کسی کی آمد پر تعظیماً کھڑے ہونے کا مسئلہ ؟

کسی کی آمد پر تعظیماً کھڑے ہونے کا مسئلہ ؟
سوال(۱۲۲):- کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: کسی کے لئے احتراماً کھڑا ہونا کیسا ہے، جائز ہے یاناجائز؟ جب کہ اَحادیثِ شریفہ میں کھڑے ہونے کا ثبوت ہے، اور کھڑے ہونے پر ممانعت بھی وارد ہے، اِس طرح کی تمام روایات کو سامنے رکھ کر مسئلہ کو واضح فرمائیں، نوازش ہوگی۔ 

باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق:
کسی قابلِ تکریم شخص کے اعزاز میں کھڑے ہونے کے جواز اور عدمِ جواز کے متعلق حضرات علماء نے بہت بحثیں فرمائی ہیں، اُن سب کا خلاصہ یہ ہے کہ قیام نہ مطلقاً مستحسن ہے، اور نہ ہی منع ہے؛ بلکہ حالات وکیفیات کے اعتبار سے حکم الگ الگ ہے، مثلا: 
الف:- اگر آنے والا شخص دینی اعتبار سے باعظمت ہے اور وہ خود اِس بات کا طالب نہیں ہے کہ لوگ اُس کی تکریم میں تکلف کریں، تو ایسے شخص کی آمد پر اُس کے احترام میں کھڑے ہونے میں شرعاً کوئی ممانعت نہیں ہے؛ بلکہ یہ مستحسن ہے، جیساکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کی آمد پر صحابہ سے فرما یا تھا کہ: قُوْمُوْا إِلیٰ سَیِّدِکُمْ (یعنی اپنے سردار کا کھڑے ہوکر استقبال کرو)
نزل أہل قریظۃ علی حکم سعد بن معاذ رضي اللّٰہ عنہ فأرسل رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم إلی سعد، فأتاہ علی حمار، فلما دنی قریبًا من المسجد، قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم للأنصار: قوموا إلی سیدکم۔ (صحیح مسلم ۲؍۹۵)
ب:- اگر یہ کھڑا ہونا اِس طریقہ پر ہو کہ جیسے متکبر اُمراء اور بادشاہوں کا طریقہ ہے کہ مجلس میں صرف اَمیر بیٹھا ہو اور بقیہ لوگ مسلسل کھڑے رہیں، تو یہ بالکل ناجائز ہے، اِس سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صاف منع فرمایا ہے، چنانچہ آپ کا ارشاد ہے:
لا تقوموا کما تقوم الأعاجم یعظم بعضہا بعضًا۔ (سنن أبي داؤد ۲؍۷۱۰)
ج:- اگر کوئی شخص خود دل سے اِس بات کا متمنی رہے کہ لوگ کھڑے ہوکر اُس کا اکرام کریں، تو ایسے شخص کے لئے کھڑے ہونے کا اہتمام مکروہ ہے؛ اِس لئے کہ یہ اُس کے دل میں غلط اخلاق پیدا کرنے کا سبب ہے۔ 
د:- اور اگر کسی جگہ یہ اندیشہ ہو کہ جو شخص آنے والے کے لئے کھڑے ہوکر اِکرام نہیں کرے گا اُس کی طرف سے آنے والے یا اہلِ مجلس کے دل میں بدگمانیاں پیدا ہوجائیں گی، جیساکہ آج کل کا ماحول ہے، تو ایسی صورت میں کھڑا ہونا محض مباح ہے۔
باقی حضور صلی اﷲ علیہ وسلم نے اپنے لئے کیوں نہیں پسند فرمایا؟ اس کی وجہ تواضع اور سادگی اور بے تکلفی تھی، چنانچہ مرقاۃ میں مصرح ہے ۔
الغرض یہ مسئلہ اپنے اندر مختلف جہات رکھتا ہے؛ لہٰذا اِس میں شدت مناسب نہیں ہے، اور جن اکابر رحمہم اللہ سے قیام کی ممانعت سے متعلق شدت منقول ہے، وہ اُن کی حد درجہ تواضع پر مبنی ہے۔
عن أنس رضي اللّٰہ عنہ قال: لم یکن شخص أحب إلیہم من رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم، وکانوا إذا رأوہ لم یقوموا لما یعلمون من کراہیتہ لذلک۔ (سنن الترمذي، أبواب الآداب / باب ما جاء في کراہیۃ قیام الرجل للرجل ۲؍۱۰۴)
عن أبي مجلز قال: خرج معاویۃ، فقام عبد اللّٰہ بن الزبیر وابن صفوان حین رأوہ، فقال: اجلسا، سمعت رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم یقول: من سرّہ أن یتمثل لہ الرجال قیامًا، فلیتبوأ مقعدہ من النار۔ (سنن الترمذي ۲؍۱۰۴)
عن عبد اللّٰہ بن عمرو رضي اللّٰہ عنہ قال: کان رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم یکرہ أں یطأ أحد عقبہ، ولکن یمین وشمال۔ (المستدرک للحاکم ۴؍۳۱۱ رقم: ۷۷۴۴)
الحاصل: أنہ لا دلیل فیما ذکر علی کراہۃ القیام لمجرد الإکرام، فالأولیٰ أن یقال: إن مثل ہٰذا الإکرام لم یثبت من السلف، فلو کان داخلاً في عموم نصوص التوقیر والإکرام کانوا أحق بالعمل بہا نعم! لما کان مثل ہٰذا القیام متعارفًا بین الناس، وفي نزعہم عن عادتہم حرج عظیم؛ بل قد یفضي إلی الحقد والعداوۃ والضرر والإضرار، ومع ذٰلک ہو من المسائل الاجتہادیۃ التي اختلف فیہا العلماء، فلا ینبغي التشدید فیہ والانکار علی فاعلہ؛ بل ینبغي أن من غلب في ظنہ کراہتہ یحتاط فیہ لنفسہ إن لم یترتب علی ترکہ مفسدۃ، وہو عندي أعدل الأقوال في ہٰذا الباب۔ (تکملۃ فتح الملہم ۳؍۱۲۸)
(۲) (لم یقوموا لما یعلمون من کراہیتہ لذلک) أي لقیامہم تواضعا لربہ ومخالفۃ لعادۃ المتکبرین والمتجبرین بل اختار الثبات علی عادۃ العرب في ترک التکلف في قیامہم وجلوسہم وأکلہم وشربہم ولبسہم ومشیہم وسائر أفعالہم وأخلاقہم، ولذا روی أنا وأتقیاء أمتي براء من التکلف الخ۔ (مرقاۃ المفاتیح، کتاب الآداب، باب القیام، الفصل الثاني، مکتبہ إمدادیہ ملتان ۹/ ۸۴)

( ماخذہ : امداد الفتاوی :٤/٢٧٢ و کتاب النوازل ١٥/١٧٣)

واللہ اعلم بالصواب

Leave a Reply