چالیسواں اور برسی کی فاتحہ اور ایصال ثواب کرنا کیسا ہے؟


سوال:کیا ہم اپنے مرحوم کا چالیس دن بعد جو ایک رسم بنی ہوئی ہے چالیسویں کی فاتحہ اور چھ مہینہ کے بعد چھ ماہی کی فاتحہ پھر برسی کی فاتحہ کرنا قرآن و حدیث کی روشنی میں جائز ہے کہ نہیں؟ برائے مہربانی جلد از جلد جواب دینے کی گزارش ہے۔ جزاک اللہ
بسم الله الرحمن الرحيم

کسی کے انتقال پر چالیسویں دن، چھ مہینہ پر یا سال مکمل ہونے پر چالیسویں، چھ ماہی اور برسی کی جو فاتحہ ہوتی ہیں اور ان کا ایصال ثواب کیا جاتا ہے، یہ سب محض رسومات وبدعات اور ناجائز ہیں، شریعت میں ایصال ثواب کے لیے کسی دن یا عمل وغیرہ کی تخصیص ثابت نہیں، لوگوں نے اپنی طرف سے یہ سب چیزیں گھڑی ہیں ؛ اس لیے مسلمانوں کو ایصال ثواب کے ان سب طریقوں سے بچنا چاہیے اور مرحوم کے اعزہ، دوست واحباب اور متعلقین وغیرہ میں سے جو شخص بھی مرحوم کو ایصال ثواب کرنا چاہے تو کسی دن یا عمل کی تخصیص کے بغیر انفرادی طور پر کوئی بھی نیک عمل انجام دے کر مرحوم کو اس کا ثواب بخش دے ، مثلاً ایک قرآن یا اس کی چند سورتیں پڑھ کر ان کا ثواب بخش دے ، غریبوں کو صدقہ خیرات دے کر اس کا ایصال ثواب کردے وغیرہ، اس میں نہ تو لوگوں کو جمع کرنے کی ضرورت ہے اور نہ کسی کو اطلاع دینے کی ، اللہ تعالی ہم سب کو دین کے تمام شریعت کے مطابق انجام دینے کی توفیق عطا فرمائیں، آمین۔ قال الشاطبي فی الموافقات (۳:۵۳):ومن أجل ذلک قال حذیفة رضي اللہ عنہ: کل عادة لم یتعبدھا أصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فلا تعبدوھا فإن الأول لم یدع للآخر مقالاً فاتقوا اللہ یا معشر القراء وخذوا بطریق من کان قبلکم ونحوہ لابن مسعود وأیضا وقد تقدم من ذلک کثیر اھ،وقال في مشکاة المصابیح (کتاب الإیمان ، باب الاعتصام بالکتاب والسنة، الفصل الأول، ص ۲۷، ط: المکتبة الأشرفیة دیوبند)عن عائشة رضي اللہ عنھا قالت: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم:من أحدث في أمرنا ھذا ما لیس منہ فھو رد متفق علیہ، وعن جابر رضي اللہ عنہ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: أما بعد فإن خیر الحدیث کتاب اللہ وخیر الھدي ھدي محمد صلی اللہ علیہ وسلم وشر الأمور محدثاتھا وکل بدعة ضلالة رواہ مسلم اھ

واللہ تعالیٰ اعلم

دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

Leave a Reply