجائے گا۔ ہم تو فقیر لوگ ہیں، آواز لگاتے ہی رہتے ہیں۔ عمامہ یہ نبی کی مبارک سنت ہے پگڑی آقا کی مبارک سنت ہے اس کے بارے میں تفصیل سنیے!
کالے رنگ کا عمامہ:
حضرت جابر فرماتے ہیں کہ حضورِ اقدسﷺ فتح مکہ کے وقت جب شہر میں داخل ہوئے تو آپﷺ کے سر مبارک پر سیاہ رنگ کا عمامہ تھا۔ (شمائل، صفحہ 9)
اتنے قیمتی اور اہم وقت پر آپﷺ کے سر مبارک پر عمامہ تھا۔ ایک اور صحابی عمر بن حریث فرماتے ہیں کہ وہ (خوشنما اور پُروقار) منظر آج بھی میری نظروں کے سامنے ہے کہ جب رسول ِ اکرمﷺ منبر پر خطبہ پڑھ رہے تھے اور سیاہ عمامہ آپﷺ کے سر مبارک پر تھا اور اس کا شملہ دونوں شانوں کے درمیان میں تھا۔
(شمائل، صفحہ 9، مسلم صفحہ440)
دونوں کندھوں کے درمیان میں پیچھے تھا۔ فرماتے ہیں کہ وہ منظر آج بھی مجھے نظر آرہا ہے گویا کہ نبی کو میں دیکھ رہا ہوں کہ وہ منبر پر بیٹھے ہوئے ہیں اور سیاہ عمامہ آپﷺ نے پہنا ہوا ہے۔ یہ محبت کی باتیں ہیں۔
عمامہ باندھنے کا اہتمام:
نبی نے فرمایا کہ ’’ عمامہ باندھو‘‘۔ یہ باندھو کا کیا مطلب ہے؟ خواہش بتارہے ہیں اور حکم بھی دے رہے ہیں۔ جب بڑے کوئی بات کریں تو حکم کے درجے میں ہوتی ہے۔ تو نبی اپنے امتیوں کو کہہ رہے ہیں یا صرف صحابہ کو کہہ گئے تھے؟ کیا یہ حدیث ہمارے لیے نہیں ہے؟ صرف صحابہ کے لیے تھی یا ہمارے لیے بھی ہے؟ ہم سب کے لیے ہے، پوری امت کے لیےہے۔ تو ذرا سنیے! اگر میرے لیے ہے تو میں بھی سنوں اپنے کانوں سے۔ نبی نے فرمایا کہ ’’ عمامہ باندھو‘‘کیوں؟ کیونکہ یہ حضرات ملائکہ کی خاص نشانی ہے، اور اس کے کنارے کو پیچھے ڈال دیا کرو۔ (مشکوٰۃ، صفحہ 277)
یہ شملہ ہے جو بچ جائے اس کو پیچھے ڈال دیا کرو، کوئی پریشانی کی بات نہیں ہے۔
پگڑی باندھنے کے فوائد:
ایک حدیث میں آتا ہے آقا نے فرمایا کہ عمامہ باندھا کرو، اس سے تمہارے حلم اور بردباری میں اضافہ ہوگا۔ (بزار، مجمع جلد5صفحہ122)
بردباری کو وقار سمجھ لیجیے، اور حلم اس کے بارے میں خود قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ
وَ كَانَ اللّٰهُ عَلِيْمًا حَلِيْمًا۰۰۵۱ (الاحزاب:51)
اللہ علم والے ہیں، حلم والے ہیں۔
آپ عمامہ باندھیے! آقا کا فرمان دیکھیے۔ آج لوگ کہتے ہیں کہ غصہ بڑا چڑھتا ہے، اللہ حلم عطا فرمادیں گے۔ باقی یہ تفسیر میں نے کہیں پڑھی نہیں ہے، اللہ نے دل میں ڈال دی اس میں کوئی غلطی ہو، تو میری اصلاح فرمادیں۔
انبیاء اور فرشتوںکی سنت:
حضرت ابوموسیٰ فرماتے ہیں کہ حضرت جبرائیل ایک مرتبہ آقا کے پاس آئے تو سیاہ عمامہ پہنے ہوئے تھے۔ (مجمع جلد5صفحہ123)
حضرت علی سے روایت ہے کہ نبی نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے غزوہ بدر اور غزوہ حُنین میں ہماری مدد کے لیے جو ملائکہ بھیجے تھے وہ عمامہ باندھے ہوئے تھے۔
(طیالسی، کنزصفحہ222)
تو پگڑی باندھنا انبیاء کی بھی سنت ہے اور فرشتوں کی بھی سنت ہے۔ موسیٰ بھی پہنتے تھے۔ اور ترکی کے اندر میں نے دیکھا کہ حضرت یوسف کا عمامہ آج بھی موجود ہے۔اور ہمارے محبوبﷺ بھی پگڑی باندھتے تھے یہی ایک بات ہمارے لیے کافی ہے۔
جمعہ کے دن پگڑی کی فضیلت:
جمعہ کے دن ہم تیاری کرتے ہیں، ناخن کاٹتے ہیں اور باقی مسنون اعمال کرتے ہیں تو عمامہ بھی پہن لیں کہ میرے آقا کی خواہش ہے کہ میرے امتی اس کو پہنیں۔ اس پر ذرا غور کریں۔ حضرت ابو درداء کی روایت ہے کہ نبی نے فرمایا کہ اللہ جل جلالہ اور اس کے فرشتے جمعہ والے دن عمامہ باندھنے والوں پر دعائے رحمت کرتے ہیں۔
(مجمع جلد5 صفحہ 124)
اور آج بعض حضرات پہلے وہ نائی کے پاس جا کر شیو بنواتے ہیں کہ جمعہ پڑھنا ہے۔العیاذ باللہ
نزول رحمت آقاﷺ کی سنت سے ہوگا:
اللہ کی رحمت تو نبی کی سنتوں کے ساتھ بندھی ہوئی ہے، ہم سنتوں پر عمل کرتے چلے جائیں رحمتوں کا اور برکتوں کا نزول دیکھتے چلے جائیں گے۔ ہماری زندگی میں جتنی سنتیں آئیں گی اتنی برکتیں آئیں گی۔ جتنا ہم یہود ونصاریٰ کے طریقوں پر چلیں گے اتنی بے برکتیاں آتی چلی جائیں گی۔ اور یہ عمامہ کیا ہے؟ سبحان اللہ، اللہ اکبر کبیرًا!
عربوں کا تاج:
ہمارے پیارے حبیبﷺ کا فرمان ہے کہ یہ عمامہ عربوں کا تاج ہے۔
(شمائل کبریٰ جلد1صفحہ 182)
یہ آقا کا فرمان ہے کہ یہ عربوں کا تاج ہے۔ ارے میرے بھائیو! آج اپنے سروں پر کپڑے کا عمامہ سجا لو، کل اللہ تعالیٰ سونے اور چاندی اور ہیرے کا عمامہ عطا فرمائیں گے جو چمک رہا ہوگا، سورج سے زیادہ روشن ہوگا، لیکن آج یہ کپڑے کا پہن کر دکھائیں۔ مجھے نہیں دکھانا، نہ حضرت کو دکھانا ہے۔ اللہ کو دکھانا ہے، اللہ کے لیے پہننا ہے۔ آپ یہاں کپڑے کا لے کر پہن لیں ان شاء اللہ ثم ان شاء اللہ اس کی برکت سے اللہ ہمیں جنت میں اور قیامت والے دن ایسے عمامے عطا فرمائیں گے کہ اس کی روشنی سورج کی روشنی سے زیادہ ہوگی۔ سودا ہے اللہ سے کر لیں ان شاء اللہ اللہ دیں گے۔
امت محمدیہ کا اکرام:
اس امت کا اکرام اللہ تعالیٰ نے پتا ہے کیسے کیا ہے؟ آقا سے سن لیجیے! نبی نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اس امت کا اکرام عمامہ سے کیا ہے۔ (شمائل کبریٰ صفحہ182جلد1)
عمامہ کو اللہ تعالیٰ نے تو عزت افزائی کے لیے اُتارا ہے۔ کتنا بڑا شرف ہے مسلمان کے لیے۔ دنیا میں بھی اللہ تعالیٰ ایمان والے کو صاحب تاج بنارہے ہیں اور آخرت میں بھی اللہ اکبر کبیرًا۔
کنزالعمال کی حدیث میں ہے کہ عمامہ مومن کا وقار ہے۔
(کنز العمال جلد 19صفحہ 222)
سفر اور حضر یعنی ہر حال میں اور سفر میں نبی عمامہ پہنتے تھے۔ یہ سنت استمراری کہلائے گی کہ ہمیشہ پہنا عادتاً پہنا لازمی پہنا، ایسا نہیں کہ ایک نماز عمامہ والی ایک بغیر عمامہ والی۔ عمامہ آپﷺ نے پسند فرمایا اور مستقلاً پہنا۔
شاگردوں کو عمامہ باندھنا:
امی عائشہ سے روایت ہے کہ آپﷺ نے عبدالرحمٰن بن عوف کو عمامہ باندھا اور چار اُنگل کے برابر شملہ چھوڑ دیا۔ (سیرت خیر العباد، جلد7صفحہ 434)
یعنی عمامہ شاگردوں کو باندھنا بھی سنت ہے۔ خود باندھنا یہ بھی سنت ہے اور شاگردوں کو باندھنا یہ بھی سنت ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ کسی کو خلافت مل جاتی ہے تو حضرت کو دیکھا عمامہ باندھتے ہیں، اور مدارس میں بھی دیکھا کوئی عالم بن جائے تو اس کو عمامہ باندھتے ہیں۔ کوئی حافظ بن جائے تو اس کو بھی عمامہ باندھتے ہیں۔ تو یہ اللہ کے نبیﷺ کی سنت ہے۔ سنت کو زندہ کررہے ہوتے ہیں، لیکن یہ لوگ بیچارے کتنا کرسکتے ہیں زیادہ سے زیادہ کپڑے کا عمامہ پہنا سکتے ہیں۔ آپ اس کو زندگی بھر باندھے رکھیں۔ اللہ آپ کو ہیرے اور چاندی کا عمامہ عطا فرمائیں گے۔ چاندی بھی کوئی اتنی بڑی چیز نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ ہیرے کا عمامہ عطا فرمائیں گے۔
اسلام اور کفر میں امتیاز:
رسولِ اکرمﷺ نے غدیر خم کے دن یہ ایک ایسا موقع تھا کہ آقاﷺ نے حضرت علی کے بارے میں کچھ خاص فضائل بیان فرمائے۔ اس موقع پر نبی نے سیدنا علی کو بلایا اور عمامہ باندھا اور شملہ پیچھے چھوڑ دیا اور فرمایا کہ دیکھو عمامہ اس طرح باندھا کرو۔ عمامہ خاص کر کے اسلام کی نشانی ہے اور آگے فرمایا کہ یہ مسلمان اور کافروں کا امتیاز ہے۔ (شرح مواہب لدنیہ جلد 5صفحہ 10)
اسلام اور کفر کا امتیاز یہ کوئی چھوٹی چیز ہے؟ اور یہ آقاﷺ خود اسلام اور کفر میں فرماتے ہیں۔ حضرت عبداللہ بن عمر کی روایت ہے کہ آپﷺ نے عبدالرحمٰن بن عوف کو جب عمامہ باندھا اور چار اُنگل یا ایک بالشت کے برابر اس کا شملہ چھوڑ دیا۔ حضرت علی کی روایت ہے کہ نبیﷺ نے مجھے عمامہ باندھا اور اس کا شملہ میرے کندھے پر ڈال دیا۔ (زرقانی علی المواہب جلد 5صفحہ 12)
ان روایات سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ نبی نے اللہ کے حکم سے مسلمانوں کو الگ ساخت دی ہے۔ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ حق دنیا میں آجائے اور پھر حق وباطل میں فرق بھی نہ ہو۔ تو یہ عمامہ باندھنا مسلمانوں کی نشانی ہے۔
عمامہ کیسے پہنیں :
اس کے بارے میں حضرت رکانہ فرماتے ہیں، مشکوٰۃ شریف کی روایت ہے کہ رسولِ اکرمﷺ نے فرمایا کہ ہمارے اور مشرکین کے درمیان فرق ٹوپی کے اوپر عمامہ باندھنا ہے۔ (مشکوٰۃ صفحہ 374)
بہت سے مشرک بھی عمامہ باندھتے ہیں۔ اُس زمانے میں بھی باندھتے تھے اِس زمانے میں بھی باندھتے ہیں۔ فرق آقا نے بتادیا کہ وہ ٹوپی کے اوپر نہیں باندھتے، فقط سر کے اوپر عمامہ باندھ لیتے ہیں۔ تو پہلے ٹوپی ہو اور پھر ٹوپی کے اوپر عمامہ ہو یہ نبی کی سنت ہے۔ تو مسلمان ٹوپی کے اوپر عمامہ باندھتے تھے اور کفار بلا ٹوپی کے باندھتے تھے۔ آپﷺ نے اسی فرق کو ظاہر کرنے کے لیے اس کا اظہار فرمایا۔
عمامہ کا شملہ رکھنا:
جب آپﷺ عمامہ باندھتے، تو شملہ کبھی آگے چھوڑتے اور کبھی پیچھے چھوڑتے۔
(زرقانی جلد5صفحہ 13)
بہتر دونوں شانوں کے درمیان میں ہے۔ (خصائل، صفحہ93) 
نیز یہ شملہ چھوڑنا مستحب ہے اور اس کا ترک مکروہ ہے۔
(سیرت الشامی، جلد7صفحہ 440)
کوئی انسان عمامہ تو باندھے مگر شملہ نہ چھوڑے کہ جی اچھا نہیں لگتا یا کوئی اور بہانے تراشنے لگے فرمایا کہ اس کا ترک مکروہ ہے کیونکہ یہ میرے پیارےنبیﷺ کی سنت ہے۔
عمامہ کی مسنون لمبائی:
لمبائی کے متعلق موٹی سی بات سمجھ لیں کہ چھوٹا ہو یا بڑا لمبا ہو، کیسا بھی ہو، آپ نے باندھ لیا اتباعِ سنت کی نیت سے تو بس سنت کا ثواب مل گیا، لیکن مسنون لمبائی بھی کتابوں میں آتی ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ دس ہاتھ تھی۔ امی عائشہ کی روایت ہے کہ سفرو حضر کے صافہ کی لمبائی سات ہاتھ ہوتی تھی۔ عمامہ کو صافہ بھی کہتے ہیں، تو لمبائی سات ہاتھ ہوتی تھی اور چوڑائی ایک ہاتھ ہوتی تھی۔ (شمائل کبریٰ جلد 1صفحہ 183)
اب یہ ہاتھ سے کیا مراد ہے؟ تو اس زمانے میں فٹ، گز یا میٹر نہیں ہوتے تھے تو بالشت کے ساتھ چیز کو ناپا جاتا تھا یا ہاتھ سے لے کر کہنی تک ناپ لیتے تھے۔ تو سات ہاتھ کا مطلب ہوا سات بالشت،تو سات ہاتھ، دس ہاتھ دو روایتیں آئیں۔ اس کے علاوہ 6ہاتھ اور 12ہاتھ بھی منقول ہے۔ (زرقانی علی المواہب جلد 5صفحہ 4منادی صفحہ70)
عیدین پر آپﷺ کا عمامہ:
مسلمان عید والے دن بھی بڑے تیار ہوکر جاتے ہیں تو نبی کی بات بھی سنیے!
حضرت جابر فرماتے ہیں کہ نبی کے پاس سیاہ رنگ کا عمامہ تھا جس کو آپﷺ عیدین میں استعمال فرماتے تھے، اور شملہ پشت کی جانب ڈال دیا کرتے تھے۔
(حاوی سیرت خیر العباد صفحہ 430)
اس کے علاوہ جب نبی کسی کو کہیں خاص جگہ پر بھیجتے تو بھی عمامہ باندھا کرتے تھے۔ جیسے حضرت علیکو آپﷺ نے خیبر کے معرکہ میں بھیجا تو اس وقت آپﷺ نے سیاہ عمامہ باندھا اور پھر بھیجا۔ (حاوی جلد 2صفحہ 104)
آپﷺ کا سفری عمامہ:
ایک اور حدیث میں آتا ہے کہ امی عائشہ فرماتی ہیں کہ نبیﷺ کا سفری عمامہ سفید تھا۔ (زرقانی جلد 5صفحہ 4)
سفر میں بھی پہنا اور ویسے بھی پہنا تو سفید رنگ کا عمامہ بھی آپﷺ پہنتے تھے۔ یہ دو رنگ تو پکے ہیں ایک سفید اور ایک سیاہ۔ ایک اور روایت بھی آتی ہے کہ نبی نے زرد رنگ کا عمامہ بھی پہنا۔ (ابن عساکر، مستدرک حاکم، حاوی جلد2صفحہ 104)
لیکن اس کے بارے میں علماء نے لکھا کہ بالکل ابتدائے اسلام کی بات ہے اس کے بعد باقاعدہ عمران بنحصین فرماتے ہیں کہ رسولﷺ نے فرمایا کہ میں سُرخ اور زرد رنگ کو استعمال نہیں کرتا۔ (مختصر مشکوٰۃ صفحہ 375)
اس کا مطلب ہے کہ بالکل ابتدا میں استعمال ہوا ہے، لیکن بعد میں آپﷺ نے اس کو منع فرمادیا۔ اور بخاری شریف کی روایت میں ہے کہ آپﷺ نے مردوں کو زعفرانی رنگ سے بھی منع فرمایا۔ (بخاری جلد2صفحہ 869)
امام ذہبی نے بیان کیا ہے کہ عمامہ میں زرد رنگ کی جو روایتیں ہیں وہ ممانعت سے قبل کی ہیں۔ (سیرت خیر العباد جلد 7صفحہ 441)
اس سے دو ہی رنگ ثابت ہوئے ہیں سیاہ اور سفیدتیسرا رنگ زرد ہے، لیکن اس کے منسوخ ہونے کی اور منع ہونے کی روایت بھی آچکی۔ تو ٹوٹل تین رنگ ملے ان میں سے بھی ایک کینسل (Cancel) ہوگیا تو دوہیں جو قیامت تک ان شاء اللہ حدیث کے مطابق نبی کی سنت ہیں۔
آپﷺ کا دستار بندی فرمانا:
نبی جب کسی کو کسی مہم پر بھیجتے یا کسی کو حاکم بناتے یا گورنر بناتے، ولی بناتے ، تو اس کو بھی عمامہ پہنایا کرتے تھے۔ آج کوئی آپ کو نظر آیا کونسلر علاقے کا یا کوئی وزیر کہ سنت پر عمل کرکے عمامہ پہننا ہوا ہو، ذرا غور کریں۔ حضرب ابو امامہ کی روایت ہے کہ رسول اللہﷺ کسی کو کسی مقام کا والی یا گورنر بناتے تو اسکے سر پر عمامہ باندھتے اور اس کے کنارے کو دائیں جانب کان کی طرف چھوڑدیتے۔
(زرقانی جلد5صفحہ 13، سیرت خیر العباد جلد7صفحہ 432)
یعنی عمامہ باندھا کرتے تھےکہ تمہارے اوپر ذمہ داری ڈالی جارہی ہے۔
عمامہ باندھنے کا طریقہ:
صحاب کو نبی سے اتنی محبت تھی کہ ایک ایک بات کو نوٹ فرمالیا کرتے تھے، کتنا دیکھتے ہوں گے۔ میں تو حیران ہوگیا اس حدیث کو پڑھ کر کہ کتابوں میں لکھا ہے کہ نبی کے سر مبارک اور ریش مبارک(داڑھی مبارک) میں کل ملا کر جو سفید رنگ کے بال تھے وہ بیس نہیں تھے، یعنی بیس سے کم تعداد تھی۔ کتنی محبت سے دیکھتے ہوں گے کہ بال تک گن لیے کہ کتنے سفید ہیں۔ ٹکٹکی باندھ کے دیکھتے ہوں گے، یہ محبت ہوتی ہے۔ جیسے آج کل کے لڑکے دیکھ رہے ہوتے ہیں کہ کوئی ملے جس کو داؤ لگائیں ہر وقت دماغ لڑکیوں کی طرفہی رہتا ہے۔ تو صحابہ کرام تو نبی کے سچے عاشق تھے۔
اب عمامہ کیسے باندھیں؟ فرمایا کہ عمامہ کھڑے ہوکر باندھنا چاہیے اور پاجامہ، پتلون، شلوار یہ بیٹھ کر پہننی چاہیے کہ سنت ہے۔ عمامہ کھڑے ہوکر باندھنا سنت ہے اور پاجامہ، شلوار یا پینٹ بیٹھ کر پہننا سنت ہے۔ اور اگر کوئی اس کے خلاف کرے تو علامہ زرقانی نے لکھا ہے۔ میں کہ اگر کوئی عمامہ بیٹھ کر پہنے تو اس کے حافظے میں کمزوری جانے کا خطرہ ہے۔ اور اگر کوئی شلوار وغیرہ کھڑے ہوکر پہنے تو اس کا حافظہ کمزور ہوجائے گا۔
(زرقانی جلد 5صفحہ4)
یعنی اس کو بھولنے کی بیماری لگ جائے گی۔ یہ علامہ زرقانی نے لکھا ہے۔
عمامہ کے ساتھ نماز کا ثواب:
اور عمامہ سنت ہے خاص طور پر نماز کے وقت نماز کا ثواب بڑھ جاتا ہے۔ (مناوی صفحہ 165)
رومال وغیرہ باندھنا:
کبھی ایسا ہوا کہ عمامہ موجود نہ تھا تو نبی کے پاس جو رومال وغیرہ ہوتا، تو اس کو باندھ کر لپیٹ لیا کرتے تھے۔ (عمدۃ جلد 21صفحہ 309)
صاحبِ سیرت الشامی نے بیان کیا ہے کہ اگر عمامہ نہ ہوتا تو آپﷺ کپڑے کے ٹکڑے کو سر اور پیشانی پر باندھ لیتے تھے۔ (سیرت الشامی جلد 7صفحہ 430)
بعض دفعہ آپ نے دیکھا ہوگا کہ کندھے والا کپڑا سر پر لگایا اور عمامہ کی طرح لپیٹا اور نماز شروع کردی۔ تو کتنی پیاری بات ہے، لیکن اس کی عادت نہ بنائی جائے۔ عادت عمامہ کی ہو۔اوراگر عمامہ نہ ہو تو رومال استعمال کرلیا جائے۔
آپﷺ کی ایک مبارک عادت:
نبی کی مبارک عادت یہ بھی تھی کہ نبی چیزوں کے نام رکھ دیا کرتے تھے۔ آپﷺ کی بکریوں کے نام سیرت کی کتابوں میں بیان ہوئے ہیں۔ آپﷺ کے پاس ایک گدھا تھا جس کا نام’’عفیر‘‘تھا۔ (سیرت الشامی، صفحہ 406، ابن سعد جلد1صفحہ 492)
ہر چیز کا نام رکھ دیا کرتے تھے، یہ اس زمانے کا ایک عام سا رواج تھا۔
آپﷺ کے عمامہ کا نام:
اسی طرح نبی کے پاس ایک عمامہ تھا، اس کا نام سحاب تھا۔ (زرقانی جلد5صفحہ 4)
اس سے معلوم یہ ہوا کہ کسی کپڑے کا نام رکھ کر اس کو اس نام سے پکارا جاسکتا ہے۔ مثلاً اگر ہمارے پاس عمامہ ہو اور اس کا نام سحاب رکھیں تو یہ بھی سنت پوری ہوجائے گی۔ تو نبی نے فرمایا کہ میری امت کے بگاڑ کے وقت جو میری سنت کو زندہ کرے گا، اسے 100شہیدوں کا ثواب ملے گا۔ تو سر پر عمامہ باندھ لیں سنت کا ثواب، عمامہ کا نام سحاب رکھ لیں تو مزید ثواب۔ تو دیکھیں! مزے ہی مزے ہوجائیں گے۔
آپﷺ کے مختلف لباسوں کا بیان:
اب اس کے بعد چند اور لباس بھی ہیں جن کا تذکرہ مناسب معلوم ہوتا ہے۔ نبی نے رنگین دھاری دار لباس بھی استعمال فرمایا۔ ایک حدیث میں آتا ہے کہ نبی آئے اور آپﷺ دو سبز کپڑوں میں ملبوس تھے۔ (مشکوٰۃ صفحہ 376)
حضرت انس سے روایت ہے کہ رسولِ اکرمﷺ جب مرض وفات میں تھے تو اسامہ کے ساتھ ٹیک لگاتے ہوئے باہر تشریف لائے اور آپﷺ پر قطری کپڑا تھا جسے آپﷺ نے لپیٹ رکھا تھا، پھر آپﷺ نے لوگوں کو نماز پڑھائی۔
(مشکوٰۃ صفحہ 376)
ملاعلی قاری نے لکھا ہے کہ قطر ایک قسم کی چادر ہوتی تھی جو یمن سے آتی تھی اور اس میں لال رنگ کے کچھ نشان یا ڈیزائن بنے ہوئے ہوتے تھے اور وہ موٹی ہوتی تھی۔
لباس میں گنجائش:
پچھلے بیان میں گزرا کہ نبی نے فرمایا کہ سفید رنگ پہنا کرو کہ جنت بھی سفید ہے اور اللہ کو پسند ہے۔ اور پچھلے بیان میں یہ بھی آیا تھا کہ اپنے مُردوں کو سفید لباس میں دفن کیا کرو، تو پچھلی دفعہ سفید کے بارے میں روایت تھی۔ ایک دن میں نے کہیں بیان کیا تو وہاں کسی نے مجھ سے پوچھا کہ ساری زندگی سفید لباس پہننا ہے؟ یہ کیسے ہوسکتا ہے؟ دھوتے ہوئے ذرا مشکل ہوتا ہے۔ بھائی! یہ کوئی بڑی بات نہیں ہے۔ نبی نے مختلف رنگ پہن کر امت کے لیے گنجائش نکالی ہے لیکن پسند سفید کپڑے کو کیا ہے۔ یہ تو شوق اور رغبت کی باتیں ہیں۔ جو عمل پر آجاتا ہے تو اس کے لیے منجانب اللہ آسانیاں بھی ہوجاتی ہیں۔اور ایک حدیث میں آتا ہے کہ سبز رنگ اہل جنت کا رنگ ہے۔
(زرقانی علی المواہب جلد5صفحہ 15)
خواتین کے لیے سنت:
امی عائشہ فرماتی ہیں کہ آپﷺ کے کپڑوں کو ہم نے خوشبو سے رنگا تھا جسے آپﷺ گھر میں بھی پہنتے تھے، ازواج مطہرات کے پاس جاتے تب بھی پہنتے تھے اور اس میں نماز بھی پڑھتے تھے۔ (سیرت صفحہ 495)
پتا چلا کہ خوشبوؤں میں بھی رنگ کو استعمال کرلیتے تھے۔ اب یہ محبت کی بات ہے کہ بیوی کو شوہر سے اتنی محبت ہو کہ شوہر کے کپڑے خوشبو سے رنگ رہی ہے۔ بیوی کے لیے بھی تو سنت ہونی چاہیے یہ تو نہیں کہ مرد ہی پوری کریں گے، کوئی عورت بھی پوری کرے۔
خاص مواقع کے لیے آپﷺ کی چادر:
حضرت عروہ سے روایت ہے کہ آپﷺ کے پاس ایک سبز رنگ کی چادر تھی جسے آپﷺ وفود کے آنے پر استعمال فرمایا کرتے تھے۔ (ابن سعد، سیرت جلد7صفحہ 490)
چادروں کے بارے میں پیچھے تو یہ تفصیل گزری کہ یمن کی چادریں آتی تھیں اور آپﷺ بہت شوق سے اُن کو پہنا کرتے تھے۔ تو چادر کا پہن لینا اپنے پاس رکھنا عید کے لیے جاتے ہوئے اتباعِ سنت سے یہ ثواب کی بات ہے۔ ایک صحابی یعلیٰ بن امیہ فرماتے ہیں کہ میں نے آپﷺ کو سبز رنگ کی چادر میں طواف کرتے دیکھا ہے جسے آپﷺ اپنی بغل سے نکالے ہوئے تھے۔ (ابو داؤد )
ویسے تو بہتر ہے کہ سفید رنگ ہو اگر کسی وجہ سے سفید موجود نہ ہو تو احرام کے وقت کوئی دوسرا رنگ بھی استعمال کرسکتے ہیں۔
عید کے لیے آپﷺ کی چادر:
عید کے موقع پر بھی آپ ﷺ چادر کا استعمال کیا کرتے تھے، کبھی کسی رنگ کی، کبھی کسی رنگ کی، لیکن وہ جو رنگ ہوتے تھے عام طور سے اُن کا رنگ بالکل ایک نہیں ہوتا تھا۔ان پر کبھی دھاریاں کبھی کوئی ڈیزائن بنا ہوتا تھا، بالکل سرخ رنگ سے تو نبی نے سیدھی سیدھی بات کی اور مردوں کو منع فرمایا کہ سرخ رنگ کا لباس نہ پہنیں۔ (زاد المعاد جلد1صفحہ 51)
اور آج 14فروری کو کیا ہوتا ہے؟ سارے کوشش کررہے ہوتے ہیں کہ سُرخ لباس پہنیں۔
سرخ رنگ کی ممانعت:
رسول اللہﷺ نے وضاحت کے ساتھ یہ بات بیان فرمادی کہ سرخ رنگ کا لباس مردوں کے لیے پسندیدہ نہیںاور اس کی وجہ آقا نے خود بتائی۔
حضرت عمران بن حصین فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا کہ خبردار لال رنگ مت استعمال کروکہ یہ شیطان کا محبوب رنگ ہے۔ (مجمع جلد 5 صفحہ 133)
لیکن یہ ممانعت مردوں کے لیے ہے، عورتوں کے لیے نہیں وہ پہن سکتی ہیں۔ 14فروری کو کام بھی شیطانی اور رنگ بھی شیطانی۔
حضرت رافع بن یزید فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ شیطان لال رنگ کو پسند کرتا ہے۔ لہذا تم اس سے پرہیز کرو۔ اور اسی طرح شہرت والے لباس سے بھی پرہیز کرو۔ (مجمع جلد 5صفحہ133 )
حسن بصری فرماتے ہیں کہ لال رنگ شیطان کی زینت ہے۔
(کنز جلد 19صفحہ 225)
حضرت براء فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے لال ریشمی جوڑے سے منع فرمایا۔
(بخاری)
ریشمی لباس تو ویسے ہی مردوں کو منع ہے۔ ایک اور حدیث میں آتا ہے کہ آپﷺ لال رنگ کو ناپسند فرماتے تھے۔ (عمدۃ القاری جلد22صفحہ 23)
آپﷺ کا سلام کا جواب نہ دینا:
ذرا ایک عجیب بات سنیں! عبداللہ بن عمر فرماتے ہیں کہ ایک شخص کا گزر آپﷺ کے پاس سے ہوا وہ دو لال کپڑوں میں ملبوس تھا، اوپر بھی لال نیچے بھی لال اور اس نے گزرتے ہوئے نبی کو سلام کیا السلام علیکم، نبی نے اس کے سلام کا جواب نہ دیا۔
(ترمذی، ابودؤد)
اس لیے کہ اس نے لال کپڑے پہنے ہوئے تھے۔
کفار کا لباس:
حضرت عبداللہ بن عمر فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے لال رنگ پہنا ہوا تھا تو نبی نے دیکھ کر فرمایا کہ یہ کفار کا لباس ہے، اسے مت پہنو۔ (مسلم جلد 1صفحہ 193)
حضرت عبداللہ بن العاص فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نبی کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس وقت میرے جسم پر لال رنگ کا لباس تھا۔ آپﷺ نے فرمایاکہ کہاں سے لے کر آئے ہو؟ میں نے عرض کیا کہ میری بیوی نے بُنا ہے، تو فرمایا کہ اس کو جلادو۔
(مدارج النبوۃ جلد6صفحہ 28)
یوں نہیں کہا کہ بیوی کو دے دینا یا صدقہ کردینا بلکہ کہا کہ جلا دو اتنا ناپسند کیا۔ سفید لباس کی بڑی ترغیب دی کہ اللہ کو پسند ہے اور جنت کا رنگ بھی سفید ہے۔
(بزار، مجمع جلد5صفحہ 131)
ایک روایت میں ہے کہ سفید رنگ پہنا کرو۔ (ترمذی جلد 1صفحہ 118، ابو داؤد صفحہ 62)
کالے رنگ کا لباس:
سیاہ (یعنی کالے) رنگ کے لباس کے بارے میں بھی چند باتیں ہیں۔ امی عائشہ فرماتی ہیں کہ رسولِ اکرمﷺ کے لیے سیاہ رنگ کا لباس بنایا گیا۔ تو آپﷺ نے اُسے پہنا، جب پسینہ آیا تو آپﷺ نے اُس میں سے صوف کی بُو محسوس کی۔ آپﷺ کے مبارک پسینہ میں تو خوشبو تھی، اور کپڑا صوف کا یعنی اُون بنا ہوا تھا۔ نبی تو بہت سلیم الطبع تھے اور آپﷺ کی طبیعت بہت ہی صاف ستھری تھی اور صفائی پسند تھے، اس کپڑے کی(Smell) باہر آئی تو آپﷺ نے اس کو اُتار دیا۔ (مشکوٰۃ صفحہ 376)
لیکن بہرحال حدیث میں آتا ہے کہ آپﷺ نے کالا لباس پہنا، لیکن لباس پورا کالا پہننا مناسب نہیں ہے کالے لباس سے مراد کالی چادر پہن لینا اس کی اجازت ہے، اس کی گنجائش ہے۔ صحابہ کرام کی ایک جماعت نے کالا لباس استعمال کیا ہے،مگر آپﷺ نے کالالباس یعنی کالی چادر کالا کمبل استعمال کیا ہے، لباس میںآپ کا عمامہ عموماً سیاہ ہوتا تھا باقی اور لباس نہیں۔ (جمع الوسائل صفحہ 166)
عبداللہ بن زید نے بیان کیا ہے کہ نمازِ استسقا کے موقع پر آپﷺ سیاہ چادر زیب تن فرماتے تھے۔ (سیرت الشامی جلد7 صفحہ 493)
ایک روایت میں مسلمان مردوں کے لیے زعفرانی رنگ کو منع فرمایا ہے۔
(بخاری جلد2صفحہ 869)
انسانوں کے لیے لباس کا انتخاب:
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ہم نے لباس کو اُتارا
يٰبَنِيْۤ اٰدَمَ قَدْ اَنْزَلْنَا عَلَيْكُمْ لِبَاسًا يُّوَارِيْ سَوْاٰتِكُمْ وَ رِيْشًا١ؕ وَ لِبَاسُ التَّقْوٰى ١ۙ ذٰلِكَ خَيْرٌ١ؕ (الاعراف: 26)
لباس اللہ تعالیٰ نے کیوں اُتارا۔
تین مقاصد خود اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں سورۃ الاعراف کے دوسرے رکوع میںبیان فرمائے۔
بے حیائی اور اس کا انجام:
پہلی بات اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد فرمائی کہ تمہارے ستر کو ڈھانپتا ہے۔ جانوروں کو ننگا رکھا یعنی کہ جو ننگے ہوتے ہیں وہ دوسروں کو ننگا کرنا چاہتے ہیں۔ قیامت کے دن وہ خود بھی ننگے کھڑے ہوں گے۔ کسی کی ماں، بہن کسی کی بیٹی یا کسی بھی عورت کا لباس اُتروانا، یہاں تو ممکن ہے کہ دھوکہ دے کر میسج کرکے یا کسی بھی طریقے سے بے لباس کروالو، قیامت کے دن جب خود بے لباس ہو کر کھڑے ہونا پڑے گا تمام امتوں کے سامنے تب پتا لگے گا کہ کسی کے لباس کو اُتروانا یہ کتنی بُری چیز ہے۔ اور آج موبائل فون، انٹر نیٹ، فیس بک، لباس اُتروانے کے لیے بہترین چیز بنا ہوا ہے۔ آقا لباس پہنانے آئے تھے، آبرو دینے آئے تھے، حیا اور شرم سکھانے آئے تھے، عصمت کیا ہوتی ہے یہ بتانے آئے تھے اور آج کے بے حیا میڈیا نے کیا سکھایا ہے دوست کون اور دشمن کون؟ ہمیں خود فیصلہ کرنا ہے۔
لباس سے خوبصورتی اختیار کرنا:
دوسری بات یہ اللہ تعالیٰ نے یہ بتائی کہ تم اس سے زینت حاصل کرو اس عزت والے لباس سے تمہاری خوب خوبصورتی مقصود ہے۔ جب تن غیر سے چھپا ہوگا تو من (دل) کو غیر سے چھپانا آسان ہوجائے گا۔ بہترین لباس سے آدمی کے وقار میں اضافہ ہوتا ہے۔ جب سر پر عمامہ ہو اور جسم پر نبی والا لباس ہو تو اس کی بزرگی اور چہرے کی رونق خود ہی عیاں ہوگی۔
تقوٰی کا لباس:
تیسری بات ارشاد فرمائی کہ بہترین لباس تو تقویٰ ہے۔ علماء نے فرمایا کہ حیا مرادہے۔ سب سے بہترین لباس تو حیا کا لباس ہے۔ جس کے پاس حیا نہیں اس کے پاس کچھ بھی نہیں رہا۔
لباس پہننے کی صحیح اور غلط نیت:
جان لینا چاہیے کہ لباس انسان کیوں پہنتا ہے؟ ستر پوشی کی وجہ سے، زینت کی وجہ سے، یا ماحول سے بچاؤ کی وجہ سے، گرمی سردی سے بچاؤ کی وجہ سے۔ تو یہ نیتیں ٹھیک ہیں، خود قرآن میں آئیں۔ لیکن ایک نیت ہوتی ہے کہ میں اچھا لگوں، میں کچھ ذرا (Different) مختلف لگوں، لوگ میرے لباس کی تعریف کریں، میرے پہناوے کو دیکھ کر لوگ خوش ہوں اور میری تعریف کی جائے، میں ایسا لباس آج پہن کر جاؤں گی جیسا کسی نے بھی نہ پہنا ہوگا اور شوہر کو کہتی ہیں کہ میرے لیے ایسا لباس لانا ہے۔ اور ہر دفعہ نیا لباس چاہیے، دنیا میں تمہاری یہ خواہش نہیں پوری ہوسکتی اور تفاخر کی نیت انسان کو لے ڈوبے گی۔
جنت کے لباس کی خوبصورتی:
جنت کے اندر ایک ایک لباس اللہ تعالیٰ ایسا عطا فرمائیں گے کہ اس میں سے ستّر ستّر ہزار رنگ جھلک رہے ہوں گے۔ (سبحان اللہ)
جنت کے لباس جب اللہ تعالیٰ عطا فرمائیں گے تو اُن کو عطا فرمائیں گے جو دنیا میں شریعت کا لباس پہنیں گے، اُن کو جنت میں اللہ تعالیٰ جنت کا لباس عطا فرمائیں گے۔
لیکن جو دنیا کے اندر کفار کا لباس پہنیں گے، یہ ہندوؤں کا لباس یہ فلاں فلم میں، فلاں ڈرامے میں، فلاں جگہ پر میں نے اسےیہ لباس پہنے ہوئے دیکھا ہے، میں نے وہی لباس پہننا ہے۔تو آگے حدیث سن لیجیے:
نبیﷺ کا ساتھ کس کو ملےگا؟
مَنْ تَشَبَّہَ بِقَوْمٍ فَھُوَ مِنْھُمْ اَوْ کَمَا قَالَ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ
آقاکا فرمان ہے کہ جس نے جس کے ساتھ مشابہت اختیار کی وہ قیامت کے دن اُن ہی کے ساتھ ہوگا۔ جو رسول اللہﷺ کے ساتھ مشابہت اختیار کرے گا تو اس کے لیے اس میں مزا ہے، خوف والی بات نہیں ہے کیونکہ وہ آقاﷺ کے ساتھ ہوگا۔
کفار کی نقالی پر عذاب:
اور جو یہود ونصاریٰ کے لباس اور ہندوؤں کے لباس اختیار کرے گا، تو اُن کو پھر جہنم کے اندر جو لباس پہنایا جائے گا وہ گندھک کا بنا ہواہو گا اسے وہ پہنایا جائے گا ۔
سَرَابِیْلُھُمْ مِنْ قَطِرَانِ (ابراہیم:50)
’’اُن کے قمیص تارکول کے ہوں گے‘‘۔
دکھلاوے کے لیے لباس پہننے کا ایک بڑا نقصان:
تو لباس انسان پہنے یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے۔ دکھاوے کے لیے لباس پہننے کے بارے میں حدیث ہے حضرت اُم سلمہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص ایسا کوئی لباس پہنے جس سے وہ دوسروں پر بڑائی ظاہر کرے، ا ور یہ کہ لوگ اس کی طرف دیکھیں تو آقا نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اس کی طرف نگاہِ رحمت نہیں فرماتا۔ یہاں تک کہ اس لباس کو وہ اُتار نہ دے۔ (طبرانی،ترغیبجلد3صفحہ 115)
یعنی جب ہم نے ایسا لباس پہنا کہ جس کی نیت یہ ہو کہ لوگ آج مجھے دیکھیں گے کہ کتنا اچھا لباس پہنا ہوا ہے، کتنا اچھا لگ رہا ہوں، یا میں کتنی اچھی لگ رہی ہوں۔ فرمایا کہ جس وقت یہ اس نیت سے پہن لے گا تو اللہ تعالیٰ اس کی طرف رحمت کی نظر کرنا چھوڑ دیں گے۔ مسجد میں بھی بیٹھا ہے اگر ایسا لباس پہن کے کہ لوگ دیکھیں گے کہ جناب! آج شیخ صاحب نے کیا پہنا ہے؟ کیسا پہنا ہے، تو ایسے بندے کو اللہ دیکھنا چھوڑ دیں گے۔
دوسرا بڑا نقصان:
حضرت عبداللہ بن عمرفرماتے ہیں کہ آپﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جو انسان شہرت کے لیے، دکھاوے کے لیے، نام کے لیے کوئی لباس پہنے گا۔ تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس شہرت چاہنے والے کووہی پہنائے گا اور جہنم کی آگ اس کپڑے کو جلادے گا۔
(رزین، ترغیب جلد3صفحہ 116)
آج ہم نے لباس تو بنواکے پہن لیا اس نیت سے کہ بڑا (Difrent)قسم کا ہے اور ذرا میں (Change)لگوں، لوگ میری تعریف کریں، تو فرمایا کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن یہی لباس اس کو پہنائیں گے اور اس میں جہنم کی آگ لگادیں گے۔ اللہ اکبر!
تیسرا نقصان:
ایک حدیث میں آتا ہے کہ جو شہرت کے لیے دنیا میں کوئی لباس پہنے گا تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کو ذلت کا لباس پہنائے گا۔ (ترغیبجلد3صفحہ 116)
تو لباس ہم شہرت کی نیت سے نہ پہنیں۔
لباس پہننے میں نیت کیا ہو؟
اللہ کا انعام ہے۔ انعام سمجھ کر پہنیں، قدر دانی کے ساتھ پہنیں۔ شہرت کا مطلب یہ ہے کہ کوئی اچھا یا امتیازی لباس اس لیے پہنیں کہ لوگوں میں اس کا چرچا ہو، لوگ اس کے پاس آئیں تعریف کریں کہ واہ بھئی! کیا لباس تم نے پہنا ہے! کہاں سے سلوایا؟ یہ نیٹ تم نے کہاں سے خریدی؟ یہ تم نے کٹنگ کہاں سے کروائی؟ یہ تم نے کیا کروایا؟ یہ بیماری عورتوں کے اندر ہوتی ہے اور آج مردوں کے اندر بھی آگئی ہے۔ تو جو اس نیت سے پہنے گا؟تو قیامت کے دن ذلت اور رسوائی اور اللہ کی ناراضگی کا باعث ہوگا۔
پہلی نیت:
لہذا لباس میں پہلی نیت یہ ہو کہ اللہ تعالیٰ نے ستر کو چھپانے کا حکم دیا۔ میں یہ لباس اسی لیے پہن رہا ہوں کہ میرا ستر چھپ جائے، پہلی نیت تو ہم یہ کریں۔
دوسری نیت:
دوسری نیت یہ کریں کہ اللہ تعالیٰ خوبصورت ہیں اور خوبصورتی کو پسند فرماتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کیا ہیں؟
اِنَّ اللہَ تَعَالیٰ جَمِیْلٌ یُّحِبُّ الْجَمَالَ (صحیح مسلم)
’’اللہ تعالیٰ بہت خوبصورت ہیں اور خوبصورتی کو پسند فرماتے ہیں‘‘۔
اگر خوبصورت لباس پہننا ہو، بڑھیا لباس پہننا ہو تو کیا نیت کریں؟ اللہ خوبصورت ہیں اور خوبصورتی کو پسند فرماتے ہیں، تو اللہ! میں یہ خوبصورت لباس تیرے لیے پہنتا ہوں۔
(شمائل کبریٰ1جلد 189)
عبادت سے نئے لباس کی ابتدا:
مزا تو تب آئے کہ یہ خوبصورت لباس تہجد میں پہن کر کھڑے ہوں، کسی کی تقریب میں جانے کے لیے نہیں، تہجد میں مصلّٰی بچھا کر اللہ کے سامنے اچھا لباس پہنیں، خوشبو لگا کر کھڑے ہوں۔
ایک نیک خاتون کا قصہ:
ایک خاتون کے بارے میں آتا ہے کہ بڑی نیک اللہ والی تھیں۔ رات کو خاوند آتا تو تیار ہوکر اُس کے پاس آتیں۔ پوچھتیں کہ کوئی ضرورت کوئی کام؟ خاوند کی ضرورت سے فارغ ہوجاتیں، کوئی بھی ضرورت کوئی کام سے اور پھر وہ سوجاتا۔ اس کے بعد بہترین لباس انہوں نے پہنا ہوتا، اوربہترین زیور پہن کر خوب تیار ہوکر ساری رات تہجد میں گزاردیتیں، یا جتنا حصہ ملتا تہجد میں اللہ کے سامنے گزار دیتیں۔ ارے لباس پہننا ہے تو اللہ کے لیے پہنو!
اللہ کے نبیﷺ کا قیمتی لباس پہننا:
ایک روایت میں آتا ہے کہ اللہ کے نبیﷺ نے ایک جوڑا پہنا جسے ایک بادشاہ نے آپ کو ہدیہ کے طور پر بھیجا تھا اور اس نے اسے 27 اُونٹوںکے بدلےمیں خریداتھا۔
(خصائل صفحہ 55)
آپﷺ نے پہنا، لیکن دکھاوے کی نیت سے نہیں قدردانی کی نیت سے کہ اللہ! تو مہربان ہے، تو نے اتنی نعمت عطا فرمائی۔ اللہ! میں تیرا شکر ادا کرتا ہوں اور اس لباس کو پہنتا ہوں۔ نیتوں کے اوپر سارے معاملے ہیں۔ اگر یہی لباس اس لیے پہن لیا جائے کہ اللہ خوبصورت ہے اور خوبصورتی کو پسند فرماتا ہے تو معاملہ بدل جائے گا۔ تو قصد اور ارادہ یہ چیز کو بدل دیتے ہیں۔
امت کے بدترین لوگ:
حضرت فاطمہ سے روایت ہے کہ آپﷺ نے ارشاد فرمایا کہ میری امت کے بدترین لوگ وہ ہوں گے جو نازونعمت میں رہیں گے، رنگ برنگ کھانے کھاتے رہیں گے۔ رنگ برنگے کپڑے پہنتے رہیں گے اور خوب باتیں بنایا کریں گے۔
(ترغیب جلد3صفحہ 115)
آج کل کے نوجوان کی کیا یہ تینوں خواہشات نہیں ہیں کہ کپڑا میرا سب سے اچھا ہو، اعلیٰ ہو، کھانا میرا سب سے اعلیٰ ہو، اور کرو بات ساری رات۔ یہ تینوں چیزیں پوری ہوگئیں۔ ماں گھر میں سبزی پکائے منہ بنا کر چلے جاتے ہیں، فون کرتے ہیں۔ فلانی جگہ پر کہ آج فلانی چیز لے کر آؤ! آج میں نے پیزا کھانا ہے، آج فلاں چیز کھانی ہے، گھر میں سبزی پکی ہو، دال پکی ہو، ان کی پسند کی چیز نہ ہو تو مزاج بدل جاتا ہے۔ لباس بھی پہنیں گے، جی سب سےاعلیٰ، غذا سب سے اعلیٰ، اور باتیں خوب بنائیں گے، پیکیج لے لے کر باتیں کریں گے۔ حدیث شریف میں یہ بات آتی ہے کہ بدترین لوگ ہوں گے۔ ان کی نیت ہی کوئی نہیں ہوگی، عمل ہی کوئی نہیں ہوگا۔ بس کھانا، پینا اور باتیں کرنا، کھانا پینا، پہننا اوڑھنا اور باتیں کرنا، بس یہی تین مقاصد ہوںگے۔ یہ زندگی گزارنے کا کونسا مقصد ہے؟ اگر یہ بھی بدترین نہ ہوئے تو پھر اور کون ہوگا؟
اندرونی حالت کا لوگوں کے سامنے اظہار:
لباس بعض دفعہ انسان بہت قیمتی پہنتا ہے شہرت کی نیت سے اور بعض دفعہ اس کے برعکس بھی ہوتا ہے۔ انسان بہت پرانا، پھٹا پرانا کپڑا پہن لیتا ہے وہ بھی شہرت کی نیت سے کہ جی! میں ذرا صوفی نظر آؤں، ان کو بھی پتا چلے کہ میرے گھر میں کچھ نہیں۔ یا میرے پاس ہے لیکن میں اتنا سادہ ہوں، میں پانچ ہزار والا پہن سکتا ہوں، دو ہزار والا پہن سکتا ہوں، مگر میں تو بیس سال پرانا پھٹا پہن کر آیا ہوں، لوگ مجھے سمجھیں کہ بڑا نیک ہے۔ اب یہاں بھی پکڑ ہے۔ دونوں باتیں سمجھیے!
ناپسندیدہ لباس:
حضرت عبداللہ بن عمرکی روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے دو قسم کے لباس سے منع فرمایا ہے ایک وہ جو اپنی خوبی کی وجہ سے مشہور ہوجائے، اور دوسرا وہ جو اپنی بدنمائی کی وجہ سے مشہور ہوجائے۔ (طبرانی، مجمع جلد5صفحہ 138)
جس حال میں اللہ نے رکھا ہے اس کا شکر ادا کریں اور اس حال کے مطابق لباس کو پہنیں۔ اگر کوئی انسان غریب ہے یا کوئی عالم ہے، یا کوئی ایسا آدمی جسے لوگ دیکھتے ہیں۔ عالم کو لے لیجیے کہ پھٹا پرانا کپڑا پہن کر آجائے کہ لوگ دیکھ کر سمجھیں کہ یہ تو بڑا ہی اللہ والا ہے، بڑا ہی درویش ہے، اگر اس کی نیت ایسی ہے تو وہ بھی گناہ گار ہوجائے گا۔ ہاں اگر ہے ہی نہیں وہی موجود ہے اور نہیں ہے اور نیت بھی وہ نہیں ہے تو بات پسندیدہ بھی ہو سکتی ہے۔ بات تو دل کے اوپر ہے، معاملہ تو دلوں کا ہے، نیتوں کا ہے۔
ایک صحابی کا جواب:
عبداللہ بن عمر یہ ایک صحابی ہیں، اُن سے کسی شخص نے پوچھا کہ بتایئے! لباس کیسا ہو؟ تو آپ نے جواب فرمایا کہ ایسا ہو کہ نہ تو بیوقوف لوگ اُسے حقارت سے دیکھیں، اور نہ شریف لوگ اُسے معیوب سمجھیں۔ (مجمع جلد 5صفحہ 138)
یعنی اوسط درجہ کا ہو بہت ہی گھٹیا بھی نہ ہو، اور بہت ہی بڑھیا بھی نہ ہو، درمیانہ سا ہو۔
حضرت عمر فاروق کالباس:
حضرت انس فرماتے ہیں کہ حضرت عمرفاروق کو خلافت کے دنوں میں دیکھا کہ اُن کے لباس میں تین تین پیوند لگے ہوتے تھے۔ (ترغیب جلد 3صفحہ 113)
جس کو ہم رفو کہہ سکتے ہیں۔ آج توذرا سا کپڑا میلا ہوجائے تو ہم کہتے ہیں اس کو بدل دو۔ رفو والا کپڑا بھی نبی نے پہنا اور پیوند لگا بھی پہنا، اور صحابہ نے بھی پہنا۔ غور تو کیجیے کہ امیر المؤمنین ہیں اور کپڑوں میں پیوند لگا ہوا اور انہیں اس بات سے کوئی عار نہیں ہے، تو ہمیں اس کو معیوب سمجھنے کی ضرورت نہیں۔
حضرت مصعب کا لباس:
حضرت عمربن خطاب فرماتے ہیں کہ حضورِ اکرمﷺ نے ایک دن حضرت مصعب بن عمیر کو دیکھا کہ مینڈھے کی کھال کا پٹکہ لگائے ہوئے آرہے ہیں، تو آپﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اس شخص کو دیکھو! اللہ رب العزت نے اس کے دل کو ایمان سے منـور کر رکھا ہے۔ میں نے اس کا وہ عہد دیکھا ہے جب یہ اپنے والدین کے پاس سے نہایت خوشگوار کھانے کھاتے تھے، اور قیمتی لباس پہنا کرتے تھے۔ میں نے دیکھا کہ ان کے لیے ایک جوڑا دو سو میں خریدا گیا، لیکن اللہ اور اس کے رسول اللہﷺ کی محبت نے اس کو اس حال میں کردیا جو تم دیکھ رہے ہو۔ (ترغیب جلد 3صفحہ 103)
یعنی ایک وہ زمانہ تھا کہ بڑے ہی قیمتی لباس پہنا کرتے تھے اور آج ماں باپ کو، مال واسباب کو، سب کو اللہ اور اس کے نبیﷺ کے لیے چھوڑ دیا۔ سادہ اور غریب سے لباس میں آرہے ہیں، لیکن آقا گواہی دے رہے ہیں کہ ان کے دل کو اللہ نے ایمان سے بھردیا۔
حضورﷺ کی حضرت عائشہ کو نصیحت:
امی عائشہ فرماتی ہیں کہ مجھ سے رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اے عائشہ! اگر تو آخرت میں مجھ سے ملنا چاہتی ہے تو دنیا کا مال بس اتنا ہی رکھنا جتنا مسافر لے کر چلتا ہے۔ خبردار! مالدار کی مجلس سے پرہیز کرو اور کسی کپڑے کو پرانا ناقابلِ استعمال اس وقت تک نہ بناؤ کہ جب تک اس میں پیوند نہ لگ جائیں۔ (مشکوٰۃ صفحہ 375)
یعنی جب کپڑا پرانا ہو کر پھٹنے لگے بھی تو اس کپڑے کو الگ نہ کرو بلکہ پیوند لگا کر استعمال کرو۔ پیوند لگے کپڑوں کا استعمال سنت ہے۔ رفو والے کپڑے کا استعمال سنت ہے، اُسے برایا حقیر سمجھنا بڑی بری بات ہے، خطرہ کی بات ہے۔
امی عائشہ کے لباس کا حال:
امی عائشہ اس کے بعد پیوند لگائےبغیر کپڑے کو ترک نہیںکرتی تھیں۔ کثیر بن عبداللہ کہتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ اُم المؤمنین کی خدمت میں حاضرہوا تو انہوں نے کہا کہ ٹھہرجاؤ! میں ذرا اپنا پیوند سی لوں، کپڑا سی لوں، رفو لگالوں۔ چنانچہ میں ٹھہرگیا اور میں نے کہا: اے امی! اے امی! اگر میں باہر جاؤں اور لوگوں کو جاکر کہہ دوں کہ آپ تو پیوند لگا کر کپڑے پہنتی ہیں تو لوگ تو آپ کو بخیل سمجھیں گے۔ کنجوس سمجھیں گے، سمجھنے کے لیے بات کررہا ہوں کہ آپ کو لوگ سمجھیں گے کہ آپ بخیل ہیں۔ امی عائشہ نے فرمایا کہ جو تیرے جی میں آئے کر، اسے نئے کپڑوں کی کوئی قدر نہیں جس نے پرانا کپڑا نہ پہنا ہو۔ (حیاۃ الصحابہ: ج2، ص 841)
حضرت علی کا لباس:
حضرت عمرو بن قیس فرماتے ہیں کہ حضرت علی سے پوچھا گیا کہ اے امیر المؤمنین! آپ اپنے کُرتے کے اوپر پیوند کس لیے لگاتے ہیں؟ تو آپ نے فرمایا کہ تاکہ دل کے اندر خشوع پیدا ہو اور مومن اس کی اقتدا کرے۔ (کنز العمال، حیاۃ الصحابہ ج2ص 215)
قلب کے اندر خشوع پیدا ہوتا ہے لہذا انسان پیوند والا رفو والا کپڑا پہن لے۔
جنتی انسان:
حضرت ابو ہریرہ فرماتے ہیں کہ آپﷺ نے ارشاد فرمایا کہ تین آدمی بلا حساب کتاب کے جنت میں داخل ہوںگے:
ایک آدمی اُن میں سے وہ غریب آدمی ہے جس کے پاس پہننے کے لیے ایک ہی جوڑا ہو، دوسرا جوڑا ہی نہ ہو۔ (حاوی للفتاویٰ: ج 2ص 74)
تو بھئی! اللہ تعالیٰ نے تو بڑی مہربانیاں فرمائی ہیں۔
بروز قیامت نعمتوں پر سوال:
یہ لباس کیا ہے؟ اللہ رب العزت کی بڑی نعمت ہے۔ فرمایا:
قَدْ اَنْزَلْنَا
’’ ہم نے نازل فرمایا‘‘
یہ قرآن میں ہے تو یہ نعمت ہے۔
ثُمَّ لَتُسْئَلُنَّ یَوْمَئِذٍ عَنِ النَّعِیْم (التکاثر:8)
قیامت کے دن نعمتوں کے بارے میں پوچھ گچھ ہوگی۔
قیامت کے دن کا ذرا سوچیں،ذہن میں منظر لائیں۔ ایک آدمی اللہ کے آگے کھڑا ہوگا، اللہ تعالیٰ پوچھیں گے: میرے بندے میں نے تجھ کو لباس عطا کیا؟ بتا تو نے اس لباس کا کیا حق ادا کیا؟ بتا تو نے میری اس نعمت کا کیا حق ادا کیا؟ لباس نعمت تھی، یہ امانت تھی، میں نے بتا بھی دیا تھا کہ پوچھوں گا۔
اب انسان کھڑا ہو کر کہے گا: اللہ! میں نے تو لباس تیرے دشمن شیطان کے چیلوں کے حساب سے بنایا۔ ثابت ہوگیا کہ اس نے شریعت کے خلاف لباس پہنا، رسول اللہﷺ کے لباس کے خلاف لباس پہنا، اولیاء کرام کے لباس کے خلاف لباس پہنا، وقت کے صلحاء کے خلاف لباس پہنا کفار کا لباس پہنا، ان کے تہواروں پہ ان کا لباس پہنا ہے۔ یہ بات ثابت ہوگئی۔ اب کیا ہوگا؟ نعمت کی ناقدری کی وجہ سے اس کو جہنم کی آگ میں ڈال دیا جائے گا اور اس کو وہاں جو لباس پہنایا جائے گا وہ گندھک کا بنا ہوا ہوگا:
سَرَابِیْلُھُمْ مِنْ قَطِرَانِ (ابراہیم:50)
اس کو لباس کے بدلے وہاں جہنم کا لباس ملے گا۔
خوش قسمت لوگ:
ایک اور انسان کو کھڑا کیا جائے گا کہ میرے بندے! میں نے تمہیں لباس کی نعمت دی تھی، تمہیں اس کے لیے پیسے دیے تھے۔ بتاؤ تم نے کیا حق ادا کیا؟ تو وہ کہے گا کہ اللہ! میں تو علماء سے پوچھ پوچھ کر کہ میرےمحبوبﷺ، میرے حبیبﷺ آپ کے حبیبﷺ کیا لباس پہنتے تھے، کیا اوڑھتے تھے؟ میں تو پوچھ پوچھ کر عمل کرتا رہا۔ اللہ! پگڑی میں پہنتا رہا، سر میں نے ڈھانپ کے رکھا، ٹخنے میں نے ننگے رکھے، لنگی میں سنت کی نیت سے پہنتا رہا، کُرتا میں نے پہنا، پاجامہ میں نے پہنا، ستر کو میں نے چھپایا۔ اللہ! آپ کی نعمت کو میں نے نبی کے طریقے پر استعمال کیا۔ جب یہ دعویٰ کرے گا ثابت کرنا پڑے گا، ثابت ہوگیا کہ اس نے ایسا ہی کیا، اس نے لباس کی نعمت کا صحیح حق ادا کردیا۔ عورت تھی پردہ کیا بے لباس نہیں ہوئی، کسی کو اپنا جسم نہیں دکھایا، اگر کوئی غلطی ہوگئی تھی تو اب توبہ کرلی، مرد تھا اس نے کسی کو بے لباس نہیں کیا، اللہ کے حکم کو توڑتے ہوئے اس کو خوف آیا کہ میں کیسے اللہ کے حکم کو توڑ دوں، کسی کو بے لباس کردوں، اگر کرچکا تھا تو توبہ کرلی تھی اور ثابت ہوگیا کہ اس نے لباس کا حق ادا کردیا۔ نہ خود بے لباس ہوا، نہ کسی کو بے لباس کیا سنت کے مطابق لباس پہنا۔
اب اللہ تعالیٰ اس کو جنت کا لباس عطا فرمائیں گے، سبز ریشمی لباس عطا فرمائیں گے، حریر کے ہوں گے۔
جنت کے لباس:
جنت کے بارے میں آتا ہے کہ اس کے انار کا درخت ہوگا۔ مومن چلتا ہوا اس درخت کے قریب جائے گا انار اس کے قریب آجائے گا، انار کو کھولے گا اندر صرف لباس ہی لباس ہوں گے۔ کوئی عورت اگر چاہے کہ میں لباس پہنوں تو ایک لباس میں ستر ہزار رنگ جھلک رہے ہوں گے، ستر ہزار رنگوں کا وہ لباس کیسا ہوگا؟ اللہ اکبر! آج ان کو بڑا میچینگ کا شوق ہوتا ہے، بیچاریاں پھرتی رہتی ہیں، لنک روڈ اور فلاں روڈ کہ میچینگ کرنی ہے یہ کرنی ہے، وہ کرنی ہے، کتنی میچینگ کرلیں گی، دو چار، پانچ، دس رنگ ملالیں گی۔ ارے! وہاں تو ستر ہزار رنگوں کی میچینگ ہوگی جو پروردگار نے بنایا ہوگا۔ اس کا بنانے والا کون ہوگا؟ اللہ ہوں گے۔ اللہ کا بنایا ہوا ستر ہزار رنگوں کا لباس ہوگا۔ ہماری یہاں کیا خواہش ہوتی ہے؟ ہر مجلس میں نیا لباس ہر روز نیا لباس لیکن یہاں تو پوری نہیں ہوتی تھوڑا پڑتا ہے، بار بار وہ پہننا پڑتا ہے، اور وہاں تو یہ ہوگا کہ دن میں ستر مرتبہ چاہیں تو ستر لباس پہنیں اور ہر دفعہ پہلے سے اعلیٰ۔ نہ ٹیلر کے پاس جانے کی ضرورت، نہ استری کروانے کی ضرورت جب چاہو نیاپہنو۔
جنت کے لباس کن کو ملیں گے؟
تو یہ لباس کس کو ملے گا؟ لباس ایک نعمت ہے جو نعمت کی قدر دانی کرے گا اس کو ملے گا۔ یاد رکھنا میرے بھائیو! جو پروردگار نعمتیں دینا جانتا ہے وہ پروردگار نعمتیں واپس لینا بھی جانتا ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں لباس کی نعمت کی قدر کی توفیق عطا فرمائیں اور اس کو شریعت اور سنت کے مطابق استعمال کرنے کی توفیق عطا فرمائیں۔ آمین
وَآخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُلِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں