پینے میں نبی ﷺکی سنتیں

پینے میں نبی ﷺکی سنتیں

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ وَ کَفٰی وَ سَلٰمٌ عَلٰی عِبَا دِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی. اَمَّا بَعْدُ :
فَاَ عُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّ جِیْمِo
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ o
﴿کُلُوْا وَاشْرَبُوْا﴾ ( الاعراف:31)
وَقَالَ اللہُ تَعَالٰی فِیْ مَقَامٍ آخَرٍ:
لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُولِ اللّٰہِ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ (الاحزاب:21)
سُبْحٰنَ رَبِّکَ رَبِّ الْعِزَّۃِ عَمَّا یَصِفُوْنَ o وَ سَلٰمٌ عَلَی الْمُرْسَلِیْنَ o
وَ الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ o
الَلّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَامُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِ نَامُحَمَّدٍوَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ
الَلّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَامُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِ نَامُحَمَّدٍوَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ
الَلّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَامُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِ نَامُحَمَّدٍوَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ

الحمدللہ! اللہ کے فضل سے اور اس کے احسان سے سنت کے مطابق کھانے کی باتیں کچھ تفصیل سے ہوگئیں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو عمل کرنے کی توفیق عطافرمائے۔ آج جو باب شروع ہورہا ہے، وہ پینے کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک طریقے ہیں اور آپ ﷺکا اسوہ حسنہ اور آپ ﷺکی مبارک سنتیں ہیں۔ امی عائشہr فرماتی ہیں کہ نبی کریمﷺکو پینے کی دوچیزوں میں ٹھنڈی اور میٹھی چیز زیادہ پسند تھی۔
(ترمذی،جلد دوم صفحہ11)
پینے میں نبیﷺ کی پسند کیا تھی؟

کہ چیز ٹھنڈی بھی ہو اور میٹھی بھی ہو۔اس میں یہ بھی احتمال ہے کہ شہد کا شربت یا کھجور کا نبیذ مراد ہو ،لیکن ایک بات بہت خاص اور اہم ہے کہ کھانے پینے میں بالخصوص کھانے کے اندر نبی کریمﷺکسی قسم کا اہتمام نہ فرماتے۔ ہاں! اگر کوئی مہمان ہوتا تو اور بات تھی۔ اپنے لیے، گھر والوں کے لیے کسی قسم کا اہتمام نہ فرماتے جو حاضر ہوتا اللہ کا شکر ادا کرتے اور اس کو نوش فرمالیتے۔ لیکن پینے کے بارے میں آتا ہے کہ نبی کریمﷺ کے دربار میں میٹھے اور ٹھنڈے پانی کا خاص اہتمام تھا۔ اسی لیے نبیﷺ کے لیے ٹھنڈا اور میٹھا پانی مدینہ شریف سے 36 میل دور سقیا نامی جگہ سے لایا جاتا تھا، تو گویا ٹھنڈے پانی کا اہتمام کرنا بھی سنت ہے۔ (مدارج)
نبی کریم ﷺ نے جن کنوؤں سے پانی نوش فرمایا:
امی عائشہ rفرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺکے لیے مقام سقیا سے ٹھنڈا پانی منگوایا جاتا جو مدینہ طیبہ سے دو دن کی مسافت پر تھا۔ (مشکٰوۃ صفحہ 371)
یعنی دو دن پیدل چلیں تو انسان وہاں پہنچتا ہے، پھر پانی وہاں سے لے کر واپس آتا ہے تو اس میں دو دن اور لگتے تھے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ مدینہ طیبہ کے اندر ٹھنڈا پانی دستیاب نہیں تھا، وہاں کھاری پانی ہوتا تھا۔ (مواہب جلد7صفحہ357)
آپﷺ کی پسند ٹھنڈا پانی تھا۔ حضرت ابو رافع tکی بیوی کہتی ہیں کہ رسول اللہﷺنے جب حضرت ابو ایوب انصاری t کے ہاں قیام کیا تو آپﷺ کے لیے مالک بن نضر کے کنوئیں سے میٹھا پانی لایا جاتا ،پھر اس کے علاوہ ازواجِ مطہرات کے لیے بئر سقیا سے پانی لایا جاتا اور رباح اسود جو حضورﷺکے غلام تھے اور خادم بھی تھے وہ کبھی بئر سقیا سے پانی لاتے اور کبھی بئر غرس سے پانی لاتے۔(شمائل کبرٰی)
یہ مختلف کنوئیں تھے۔ حضرت ہشیم بن نضر نے کہا کہ میں آپﷺ کے لیے بئر تیہان سے پانی لایا کرتا تھا۔اس کا پانی بہت میٹھا اور شاندار تھا۔
(سیرت الشامی جلد 7صفحہ346)
عمرو بن حاکم کہتے ہیں کہ نبی کریمﷺکے لیے ٹھنڈا پانی بئر غرس سے لایا جاتا اور آپﷺ اسی کنویں کے پانی سے غسل فرمایا کرتے تھے۔ اس کا پانی نہایت عمدہ تھا، اور آپﷺ نے اس کے متعلق ارشاد فرمایا کہ بئر غرس بہترین کنواں ہے اور اس کا تعلق جنت کے چشموں سے ہے۔ (سیرت الشامی جلد 7صفحہ357)
انس بن مالک t جو کہ خادم رسول ہیں، فرماتے ہیں کہ آپﷺ بئر غرس پر تشریف لائے اور پانی سے کلی کی اور وہ پانی کنوئیں میں برکت کے لیے ڈال دیااور فرمایا کہ یہ جنت کے چشموں میں سے ہے۔ (سیرت الشامی جلد 7صفحہ371)
پانی ٹھنڈا کر کے پینا بھی آپﷺ سے ثابت ہے:
حضرت جابرtسے روایت ہے کہ آپﷺ کے لیے پرانے مشکیزے میں پانی کو ٹھنڈا کیا جاتا۔(سیرت الشامی جلد 7صفحہ371)
یعنی پہلے تو میٹھے پانی کا اہتمام ہوتا پھر ٹھنڈا کرنے کے لیے اس کو خاص چیزوں میں رکھا جاتا ، تو اس سے معلوم ہوا کہ ٹھنڈے پانی کے اہتمام کے لیے برف کا انتظام کرنا، صراحی کا انتظام کرنا، واٹر کولر کا انتظام کرنا یہ سب خلافِ سنت نہیں بلکہ یہ سب سنت میں شامل ہے اور یہ زہد کے خلاف بھی نہیںورنہ نبیu اس کو استعمال نہ فرماتے۔ تو پانی کے لیے واٹر کولر کا انتظام کرنا سنت ہے۔ امام مالکh نے اپنے شاگرد وں سے فرمایا کہ اے بیٹو! پانی کو ٹھنڈا کرکے پیو!کیونکہ ٹھنڈا پانی پینے کی وجہ سے دل کی گہرائیوں سے شکر ادا ہوتا ہے۔ (مدارج جلد5صفحہ15)
انسان کو پیاس لگی ہو، گرمی لگی ہو، اس وقت سادہ پانی پی لے تو شکر کی وہ کیفیت نہیں نکلے گی۔ اس وقت ٹھنڈا پانی ہو، میٹھا پانی جس سے طبیعت سیراب ہوجائے ، اس کی رگ رگ اللہ کا شکر ادا کررہی ہوتی ہے۔
رات کا باسی پانی:
بخاری شریف میں ہے کہ حضرت جابرt سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ ایک انصاری کے باغ میں تشریف لے گئے۔ آپﷺ کے ساتھ ایک صحابی اور بھی تھے۔ جو باغ والے انصاری صحابی تھے وہ باغ کو پانی دے رہے تھے۔ آپﷺ وہاں پہنچے تو ان سے پوچھا کہ کیا تمہارے پاس رات کا بچا ہوا باسی پانی موجود ہے یا نہیں؟ اگر ہے تو لے آؤ ورنہ پھر اسی تازہ کیاری والے پانی کو ہی میں استعمال کروں۔ تو انہوں نے کہا: اے اللہ کے نبی!رات کا باسی پانی مشکیزے میں موجود ہے۔ چنانچہ وہ گئے اور پانی لےآئے۔ اور وہیں ایک بکری بھی تھی بکری کا دودھ دوہا ، دودھ نکالا اور پھر پانی اور بکری کا دودھ ملا کر آپﷺ کی خدمت میں پیش فرمایا۔ (بخاری جلد2صفحہ 840)
اس سے معلوم یہ ہوا کہ رات کا باسی پانی پینا بمقابلہ تازہ پانی کے بہتر ہے کہ باسی پانی سنت ہے۔ اور اسی طرح دودھ میں پانی ملاکر پینا بھی سنت ہے۔ جو دوکاندار لوگ ہیں ان کو اجازت نہیں کہ پانی ملا دودھ فروخت کریں، لیکن گھر کے اندر دودھ آجائے تو اس کو اپنی مرضی سے ،اپنے شوق سے پانی میں ملا کر پی لینا سنت ہے۔
مشروبات کا سردار:
حدیث کے اندر آتا ہے کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا کہ دنیا اور آخرت میںمشروبات کا سردار پانی ہے۔ (کنز العمال جلد19صفحہ211)
کھانے کے سردارکے بارے میں کیا فرمایا تھا؟ثرید ، سرکہ، کھجوراور کئی چیزیں تھیں، لیکن پینے کے بارے میں فرمایا کہ پانی ہے اور واقعی بات سچی ہے کہ انسان دودھ پینے سے Fed up ہوسکتا ہے، مشروبات پینے سے Fed up ہوسکتا ہے لیکن پانی پینے سے کبھی Fed up نہیں ہوسکتا ، سوسال کا بھی ہوجائے۔ اتنا ضرور ہوگا کہ یوں کہہ دے کہ اس وقت مجھے پیاس نہیں لیکن تھوڑی دیر کے بعدپھر طلب ہوگی۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کے جسم کے اندر پانی کی طلب ہی ایسی رکھ دی کہ انسان کبھی پانی سےFed up ہوہی نہیں سکتا ۔
وہ پانی جس کاپینا مکروہ ہے:
اسی طرح علماء کرام نے لکھا ہے کہ پانی کو مُشک، گلاب، یاکیوڑہ وغیرہ سے خوشبو دار بنا کے پینا مکروہ ہے۔ (مدارج،فتح الباری جلد 10صفحہ 74)
کیونکہ پانی ویسے ہی عمدہ خالص اور بہترین چیز ہے۔ اس کو کسی چیز سے مزید سے خوشبو دار بنانے کی ضرورت نہیں، علماء نے اس کو منع کیا ہے۔ اور فرمایا کہ یہ امیر لوگوں کی عادت ہوا کرتی ہے کہ بعض دفعہ شادی یا دیگر موقعوںپر ایسا کرلیتے ہیں لیکن بہرحال پانی کو خوشبو دار بنانا فضول خرچی میںداخل ہے۔
(سیرت شامی صفحہ 360،فتح الباری جلد 10صفحہ 74)
نبی کریمﷺکی خاص عادت مبارکہ:
یہ تو سادہ پانی کی بات ہوگئی،اس کے علاوہ ایک اور چیز ہے شہد ملا پانی، رسول اکرمﷺ شہد میں پانی ملا کر نوش فرماتے تھے۔(مدارج النبوۃ جلد15صفحہ65 )
یہ سنت ہے اور نبیu کی ایک اور عادتِ مبارکہ تھی کہ نہار منہ شہد اور پانی استعمال فرماتے اور جب اس پر آدھا گھنٹہ تقریباً گذرجاتا پھر ناشتہ کرتے، شہد اور پانی پہلے پی لیا 20،25منٹ آدھا گھنٹہ انتظارہواپھر بھوک لگنے لگتی پھر کھانا کھاتے۔ روایت میں آتا ہے کہ نبیu شہد ملے پانی کونوشِ جان فرماتے جب کچھ وقت گذر جاتا اور بھوک معلوم ہوتی تو جو کچھ کھانے کو موجود ہوتا تناول فرماتے۔
شہد ملا پانی پینے کے چند فائدے:
ابن قیم hنے لکھا ہے کہ اس میں صحت کی حفاظت ہے۔ شہد کا شربت ناشتے میں استعمال کرنا بلغم کو دور کرتا ہے، معدے کے لیے کئی حالات میں مفید ہے، معدے کی چکنائی کو زائل کرتا ہے اور فضلات کو دور کرتا ہے اور معدے کو اعتدال کے ساتھ گرم رکھتا ہے اور جوڑوں کو کھولتا ہے۔ (مدارج صفحہ 15)
شہد کے بہترین فوائد:
اور فقط شہد کے بارے میں امی عائشہ r فرماتی ہیں کہ نبی b کو حلوہ اور شہد بہت پسند تھا۔ (بخاری جلد2صفحہ840)
امی عائشہ rسے روایت ہے کہ آپﷺ زینب بنت جحش rکے پاس تشریف لاتے اور شہد نوش فرماتے۔(ابو داؤد جلد 2صفحہ 522)
ایک اور صحابی حضرت عبداللہ بن مسعود t نے فرمایا کہ نبی u کا ارشاد ہے کہ تم اپنے اوپر دو شفا کردینے والی چیزوں کو لازم کردو:ایک قرآن مجید اور ایک شہد۔
(مشکٰوۃ صفحہ 391)
بڑی بیماریوں سے محفوظ رہنے کا نسخہ:
ویسے تو ساری باتیں ہی مبارک ہیں ۔ نبی u نے فرمایا کہ جو شخص ہر مہینے میں تین دن صبح کے وقت شہد چاٹ لیا کرے گا، وہ بڑی بڑی بیماریوں سے محفوظ رہے گا۔
(مشکٰوۃ صفحہ 391)
مہینے کے تیس دن ہوگئے اور تین دن اگر صبح ،صبح شہد چاٹ لے نہار منہ تو فرمایاکہ یہ انسان بڑی بڑی بیماریوں سے محفوظ رہے گا۔ یہ چھوٹے بچے سے لے کر بوڑھے تک سب کے لیے مفید ہے۔ قرآن کریم میں اسے شفا قرار دیا گیا۔ جنت میں شہد کی نہریں ہوں گی۔ یہ رگوں کے لیے مفید ہے، معدے کے لیے مفید ہے،غذا اور دوا دونوں کی اس کے اندر شان موجود ہے۔ (فتح الباری جلد 10صفحہ 140)
تو بہرحال شہد کے بہت سے فائدے ہیں، اللہ تعالیٰ ہمیں استعمال کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
دودھ:
اب کچھ دودھ کا تذکرہ بھی کر لیتے ہیں۔ نبی u نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ جسے دودھ پلائے اس کو چاہیے کہ و ہ یہ دعا کیا کرے:
اَللّٰہُمَّ بَارِکْ لَنَا فِیْہِ وَزِدْنَا مِنْہُ (السنن لابی داؤد)
’’اے اللہ !ہمیں اس میں برکت عطا فرما اور اس میں زیادتی عطا فرما‘‘۔
نبیu نے فرمایا کہ میں خوب جانتا ہوں کہ کوئی ایسی چیز نہیں جو کھانے اور پینے دونوں کی طرف سے کافی ہوجائے سوائے دودھ کے۔(ابن ماجہ جلد 2صفحہ243)
غذائے کامل:
حضرت عبداللہ بن عباس t فرماتے ہیں کہ میں اور حضرت خالد حضرت میمونہr کے یہاں نبی کریمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ حضرت میمونہ r ایک برتن میں دودھ لائیں، رسول اکرمﷺ نے اسے نوش فرمایا۔ (شمائل مختصراً صفحہ14)
اور ایک حدیث میں نبی u نے فرمایا کہ شب معراج میں میرے سامنے تین قسم کے پیالے پیش کیے گئے:
1 دودھ کا پیالہ
2 شہد کا پیالہ
3 شراب کا پیالہ

میں نے دودھ کا پیالہ لیا اور اسے پیا تو مجھے کہا گیا کہ آپ نے فطرت کو اختیار کیا اور آپ کی امت نے بھی۔ (بخاری جلد2صفحہ840)
براء tفرماتے ہیں کہ جب نبی پاکﷺ اور حضرت ابوبکر tدونوں مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ ہجرت کے موقع پر تشریف لے جارہے تھے ، تو حضرت ابوبکر صدیقt نے فرمایا کہ آپﷺ کو پیاس لگی ہوئی تھی اور ہم چرواہوں کے پاس سے گذر رہے تھے تو میں نے ایک پیالہ دودھ حاصل کیا اور آپ کی خدمت میں پیش کیا اور آپﷺ نے اس کو نوش فرمایا۔ (بخاری جلد1صفحہ555)
آپﷺ کا دودھ میں پانی ملا کر نوش فرمانا:
نبی کریمﷺ کبھی تو خالص دودھ پی لیتے اور کبھی اس میں پانی ملا کر نوش فرماتے۔ بخاری شریف کی حدیث ابھی سامنےآئی جس میں ہے کہ آپﷺ ایک انصاری کے باغ میں تشریف لے گئے، ایک صحابی ساتھ تھے، آپ نے سلام کیا انہوں نے جواب دیا۔ وہ انصاری باغ میں پانی دے رہے تھے، پوچھا! آپ کے مشکیزے میں رات کا باسی پانی ہے تو لے آئیں ورنہ ہم کیاری سے ہی پی لیں؟ انہوں نے کہا کہ بالکل ہے۔ وہ جھونپڑے میں گئے پانی لائے اور دودھ بکری کا دوہا اور آپ نے پانی ملا کر دودھ کو نوش فرمایا۔
(مشکٰوۃ صفحہ370،بخاری صفحہ 841)
دودھ میں پانی ملا کر پیناگرم علاقے والوں کے لیے بہت مفید ہے کہ اس سے دودھ کی تاثیر معتدل ہوجاتی ہے۔ اس سے معلوم ہوا ہے کہ دودھ میں ٹھنڈا پانی ملا کر پینا سنت ہے۔ بخاری شریف میں ہے کہ حضرت انس t کی روایت ہے کہ انہوں نے دودھ میں کنوئیں کا پانی ملا کر آپﷺ کی خدمت میں پیش کیا اور آپﷺ نے نوش فرمایا۔ خیال رہے کہ پینے کے لیے اپنی مرضی سے دودھ میں پانی ملانا مسنون عمل ہے۔ دوکانداروں کا پانی ملا کر فروخت کرنا الگ بات ہے۔ ایک حدیث میں آتا ہے حضرت عبداللہ ابن عباس t فرماتے ہیں کہ مشروبات میں دودھ آپﷺ کو بہت مرغوب تھا۔
(سیرت خیر العباد جلد 7صفحہ380)
دودھ پینے کے بعد کلی کرنا:
حضرت عبداللہ ابن عباس tفرماتے ہیں کہ نبی کریمﷺ نے دودھ پیا اور دودھ پینے کے بعد کلی فرمائی اور ارشاد فرمایا کہ اس میں چکنائی ہوتی ہے۔ (بخاری جلد2صفحہ839)
نبیu نے ہر ہر موقع پر صحت کا بھر پور خیال رکھا ہے۔ ایک حدیث میں آتا ہے نبیu نے فرمایا کہ جب تم دودھ پیو تو کلی کر لیا کرو کہ اس میں چکنائی ہوتی ہے۔ دودھ کے بارے میںیہاں تک فرمایا کہ اگر آپ کو کوئی دودھ کا ہدیہ پیش کرے۔ تو واپس نہ کرو۔ کیونکہ حدیث شریف میں آتا ہے کہ تین چیزوں کا ہدیہ واپس نہیں کیاجاتا:
(بخاری جلد2صفحہ839)
1 دودھ
2تکیہ
3 تیل
یہ چیزیں اگر کوئی دے تو ضرور ان کو قبول کیا کرو۔
(ترمذی جلد 2صفحہ 102،مجمع جلد 5صفحہ 45)
نبیذ:
پینے کی چیزوں میں ایک اور بہت ہی عمدہ چیز ہے، جسے نبیذ کہتے ہیں۔ حضرت عائشہrفرماتی ہیں کہ میں نبی کریمﷺ کے لیے نبیذ بناتی تھی۔
(ابن ماجہ،مسلم ۔ مشکٰوۃ،صفحہ 372)
نبیذ کیسے بنتا ہے؟
امی عائشہk فرماتی ہیں کہ میں تھوڑی سی کھجور اور تھوڑی سی کشمش لے لیتی اور اسے پانی میں ڈال دیتی، اگر صبح ڈالتی تو آپﷺ شام کو نوش فرمالیتے اور اگر شام کو ڈالتی تو آپﷺ اس کو صبح نوش فرمالیتے، تاخیر نہ فرماتے کہ کہیں اس کے اندر نشہ پیدا نہ ہوجائے۔ حضرت جابرtفرماتے ہیں کہ پتھر کے برتن میں آپ کے لیے نبیذ بنایا جاتا۔
(ابن ماجہ جلد 2صفحہ 358)
حضرت انس t نے وہ پیالہ کسی کو دکھایا اور فرمایا کہ یہ وہ پیالہ ہے کہ جس میں، میں نے نبیﷺ کو شہد، نبیذ ،پانی اور دوھ پلایا ہے۔(عمدہ جلد21صفحہ 206)
نبیذ عرب کے محبوب مشروبات میں سے ہے،آپﷺ کو بھی بہت مرغوب تھا، چھوارے یا کشمش وغیرہ کو پانی میں ڈال دیا جاتا اور اس کی مٹھاس اور ہلکا سا مزہ پانی میں آجاتاآپﷺ اس کو نوش فرمالیتے گویا کہ ہلکا میٹھا شربت ہوجاتا صبح کا ڈالا ہوا شام کو اور شام کا ڈالا ہوا صبح میں پی لیتے،لیکن پانی میں اتنی دیر تک چھوڑے رکھنا کہ گاڑہ پن آجائے نشہ آجائے یا جھاگ آجائے تو اس صورت میں استعمال کرنا حرام ہے۔ نبیuنے کبھی اس صورت میں استعمال نہیں کیا جس سے نشہ پیدا ہوجاتا اور نشہ کو آپ نے حرام قرار دیا۔ چنانچہ اگر کبھی استعمال کرنے سے رہ جاتا یا دیر زیادہ ہوجاتی اور شبہ ہوجاتا کہ شاید اس کی کیفیت بدل گئی ہو تو اس کو پھر ضائع کردیا جاتا پیا نہیں جاتاتھا۔
نبیذ کے بارے میں ایک ذاتی تجربہ بھی ہے اور کئی لوگوں کو بتایا بھی، ایک نہیں کتنے لوگوں کو بتایا جنہوں نے اپنی جسمانی کمزوری کی شکایت کی۔ روحانی کمزوری کی شکایت تو لوگ کم ہی کرتے ہیں جسمانی کمزوری ہوئی تو فوراً فون آگیا کہ حضرت فلاں مسئلہ ہوگیا۔ تو ایک نہیں کئی لوگوں کو بتایا مردوں کو بھی اور عورتوں کو بھی، شادی شدہ کو بھی غیر شادی شدہ کو بھی، جوانوں کو اور بوڑھوں کو بھی کہ نبیذ کا استعمال کریں۔ پانچ یا ساتھ کھجوریں لے لیں اور کشمش اگر ممکن ہو تو وہ بھی ڈال لیں۔ رات کو ڈالیں صبح پی لیں صبح ڈال لیں شام کو پی لیں۔ یہ بہت بڑا ٹانک ہے جس کا کوئی سائیڈ ایفیکٹSid effect نہیں، کوئی ری ایکشنReaction نہیں اورپورے جسم کے اعصاب کے لیے بہترین چیز ہے۔ جسمانی کمزوریوں کے لیے بہت بڑی نعمت ہے۔ اگر ہم اس کو استعمال کریں اور گیارہ دن کا کورس کرلیں اگرچہ گیارہ دن حدیث میں نہیں ہیں۔ لیکن اب کمزوری ہے تو ایک وقت میں تو نہیں چلے جائے گی تو گیارہ دن یا پندرہ دن طاق عدد کی رعایت اللہ کو محبوب ہے۔ اس کی رعایت رکھتے ہوئے ایک چھوٹا سا ہم کورس کرلیں تو ان شاء اللہ بہت ساری دواؤں سے ہماری جان چھوٹ سکتی ہے۔ یہ ایسی چیزہے کہ جو نعمت بھی اور سنت بھی اور صحت بھی ہے۔
چندمزید پسندیدہ مشروبات :
نبیﷺ کے مزید کچھ پسندیدہ مشروبات کا ذکر کرتے ہوئے علّامہ ابن قیّم نے زادالمعاد میں لکھا کہ حضورِ پاکﷺ نے جو کا ستو پیا۔ شہد پانی ملا ہوا، نبیذتمر اور حریرہ جو دودھ اور آٹے سے بنایا جاتا ہے، اس کو آپ نے نوش فرمایا ہے۔ (زادالمعاد جلد1صفحہ54)
اور ایک حدیث کے اندر آتا ہے آپ نے کھجور اور کشمش کا نبیذ بھی پیا ہے۔
(فتح الباری جلد10صفحہ100)
ایک اہم بات:
اب ایک چیز بہت امپورٹنٹ ہے اور وہ ہے کھانا کھانے کے فوراً بعد پانی پینا، آپﷺ کی عادت مبارکہ تھی اور معمول تھا کہ کھانے کے فوراً بعد پانی نوش نہیں فرماتے تھے۔ (مدارج صفحہ 17)
پانی پینے کا مسنون طریقہ :
نبی کریمﷺ کی عادت طیبہ یہ تھی کہ پانی کو چوس کر پیتے تھے انڈیلتے نہیں تھے۔ جیسے کہ کہا جاتا ہے کہ فلاں آدمی انجوائے کررہا ہے اور آرام آرام سے پی رہا ہے۔ تونبیd چوس کر پیتے تھے انڈیلتے نہیں تھے۔ اور تین سانس میں پیتے تھے اور فرماتے تھے کہ یہ زیادہ خوش گوار مزیدار اور بہتر ہے۔
(مجمع الزوائد جلد5صفحہ 83،سیرت شامی جلد7صفحہ 375)
مطلب یہ ہے کہ لبوں اور ہونٹوں سے پانی چوستے ہوئے پیتے تھے، اور یہ بات گلاس اور کٹورے میں تو پائی جائے گی مگر بڑے برتن جگ وغیرہ میں توایسا کرنا مشکل ہوگا۔ اسی طرح پانی کو غٹ غٹ پینا فوراً سے پی لینا بھی ٹھیک نہیں، نبی u نے ارشاد فرمایا کہ جب پانی پیو تو چوس کر پیو غٹ غٹ مت پیو۔ (جمع الوسائل صفحہ 253)
علماء نے لکھا کہ اس سے جگر کی بیماری پیدا ہوجاتی ہے۔ (احیاء العلوم جلد2صفحہ 11)
انس بن مالک tفرماتے ہیں کہ رسول اکرمﷺ تین سانس میں پانی پیتے تھے۔
(ترمذی جلد 2صفحہ 10)
فرماتے تھے کہ اس طر ح پینا زیادہ خوش گوار ہے اور بدن کو خوب سیر اب کرنے والا ہے۔ (ترمذی جلد 2صفحہ 10)
پینے کے دوران برتن میں سانس مت لیں:
ابو قتادہ tفرماتے ہیں کہ نبی کریمﷺ نے منع فرمایا کہ انسان برتن میں سانس لے۔ (بخاری جلد2صفحہ841)
برتن میں سانس نہیں لینا چاہیے۔ ایک روایت میں ہے کہ آپﷺ نے پینے کی چیزوں میںسانس لینے سے منع کیا۔ (مجمع الزوائد)
اسی طرح ایک سانس میں پینے سے منع کیا۔ نبی u نے فرمایا کہ ایک ہی مرتبہ میں پانی نہ پیو جیسا کہ اُونٹ پیتا ہے، جب پینے لگو تو تین سانس میں پیو، بسم اللہ پڑھو، پی لو تو الحمدللّٰہکہو۔
(جمع الوسائل صفحہ 253،ترمذی جلد 2صفحہ 11)
ایک تو یہ ہے کہ شروع کرنے لگے تو بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھے اور ختم کرنے کے بعد الحمد للّٰہ کہے تو یہ بھی قبول ہے، سنت ہے،لیکن اس میں ایک اور بات بھی فرمائی جیسا کہ ابوہریرہ t فرماتے ہیں کہ حضوراقدسﷺ پانی تین سانس میں پیتے اور برتن کو منہ لگاتے تو بسم اللہ کہتے اور جب دور کرتے تو الحمد للّٰہ کہتے اسی طرح تین مرتبہ کرتے۔ (جمع الوسائل جلد2صفحہ253،مجمع جلد5صفحہ84)
چنانچہ یہ طریقہ بھی مسنون ہے گویا کہ دونوں طرح سے مسنون ہے، شروع میں بسم اللہ اورآخر میں الحمد للّٰہ یہ بھی مسنون اور ہر سانس سے پہلے بسم اللہ اور ہر سانس کے بعد الحمد للّٰہ یہ بھی مسنون ہے۔
پلانے والا خود آخر میں پیے:
اگر کوئی پانی پلا رہا ہو لوگ آئے ہوئے ہوں، مہمان آئے ہوئے ہوں، تو ایک آدمی پانی پلا رہا ہے تو پلانے والے کے بارے میں نبی u نے فرمایا کہ اس کا نمبر آخری ہوتا ہے۔(ترمذی جلد 2صفحہ 11)
پہلے دوسروں کو پلائے سب سے آخر میں خود پیے جب سارے لوگ فارغ ہوجائیں۔
بچے ہوئے پانی کو کیا کریں؟
اگر پینے والا پانی پی لے اور پیالہ بڑا ہے پانی زیادہ ہے پورا نہیں کرسکتاتو پھر کیا کرے، نبی u نے ارشاد فرمایا کہ عبداللہ بن بسر tفرماتے ہیں کہ نبی کریمﷺ نے پانی پیا پھر جو آپ کی دائیں جانب تھااسے دے دیا۔ (بخاری صفحہ 840،ترمذی جلد 2صفحہ 11،مجمع جلد5صفحہ85)
یعنی اگر پانی پینے والا کسی کو دینا چاہے تو پینے کے بعد دائیں طرف والے کو دے دے چاہے وہ بڑا ہو یا چھوٹا ۔
پہلے کس کو پلایا جائے؟
پلانے کی ابتدا بڑے سے ہو۔ عبداللہ بن عباس iفرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ جب پلاتے تو فرماتے: بڑوں سے شروع کرو۔ (مجمع جلد5صفحہ84)
جیسے والد ہیں، کوئی بزرگ ہیں، کوئی عالم ہیں، جو لوگ موجود ہیں ان میں سے انسان بڑوں سے شروع کرے۔ اگر مجلس میں لوگ زیادہ ہوں تودوطرح کی ترتیب سنت ہے۔ گویا اول تو یہ کہ انسان کسی بڑے سے شروع کرے تو اس کا احترام ادب کیا گیا، اگر بڑے سے شروع نہیں کرنا تو دوسری سنت یہ ہے کہ انسان دائیں طرف سے شروع کرے۔ یہ دونوں چیزیں مسنون ہیں۔
کھڑے ہو کر پانی پینا منع ہے:
رسول اللہﷺنے منع فرمایا ہے کہ آدمی کھڑا ہو کر پانی پیے۔ حضرت قتادہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت انس tسے پوچھا کہ کھانا کھڑے ہوکر کھانا کیسا ہے؟ تو انہوں نے فرمایاکہ یہ تو اور بھی زیادہ بُرا ہے۔ (مسلم جلد 2صفحہ 173)
جانوروں کا طریقہ ہے کہ کھڑے ہو کر کھانا، کھڑے ہو کر پانی پینااور آج ان بازاروں میں، شادیوں میںادھر اُدھر کھڑے ہو کرکھاتے بھی ہیں اور پیتے ہیں۔ آپ نے کسی گھوڑے کو تو نہیں دیکھا ہوگا کہ وہ بیٹھ کر کھانا کھائےاور پانی پیے۔ ہمیں جو آقا نے سنت سکھائی وہ بیٹھ کر کھانے پینے کی ہے۔ ابوہریرہ t فرماتے ہیں کہ آپﷺ کی خدمت میں ایک آدمی آیا جو کھڑے ہو کر پانی پی رہا تھا آپﷺ نے فرمایا کہ قے کر دو اُلٹی کردو۔ اس نے پوچھا: اللہ کے نبی! کیوں؟ نبی u نے فرمایا کہ اگر تمہارے ساتھ بلی پانی پیے گی تو کیا تم پسند کرو گے؟ کہا: بالکل بھی نہیں۔ تو فرمایا کہ اس سے زیادہ برے یعنی شیطان نے تمہارے ساتھ پانی پیاہے۔
(سیرت خیر العباد جلد 7صفحہ 369)
آبِ زمزم اور وضو کے باقی ماندہ پانی کا حکم:
یعنی جب کھڑے ہو کر انسان پانی پیتا ہے تو شیطان اس کا ساتھی ہوجاتا ہے،لیکن آبِ زمزم کے متعلق روایت میں آتا ہے کہ نبی u نے آبِ زمزم کو کھڑے ہو کر نوش فرمایا۔ (مسلم جلد 2صفحہ 174،ترمذی جلد 2صفحہ 10)
یہ تو زمزم کی خصوصیت ہے، اسی لیے زمزم کو کھڑے ہو کر پینا افضل اورمسنون ہے۔ اور زمزم پیتے ہوئے ہر دعا قبول ہوتی ہے اور یہ دعا زمزم پینے سے پہلے مانگنی ہے:
اَللّٰہُمَ اِنِّیْ أَسئَلُکَ عِلمًا نَّافِعًا وَّرِزْقًا وَّاسِعًا وَشِفَاءً مِنْ کُلِّ دَاءٍ
(سنن الدار قطنی)
پہلے دعاپھر آبِ زمزم کو کھڑے ہو کر پینا ہے۔ ایک اور بات یاد رکھنے کی ہے کہ پینے کی چیزوں میں پھونک مار کر پینا بھی مکروہ ہے۔ (سیرت الشامی جلد 7صفحہ 77)
وضو کا باقی ماندہ پانی پینا سنت ہے۔ جس برتن میں نبی u وضو فرماتے تھے لوٹا یا ایسا کوئی پاک صاف برتن ہوتا آپ اس میں وضو فرماتے اور وضو کرنے کے بعد اس برتن کا بچا ہوا پانی کھڑے ہو کرپیتے تھے۔ (شمائل صفحہ 14)
اور بعض علماء نے لکھا ہے کہ یہ بڑی بڑی بیماریوں کے لیے مجربات میں سے ہے ۔ اب تو نلکے وغیرہ ہوتے ہیں،پہلے تو ایسا نلکوں کا رواج نہیں تھا،تو انسان جس برتن میں وضو کرے وضو کرنے کے بعد بچا ہوا پانی سنت کی نیت سے کھڑے ہوکر پیے گا توبڑی بڑی بیماریوں سے اللہ تعالیٰ اس کو نجات عطا فرمادیں گے۔ اورباقاعدہ اس کا تجربہ بھی کیا گیا ہے اور یہ مسنون عمل ہے اور قبلہ رخ ہوجائے تو اور اچھا ہے۔
(شامی جلد 1صفحہ 87)
پانی پینے کے لیے برتن:
نبی u نے فرمایا کہ جس نے سونے او ر چاندی کے برتن میں پانی پیا اس نے اپنے پیٹ میں جہنم کو ڈالا۔ (مسلم جلد 2صفحہ 187)
سونے چاندی کے برتنوں کا استعمال خواہ کسی انسان کے لیے ہو مرد ہو یا عورت دونوں کے لیے حرام ہے،عورتوں کو صرف زیورات کی اجازت ہے۔ لیکن اس کے علاوہ سونے چا ندی کے پاندان، سرمہ دانی، چمچہ، پلیٹ، ڈشیں بنانے سے منع کیا گیا ہے۔ باقی چیزوں کے اندر جو لکڑی کا پیالہ،شیشے کا پیالہ ہے ان کی اجازت ہے۔ ان شاء اللہ اس کا آگے بیان آئے گا جس میں یہ ذکر ہوگا کہ نبی u کون کون سے پیالوں میں پانی پیتے تھے؟ اللہ تعالیٰ ہمیں نبی uکی سنتوں پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
وَآخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْن

Leave a Reply