45

پیغمبرکی گھر والوں سے محبت

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ وَ کَفٰی وَ سَلٰمٌ عَلٰی عِبَا دِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی. اَمَّا بَعْدُ:
فقال النبيﷺ:
واستَوصُوا بالنِّسَاء خيرًا فإنّهن خُلقْن من ضَلع ، وإن أعوجَ شيءٍ في الضَّلع أَعلَاهُ. أو کما قال علیہ السلام. (صحیح البخاري: رقم 4890)
سُبْحٰنَ رَبِّکَ رَبِّ الْعِزَّۃِ عَمَّا یَصِفُوْنَ وَ سَلٰمٌ عَلَى الْمُرْسَلِیْنَ
وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَامُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِ نَامُحَمَّدٍوَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَامُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِ نَامُحَمَّدٍوَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَامُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِ نَامُحَمَّدٍوَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ

نبی کریمﷺ کی گھر والوں کے ساتھ بھلائی:
خطبے میں حدیث شریف پڑھی گئی۔ حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے کہ نبی کریم نے ارشاد فرمایا: عورتوں سے خیرخواہی اوربھلائی کیا کرو، اس لیے کہ وہ ٹیڑھی پسلی سے پیدا کی گئی ہیں، اورپسلی میں سب سے زیادہ ٹیڑھا پن اوپروالے حصے میں پایا جاتا ہے۔

(صحیح بخاری: رقم 4890)
دوسری جگہ ارشادِ نبویﷺ ہے
خَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ لِأَهْلِهِ وَأَنَا خَيْرُكُمْ لِأَهْلِي. (سنن الترمذي: رقم 3895)
ترجمہ: ’’تم میں سے بہتر وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے بہتر ہو، اور میں تم میں سب سے زیادہ اپنے گھر والوں کے لیے بہتر ہوں‘‘۔
ان احادیثِ شریفہ کی روشنی میں دیکھیے کہ نبی کریم اپنے گھر میں گھر والوں کے ساتھ کس طرح رہتے تھے۔
گھر میں مسکراتے ہوئے سلام کر کے داخل ہونا
آپa گھر میں مسکراتے ہوئے چہرے کے ساتھ داخل ہوتے۔ اور اپنے گھر والوں کو سلام کرتے۔ اپنے خادم حضرت انس سے فرمایا:
يَا بُنَيَّ ، إِذَا دَخَلْتَ عَلَى أَهْلِكَ فَسَلِّمْ ، يَكُنْ بَرَكَةً عَلَيْكَ وَعَلَى أَهْلِ بَيْتِكَ.
(سنن الترمذي: رقم 2698)
’’میرے بیٹے! جب تم گھر میں داخل ہونے لگو تو اپنے گھر والوں کو سلام کیا کرو، سلام کرنا تمہارے اپنے لیے اور تمہارے گھر والوں کے لیے برکت کا باعث ہوگا‘‘۔
گھر والوں سے محبت کے واقعات:
اماں جان اُمّ المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ فرماتی ہیں کہ آپ عید والے دن میرے پاس تشریف لائے (آگے لمبی حدیث ہے۔ اس کے آخر میں ہے) اس دن خوشی کی وجہ سے حبشی لوگ نیزے اور ڈھال سے کھیل رہے تھے۔ اماں جان فرماتی ہیں کہ میں نے خود عرض کیا یا رسول اللہﷺ نے خود مجھ سے پوچھا:
تَشْتَهِينَ تَنْظُرِينَ
(ان کا کھیل) دیکھنا چاہوگی؟ فرماتی ہیں کہ میں نے کہہ دیا: جی ہاں! تو نبی کریمa نے مجھے اپنے پیچھے کھڑا کر دیا اس طرح سے کہ میرا چہرہ آپﷺ کے چہرۂ مبارکہ کے ساتھ تھا۔ (اس طرح سے میں پیچھے پردے سے کھیل کو بخوبی دیکھ سکتی تھی) اور آپﷺ نے انہیں کہہ رہے تھے:
دونکم بني أرفدۃ
خوب بنی ارفدہ۔ یہاں تک کہ میں تھک گئی تو آپ نے پوچھا کہ بس کریں؟ میں نے کہا: جی ہاں۔ پیارے نبیﷺ نے فرمایا: اچھا جاؤ۔

(صحیح بخاری: رقم 907)
نبی کریم اپنے گھر والوں کا اتنا خیال رکھتے تھے۔ کبھی ایسا بھی ہوتا کہ حضرت عائشہ جس برتن میں پانی پی رہی ہوتیں تو حضرت محمد وہ برتن ان سے لے لیتے اور اسی جگہ سے پانی پیتے جہاں سے حضرت عائشہ نے پیا۔

(زاد المعاد: ص 146)
آپ خاوند ہیں اور حضرت عائشہ صدیقہ بیوی ہیں تو آپ اپنی زوجہ مطہرہ سے محبت کا اظہار فرماتے تھے۔
اُمّ المؤمنین حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ میں نبی کریم کے یہاں لڑکیوں کے ساتھ کھیلتی تھی۔ میری بہت سی سہیلیاں تھیں جو میرے ساتھ کھیلا کرتی تھیں۔ جب نبی کریم اندر تشریف لاتے تو وہ چھپ جاتیں، پھر نبی کریم انہیں میرے پاس بھیجتے اور وہ میرے ساتھ کھیلتیں۔

(صحیح البخاري: باب الانبساط إلی الناس)
سنن ابی داؤد کی روایت میں ہے کہ رسول اللہﷺ غزوۂ تبوک یا غزوۂ خیبر (راوی کو شک ہے) سے تشریف لائے۔ گھر کے طاق پر پردہ ڈالا ہوا تھا۔ اچانک ہوا چلی تو پردہ ہٹ گیا اور اُمّ المؤمنین حضرت عائشہ کی گڑیاں دکھائی دینے لگیں۔ نبی کریم نے پوچھا:
ما ھذا یا عائشۃ ؟
ترجمہ: ’’اے عائشہ! یہ کیا ہے؟‘‘
حضرت عائشہ نے فرمایا: یہ میری گڑیاں ہیں۔ آپﷺ نے ان گڑیوں کے درمیان میں ایک گھوڑا دیکھا جس کے کپڑے کے دو پَر بھی لگے ہوئے تھے۔ آپ نے پوچھا:
مَا هَذَا الذِي أَرَى وَسطَهن ؟
ترجمہ: ’’ان گڑیوں کے درمیان میں کیا دیکھ رہا ہوں؟‘‘
حضرت عائشہ نے عرض کیا:
(فَرَسٌ (یہ گھوڑا ہے
آپﷺ نے پوچھا:اور یہ کیا ہے جو اس پر ہے؟ عرض کیا: دو پَر ہیں۔ آپﷺ نے فرمایا:
فَرَسٌ لَه جَناحانِ ؟
ترجمہ: ’’گھوڑے کے دو پَر بھی ہوتے ہیں؟‘‘
اماں جان نے بڑی سادگی سے فرمایا:
أَمَا سَمِعتَ أَنَّ لِسُلَيمَانَ خَيْلًا لَهَا أَجْنِحَةٌ ؟ (سنن أبي داود: رقم 4932)
ترجمہ: ’’کیا آپ نے سنا نہیں کہ حضرت سلمان کے گھوڑے کے پَر تھے‘‘۔
پس آپﷺ ہنس پڑے یہاں تک کہ میں نے آپﷺ کی داڑھیں دیکھ لیں۔
ایک دفعہ نبی کریم حالتِ سفر میں تھے۔ امی عائشہ ساتھ تھیں۔ صحابہ کرام کو ذرا آگے بھیج دیا۔ پھر آپ نے فرمایا کہ آئو عائشہ! دوڑ لگائیں۔ دوڑ ہوئی اور امی عائشہ اس دوڑ میں آگے بڑھ گئیں۔ دوسری مرتبہ پھر آپس میں دوڑ ہوئی تو رسول اللہﷺ آگے بڑھ گئے۔ اور پھر آپﷺ نے فرمایا: یہ اس پچھلی دوڑ کا بدلہ ہے۔

(سنن ابی داؤد: باب فی السبق علی الرجل)
آپ کی حیاتِ طیبہ کے اس واقعے سے مردوں کو یہ سبق دینا تھا کہ ضروری نہیں کہ ہمیشہ مرد ہی جیتے، بلکہ کبھی عورتوں کو بھی جیتنے دینا چاہیےکہ ان کا دل خوش ہو۔
ایک دفعہ آپ نے حضرت عائشہ صدیقہ سے فرمایا کہ عائشہ! مجھے پتا چل جاتا ہے کہ تم مجھ سے خوش ہو یا ناراض ہو۔ امی عائشہ نے فرمایا کہ آپ کو کیسے پتا چل جاتا ہے؟ آپ نے فرمایا کہ جب تم خوش ہوتی ہو تو ربِ محمد کی قسم کھاتی ہو، اور جب تم ناراض ہوتی ہو تو ربِ ابراہیم کی قسم کھاتی ہو۔ امی عائشہ نے فرمایا کہ اےاللہ کے نبی! جب میں ناراض ہوتی ہوں تو صرف آپ کا نام لینا چھوڑتی ہوں آپ کو تو نہیں چھوڑتی۔ (صحیح مسلم: رقم 2439)
یہ ان کا بہت خوبصورت جواب تھا۔ الغرض محبتوں کے ساتھ نبی کریم اپنے گھر والوں کے ساتھ رہتے تھے۔ اللہ ہمیں بھی اپنے گھر والوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔
وَاٰخِرُ دَعَوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں