چھوٹا عمل بڑا اَجر

چھوٹا عمل بڑا اَجر

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ وَ کَفٰی وَ سَلٰمٌ عَلٰی عِبَا دِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی. أَمَّا بَعْدُ:
فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِيْمِ o بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِo
قُلْ اِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْکُمُ اللّٰہُ وَیَغْفِرْ لَکُمْ ذُنُوْبَکُمْط
(آل عمران: 31)
سُبْحٰنَ رَبِّکَ رَبِّ الْعِزَّۃِ عَمَّا یَصِفُوْنَ o وَ سَلٰمٌ عَلَى الْمُرْسَلِیْنَ o
وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَo
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ

جنت میں حضورﷺ کی معیت:
نبی کریمa نے ارشاد فرمایا: جس نے میری سنت کو زندہ کیا اس نے مجھ سے محبت کی، اور جس نے مجھ سے محبت کی کان معی فی الجنۃ وہ جنت میں میرے ساتھ ہوگا۔
(سنن ترمذی: رقم 2678)
ہماری پوری زندگی سنت کے مطابق ہوجائے۔ ہمارا اٹھنا بیٹھنا، چلنا پھرنا، بولنا سننا، معاملات وغیرہ، تو ہم ایک کامیاب زندگی گزارنے والے ہوں گے۔ جس میں دنیا کی بھی کامیابی اور آخرت کی بھی کامیابی ہے۔ پوری زندگی کو سنت پہ لے کر آنا نہایت آسان، نہایت آسان، اور نہایت آسان ہے۔ بالکل بھی مشکل نہیں ہے۔
خلاصۂ بیان:
آج کی مجلس میں تین باتیں کرنی ہیں:
(1) چھینک کے بارے میں
(2)جماہی آنا
(3) بچوں کا نام رکھنا
گلدستہ سنت کی چوتھی جلد الحمدللہ! آچکی ہے۔ ان تمام کتابوں میں نبی کریمa کی حیاتِ طیبہ کو آسان انداز میں اُمت کے سامنے لانے کی کوشش کی گئی ہے۔ کتابیں اس وقت تک نہیں بولتیں جب تک اسے دیکھ کر پڑھا نہ جائے۔ یہ وہ خاموش رہبر ہے جب تک اسے اپنے ہاتھوں سے پکڑیں گے نہیں، یہ رہبری نہیں کرے گی۔ اب ہماری ذمہ داری یہ بنتی ہے کہ ہم آپﷺ کی حیاتِ طیبہ کو پڑھ کر مستفید ہوں اور اپنی عملی زندگی کو آپﷺ کی زندگی کے مطابق بنانے کی محنت میں لگ جائیں۔ بہرحال پہلی بات چھینک کے بارے میں کرتے ہیں۔
چھینک آنے پر عمل:
چھینک آنا ایک فطری عمل ہے جسے انسان روک نہیں سکتا۔ اسے روکنا بھی نہیں چاہیے۔ حدیث شریف میں ہے کہ ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پر پانچ حقوق ہیں، جن میں سے ایک یہ ہے کہ جب کسی کو چھینک آئے تو اس کا جواب دیا جائے۔
(صحیح بخاری: رقم 1240، صحیح مسلم: رقم 2162)
اس لیے ہم آج کی مجلس میں اُن احادیثِ مبارکہ کو ذکر کرتے ہیں جن میں چھینکنے والے اور چھینک سننے والے کے لیے رسول اللہﷺ کی طرف سے ہدایات ہیں۔
حضرت ابو ہریرہ روایت کرتے ہیں کہ جنابِ رسول اللہ نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کو چھینک آئے تو اس کو چاہیے کہ الحمدللہ کہے، اور اس کے پاس بیٹھنے والا جو سن لے اس کو چاہیے کہ یرحمک اللہ کہے، اور اس کے بعد چھینکنے والا جس نے الحمدللہ کہا تھا وہ جواب دے یَھْدِیْکُمُ اللہُ وَیُصْلِحُ بَالَکُمْ.
(صحیح بخاری: رقم 6224)
حضرت عبداللہ بن جعفرi سے منقول ہے کہ نبی کریمa کو جب چھینک آتی تو آپa الحمدللہ کہتے، پھر جب آپ کو یرحمک اللہ کہا جاتا تو آپa جواب میں یَھْدِیْکُمُ اللہُ وَیُصْلِحُ بَالَکُمْ فرماتے۔ (مسند احمد: 204/1)
امام ابو داؤد نے سنن ابی داؤد میں دو روایتیں چھینکنے والے کے لیے اپنی سند سے بیان کی ہیں۔ ایک روایت حضرت ابو ہریرہ سے مروی ہے، اس میں ہے کہ چھینکنے والا الحمدللہ علی کل حال کہے۔ آگے پھر وہی ہے جو ابھی بیان کیا۔
(سنن ابی داؤد: رقم 5033)
دوسری روایت حضرت سالم بن عبید سے مروی ہے، اس میں ہے کہ چھینکنے والا الحمدللہ رب العالمین کہے۔ (سنن ابی داؤد: رقم 5031)
علمائے کرام کا اس بات پر اتفاق ہے کہ الحمدللہ تو کہنا ہی ہے، آگے الفاظ علی کل حال / رب العالمین کہتا ہے تو اجازت ہے۔
جو الحمدللہ نہ کہے، اس کو جواب نہ دینا:
حضرت انس فرماتے ہیں کہ نبی کریم کی مجلس میں دو آدمیوں کو چھینک آئی۔ ایک نے کہا الحمدللہ، نبی کریم نے فرمایا: یرحمک اللہ۔ دوسرے نے الحمدللہ نہیں کہا تو نبی کریم نے اسے یرحمک اللہ نہیں فرمایا۔ اس نے عرض کیا کہ اے اللہ کے نبی! اس کو تو آپ نے یرحمک اللہ کہہ کر دعا دی، لیکن مجھے نہیں دی۔ (مجھے بھی تو آپ کی دعا کی ضرورت ہے) نبی کریم نے ارشاد فرمایا: اس نے چھینک آنے پر الحمدللہ کہا تھا تو میں نے جواب دیا، تم نے الحمدللہ نہیں کہا تو میں نے تمہارے لیے دعا بھی نہیں کی۔ (صحیح بخاری: رقم 5871)
حضرت ابو موسیٰ اشعری سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا: جب چھینکنے والا اللہ تعالیٰ کی تعریف کرے تو تم اس کی چھینک کا جواب دو، اور جب وہ اللہ تعالیٰ کی تعریف نہ کرے تو اس کی چھینک کا جواب نہ دو۔ (صحیح مسلم: رقم 2992)
الحمدللہ کہنے پر جواب کا واجب ہونا:
چھینکنے والا جب چھینکے اور الحمدللہ کہے تو سننے والے کو جواب میں یرحمک اللہ کہنا واجب ہے، اگر نہ کہے تو گنہگار ہوگا۔ اور عام طور سے یہ دیکھا جا رہا ہے کہ چھینکنے والا جب چھینکتا ہے تو وہ الحمدللہ نہیں کہتا۔ اگر وہ کہہ بھی دے تو بسااوقات سننے والے جواب نہیں دیتے۔ یا تو اکثر لوگ غافل ہوتے ہیں، یا پھر انہیں معلوم ہی نہیں کہ کرنا کیا ہے۔ الحمدللہ اللہ تعالیٰ کی تعریف ہے، اور اس کے جواب میں یرحمک اللہ کہنا رحمت کی دعا ہے۔ اس میں شرمانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔
جب تین مرتبہ چھینک آئے:
بعض مرتبہ لوگ چھینکتے ہی چلے جاتے ہیں۔ اس سلسلے میں نبی کریمﷺ کی رہنمائی موجود ہے۔ حضرت سلمہ بن اکوع سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ فرماتے ہیں کہ اگر کسی کو تین مرتبہ چھینک آئے تو تینوں مرتبہ الحمدللہ کہے اور سننے والا تینوں مرتبہ یرحمک اللہ کہے، لیکن اگر اس سے زیادہ آجائے تو یہ زُکام کی وجہ سے ہے۔
(سنن ابن ماجہ: رقم 3704)
رسول اللہﷺ کی مجلس میں ایک آدمی کو تین مرتبہ چھینک آئی تو اس نے تینوں مرتبہ الحمدللہ کہا، اور رسول اللہﷺ نے اسے تینوں مرتبہ یرحمک اللہ کہہ کر جواب دیا۔ اور تیسری مرتبہ میں یہ بھی فرمایا: یہ شخص زُکام زدہ ہے۔ (کتاب الاذکار: 273/1)
علماء نے لکھا ہے کہ بار بار چھینکنے والے کو عَافَاکَ اللہُ فَإِنَّکَ مَزْکُوْمٌ بھی کہا جا سکتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو عافیت دے، اس لیے کہ آپ کو زُکام ہے۔
چھینکنے والا آواز اور چہرے پر کنٹرول رکھے:
نبی کریمa کو جب چھینک آتی تھی تو کیا کرتے تھے؟ حضراتِ صحابہ کرام کتنے پیارے ہیں کہ نبی کریمa کی ایک ایک بات کو ہم تک پہنچا دیا۔ حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ حضور کو جب چھینک آتی تو نبی کریم اپنے چہرے پر ہاتھ رکھ لیا کرتے، یا چہرے کو کپڑے سے ڈھانپ لیا کرتے، اور اپنی آواز کو کم کرنے کی کوشش کرتے ۔ (سنن ترمذی: رقم 2745)
آج کل لوگوں کو فیشن اچھا لگتا ہے، العیاذباللہ! سنت اچھی نہیں لگتی۔ یہ عاجز اپنے ساتھ ہمیشہ رومال رکھتا ہے، اس کے بہت فائدے ہیں۔ رات کو لائٹ جل رہی ہو تو آنکھوں پر لپیٹ لیا، کہیں نماز کا وقت ہو جائے تو اسے بچھا کر نمازادا کرلی، کچھ جھاڑنا ہو تو کام آگیا۔ کئی کام اس رومال سے ہوتے ہیں۔ نبی کریم کو دیکھیے کہ جیسے ہی چھینک آئی تو ایک تو اللہ کا شکر ادا کرتے، دوسرا اپنی آواز کو کم کرنے کی کوشش کرتے، اور جتنا ممکن ہوتا تو ہاتھ یا کپڑے سےچہرۂ مبارک کو ڈھانپ لیتے۔ چھینکنے والے کو چاہیے کہ اس کا بہت خیال کرے، خاص کر جب مجلس میں ہو تو دوسرے لوگوں کو کراہت محسوس ہوتی ہے۔ نبی کریم دوسروں کا خیال کیا کرتے تھے۔ دسترخوان پر اگر ہوتو بہت خیال کرنے کی ضرورت ہے کہ فوراً کپڑا رکھے۔ کپڑا نہیں ہے تو منہ دوسری طرف کر لے، کھانے میں لوگوں کی طرف چھینک نہیں جانی چاہیے۔ ایسا ہوتا ہے تو بڑی تکلیف ہوتی ہے، کراہت ہوتی ہے۔ اسی طرح اگر کوئی مسجد میں ہو تو وہاں بھی آواز کو پست رکھے اور فوراً کپڑا یا ہاتھ منہ کے آگے کر دے۔ مسجد اللہ تعالیٰ کا گھر ہے۔ اللہ تعالیٰ کے مہمانوں کو اذیت نہ ہو، اور نہ ہی منہ کی گندگی مسجد میں گرے۔
یہ بات تو مسلمان کی چھینک سے متعلق ہو رہی تھی۔ اگر کبھی غیر مسلم کو چھینک آجائے تو مسلمان کے لیے کیا حکم ہے؟
غیر مسلم کے لیے چھینک کا جواب:
حضرت ابوموسیٰ فرماتے ہیں کہ نبی کریم کی مجلس میں یہود چھینکتے تھے اور چاہتے تھے کہ آپ اُنہیں یرحمک اللہ کہیں تاکہ انہیں اللہ تعالیٰ کی رحمت ملے، لیکن آپ ان کو یرحمک اللہ نہ کہتے بلکہ ان کو فرماتے تھے: یھدیکم اللہ ویصلح بالکم کہ اللہ تمہیں ہدایت دے۔ (سنن ابی داؤد: رقم 5038)
معلوم ہوا کہ غیر مسلمکے لیے رحمت کی دعا نہیں ہوتی تھی بلکہ ہدایت کی دعا ہوتی تھی۔ اگر کوئی کافر ہمارے سامنے چھینکے اور وہ الحمدللہ بھی کہہ دے تو جیسے نبی کریم غیرمسلم کو یرحمک اللہ نہ کہتے بلکہ یھدیکم اللہ ویصلح بالکم فرماتے، اسی طرح ہمیں بھی کرنا چاہیے۔
حضرت ابن عمر کا کمالِ احتیاط:
حضرت نافع ذکر کرتے ہیں کہ ایک شخص حضرت عبداللہ بن عمر کے پاس بیٹھا تھا کہ اسے چھینک آئی اور اس نے کہا: الحمدللہ والسلام علی رسول اللہ (درود سلام کو بھی ساتھ شامل کر لیا)۔ حضرت ابن عمر نے اسے منع کیا اور فرمایا کہ چھینکنے پر اللہ کے نبی نے ہمیں اس طرح تو نہیں سکھایا۔ بلکہ ہمیں یہ سکھایا کہ ہم چھینک کے موقع پر الحمدللہ علی کل حال کہیں۔ (سنن ترمذی: رقم 2738)
نبی کریم پر سلام بھیجنا، درود پڑھنا عبادت ہے لیکن اس موقع پر نہیں۔ ان چیزوں کو بہت سمجھنے کی ضرورت ہے کہ کون سا حکم کس موقع پر ہے۔ جیسے اذان ختم ہوتی ہے لَا إِلٰہَ إِلَّا اللہُ پر، اب کوئی کہے کہ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہِ بھی ساتھ لگا ؤ، ثواب بڑھ جائے گا۔ تو اس سے کہا جائے گا کہ نہیں، یہ اضافہ ٹھیک نہیں۔ ہماری کامیابی اسی میں ہے کہ رسول اللہﷺ کی سنت کی پیروی کریں۔
دو واقعات:
(1) ایک محدّث (نبی کریمﷺ کی احادیثِ مبارکہ کو بیان کرنے والا) کشتی میں بیٹھے تھے۔ کشتی دریا میں چل رہی تھی۔ سامنے سے ایک اور کشتی آرہی تھی جس میں مسافر بیٹھے ہوئے تھے۔ اس دوسری کشتی میں کسی کو چھینک آئی اور اس نے الحمدللہ کہا۔ اُن محدّث نے سن لیا لیکن جواب دینے کی باری آئی تو کشتیاں دور ہوگئیں۔ اب کشتی کو رکوانا تو بس میں نہیں تھا۔ چناںچہ جب ان کی کشتی کنارے پر لگی تو انہوں نے اُتر کر دوسری کشتی کرائے پر لے لی اور کہا کہ مجھے اس کشتی کے قریب تک لے جائو۔ چناںچہ جب یہ اس کشتی کے قریب پہنچے تو چھینکنے والے آدمی کے قریب جاکر اس کو یرحمک اللہ کہا اور واپس آگئے۔ بعض لوگوں نے اُن کو مرنے کے بعد خواب میں دیکھا تو بشارت ملی کہ اس عمل کو قبول کر کے اللہ تعالیٰ نے انہیں جنت عطا کر دی۔ ہمیں بھی چاہیے کہ ان چیزوں کا خیال رکھیں۔
(2) ایک مرتبہ خلیفہ ہارون رشید اپنے محل میں ملکہ زُبیدہ کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے۔ اچانک شور بلند ہوا۔ خلیفہ حیران کہ کیا ہوا؟ کوئی بغاوت ہو گئی؟ یا کوئی اُفتاد آپڑی۔ کھڑکی سے باہر جھانک کر دیکھا تو بہت سارے لوگ تھے۔ سپاہی سے پوچھا کہ یہ شور کیسا تھا؟ سپاہی کہنے لگا: ایک عالم تشریف لائے تھے، اتنے لوگ ان کے استقبال کے لیے جمع ہوئے ہیں۔ اُن عالم کو چھینک آئی تو انہوں نے الحمدللہ کہا۔ پورے مجمع نے جواب میں یرحمک اللہ کہا تو ایک شور مچ گیا۔ جب ملکہ زبیدہ نے یہ حال دیکھا تو کہا کہ واللہ! بادشاہ تو یہ ہیں، نہ کہ ہارون رشید۔ یہ اللہ والے تو لوگوں کے دلوں پر حکومت کرتے ہیں، اور لوگ خود ہی ان کے پاس جمع ہوجاتے ہیں۔ اور بادشاہ تو اپنے سپاہیوں کے بغیر لوگوں میں رہ نہیں سکتا۔ اللہ اکبر!
حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ چھینک کو پسند کرتے ہیں، اور جمائی کو ناپسند کرتے ہیں۔ جب کسی کو چھینک آئے اور وہ الحمدللہ کہے تو دوسرے مسلمان پر لازم ہے کہ اس کا جواب دے۔ (صحیح بخاری: رقم 6223)
چھینک اور اس سے متعلق اُمور کو بیان کرنے کے بعد جمائی کو لیتے ہیں جو کہ اللہ تعالیٰ کو ناپسند ہے، لیکن چوںکہ فطرت میں ہے تو اس موقع سے متعلق حکم ذکر کرتے ہیں۔
جمائی/ جماہی کو روکنا:
نبی کریمa نے بہت سی چیزیں جو روز مرّہ میں پیش آنے والی ہیں، سب سکھائی ہیں۔ ہم شرم کرتے ہیں کہ یہ سیکھنے سکھانے میں کیا ہے۔ دینِ اسلام بہت پیارا دین ہے۔ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ اللہ نے ہمیں ایمان عطا کر دیا اور اپنے حبیبa کی اُمت میں پیدا کیا۔
بہرحال حدیث حضرت ابو سعید خدری میں ہے کہ رسول اللہﷺ فرمایا کرتے تھے کہ جب تم میں سے کسی کو جمائی آئے تو اپنا ہاتھ منہ پر رکھے، اس لیے کہ شیطان منہ میں داخل ہوتا ہے (اگر ہاتھ نہ رکھا)۔ (صحیح مسلم: رقم2995)
حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ کا ارشاد ہے: جمائی کا تعلق شیطان سے ہے، جو اسے روک سکتا ہے وہ روکے۔ (جمائی کے وقت جب آواز نکلتی ہے اور آدمی) کہتا ہے ’’ہا‘‘، اس وقت شیطان دیکھ کر بڑا ہنستا ہے۔ (صحیح بخاری: رقم 6223)
یعنی شیطان اس کا مذاق اُڑا رہا ہوتا ہے۔ علماء نے لکھا ہے کہ انسان کو جمائی آرہی ہو تو بائیں ہاتھ کو منہ پر رکھ کر روکنے کی کوشش کرے۔ حدیث شریف میں تو مطلقاً ہاتھ سے روکنے کا حکم ہے۔ بائیں ہاتھ سے علمائے کرام نے اس لیے فرمایا کہ شریعت کا ضابطہ ہے کہ شرف وبزرگی والے کام کو دائیں جانب سے کیا جاتا ہے، اور ناپسندیدہ گندگی کی صفائی کو بائیں جانب سے کیا جاتا ہے۔ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ ہم خود سے ہی قرآن سمجھ لیتے ہیں، حدیث سمجھ لیتے ہیں، علماء کی کیا ضرورت ہے؟ اگر علمائے کرام اِن توضیحات کو بیان نہ کریں تو اُمت کے لیے کتنی تشنگی رہ جائے گی۔ اور ایسے کئی معاملات ہیں۔
حافظ ابنِ حجر نے لکھاہے کہ یہی وجہ ہے کہ رسول اللہﷺ کو عمر بھر جماہی نہیں آئی ہے۔جس کی صراحت مصنف ابن شیبہ کی روایت میں موجودہے۔ نیز علامہ خطابی نے مسلمہ کی روایت سے بیان کیاہے کہ کسی بھی نبی کو جماہی نہیں آئی ۔ (فتح الباری: 715/10)
بزرگوں کے مشاہدہ کی بات ہے، اور اس عاجز کا بھی بہت دفعہ کا تجربہ ہے کہ جس وقت انسان کو جماہی آرہی ہو، اس وقت فوراً نبی کریمa کا تصوّر کرے کہ حضورa کو جماہی نہیں آتی تھی۔ جیسے ہی یہ تصور کرے گا تو اِن شاء اللہ کھلے منہ کا (Shutter Down) ہو جائے گا۔ عمل کر کے دیکھ لیجیے۔
چھینک اور جماہی کی بات پوری ہوئی۔ اللہ تعالیٰ ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ یہ معمولی بات نہیں ہے۔ جس بات کو جنابِ رسول اللہ نے بتایا ہو وہ ہمارا دین ہے۔ یہ دین ہی ہمارے لیے سب کچھ ہے۔ اب تیسری بات ذکر کرتے ہیں ’’بچوں کا نام رکھنا‘‘۔ اس بارے میں بھی ہمارے معاشرے میں کئی عجیب باتیں ہو رہی ہیں۔
بچوں کا نام رکھنا:
حضرت عبداللہ بن عباس سے مروی ہے کہ نبی کریمa نیک فال لیتے لیکن بدشگونی نہیں لیتے تھے، اور آپﷺ کو اچھے نام پسند تھے۔ (معجم طبرانی: رقم 11294)
حضرت عمرو بن شعیب اپنے دادا حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ حکم دیا کرتے تھے کہ بچے کی پیدایش کے ساتویںدن اس کا نام رکھا جائے اور عقیقہ کیا جائے۔ (سنن ترمذی: رقم 2832)
علمائے کرام فرماتے ہیں کہ ساتویں دن نام رکھنا مستحب ہے۔ اگر اس سے پہلے بھی کوئی رکھتا ہے تو حرج نہیں۔ البتہ اس بات پر خصوصیت کے ساتھ وہ لوگ غور کریں جو مہینے گزار دیتے ہیں، لیکن اچھا سا نام بچے یا بچی کے لیے تجویز نہیں کرتے۔
حضرت علی جنگ کے ماہر تھے۔ جب حضرت حسن پیدا ہوئے تو حضرت علی نے ان کا نام حرب (جنگ) رکھا۔ نبی کریم نے فرمایا: اس کا نام حسن ہے۔ پھر جب حضرت حسین پیدا ہوئے تو حضرت علی نے پھر ان کا نام حرب (جنگ) رکھا۔ نبی کریمﷺ نے فرمایا: اس کا نام حسین ہے۔ (سیر اعلام النبلاء: صغار الصحابۃ حسن بن علی)
نبی کریمa کی خواہش یہ تھی کہ ہر ایک کا اچھے سے اچھا نام رکھا جائے۔ ہم لوگوں کے نام بگاڑ دیتے ہیں، اس کا مذاق اُڑاتے ہیں۔ یہ کلّو ہے، یہ مٹھو ہے، یہ فلاں ہے۔ کسی کو خوبصورت نام سے پکارنا دلوں میں محبت پیدا کرتا ہے۔ آپ مخاطب کو عزت دیجیے اچھے لقب سے، اچھے نام سے پکاریے، آپ کے لیے اس کے دل میں جگہ بنے گی۔ اسلام محبتوں کو بڑھاتا ہے۔ ایک حدیث میں ہے نبی کریمa نے فرمایا: یقیناً اللہ ربّ العزّت کے نزدیک پسندیدہ نام عبداللہ اور عبدالرحمٰن ہیں۔ (صحیح مسلم: رقم 2132)
مطلب یہ کہ جتنے بھی صفاتی نام ہیں عبدالرحیم، عبدالغفار وغیرہ۔ یہ اللہ تعالیٰ کو محبوب ہیں، کیوںکہ اس میں باری تعالیٰ کی صفت کے ساتھ عبدیت لگائی گئی ہے۔
حضرت جابر بن عبدالل فرماتے ہیں کہ ایک انصاری کے گھر میں ولادت ہوئی اور اس نے اپنے بچے کا نام قاسم رکھا۔ عربوں میں رواج تھا کہ باپ کو بچے کے نام سے یعنی کنیت سے پکارتے تھے۔ چناںچہ انصار لوگوں نے اس سے کہا کہ ہم تمہیں ابوالقاسم نہیں کہیں گے (کیوںکہ ابوالقاسم تو رسول اللہﷺ کی کنیت ہے۔ شروع میں یہ کنیت اختیار کرنا منع تھا) وہ انصاری نبی کریم کے پاس آئے اور ساری بات بتائی تو آپﷺ نے فرمایا: اس کا نام عبدالرحمٰن رکھو۔ (صحیح مسلم: رقم 2133)
اسی طرح ایک صحابی حضرت یوسف بن عبداللہ بن سلام کہتے ہیں کہ نبی کریم نے میرا نام یوسف رکھا، اور مجھے اپنی گود میں بٹھایا، اور میرے سر پر ہاتھ پھیرا۔
(الادب المفرد: 838)
حضرت ابو موسیٰ سے روایت ہے کہ میرا بیٹا پیدا ہوا تو میں اسے آپﷺ کے پاس لے آیا۔ اللہ کے نبیﷺ نے میرے بیٹے کا نام ابراہیم رکھا، اسے کھجور سے تحنیک دی، اس کے لیے برکت کی دعا کی اور پھر مجھے واپس کر دیا۔ (صحیح بخاری: رقم 6198)
یہاں سے یہ بات معلوم ہوئی کہ جب بچوں کے نام رکھنے ہوںتو علماء سے، بزرگوں سے، نیک لوگوں سے مشورہ کرلیا کریں۔ اور اپنے بچوں کو نیک لوگوں کے پاس لائیں، تحنیک کروائیں، نام بھی رکھوائیں، ان سے بچوں کے لیے دعائیں بھی کروائیں۔ اس سے برکت ملتی ہے۔
نبی کریمکی عادت کے بارے میں امی عائشہ صدیقہ فرماتی ہیں کہ آپ بُرے ناموں کو اچھے ناموں سے بدل دیا کرتے تھے، کیوںکہ نام کا اثر شخصیت پر آتا ہے۔ حضرت عمر فاروق کی ایک بیٹی کا نام عاصیہ تھا، آپa نے اس کا نام جمیلہ رکھ دیا۔ (صحیح مسلم: رقم 2139)
ایک صاحب آئے ان کانام اَصْرَم تھا۔ آپﷺ نے اُن سے نام پوچھا، انہوں نے کہا کہ اَصرم۔ آپﷺ نے اُن کا نام زُرْعَہ رکھ دیا۔ (سنن ابی داؤد: رقم 4305)
ایک کا نام دَیْسَم تھا، آپa نے ان کا نام بشیر رکھ دیا۔ (سنن ابی داؤد: رقم 1586)
امام ابو داؤد نے اپنی سنن میں کئی ایسے نام نقل کیے ہیں جنہیں آپﷺ نے تبدیل فرمایا۔ مثلاً عاص، عزیز، عتلہ، شیطان، حکم، غراب، شہاب، حباب، حرب وغیرہ۔
(سنن ابی داؤد: 707/2)
آپﷺ نے جن کا نام بھی تبدیل فرمایا، انہوں نے بہ خوشی قبول فرماتے ہوئے اپنے نام تبدیل کر دیے۔ ایک مرتبہ ایسا ہوا کہ مشہور تابعی سعید بن مسیّب کے دادا حزن آپﷺ کے پاس آئے۔ آپﷺ نے ان سے نام پوچھا تو کہا: حزن(غم)۔ اللہ کے نبیﷺ نے اس نام کو پسند نہیں کیا اور فرمایا کہ تمہارا سہل(آسان) ہے۔ حزن نے کہا کہ میرے والد نے میرا جو نام رکھا ہے، میں اسے بدلنا نہیں چاہتا۔ سعید بن مسیّب فرماتے ہیں کہ میرے دادا کی اس بات کے بعد برابر غم اور مصیبت ہمارے خاندان میں جاری رہا۔ (صحیح بخاری: رقم 5837)
عمومی وسوسہ:
اس موقع پر ایک عمومی بات ذکر کرتے ہیں۔ ایک صاحب کہنے لگے کہ میرا بیٹا بہت بیمار رہتا ہے۔ بڑے علاج کرائے اور بڑے دم درود بھی کروائے، مگر پھر بھی بہت بیمار رہتا ہے۔ میں نے کسی سے معلوم کروایا تو اس نے حساب لگا کر بتایا کہ نام بدل دو، ٹھیک ہو جائے گا۔ میں نے پوچھا کہ آپ کے بیٹے کا نام کیا ہے؟ کہنے لگے کہ عثمان۔ اللہ تعالیٰ نے دل میں بات ڈالی تو میں نے کہا کہ بتائیے! کیا دنیا میں جتنے بھی عثمان ہیں، سارے ہی بیمار ہیں؟ کہنے لگے کہ نہیں۔ میں نے عرض کیا کہ اس سے یہ تو معلوم ہوگیا کہ عثمان نام صحیح ہے، اس میں کوئی بیماری نہیں ہے۔ اچھا! یہ بتائیے کہ آپ عثمان نام کی جگہ کیا نام رکھیں گے؟ کوئی نام تو آپ کے ذہن میں ہوگا، یا پھر وہ بھی حساب لگانے والا بتائے گا؟ وہ خاموش ہوگئے۔ میں نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ جو نام بھی آپ رکھیں گے، بیماری تو ایک دن اس پر بھی آئے گی۔ کیا آپ پھر نام تبدیل کر دیں گے؟ غرض اُن کو سمجھ آگئی۔
جب اچھا نام رکھ دیا تو اب بدلنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ہاں! نام بُرا ہو، مطلب ٹھیک نہ ہو تو پھر اور بات ہے۔ جب خوبصورت نام ہے، صحابی رسول کا نام ہے، اتنا پیارا نام ہے تو اس کو بدلنے کی کیا ضرورت ہے؟ شرعاً اس کی کوئی اصل نہیں ہے کہ حساب وکتاب میں یہ نام صحیح نہیں۔ بعض لوگ یوں بھی پوچھتے ہیں کہ حضرت! اتنے بج کر اتنے منٹ پر ولادت ہوئی ہے۔ یہ ماں کا نام ہے، یہ باپ کا نام ہے، یہ دن ہے۔ اب بتائیں کہ کیا نام رکھیں؟ خوب توجہ دیجیے کہ شریعت کے اندر ایسی کوئی بات نہیں ہے۔ اچھا نام رکھیں، خوبصورت نام رکھیں۔ اِدھر اُدھر لوگوں کے چکروں میں نہ پڑیں۔
نسبت کا خیال رکھیں:
نام رکھنے میں ایک اور بات کا خیال رکھیں۔ نسبت سے نام رکھیں۔ یعنی انبیائے کرام کے نام پر، صحابۂ کرام کے نام پر، یا پھر مستند اولیائے کرام کے نام پر بھی نام رکھ سکتے ہیں۔ خود نبی کریم نے فرمایا ہے کہ حضراتِ انبیاء کے نام پر نام رکھو، اور خدا کے نزدیک پسندیدہ نام عبداللہ اور عبدالرحمٰن ہیں، اور سچے نام حارث اور ہمّام ہے، اور بُرے نام حرب اور مُرّہ ہے۔ (سنن ابی داؤد: رقم 4950)
جس نے نسبت سے نام رکھا، وہ مطلب کے پیچھے نہیں جائے گا اِن شاء اللہ۔حضرت آدم کے نام سے آدم رکھنا، یا حضرت نوح کے نام پر نوح نام رکھنا ٹھیک ہے۔ان کی نسبت بڑی اونچی ہے۔ حضرت نوح کا اصل نام عبدالغفار تھا۔ اتنا اللہ کے سامنے روئے کہ نوح یعنی رونے والا نام پڑ گیا۔
والد کے نام سے پکار:
حضرت ابودرد سے مروی نبی کریم کا ارشاد مبارک ہے: تم قیامت کے دن اپنے نام اور اپنے والد کے نام سے پکارے جائو گے، اس لیے اچھے نام رکھو۔ (سنن ابی داؤد: رقم 4948)
دنیا میں اگر ہم کسی کو بُرا نام لے کر پکاریں اور پچاس آدمی بیٹھے ہوں، اس کو شرمندگی ہوگی یا نہ ہوگی؟ جب قیامت کے دن اوّلین وآخرین موجود ہوں گے، حضرت آدم سے لے کر قیامت تک آنے والا آخری انسان موجود ہوگا، اس وقت برے نام سے پکارا جانا کیسا لگے گا؟ اس لیے خوب صورت نام رکھا جائے تاکہ قیامت کے دن آدمی کو اسی خوب صورت نام سے پکارا جائے۔
متکبرین کے نام پر نام نہ رکھیں:
علماء فرماتے ہیں کہ جو متکبر اور جابر بادشاہ گزرے ہیں ان کے ناموں پر نام نہ رکھا جائے۔ اور ویسے کوئی رکھتا بھی نہیں جیسے: ابوجہل، فرعون، نمرود وغیرہ۔ اسی طرح شہنشاہ نام رکھنا صریح منع ہے۔ حضرت بلالh غریب آدمی تھے، بلکہ غلام بھی تھے، لیکن اللہ کی محبت کی وجہ سے لوگ اُن کے نام پر نام رکھتے ہیں۔ہم نسبت کی وجہ سے نام رکھیں۔ اچھا نام رکھیں اور ناموں کو بگاڑیں نہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں صراطِ مستقیم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔
وَاٰخِرُ دَعَوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ.

Leave a Reply