15

کم بولنا، اچھا بولنا

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ وَ کَفٰی وَ سَلٰمٌ عَلٰی عِبَا دِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی. أَمَّا بَعْدُ:
فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِيْمِ o بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِo
وَ اِذَا مَرُّوْا بِاللَّغْوِ مَرُّوْا کِرَامًاo (الفرقان: 72)
سُبْحٰنَ رَبِّکَ رَبِّ الْعِزَّۃِ عَمَّا یَصِفُوْنَo وَ سَلٰمٌ عَلَى الْمُرْسَلِیْنَo
وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَo
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِ نَامُحَمَّدٍوَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِ نَامُحَمَّدٍوَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِ نَامُحَمَّدٍوَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ

امام غزالی کا زبان پر کلام
زبان کی آفات کا اندازہ لگانا انتہائی مشکل کام ہے۔ یہ زبان انسان کو جہنم میں لے جاتی ہے، اور اس کا استعمال انسان کو جلد نیچے گرا دیتا ہے۔ امام غزالی نے ایک انتہائی مفید بات لکھی ہے۔ فرماتے ہیں کہ زبان سے جو نکلنے والی باتیں ہیں، ہم انہیں چار حصوں میں تقسیم کر سکتے ہیں:
(۱) جن کے کہنے سے نقصان ہی نقصان ہے۔ یعنی ایک بات تو وہ ہے کہ انسان منہ سے جو بھی بات کرتا ہے وہ ہے ہی گناہ۔ جیسے:گناہ کی بات کرنا،کسی کی چغلی کرنا، نامحرم سے باتیں کرنا، شیطانی اور شہوانی گفتگو کرنا، کسی کی غیبت کرنا۔ ان باتوں میں سراپا نقصان ہی ہے۔
(۲) جن کے کرنے سے کچھ نفع بھی ہے، اور کچھ نقصان بھی۔
(۳) جو نفع اور نقصان دونوں سے خالی ہیں۔
(۴) وہ باتیں جن میں فائدہ ہی فائدہ ہو۔
لغویات سے چھٹکارا
کہتے ہیں کہ اگر انسان غور کرے تو مذکورہ چار قسموں میں سے تین تو ایسی ہیں جو قابلِ ترک ہیں، چھوڑ دینے والی ہیں، جن کا کوئی فائدہ نہیں۔ اس کو بھی انسان چھوڑے جس میں نقصان ہی نقصان ہے، اور اس کو بھی انسان چھوڑے جس میں کچھ نقصان اور کچھ نفع ہے۔ انسان صرف اس درجے میں رہے جس میں فائدہ ہی فائدہ ہوتا ہو۔ تین چوتھائی تو ہمیں ابھی خاموشی مل جائے گی اگر ہم اپنے اندر یہ چاروں چیزیں چیک کر لیں، اور یہ ارادہ کر لیں کہ آج کے بعد ہم نے صرف وہی بات بولنی ہے جس میں دنیا اور آخرت کی بھلائی ہو۔ میرا خیال ہے 95 فیصد لغویات تو ابھی ختم ہو جائیں گی اگر ہم اس اصول کو سامنے رکھیں کہ بولیں تو کم بولیں، ورنہ خاموش رہیں۔
خاموشی کہاں مطلوب ہے؟
اچھا! اب خاموشی کا مطلب یہ نہیں کہ جہاں انسان کو ضرورت ہو وہاں بھی نہ بولے۔ ہاں! اگر ضرورت کی جگہ ہو تو وہاں بولے، اور اگر غیر ضروری جگہ ہے تو وہاں نہ بولے۔ قرآن پاک میں اللہ ربّ العزّت فرماتے ہیں:
وَ اِذَا مَرُّوْا بِاللَّغْوِ مَرُّوْا کِرَامًاo (الفرقان: 72)
ترجمہ: ’’اورجب لغو چیز کے پاس سے گزرتے ہیں تو وقار کے ساتھ گزر جاتے ہیں‘‘۔
لفظِ ’’لغو‘‘ کہنے کا مقصد
لغو کہنے کا کیا مقصد ہے؟ کھیل ہو رہا ہے، تماشے ہو رہے ہیں، میلے ہو رہے ہیں۔ لغو ہر وہ چیزہے جس میں نہ دنیا کا کوئی فائدہ ہو، اور نہ ہی آخرت کا کوئی فائدہ ہو۔ ذہنی صلاحیت بھی متاثر، جسمانی صلاحیت بھی متاثر، معاشرتی نقصانات الگ، روپیے پیسے کا نقصان الگ۔ یہ ٹی وی جسے ٹی بی کہنا چاہیے، کونسا جنت کا راستہ دکھاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے عباد الرحمٰن کی صفات میں سے ایک صفت بیان کی کہ رحمٰن کے بندے ہر ایک لغو بات سے اپنے آپ کو بچاتے ہیں اور اس میں شامل نہیں ہوتے۔
دینِ اسلام کا حُسن
حدیث شریف میں آتا ہے حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا: آدمی کے اسلام کی خوبی یہ ہے کہ لایعنی اُمور کو ترک کر دے۔
(مشکاۃ المصابیح:کتاب الآداب، رقم 4840)
ایک اور حدیث میں ارشادِ نبویﷺ ہے: بے شک آدمی کے اسلام کی خوبی یہ ہے کہ بے فائدہ باتوں میں اختصار کرے یعنی چھوڑ دے۔ (مسند احمد: 201/1)
ہر وہ کام جس سے نہ تو دنیا کا کوئی فائدہ ہو، اور نہ دین کا کوئی فائدہ ہو، وہ لایعنی اور لغو ہے۔ اپنے محاسبہ کرنے کی ضرورت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو وقت ہمیں امانت دیا ہے، ہم اسے کتنا اس کی یاد میں خرچ کرتے ہیں اور کتنا اِدھر اُدھر کی باتوں میں ضائع کر دیتے ہیں۔ پھر بہت سارے لوگ کہتے بھی ہیں کہ حضرت! ذکر کا وقت نہیں ملتا، معمولات کا وقت نہیں ملتا، مراقبے کا وقت نہیں ملتا۔
حضرت حکیم الامت کا جواب
اسی سے ملتی جلتی بات حضرت مولانا مفتی شفیع نے اپنے شیخ حضرت مولانا اشرف علی تھانوی سے کہی تھی، جب وہ تھانہ بون بیعت کے لیے حاضر ہوئے تھے۔ حضرت مفتی شفیع صاحب نے عرض کیا کہ حضرت! ایک تو میں بیعت ہونا چاہتا ہوں، اور دوسرا یہ کہ پڑھنے پڑھانے کی بہت مصروفیت ہے تو مجھے ذکرواَذکار بہت زیادہ نہ بتا دیجیے گا۔
اب ذرا حضرت مفتی صاحب کی بات میں غور تو کریں۔ اپنی مصروفیت کو بیان کر رہے ہیں۔ اور ان کی مصروفیت کن چیزوں میں تھی؟ اِنٹرنیٹ پر، موبائل پر؟ ان کی مصروفیت وقت کو اور قبر کو خراب کرنے والی نہیں تھیں۔ وہ تو پڑھنے پڑھانے کی علمی مصروفیات تھیں۔ دار العلوم دیوبند میں کتابیں پڑھانے کے لیے مطالعہ، پھر لوگوں کے مسائل کا شرعی حل، افتاء کا شعبہ۔ ان امور کی وجہ سے انہوں نے عرض کیا تھا کہ میں نہ تو زیادہ مراقبہ کر سکتا ہوں، اور نہ ذکر، اور نہ ہی ضربیں لگا سکوں گا۔ اگر آپ نے زیادہ دیا تو میں پورا نہیں کر سکوں گا۔
حضرت حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی نے اُس زمانے میں انہیں ایک نصیحت فرمائی تھی۔ فرمایا کہ طریقہ میں آپ کو بتادیتا ہوں اور عمل آپ کر لیں، اس کے بعد آپ کو وقت کی کمی کی شکایت نہیں ہوگی۔ ایک کام میں آپ کو بتا دیتا ہوں، اس کے بعد آپ نہیں کہیں گے کہ آپ کےپاس ذکر کا وقت نہیں ہے، مراقبے کا وقت نہیں ہے۔ مفتی صاحب نے فرمایا کہ جی بتائیں! مولانا اشرف علی تھانوی نے فرمایا کہ آپ اس حدیث پر عمل کرلیجیے کہ ہر وہ کام جس میں نہ دین کا فائدہ ہو اور نہ ہی دنیا کا، اس کام کو بالکل چھوڑ دیں، آپ کے پاس وقت نکل آئے گا۔
اپنے معمولاتِ یومیہ کو چیک کریں
آج یہی معاملہ میرے اور آپ کے ساتھ بھی ہے۔ اور سو فیصد ہے، ایک فیصد بھی کم اور زیادہ نہیں۔ ہم اپنے کاموں کو دیکھیں تو معلوم پڑ جائے گا کہ ہم ایسے کاموں میں منہمک ہیں جو ہمارے لیے نہ دنیا میں فائدہ مند ہیں، اور نہ آخرت کے لیے ذخیرہ بنیں گے۔ ہم ایسے کام کو چھوڑ دیں تو ہمارے پاس بھی وقت ہی وقت ہے۔ ہم میں سے کتنے ایسے لوگ ہیں جو گھنٹوں ایسے کاموں میں لگاتے ہیں جن کاموں سے نہ تو دین کا کوئی فائدہ اور نہ دنیا کا فائدہ، بلکہ ہم میں سے کتنے ایسے ہوں گے جو گھنٹوں ایسے کاموں میں لگا دیتے ہیں، پتا ہے کہ اس سے ہماری قبر میں عذاب آئے گا، سانپ بچھو آئیں گے، اور ہماری آخرت بھی تباہ ہوگی، اللہ ربّ العزّت بھی ناراض ہوں گے، پھر بھی کرتے ہیں۔ ابھی تو ہم اِدھر جا نہیں رہے، اس موضوع کو پکڑ نہیں رہے۔
ہم بس اتنی بات کہہ رہے ہیں کہ جو بالکل غیر ضروری گفتگو ہے، اسے چھوڑ دیں۔ پھر کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ حضرت! میرے پاس وقت نہیں ہے 24 گھنٹوں میں ذکرِ الٰہی کا، یہ کوئی نہیں کہہ سکتا۔ اگر کوئی کہے تو وہ اپنا آ کرحساب بتائے کہ جی! میری صبح سے لے کر رات تک، اور رات سے لے کر صبح تک کی یہ روٹین ہے۔ پھر ہم اسے بتا دیں گے کہ کون سا کام تمہارا صحیح ہے، دین کےلیے ہے اور آخرت کے لیے ہے، اور کون سا کام بے فائدہ۔ ہاں! بعض لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں، لیکن وہ خاص خاص لوگ ہوتے ہیں، بڑے لوگ ہوتے ہیں۔ بڑے بڑے علماء ہوتے ہیں، دین کا کام کرنے والے ہوتے ہیں۔ ان کے معاملات اور ہیں۔ میں اور آپ ہم تو عام آدمی ہیں، ہم اپنی باتیں کر رہے ہیں۔ بہت بڑے بڑے حضرات ایسے ہیں واقعی میں جن کے پاس وقت نہیں ہوتا۔
حضرت حکیم الامت کا اندازِ نصیحت
حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی کا واقعہ ہے۔ ایک مرتبہ رمضان آیا تو دیکھا کہ لوگوں میں شوق بڑھ گیا ہے نماز اور قرآن کا، اور مسجدیں بھر رہی ہیں۔ یہ دیکھ کر طبیعت میں احساس پیدا ہوا اور کہنے لگے کہ رمضان آتا ہے، لوگوں کی عبادتیں بڑھ جاتی ہیں۔ افسوس! ہمارا وہی حال رہتا ہے۔
کیا مطلب اس بات کا؟ یہ نہ سمجھیں کہ ان کی عبادت یا رغبت بڑھتی نہیں، بلکہ مطلب یہ ہے کہ جس طرح لوگ رمضان گزارتے ہیں، اس طرح سے تو وہ سارا سال گزارتے ہیں۔ ساراسال وہ عبادت میں گزارتے ہیں۔ اُن کا ایک ایک لمحہ دین کے لیے وقف ہوتا ہے۔ پندرہ سو کتابیں تھانہ بھون میں چھوٹی سی جگہ پر لکھ کر چلے گئے۔ ہم تو پندرہ سو کتابیں پڑھ نہیں سکتے، لکھنا تو دور کی بات ہے۔ ان کا ایک ایک لمحہ ایسا کیلکولیٹڈ گزر رہا ہوتا ہے تو رمضان میں کیا اضافہ کریں؟ دن تو چوبیس گھنٹے کا ہی ہے۔ یہ مقصد تھا۔
مولانا یحییٰ صاحب کی چاہت
حضرت شیخ الحدیث مولانا زکریا کے والدِ محترم حضرت مولانا یحییٰ صاحب کے دل میں خواہش پیدا ہوئی کہ سردیوں کی اچھی دھوپ میں گنا چوسیں گے۔ فرماتے ہیں کہ بیس سال گزر گئے، مگر مجھے گنا چوسنے کا موقع نہیں ملا۔ یہ خواہش بیس سال سے دل میں بیٹھی ہوئی تھی کہ جب وقت ملے گا تو گنا چوسوں گا۔ ایسے حضرات آج بھی الحمدللہ! موجود ہیں، لیکن وہ چند ایک لوگ ہیں۔ میں تو اپنی اور آپ کی بات کر رہا ہوں کہ ہم لوگ کہاں ہیں۔ اگر آج سے ہم لوگ اپنے حالات کو دیکھنا شروع کریں اور لایعنی کو زندگی سے نکال دیں تو ہمارے پاس بہت وقت ہے۔
حدیث شریف میں حکم
ایک بات تو ہماری یہ ہوگئی کہ کم بولنا، اس کے لیے ہم فکر مند ہوں۔ اور اگر بولنا ہو تو اچھا بولنا، کیوںکہ حدیث شریف میں آتا ہے کہ جو اللہ اور آخرت کے دن پر یقین رکھتا ہے اسے چاہیے کہ بھلائی کی بات کہے ، یا خاموشی اختیار کرے۔ (صحیح بخاری: رقم 5700)
آدمی اچھی بات ہی زبان سے نکالے، کوئی برائی کی بات زبان سے نہ نکالے۔ اگر کوئی بھلائی کی بات اس کے پاس نہیں تو پھر خاموشی اختیار کرے۔ اس حدیث شریف میں سرکارِ دو عالمﷺ نے اپنی اُمت کو اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن کا واسطہ دے کر فرمایا ہے کہ بھلائی کی بات کرو، یا خاموش رہو۔ آپﷺ کا عام فرما دینا ہی کافی تھا، مگر ایمان والے کو پہلے اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ کیا اور پھر آخرت کی یاد دلائی کہ دیکھو! جو بولو گے، اس کا آخرت کے دن بدلہ ہوگا۔ اور ناحق بات سے خاموشی اور شر و فساد کے کلام سے دوری میں صدقہ کا اَجر ہے۔
اب بات چیت کرنے کے لیے بھی کچھ باتیں کر لیتے ہیں کہ بات چیت کرنی کیا ہے، کرنی کیسے ہے۔ ایسا نہ ہو کہ آپ حضرات کہنے لگیں کہ حضرت جی نے بولتی بند کر دی، بولنے پر پابندی لگا دی۔۔ اشاروں میں گفتگونہیں کرنی ہے۔ بولنا تو ہے، مگر کیسے بولنا ہے؟ یہ ہم کس سے سیکھیں گے؟ وہ بھی جنابِ رسول اللہﷺ سے ہی سیکھیں گے۔ نبی کریمﷺ نے سب کچھ بتایا ہے۔ ہم نبی کریمﷺ کی باتوں پر عمل کریں گے۔ قرآن کی باتوں پر عمل کریں گے تو مزے ہی مزے ہیں، دنیا کے بھی اور آخرت کے بھی۔
خوش اَخلاقی کے فضائل
حضرت عبداللہ بن عمر سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا: اپنے بھائی کے لیے تم خندہ پیشانی سے پیش آئو، یہ صدقہ ہے۔ (سنن ترمذی: رقم 1956)
ایک صحابی حضرت ابو ذر روایت کرتے ہیں کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا: کسی بھی نیکی کو حقارت کی نگاہ سے مت دیکھو اگرچہ اپنے بھائی سے ہشاش بشاش چہرے سے ملنا ہی کیوں نہ ہو۔ (صحیح مسلم: باب استحباب طلاقۃ الوجہ عند اللقاء، رقم 2626)
کسی نیکی کو چھوٹا مت سمجھو کہ یہ تو چھوٹی سی نیکی ہے اس کو کیا کرنا۔ نیکی نیکی ہوا کرتی ہے۔ تو کسی بھی نیکی کو حقیر مت دیکھو خواہ تم اپنے بھائی کے ڈول میں اپنے ڈول سے پانی ہی کیوں نہ بھر دو۔ (سنن ترمذی: رقم 1956)
چھوٹا سا ہی کام ہے، لیکن اس کو بھی چھوٹا نہ سمجھو۔ اور فرمایا کہ اپنے بھائی سے خوش اخلاقی سے ملو، اچھے انداز سے بات کرو،خوشی کے ساتھ بات کرو۔
امام بخاری نے بخاری شریف میں ترجمۃ الباب کے تحت حضرت ابو ہریرہ کی روایت نقل کی ہے کہ حضورﷺ نے فرمایا:
اَلْكَلِمَةُ الطَّيِّبَةُ صَدَقَةٌ. (صحیح البخاري: باب طیب الکلام)
ترجمہ: ’’پاکیزہ بات (خوشگوار بات) کرنا صدقہ ہے‘‘۔
اچھے انداز سے اچھی بات کرنا صدقہ ہے۔ ایسے انداز سے بات کرنا کہ مؤمن خوش ہو جائے یہ صدقہ ہے۔ اس ترجمۃ الباب کی حقیقت کو علماء خوب جانتے ہیں، ہم اس کی تفصیل میں نہیں جا رہے۔ اسی ترجمۃ الباب کے تحت امام بخارینے حضرت عدی بن حاتم کی روایت نقل کی کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا:
اتقوا النّار ولو بشقّ تمرةٍ ، فإن لم تجدوا فبكلمةٍ طيّبةٍ.
(صحیح البخاري: رقم 5677)
ترجمہ: ’’جہنم کے عذاب سے بچو خواہ کھجور کے ایک دانے (کو صدقہ کرنے) سے ہی کیوں نہ ہو۔ اور اگر (ایک دانہ بھی) تمہارے پاس نہ ہو توتم لوگوں سے اچھے انداز سے بات کرو (یہ بھی جہنم سے آڑ ہے)‘‘۔
ترجمہ کے ساتھ مفہوم بھی عرض کر رہا ہوں تاکہ بات اچھی طرح سمجھ آئے۔
ایک حدیث میں حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ اللہ کے حبیبﷺ سے پوچھا گیا کہ وہ کون سے اعمال ہیں جن کے سبب لوگ کثرت سے جنت میں داخل ہوں گے؟ اللہ کے نبیﷺ نے فرمایا: اللہ کا خوف اور حسنِ اخلاق۔ (سنن ترمذی: رقم 2004)
قرآن مجید میں اللہ پاک فرماتے ہیں:
وَقُوْلُوْا لِلنَّاسِ حُسْنًا (البقرۃ: 83)
ترجمہ: ’’اور لوگوں سے بھلی بات کہنا‘‘۔
حضرت عبداللہ بن سلام فرماتے ہیں کہ جب جنابِ رسول اللہﷺ مدینہ منورہ تشریف لائے تو میں حاضرِ خدمت ہوا، تاکہ میں دیکھوں کہ کیا آپ وہی نبی آخر الزماں ہیں۔ (حضرت عبداللہ اس وقت تک مسلمان نہیں ہوئے تھے، یہودیوں کے بڑے عالم تھے) فرماتے ہیں کہ جب میں نے سرکارِ دو عالمﷺ کے چہرۂ انور کو دیکھا تو میں نے اس بات کا یقین کرلیا کہ یہ کسی جھوٹے کا چہرہ نہیں ہو سکتا۔ پھر میں نے سب سے پہلی بات جو سرکارِ دو عالمﷺ کی زبان مبارک سے سنی وہ یہ تھی، آپﷺ فرما رہے تھے: سلام کو رائج کرو، اور لوگوں کو کھانا کھلائو، اور لوگ جب رات کو سو رہے ہوں تو تم تہجد پڑھو، جنت میں سلامتی سے داخل ہو جائو۔ (سنن ترمذی: رقم 2422)
جنت میں جانے کا آسان راستہ کیا بتایا؟ کہ لوگوں کو کھانا کھلائو، سلام رائج کرو، رات کو تہجد پڑھو۔ جب لوگ سو رہے ہوں تم اس وقت اللہ کی عبادت کرو تو تم سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہو جائو گے۔ کیا عجیب شان تھی ان حضرات کی۔ اللہ اکبر!
پھر ایک حدیث میں آتا ہے حضرت عبداللہ بن عمروi سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا: یقیناً جنت میں ایسے بالاخانے ہیں جن کا باہر اندر سے نظر آتا ہے، اور اندر باہر سے نظر آتا ہے۔ حضرت ابو مالک اشعری نے پوچھا: اے اللہ کے حبیب! وہ کس کے لیے ہیں؟ رسول اللہﷺ نے فرمایا: یہ اس شخص کے لیے ہیں جو خوش کلامی سے پیش آئے، اور لوگوں کو کھانا کھلائے، اور اللہ کی عبادت کرے جب لوگ سو رہے ہوں۔ (مستدرکِ حاکم: رقم 247)
نبی کریمﷺ خود بھی لوگوں کے ساتھ خوبصورتی سے، خوش کلامی سے بات چیت کرتے تھے۔ ہمیں بھی چاہیے کہ نرمی کے ساتھ، خندہ پیشانی کے ساتھ گفتگو کریں۔
حضرت اُمّ درداء فرماتی ہیں کہ حضرت ابو درداء جب کوئی بات کرتے تو مسکراتے تھے۔ چہرے پر مسکراہٹ ہوا کرتی تھی۔ ایک دفعہ میں نے ان سے کہا کہ مجھے یہ ڈر ہے کہ لوگ آپ کو بے وقوف سمجھیں گے۔ انہوں نے فرمایا کہ نبی کریمﷺ جب کوئی بات ارشاد فرماتے تو مسکراتے تھے۔ (میں تو اپنے نبیﷺ کی سنت کو پورا کرتا ہوں، اس لیے میرے چہرے پر مسکراہٹ رہتی ہے)۔ (مسند احمد: رقم 21228)
لوگوں کا دل جیتنا
کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کے چہرے پر ہر وقت وَٹ پڑے ہوتے ہیں اور جلال نظر آ رہا ہوتا ہے۔ اس جلال کو جمال میں تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ لوگوں کا دل جیتنے کا طریقہ کیا ہے؟ مال سے خرید سکتے ہیں؟ خوبصورتی سے خرید سکتے ہیں؟ بے حیائی سے خرید سکتے ہیں؟ کیا طریقہ ہے؟ لوگوں کا دل جیتنے کا طریقہ یہ ہے کہ تمہارے چہرے پر مسکراہٹ ہو، اور اچھے اخلاق ہوں۔ مال سے خوشامدیں تو جمع ہو سکتی ہیں، لیکن جو دلوں کی بات ہوتی ہے وہ چہرے کی مسکراہٹ سے ہوگی اور اچھے الفاظ سے ہوگی۔ حضرت جابر بن عبداللہ کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا: ہر نیکی صدقہ ہے، اور یہ نیکی ہے کہ تم اپنے بھائی سے اس طرح ملاقات کرو کہ تمہارا چہرہ کِھلا ہوا تروتازہ ہو۔ (سنن ترمذی: رقم 1970)
حضرت جریر بن عبداللہ فرماتے ہیں کہ جب بھی نبی کریمﷺ مجھے دیکھتے تو مسکراتے ہوئے دیکھتے۔ (صحیح بخاری: رقم 2871)
تو ہم اپنے چہرے پر مسکراہٹ لے آئیں۔ اور جس سے بھی بات کریں نرم گفتگو سے بات کریں۔ اللہ ربّ العزّت نے زبان میں ہڈی نہیں بنائی، زبان نرم ہے، الفاظ بھی نرم کریں۔
گفتگو میں نرمی کہاں صحیح ہے؟
اچھا! اب دو تین باتیں نرم گفتگو سے متعلق ہو جائیں۔ نرم گفتگو کہاں کہاں کر سکتے ہیں اور کس کس سے کر سکتے ہیں؟ اور کس سے نہیں کر سکتے؟غور سے بات کو سنیے گا۔ والدین سے، رشہ داروں سے، بہن بھائیوں سے، محرم رشتہ داروں سے، کاروباری تعلق جن سے ہے، اور جن سے شریعت نے اجازت دی ہے۔ علمائے کرام سے اس کی تفصیل موقع بہ موقع پوچھ لی جائے۔ مرد تما م مردوں سے نرم گفتگو کریں، اور عورتیں عورتوں سے بات کریں تو نرم گفتگو کریں۔ اگر عورت اپنے محرم سے بات کرے، خاوند سے بات کرے تو نرم لہجے میں بات کرے۔ سختی سے پیش نہ آئے۔ اور اگر نامحرم سے بات کی ضرورت پیش آئے، بغیر ضرورت نہیں، کوئی مجبوری پیش آئی تو نرم گفتگو کی کوئی اجازت نہیں ہے۔ محرم رشتہ دار ہیں تب تو ان کے ساتھ نرم گفتگو کریں، سلیقہ سے بات کریں۔ لیکن جب نامحرم سے بات کرنے کی ضرورت پڑے تو اب نرم گفتگو کا کوئی موقع نہیں۔ یہاں قرآن پاک نے الگ سے وضاحت دی ہے کہ یہ بات دونوں کے لیے پاکیزگی کا ذریعہ ہے۔ آج کافروں کا ایک قول ہے کہ جس طرح ایک خاوند ایک غیر عورت سے بات کرتا ہے اگر بیوی سے کرے تو کبھی جھگڑا نہ ہو۔
غیر محرم سے بات کرنے کا ضابطہ
نامحرم سے بات کرتے ہوئے کیا کیا جائے؟ اس کے بارے میں اُصول یہ بنا لیا جائے کہ پہلے تو پوری کوشش ہو بچنے کی۔ بات ہی نہیں کرنی۔ اگرکوئی جائز ضروری بات ہو جیسے کبھی ڈاکٹر سے کرنی پڑ جائے، وکیل سے کرنی پڑجائے، کسی دوکاندار سے ضرورت پڑ گئی۔ الغرض کوئی جائز ضروری بات کرنی پڑ بھی جائےتو پورے پردے میں ہوں۔ مکمل شرعی پردے میں خاتون ہو۔ اور بات کو اس طرح سے کرے کہ انداز میں اجنبیت ہو، روکھا پن ہو۔ دیکھیں! جب انسان کسی سے ناراض ہوتا ہے تو کیسی گفتگو کرتا ہے؟ بس کھچی کھچی بات کرتا ہے اور مخصوص بات کرتا ہے۔ یہ طے کرلیں کہ آج سے ہم اللہ ربّ العزّت کے لیے ہر نامحرم سے ناراض ہیں۔ ہمیں ان کو راضی کر کے کیا حاصل؟ ان سے بات نہیں کرنی۔ اللہ کے لیے ہماری ان نامحرموں سے ناراضگی ہے۔
لیکن اب اس کا مطلب بدتمیزی بھی نہیں ہے کہ آپ لٹھ مارنا شروع کر دیں۔ اجنبی سے گفتگو میں اگر بات دو جملوں میں پوری ہو سکتی ہے تو تیسرا جملہ نہ بولا جائے۔ ’’کرو بات ساری رات‘‘ پیکجز لے لے کر باتیں کرنے کی تو کوئی گنجایش نہیں ہے۔ بہت مخصوص اور مختصر بات کی جائے، زیادہ بات ہی نہ کی جائے۔ کیوںکہ جب بات ہوتی ہے تو بات سے بات بڑھتی ہے، اور پھر یہ بات ملاقات تک جاتی ہے۔ پتا تب چلتا ہے جب پانی سر سے گزر چکا ہوتا ہے۔ شیطان پتا ہی نہیں چلنے دیتا۔ ایسے ایسے معاملات ہیں جو بیان نہیں ہو سکتے۔ ان حالات میں دل، دماغ میں ایک تکلیف شروع ہو جاتی ہے کہ کدھر جائیں۔ جو حالات ہمارے ہی گھروں سے، معاشرے سے، شہروں سے آرہے ہیں، اس پر اللہ تعالیٰ سے ہی رحم کی فریاد کرتے ہیں۔
بیمار دِل
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
فَلَا تَخْـضَعْنَ بِالْقَوْلِ فَيَطْمَعَ الَّذِيْ فِيْ قَلْبِہٖ مَرَضٌ (الأحزاب: 32)
ترجمہ: ’’لہٰذا تم نزاکت کے ساتھ بات مت کیا کرو، کبھی کوئی ایسا شخص بیجا لالچ کرنے لگے جس کے دل میں روگ ہوتا ہے‘‘۔
یہ اللہ تعالیٰ کا قرآن گواہی دے رہا ہے کہ جس مرد کے دل میں مرض ہوگا، جن کے دل مریض ہوں گے، علاج نہیں کروایا ہوگا اپنے دل کا، جب بھی ان سے کوئی مسلمان عورت گفتگو کرے گی، نرمی سے بات کرے گی تو ان کا بیمار دل ان کی طرف جائے گا۔ ہم اپنے ہی دل پر غور کر لیں۔ اگر کوئی نامحرم عورت سختی سے بات کرے تو کیا حال ہوتا ہے، اور جب وہ نرمی سے بات کرے تو پھر کیا حال ہوتا ہے۔ جب ہم اس چیز کا فرق محسوس کر سکتے ہیں، تو پھر ہمیں اپنی بچیوں کو، گھر والوں کو یہ بات سمجھانے کی ضرورت ہے کہ جب ہمارے اندر یہ کیفیت پیدا ہو رہی ہے تو اور نامحرم کے اندر بھی تو یہی کیفیت پیدا ہو سکتی ہے۔
یہ قرآن ہے۔ اللہ ربّ العزّت انسانوں کے دلوں کو جاننے والے ہیں۔ ہمیں اللہ تعالیٰ کے حکم کو مان لینے کی ضرورت ہے۔ دوبارہ اپنی بات دہرا رہا ہوں کہ اگر نامحرم سے بات کرنے کی ضرورت پیش آئے تو ضرورت کی حد میں بات کریں اور دوٹوک لہجے میں بات کریں۔ بدتمیزی نہیں کرنی، لیکن اجنبی لہجے میں بات کرنی ہے۔
حضرت موسیٰ کی خواہش
اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس دنیا میں ایک لاکھ چوبیس ہزار کم وبیش انبیائے کرام آئے ہیں۔ کسی بھی نبی نے یہ خواہش ظاہر نہیں کی کہ ہم اللہ تعالیٰ کو دیکھنا چاہتے ہیں۔ حضرت موسیٰ نے یہ خواہش ظاہر کی کہ اے اللہ! میں آپ کو دیکھنا چاہتا ہوں۔ قرآن پاک میں یہ دعا ہے:
رَبِّ اَرِنِیْ اَنْظُرْ اِلَیْکَ (الأعراف: 143)
ترجمہ: ’’میرے پروردگار! مجھے دیدار کرا دیجیے کہ میں آپ کو دیکھ لوں‘‘۔
اس کی وجہ مفسرین نے یہ لکھی کہ حضرت موسیٰ اللہ ربّ العزّت سے ہم کلامی کیا کرتے تھے۔ وہ کلیم اللہ تھے۔ اُصول یہ ہے کہ جس سے بات کی جاتی ہے تو اگلہ مرحلہ پھر دیکھنے کا ہی آتا ہے، ملاقات کا ہی آتا ہے۔
اس لیے بعض لوگ یہ کہہ دیتے ہیں کہ جی! میں کون سا ملتا ہوں۔ بات ہی تو کرتا ہوں۔ میسیج ہی تو کرتا ہوں۔ اپنے آپ کو پہلے اسٹیپ پہ نہ روکا تو پھر اس کے بعد صرف بات نہیں رہ جائے گی۔ شیطان بڑا ظالم ہے۔ وہ انسان کو گناہ میں مبتلا کرا کے رہتا ہے۔ مردوں کے لیے بھی معاملہ یہی ہے کہ وہ نامحرم سے بات چیت میں مکمل احتیاط کریں۔
کراماً کاتبین کی ڈیوٹی
اس لیے عرض ہے کہ ہم اپنی زبان کے معاملہ میں آج ہی سے فکر مند ہوں۔ جو کچھ ہماری زبان سے نکلتا ہے وہ کراماً کاتبین فرشتے لکھتے ہیں۔ انہیں کام ہی یہ دیا گیا ہے کہ انسان جو کچھ عمل کرے زبان سے، اعضا جوارح سے، اسے نوٹ کرتے رہیں۔
اِذْ يَتَلَقَّى الْمُتَلَقِّيٰنِ عَنِ الْيَمِيْنِ وَعَنِ الشِّمَالِ قَعِيْدٌ۝ مَا یَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ اِلَّا لَدَیْہِ رَقِیْبٌ عَتِیْدٌ۝ (ق: 17,18)
ترجمہ: ’’اس وقت بھی جب (اعمال کو) لکھنے والے دو فرشتے لکھ رہے ہوتے ہیں، ایک دائیں جانب اور دوسرا بائیں جانب بیٹھا ہوتا ہے۔ انسان کوئی لفظ زبان سے نکال نہیں پاتا، مگر اس پر ایک نگراں مقرر ہوتا ہے ہر وقت (لکھنے کے لیے) تیار‘‘۔
اور قیامت کے دن یہ اعمال نامہ اللہ ربّ العزّت کے ہاں کھلے گا۔ ہم گھنٹوں باتیں کرتے رہیں، لیکن یہ فرشتے لکھتے رہتے ہیں۔ ہر ہر حرف لکھا جاتا ہے اور پھر قیامت کے دن اس کی پوچھ ہوگی۔ سوچیں تو سہی! کیسے جواب دیں گے کہ ہم فلاں سے بات کرتے تھے، فلاں سے بات کرتےتھے۔ اللہ ربّ العزّت جب پوچھیں گے، سوچیں! کیسے جواب دیں گے۔ یا تو پھر اس کا کوئی ایسا جواب تیار کریں، یا پھر آسان سا طریقہ ہے کہ جواب تو ہے کوئی نہیں، توبہ کی طرف متوجہ ہو جائیں۔ اللہ تعالیٰ سے معافی مانگ لیں اور اس چیز سے رک جائیں۔ اسی میں ہماری نجات ہے۔
عبداللہ بن مبارک اور ایک نیک خاتون
پہلے زمانے میں ایسی عورتیں بھی گزری ہیں جو کئی سالوں سے صرف اور صرف قرآن سے گفتگو کرتی تھیں۔ قرآن پاک کے علاوہ ایک لفظ نہیں بولتی تھیں۔
حضرت عبداللہ بن مبارک نے ایک واقعہ نقل کیا ہے کہ ایک مرتبہ میں حج سے واپس جا رہا تھا، تو راستے میں ایک ایسی جگہ سے گزر ہوا جہاں ویرانہ سا تھا۔ وہاں میں نے ایک عورت کو دیکھا جو اُون کا لباس اوڑھے ہوئے بیٹھی تھی۔ میں حیران ہوا۔ میں نے قریب جا کر اسے سلام کیا: السلام علیکم۔ اس نے جواب مجھے آیتِ قرآن سے دیا، وعلیکم السلام نہیں کہا۔ اس نے کہا:
سَلٰمٌ١۫ قَوْلًا مِّنْ رَّبٍّ رَّحِيْمٍ۰۰۵۸(یس: 58)
ترجمہ: ’’رحمت والے پروردگار کی طرف سے انہیں سلام کیا جائے گا‘‘۔
پھر میں نے پوچھا: تم یہاں کیسے آئی؟ اس نے کہا:
مَنْ يُّضْلِلِ اللّٰہُ فَلَا ہَادِيَ لَہٗ ط (الأعراف: 186)
ترجمہ: ’’جس کو اللہ گمراہ کر دے، اس کو کوئی ہدایت نہیں دے سکتا‘‘۔
میں نے پوچھا: کہاں سے آ رہی ہیں؟ اس نے کہا:
سُبْحٰنَ الَّذِيْٓ اَسْرٰى بِعَبْدِہٖ لَيْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اِلَى الْمَسْجِدِ الْاَقْصَا (الإسراء: 1)
ترجمہ: ’’پاک ہے وہ ذات جو اپنے بندے کو راتوں رات مسجدِ حرام سے مسجدِ اقصیٰ تک لے گئی‘‘۔
کہتے ہیں کہ میں سمجھ گیا کہ یہ حج کر کے آئی ہے اور راستہ بھٹک گئی ہے، اور مسجدِ اقصی بیت المقدس جانا چاہتی ہے۔ پھر میں نے اس سے پوچھا: تم اِدھر کب سے ہو؟ اس نے یہ آیت پڑھی:
ثَلٰثَ لَیَالٍ سَوِیًّا۝(مریم: 10)
ترجمہ: ’’تین راتیں برابر‘‘۔
پھر میں نے پوچھا: وضو وغیرہ کے لیے کیا کرتی ہو؟ اس نے پڑھا:
فَلَمْ تَجِدُوْا مَآءً فَتَیَمَّمُوْا صَعِیْدًا طَیِّبًا (النساء: 43)
ترجمہ: ’’پھر تم کو پانی نہ ملے تو پاک مٹی سے تیمم کرلو‘‘۔
غرض اس کی یہ تھی کہ تیمم کرکے گزارا کر لیتی ہوں۔ ابنِ مبارک فرماتے ہیں کہ میں نے اس سے کہا کہ جب تم تین دن سے یہاں ہو، کچھ کھایا پیا نہیں، میرے پاس کچھ کھانے پینے کو ہے، تم کھا پی لو۔ کہنی لگی:
ثُمَّ اَتِمُّوا الصِّيَامَ اِلَى الَّيْلِ١ۚ (البقرۃ: 187)
ترجمہ: ’’اس کے بعد رات آنے تک روزے پورے کرو‘‘۔
مطلب یہ تھا کہ روزے سے ہوں۔ میں نے کہا کہ ابھی تو رمضان کا موقع نہیں ہے اور ویسے بھی تم سفر میں ہو۔ کہنے لگی:
فَمَنْ تَطَوَّعَ خَیْرًا فَھُوَ خَیْرٌ لَّہٗ (البقرۃ: 184)
ترجمہ: ’’اس کے علاوہ اگر کوئی شخص اپنی خوشی سے کوئی نیکی کرے تو یہ اس کے حق میں بہتر ہے‘‘۔
میں نے کہا کہ لوگ تو رمضان میں بھی سفر کی وجہ سے روزہ نہیں رکھتے۔ اس نے پڑھا:
وَاَنْ تَصُوْمُوْا خَیْرًا لَّکُمْ (البقرۃ: 184)
ترجمہ: ’’اور اگر تم کو سمجھ ہو تو روزے رکھنے میں تمہارے لیے زیادہ بہتری ہے‘‘۔
میں نے اس سے کہا کہ تم میری طرح بات کیوں نہیں کرتی؟ میں جو بھی بات کرتا ہوں، جواب آیتِ قرآنیہ سے دیتی ہو۔ اس نے کہا:
مَا یَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ اِلَّا لَدَیْہِ رَقِیْبٌ عَتِیْدٌ۝ (ق: 18)
ترجمہ: ’’انسان کوئی لفظ زبان سے نکال نہیں پاتا، مگر اس پر ایک نگراں مقرر ہوتا ہے ہر وقت (لکھنے کے لیے) تیار‘‘۔
پھر میں نے پوچھا کہ تم کس قبیلے سے تعلق رکھتی ہو؟ اس نے جواب میں آیت پڑھی؟
وَ لَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ١ؕ اِنَّ السَّمْعَ وَ الْبَصَرَ وَ الْفُؤَادَ كُلُّ اُولٰٓىِٕكَ كَانَ عَنْهُ مَسْـُٔوْلًا۰۰۳۶ (الإسراء: 36)
ترجمہ: ’’اور جس بات کا تمہیں یقین نہ ہو، (اسے سچ سمجھ کر) اس کے پیچھے مت پڑو۔ یقین رکھو کہ کان، آنکھ اور دل سب کے بارے میں (تم سے) سوال ہوگا‘‘۔
فرماتے ہیں کہ جیسے ہی اس نے یہ آیت پڑھی تو میں نے کہا کہ اچھا! مجھے معاف کر دیجیے۔ جواباً اس نے یہ آیت پڑھی:
لَا تَثْرِيْبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَط یَغْفِرُ اللّٰہُ لَکُمْ (يوسف: 92)
ترجمہ: ’’آج تم پر کوئی ملامت نہیں ہوگی، اللہ تمہیں معاف کرے‘‘۔
میں نے کہا کہ اچھا! آپ کو میں آپ کے قافلے تک پہنچا دوں؟ آپ میری سواری پر سوار ہو جائیں۔ اس نے یہ آیت پڑھی:
وَمَا تَفْعَلُوْا مِنْ خَیْرٍ یَّعْلَمْہُ اللّٰہُ (البقرۃ: 197)
ترجمہ: ’’اور تم جو کوئی نیک کام کرو گے، اللہ اسے جان لے گا‘‘۔
مطلب یہ تھا کہ ہاں! ٹھیک ہے، میں آپ کے ساتھ جانے کے لیے تیار ہوں، مجھے قافلے تک لے جائیں۔ چناںچہ عبداللہ بن مبارک فرماتے ہیں کہ میں نے اپنی اونٹنی کو بٹھایا تاکہ وہ بہ آسانی سوار ہو جائیں۔ اس نے پھر آیت پڑھی:
قُلْ لِّلْمُؤْمِنِيْنَ يَغُضُّوْا مِنْ اَبْصَارِهِمْ (النور: 30)
ترجمہ: ’’مؤمن مردوں سے کہہ دو کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں‘‘۔
میں نے یہ سنا تو میں پیچھے ہٹ کے دوسری طرف رخ کر کے کھڑا ہو گیا اور اس سے کہا کہ سواری پر بیٹھ جائو۔ اب وہ سواری پر بیٹھنے لگی تو سواری بدک گئی۔ اور اس کی چادر تھوڑی سی اُلجھ کر پھٹ گئی۔ جیسے ہی ایسا ہوا تو پھر اس نے یہ آیت پڑھی:
وَمَآ اَصَابَكُمْ مِّنْ مُّصِيْبَۃٍ فَبِمَا كَسَبَتْ اَيْدِيْكُمْ وَيَعْفُوْا عَنْ كَثِيْر
(الشورٰی: 30)
ترجمہ: ’’اور تمہیں جو کوئی مصیبت پہنچتی ہے، وہ تمہارے اپنے ہاتھوں کیے ہوئے کاموں کی وجہ سے پہنچتی ہے، اور بہت سے کاموں سے تو وہ درگزر ہی کرتا ہے‘‘۔
یہ آیت سن کر میں آگے آیا اور پھر میں نے اونٹنی کو اس طرح سے بٹھایا کہ اس کے پائوں باندھ دیے۔ پھر ان سے کہا کہ اب آپ بیٹھ جائیں۔ تو اس نے یہ آیت پڑھی:
فَفَہَّمْنٰہَا سُلَيْمٰنَ (الأنبیاء: 79)
ترجمہ: ’’چناںچہ اس فیصلے کی سمجھ ہم نے سلیمان کو دے دی‘‘۔
یعنی تم نے اسے باندھ کر بہت اچھا کیا۔ پھر انہوں نے اونٹنی پر بیٹھ کر یہ آیت پڑھی:
سُبْحٰنَ الَّذِيْ سَخَّرَ لَنَا ھٰذَا وَمَا كُنَّا لَہٗ مُقْرِنِيْنَ۝۱۳ (الزخرف: 13)
ترجمہ: ’’پاک ہے وہ ذات جس نے اس سواری کو ہمارے بے بس میں دے دیا، ورنہ ہم میں یہ طاقت نہیں تھی کہ اس کو قابو میں لا سکتے‘‘۔
کہتے ہیں کہ جب وہ اطمینان سے بیٹھ گئیں تو میں نے اُونٹنی کی رسی کو پکڑا اور تیز تیز چلنا شروع کر دیا، اور ساتھ میں ہُدِی پڑھنا شروع کر دی (جسے سن کر اونٹ یا اونٹنی تیز تیز چلتے ہیں) اوپر سے آواز آئی:
وَاقْصِدْ فِيْ مَشْيِكَ وَاغْضُضْ مِنْ صَوْتِكَ ط (لقمان: 19)
ترجمہ: ’’اور اپنی چال میں اعتدال اختیار کرو، اور اپنی آواز آہستہ رکھو‘‘۔
میں نے آہستہ چلنا شروع کر دیا اور ہُدِی آہستہ پڑھنی شروع کر دی۔ اس مائی کی اوپر سے پھر آواز آئی:
فَاقْرَءُوْاوْا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْاٰنِ ط (المزمل: 20)
ترجمہ: ’’اب تم اتنا قرآن پڑھ لیا کروجتنا آسان ہو‘‘۔
مقصد یہ تھا کہ یہ تم کیا ہُدِی پڑھ رہے ہو، پڑھنا ہے تو اللہ کا قرآن پڑھو۔ کہتے ہیں کہ یہ بات سن کر ہدی پڑھنا میں نے چھوڑ دی۔ پھر میں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو خیرِ کثیر عطا فرمائی ہے۔ وہ کہنے لگی:
يُؤْتِى الْحِكْمَۃَ مَنْ يَّشَآءُ ج وَمَنْ يُّؤْتَ الْحِكْمَۃَ فَقَدْ اُوْتِيَ خَيْرًا كَثِيْرًا (البقرۃ: 269)
ترجمہ: ’’وہ جس کو چاہتا ہے دانائی عطا کر دیتا ہے، اور جسے دانائی عطا ہو گئی اسے وافر مقدار میں بھلائی مل گئی‘‘۔
کہتے ہیں کہ چلتے چلتے تھوڑی دیر بعد میں نے پوچھا کہ کیا آپ کا خاوند زندہ ہے؟ تو اوپر سے مجھے ڈانٹ آ گئی:
يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَسْـَٔلُوْا عَنْ اَشْيَآءَ اِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ (المائدۃ: 101)
ترجمہ: ’’اے ایمان والو! ایسی چیزوں کے بارے میں سوالات نہ کیا کرو جو اگر تم پر ظاہر کر دی جائیں تو تمہیں ناگوار ہوں‘‘۔
کہتے ہیں کہ میں نے چلنا شروع کر دیا اور اس بارے میں اور کچھ نہ پوچھا۔ چلتے چلتے تھوڑی دیربعد مجھے ایک قافلہ نظر آیا تو میں نے پوچھا: کیا اس قافلے میں تمہارا کوئی ہے؟ اس نے یہ آیت پڑھ دی:
اَلْمَالُ وَالْبَنُوْنَ زِيْنَۃُ الْحَيٰوۃِ الدُّنْيَا (الکھف: 46)
ترجمہ: ’’مال اور اولاد دُنیوی زندگی کی زینت ہیں‘‘۔
اس سے میں سمجھ گیا کہ اس کے بیٹے ہیں۔ میں نے کہا کہ میں تمہارے بیٹوں کو پہچانوں گا کیسے؟ ان کے نام کیا کیا ہیں؟ اس نے اس کا جواب بھی قرآن پڑھ کر دیا:
وَاتَّخَذَ اللّٰہُ اِبْرٰہِيْمَ خَلِيْلًا۝۱۲۵ (النساء: 125)
ترجمہ: ’’اللہ نے ابراہیم کو اپنا خاص دوست بنا لیا تھا‘‘۔
وَكَلَّمَ اللّٰہُ مُوْسٰى تَكْلِيْمًا۝۱۶۴ۚ (النساء: 164)
ترجمہ: ’’اور موسیٰ سے تو اللہ براہِ راست ہم کلام ہوا‘‘۔
يٰيَحْيٰى خُذِ الْكِتٰبَ بِقُوَّۃٍ (مریم: 12)
ترجمہ: ’’(ہم نے یحییٰ سے کہا کہ) اے یحییٰ! کتاب کو مضبوطی سے تھام لو‘‘۔
یعنی ابرہیم، موسیٰ اور یحییٰ بیٹوں کے نام ہیں۔ جب میں نے یہ نام پکارے تو تین جوان میرے سامنے آگئے۔ مجھے ایسا محسوس ہوا کہ تین چاند آسمان سے اُتر کر میرے سامنے کھڑے ہیں۔ اتنے پیارے چہرے تھے۔ میں نے اس مائی کے بیٹوں سے کہا کہ بھئی! تمہاری والدہ میرے ساتھ ہیں۔ بچے اپنی ماں کے پاس گئے۔ ملاقات ہوئی، ماں خوش ہوگئی، بچے خوش ہوگئے۔ اب ماں نے اپنے بچوں سے قرآن پڑھ کر کہا:
فَابْعَثُوْۤا اَحَدَكُمْ بِوَرِقِكُمْ هٰذِهٖۤ اِلَى الْمَدِيْنَةِ فَلْيَنْظُرْ اَيُّهَاۤ اَزْكٰى طَعَامًا فَلْيَاْتِكُمْ بِرِزْقٍ مِّنْهُ (الکھف: 19)
ترجمہ: ’’اب اپنے میں سے کسی کو چاندی کا یہ سکہ دے کر شہر کی طرف بھیجو، وہ جا کر دیکھ بھال کرے کہ اس کے کونسے علاقے میں زیادہ پاکیزہ کھانا (مل سکتا) ہے، پھر تمہارے پاس وہاں سے کچھ کھانے کو لے آئے‘‘۔
یعنی یہ کہا کہ کھانا لگا دو مہمان کے لیے۔ چناںچہ اس کے کہنے پر دسترخوان لگ گیا۔ اب اس مائی نے میری طرف متوجہ ہوئے یہ آیت پڑھی:
كُلُوْا وَ اشْرَبُوْا هَنِيْٓـًٔۢا بِمَاۤ اَسْلَفْتُمْ فِي الْاَيَّامِ الْخَالِيَةِ۰۰۲۴ (الحاقّۃ: 24)
ترجمہ: ’’اپنے اُن اَعمال کے صلے میں مزے سے کھاؤ پیو، جو تم نے گزرے ہوئے دنوں میں کیے تھے‘‘۔
اب یہ حیران تو تھے ہی۔ چناںچہ انہوں (عبداللہ بن مبارک) نے اس عورت کے بیٹوں سے کہا کہ میں نے تمہارا کھانا نہیں کھانا، اس وقت تک نہیں کھانا جب تک تم مجھے یہ نہ بتا دو کہ یہ عام گفتگو کیوں نہیں کرتیں؟ بیٹوں نے بتایا کہ ہماری والدہ تقریباً بیس سال سے جو بھی بات کرتی ہیں، آیتِ قرآن سے کرتی ہیں۔ صرف اس لیے کہ زبان کا کوئی لفظ، کوئی بول اگر پکڑ میں آ گیا تو اللہ ناراض ہو جائیں گے۔ کہتے ہیں کہ اس پر میں نے کہا:
ذٰلِكَ فَضْلُ اللّٰهِ يُؤْتِيْهِ مَنْ يَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيْمِ۰۰۴ (الجمعۃ: 4)
ترجمہ: ’’یہ اللہ کا فضل ہے، وہ جسے چاہتا ہے دیتا ہے، اور اللہ بڑے فضل والا ہے‘‘۔
ایسی ایسی عورتیں بھی قیامت کے دن اللہ کے سامنے کھڑی ہوں گی کہ بیس سال سے جو گفتگو کی، قرآن سے کی۔ اللہ پاک ہمیں بھی زبان کی حفاظت کی توفیق عطا فرمائے۔

وَاٰخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں