کن حالات میں موت افضل ہے؟

کن حالات میں موت افضل ہے؟

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ وَ کَفٰی وَ سَلٰمٌ عَلٰی عِبَا دِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی. أَمَّا بَعْدُ:
فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِيْمِ o بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِo
اَنْتَ وَلِيّٖ فِی الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِ تَوَفَّنِیْ مُسْلِمًا وَّ اَلْحِقْنِیْ بِالصّٰلِحِیْنَo
(سورۃ یوسف: 101)
سُبْحٰنَ رَبِّکَ رَبِّ الْعِزَّۃِ عَمَّا یَصِفُوْنَo وَ سَلٰمٌ عَلَى الْمُرْسَلِیْنَo
وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَo
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِ نَا مُحَمَّدٍ وَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِ نَا مُحَمَّدٍ وَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِ نَا مُحَمَّدٍ وَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ

حضرت یوسف کی دعا
اوپر خطبہ میں جو آیت پڑھی گئی یہ سورۂ یوسف میں حضرت یوسف کی دعا ہے۔ یہ دعا بھی مانگتے رہنا چاہیے۔ حضرت یوسف نے فرمایا تھا:
رَبِّ قَدْ اٰتَيْتَنِيْ مِنَ الْمُلْكِ وَعَلَّمْتَنِيْ مِنْ تَاْوِيْلِ الْاَحَادِيْثِج فَاطِرَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِج اَنْتَ وَلِيّٖ فِی الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِ تَوَفَّنِيْ مُسْلِمًا وَّاَلْحِقْنِيْ بِالصّٰلِحِيْنَ۝۱۰۱
(سورۃ یوسف: 101)
ترجمہ: ’’میرے پروردگار! تُونے مجھے حکومت سے بھی حصہ عطا فرمایا، اور مجھے تعبیرِ خواب کے علم سے بھی نوازا۔ آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے! تُو ہی دنیا اور آخرت میں میرا رکھوالا ہے۔ مجھے اس حالت میں دنیا سے اُٹھانا کہ میں تیرا فرماں بردار ہوں، اور مجھے نیک لوگوں میں شامل کرنا‘‘۔
آج کی مجلس کی بات یہ ہے کہ کس وقت اور کس حالت کی موت افضل ہے؟ کن اوقات کی موت افضل ہے؟ کن بیماریوں میں موت سے شہادت کا رُتبہ مل جاتا ہے؟ اس کے بارے میں چند باتیں سن لیجیے!
حدیثِ ابنِ مسعود
حضرت عبداللہ بن مسعود سے روایت ہے کہ نبی پاکﷺ نے ارشاد فرمایا: جس کی موت رمضان المبارک میں ہو وہ جنت میں داخل ہوگا، اور جس کی موت عرفہ کے دن ہو یعنی حج کے دن وہ جنت میں داخل ہوگا، اور جس کی موت صدقہ کرنے کے بعد ہو وہ جنت میں داخل ہوگا۔ (حلیۃ الاولیاء لابی نعیم: رقم 668)
یہاں تین باتیں بتائیں: (۱) رمضان المبارک (۲) حج کا دن (۳) صدقہ۔
ان تینوں اعمال سے ہوتا کیا ہے؟ یہ کیوں جنت میں لے جاتے ہیں؟ دیکھیے! رمضان المبارک میں روزے رکھنے سے گناہ معاف ہوتے ہیں۔ حج کی ادائیگی سے گناہ معاف ہوتے ہیں۔ صدقہ بری موت کو ٹالتا ہے اور صدقہ سے گناہ معاف ہوتے ہیں۔ اور جنت میں جانے سے جو چیز رکاوٹ بنتی ہے وہ کیا چیز ہے؟ وہ گناہ ہیں۔ اب جس کے گناہ نہ ہوں وہ کدھر جائے گا؟ جنت میں۔ جب گناہ ہی معاف ہوگئے تو جنت ہی جنت ہے، آسانی ہی آسانی ہے۔
لیکن یہاں پر ایک بات اور بھی ہے کہ جب دخولِ جنت کے لیے کسی پر حقوق العباد کی ادائیگی باقی نہ ہو۔ اگر کسی پر حقوق کی ادائیگی ہے تو وہ ایک الگ بات ہے۔ ایک عام بات یہ ہے کہ جو آدمی حقوق العباد ادا کررہا ہے، اس سے بڑا گناہ ہوجائے تو وہ توبہ کرتا رہے۔ اب مغفرت اس کی رحمت ہی کے آسرے پر ہے کہ رمضان میں موت آجائے، یا حج کے دن عرفات کے میدان میں موت آجائے، یا صدقہ کرنے کے بعد موت آگئی تو اس کی برکت سے اللہ تعالیٰ سے معافی کی اُمید رکھتے ہوئے مغفرت کا سامان ہو سکتا ہے۔
حدیثِ عبداللہ بن عمرو
حضرت عبداللہ بن عمر روایت فرماتے ہیں کہ نبی پاکﷺ نے فرمایا: جو کوئی مسلمان بندہ جمعہ کے دن یا رات میں مرجائے، اللہ تعالیٰ اسے عذابِ قبر سے محفوظ فرماتے ہیں۔ (سننِ ترمذی: رقم 1074)
علماء نے ایسے شخص کی تین فضیلتیں لکھی ہیں:
(۱) فتنہ قبر سے محفوظ یعنی قبر کے عذاب سے محفوظ رہے گا۔
(۲) قبر میں حساب وکتاب کے معاملے سے بچ جائے گا۔
(۳) شہادتِ اُخروی کا بدلہ ملے گا۔
شہید دوطرح کے ہوتے ہیں۔ ایک شہیدِ آخرت اور ایک شہیدِ حقیقی۔ کچھ بیماریاں ایسی ہیں کہ انسان ان بیماریوں میں آجائے تو شہیدِ آخرت کہلایا جائے گا۔ اسے شہادت کا ثواب ملے گا۔ جیسا کہ باوضو موت آنے پر شہادت کا ثواب مل جاتا ہے۔
وفات اور اُٹھائے جانے کی حالت
حضرت حذیفہ فرماتے ہیں کہ نبی پاکﷺ نے ارشاد فرمایا: جس نے اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے کسی دن روزہ رکھا اور پھر اس کا انتقال ہوگیا اسی حالت میں تو وہ جنت میں (ضرور) جائے گا۔ (مسند احمد: رقم 22235)
جب نفلی روزہ رکھ کر مرنے والے کی اتنی فضلیت ہے تو فرض روزے کی کیا کچھ بات ہوگی۔ اپنی حالت کو سنوارنا اعمال کے اعتبار سے، اللہ کی رضا کے لیے بہت ضروری ہے۔
صحیح مسلم میں حضرت جابر بن عبداللہ سے روایت منقول ہے کہ میں نے نبی کریمﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا:
يُبْعَثُ كُلُّ عَبْدٍ عَلَى مَا مَاتَ عَلَيْهِ. (صحیح مسلم: رقم 5126)
ترجمہ: ’’ہر آدمی قیامت کے دن اسی حالت پر اُٹھایا جائے گا جس پر اس کا انتقال ہوا ہے‘‘۔
علامہ اِبنُ الجوزی فرماتے ہیں کہ جس حالت پر آدمی کو موت آتی ہے، اس پر اس کی مہر لگا دی جاتی ہے، اب یہ قیامت کے دن اسی حالت میں اٹھایا جائے گا۔
(کشف المشکل من حدیث الصّحیحین: 751/1)
اب اگر روزے کی حالت میں موت آگئی تو قیامت کے دن روزے کی حالت میں، نماز کی حالت میں موت آگئی تو نماز کی حالت میں، اللہ کو یاد کرتے ہوئے موت آگئی تو ذکر کی حالت میں اُٹھایا جائے گا۔
کلمہ توحید کی قیمت
حضرت عتبان بن مالک روایت کرتے ہیں کہ جنابِ رسول اللہﷺ نے فرمایا: یقیناً اللہ تعالیٰ نے جہنم کی آگ کو ہر اس شخص پر حرام کر دیا ہے جس نے لَا إِلٰہَ إِلَّااللہُ کہا ہو اور اس کے ذریعہ سے صرف اللہ تعالیٰ کی رضامندی اور خوشنودی چاہتا ہو۔
(صحیح بخاری: رقم 425، صحیح مسلم: رقم 33)
جس شخص نے کلمہ توحید کا اقرار کیا، اور پھر اس کلمہ کے مطابق زندگی گزاری کہ اس کی زندگی کا مقصد ہی اللہ کو راضی کرنا تھا تو اللہ تعالیٰ ایسے شخص کا اِعزاز فرماتے ہیں اور اس کے لیے دوزخ کی آگ کو حرام کر دیتے ہیں۔ اب یہ شخص اسی حالت میں مر جاتا ہے تو سیدھا جنت میں جائے گا۔
باوضو موت
حضرت انس سے روایت ہے کہ نبی پاکﷺ نے ارشاد فرمایا: اے میرے بیٹے! اگر تم ایسا کر سکتے ہو کہ تم باوضو رات گزارو، تو تم ایسا کرو، اس لیے کہ جس کے پاس ملک الموت آئے اور اس وقت وہ وضو کی حالت میں ہو تو اسے شہادت کا ثواب دیا جائے گا۔ (معجم اوسط: رقم 5991)
اگر ہم باوضو زندگی گزاریں گے تو اِن شاء اللہ باوضو موت آئے گی۔ فرشتے پاک ہیں، صفائی کو پسند کرتے ہیں، طہارت کوپسند کرتے ہیں۔ جب کسی باوضو کے پاس آتے ہیں تو اس کے لیے اللہ ربّ العزّت رحمتوں کا ثواب لکھ دیتے ہیں۔
بیماری کی حالت میں انتقال ہونا
بیماری اللہ ہی کی طرف سے آتی ہے۔ بہت ساری بیماریاں ایسی ہیں جس میں انسان اگر مبتلا ہوجائے اور اسی میں وفات ہوجائے تو وہ شہیدِ آخرت ہے۔
ابن ماجہ میں آپﷺ سے ارشادِ مبارک مروی ہے کہ جو شخص بیماری کی حالت میں مرتا ہے، وہ شہید ہوتا ہے، قبر کے عذاب سے محفوظ رہتا ہے، اور صبح و شام اسے جنت کا رزق پہنچایا جاتا ہے۔ (سنن ابن ماجہ: رقم 1615، بروایت حضرت ابو ہریرہ)
بخاری ومسلم میں حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے کہ جنابِ رسول اللہﷺ نے فرمایا: شہید پانچ ہیں: (۱) طاعون میں مرنے والا (۲) پیٹ کی کسی بیماری کی وجہ سے مرنے والا (۳) ڈوب کر مرنے جانے والا (۴) اُوپر سے نیچے گر کر مرنے والا (۵) اللہ پاک کے راستے میں جان دینے والا۔ (صحیح بخاری: رقم 2674، صحیح مسلم: رقم 1914)
پیٹ کی بیماری ایک Common جملہ ہے۔ اس میں بہت ساری مہلک بیماریاں بھی آجاتی ہیں۔ مثال کے طور پر ڈائریا ہے، ہیضہ ہے، بلکہ Diabetes بھی پیٹ کا مسئلہ ہے۔ Digestive System میں Problem ہوجاتی ہے۔ جو انسان کھاتا ہے وہ صحیح جگہ جانے کے بجائے کسی اور جگہ پہنچ جاتا ہے۔ اور گردوںکا Function اور باقی چیزوں کا Function ٹھیک طرح سے کام نہیں کرتا۔ انسان زیادہ کھا نہیں پاتا۔ جتنا کھاتا ہے اس کو نقصان پہنچ رہا ہوتا ہے۔ شوگر زیادہ بن رہی ہوتی ہے۔ یہ سب پیٹ کی بیماری کی صورتیں ہیں۔
امتِ محمدیہ کے شہداء
ایک صحابی فرماتے ہیں کہ نبی پاکﷺ نے صحابہ کرام سے پوچھا: تم کسے شہید شمار کرتے ہو؟ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والا شہید ہوتا ہے۔ آپﷺ نے فرمایا: اللہ کے راستے میں جسے موت آجائے، اس کے علاوہ باقی سات قسم کے شہید ہیں: طاعون کی بیماری میں مرنے والا، ڈوب جانے والا، زخموں کی تاب نہ لا کر مرنے والا، پیٹ کی بیماری کی سے مرنے والا، جل کر مرنے والا، نیچے گر کر مرنے والا، دردِ زِہ سے مرنے والی عورت شہید ہے۔ (سنن ابی داؤد: رقم 3111)
اس سے معلوم ہوا کہ بے شک وہ بھی شہید ہے جو دین کا علم سیکھنے نکلا ہو اور اسے موت آگئی، دعوتِ تبلیغ کے لیے نکلا ہو، دین کی کسی بھی محنت کے لیے، پڑھنے پڑھانے کے لیے نکلا اور اس کا انتقال ہوگیا تو وہ بھی شہید ہے۔ اگرچہ وہ اپنے بستر پر مرا ہو، لیکن اس کی نیت ہر صورت اِعلائے کلمۃ اللہ کی تھی تو اللہ تعالیٰ اسے شہداء کی صف میں کھڑا کریں گے۔ جن کا اللہ تعالیٰ ہاں ایک خاص مرتبہ ہے۔
مال اور عزت آبرو کی حفاظت
حضرت سعید بن زید سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: جو اپنے مال کی حفاظت میں مارا گیا، وہ شہید ہے۔ جو اپنے اہلِ خانہ کی حفاظت میں مارا گیا، وہ شہید ہے۔ جو اپنے دین کی حفاظت میں مارا گیا، وہ شہید ہے۔ جو اپنی جان کی حفاظت میں مارا گیا، وہ شہید ہے۔ (سننِ ترمذی: رقم 1421)
ایک حدیث میں بڑی پیاری بات آئی ہے۔ حضرت سہل بن حُنَیف فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا: جو اللہ تعالیٰ سے صدقِ دل سے شہادت مانگے، اللہ تعالیٰ اسے شہیدوں کے درجے پر پہنچا دیتے ہیں اگرچہ اس کی موت اس کے بستر پر ہوئی ہو۔ (صحیح مسلم: رقم 1909)
طلبِ علم کے دوران موت
ایک لمبی حدیث میں حضرت ابوہریرہ اور حضرت ابوذر غفاری دونوں حضرات فرماتے ہیں کہ ہم نے آپﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا کہ طالبِ علمی کی حالت میں مرنے والا شہید ہے۔ (جامع بیان العلم وفضلہ لابن عبد البرّ: رقم 90)
سبحان اللہ! ہمارے جامعہ میں ایسی طالبات ہیں جن کی شادیاں نہیں ہوئیں۔ ایسی بھی ہیں جو شادی شدہ ہیں۔ اور ایسی بھی ہیں جو60 سال کی ہوچکی ہیں اور انہوں نے علم حاصل کرنے کے لیے داخلہ لیا ہے۔ یہ محض اللہ تعالیٰ کی طرف سے رحمت ہے کہ انسان اگر دورانِ تعلیم دنیا سے چلا جائے۔ نبی پاکﷺ نے ارشاد فرمایا کہ طالبِ علمی کی حالت میں انتقال کرنے والا شہید ہے۔ سبحان اللہ! واضح رہے کہ اس سے مراد دین کی تعلیم ہے۔ جو وحی کی تعلیم ہو، قرآن کی تعلیم ہو، حدیث کی تعلیم ہو۔ اس تعلیم کے دوران اگر کوئی انتقال کرجائے تو وہ شہید ہے۔
طالبِ علمی کا زمانہ تو بڑی برکتوں والا زمانہ ہے۔ زندگی بھر انسان طالب بن کر رہے، اپنے آپ کو عالم نہ سمجھے۔ ہمارے علماء فرماتے ہیں کہ علم کی طلب میں رہو اور طالبِ علم کی حیثیت سے رہو، تو جب موت آئے گی تو اِن شاء اللہ شہادت کی موت آئے گی۔ اپنے آپ کو طالبِ علم کے علاوہ کچھ نہ سمجھو۔ ساری زندگی طالبِ علم بن کر رہو۔ ہر وقت انسان سیکھتا ہے۔ ہر ایک سے انسان سیکھتا ہے۔ انسان طالب علم ہی رہے کہ طالب علمی کے زمانے میں انتقال کرنے والا شہید ہے۔
اسی طرح جو پیٹ کی بیماریاں ہیں، یا جسم میں کسی بھی حصہ کا کینسر ہے، یا پھوڑے وغیرہ کی بیماری ہے، یہ سب شہادت میں داخل ہیں۔
مختلف شہدائے اُمت
حافظ ابنِ حجر عسقلانی نے بیان کیا ہے کہ نبی پاکﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص اپنے مال کی حفاظت میں مارا جائے وہ شہید ہے۔ اس پر علامہ شامی نے اور بھی باتیں لکھی ہیں۔ مختلف اَحادیث سے وہ لکھتے ہیں کہ جو جمعہ کے دن مرجائے وہ شہید ہے۔ جو علم کی طلب میں مرجائے وہ بھی شہید ہے۔ علم کو پھیلانے والا، اس کی ترویج کرنے والا، علم کی طلب میں مشغول رہنے والا، اگر زندگی بھر یہی کام کرتا رہا تو یہ بھی شہید ہوگا، تدریس اور تالیف میں مشغول رہنے والا بھی انتقال کرجائے تو وہ بھی آخرت کے اعتبار سے شہید شمار کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ کہتے ہیں کہ مِرگی سے مرنے والا، ظلمت اور قیدوں میں مرجانے والا، ثواب کی نیت سے اَذان دینے والا بھی شہیدِ اُخروی ہے۔ ایسے ہی سچا تاجر جو اولاد یعنی گھر والوں کے نفقہ کے لیے حلال کمائی کرنے والا ہو، وہ بھی شہید ہوگا۔ سمندر کے سفر میں متلی آجائے اور اس سے انتقال کرنے والا بھی شہید ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ روزانہ موت کو بیس مرتبہ یاد کرنے والا بھی شہید ہے۔ ایک روایت میں یہ الفاظ بھی آئے ہیں:
اَللّٰھُمَّ بَارِکْ لِيْ فِی الْمَوْتِ وَفِیْمَا بَعْدَ الْمَوْتِ. (فیض القدیر عن تذکرۃ القرطبي: 84/2)
اور فرمایا کہ ترکِ سنت کے زمانے میں سنت پر عمل کرنے والا بھی شہید ہوگا۔ آج کل ترکِ سنت کا زمانہ ہے۔ سنت کے تارک کو عزّت دی جاتی ہے اور سنت پر عمل کرنے والے کو دقیانوسی اور جاہل کہا جاتا ہے۔ تو اس دور میں سنت پر عمل کرنے والا اگر زندگی بھر یہی کام کرتا رہا اور گھر میں مرا تو اِن شاء اللہ وہ بھی شہید ہوگا۔ علامہ شامی نے لکھا ہے کہ ترکِ سنت کے زمانے میں سنت پر عمل کرنے والا شہید ہے۔ اور لکھتے ہیں کہ مرض الموت میں چالیس مرتبہ آیتِ کریمہ پڑھنے والا بھی شہید ہے:
لَآ اِلٰہَ اِلَّآ اَنْتَ سُبْحٰنَکَ اِنِّیْ کُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَo (الأنبیاء: 87)
ایک مرتبہ ہی عمل کرنا ہے کہ چالیس مرتبہ آیتِ کریمہ پڑھنی ہے۔ اگر اسے شفا ہوگئی تو سارے گناہ معاف ہوجائیں گے، اور اگر اس مرض میں موت آگئی تو شہیدِ آخرت ہوگا۔ دوتین منٹ کا عمل ہے اور شہادت کی نعمت مل جاتی ہے۔ اور لکھتے ہیں کہ ہر رات سورۂ یٰس پابندی سے تلاوت کرنے والے کی موت بھی شہادت کا درجہ رکھتی ہے۔ اور فرمایا کہ باوضو مرنے والا بھی شہید ہے۔ اور اس سے اگلی بات بہت ہی عجیب ہے۔ فرمایا کہ جائز عشق میں مرنے والا بھی شہید ہے۔ اب یہاں اس سے کیا مراد ہے؟
ناجائز محبت سے دل صاف رکھنے والا
ایک حدیث حضرت جی دامت برکاتہم سے سنی غالباً اس کے الفاظ یہ تھے:
کسی آدمی کی نامحرم پر اچانک نظر پڑگئی اور اس کی خوبصورتی دل میں گھر کرگئی۔ دل میں اس کی محبت اور اس کو پانے کی چاہت پیدا ہوگئی، لیکن اس نے اپنی نظروں کو جھکا لیا اور مرتے دم تک کوئی غیر شرعی عمل نہیں کیا، اللہ تعالیٰ اس کے دل میں عبادت کی وہ حلاوت پیدا فرمائیں گے جسے یہ قیامت تک محسوس کرے گا۔ جب اس نے اپنے دل کا خون کیا۔ یہ اپنے دل کے خون کی وجہ سے شہیدِ آخرت کہلائے گا۔ اس نے اپنے دل کی کیفیت کو زندگی بھر چھپائے رکھا، نہ کسی سے اظہار کیا، نہ خلافِ شریعت کام کیا، نہ کوئی غلط رابطہ کیا، بس اللہ ہی کی طرف متوجہ رہا تو ایسا شخص شہید کہلائے گا۔
شہادتِ دنیاوی اور شہادتِ اُخروی
علمائے کرام نے پچاس تک مختلف لوگ لکھے ہیں جو شہیدِ اُخروی کہلاتے ہیں۔ اصل میں احکامات کے لحاظ سے شہید دوطرح کے ہیں: ایک تو شہیدِ حقیقی۔ یہ دنیا اور آخرت دونوں میں شہید ہیں۔ ان کا حکم یہ ہے کہ جو مسلمان کافروں کے ساتھ لڑائی میں شہید ہوجاتے ہیں، ان کو غسل نہیں دیا جاتا، ان کو کفن نہیں دیا جاتا۔ یہ اپنے خون میں نہا چکے ہوتے ہیں، لہٰذا انہیں پانی کے غسل کی ضرورت نہیں ہوتی۔ ان کے کپڑوں پر جو خون کے دھبے لگ جاتے ہیں وہ اللہ کو پیارے ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کہتے ہیں کہ ان کو کفن پہنانے کی بھی ضرورت نہیں، ان کو اسی حالت میں میرے پاس آنے دو۔ یہ وہ ہیں جنہوں نے اپنا سب کچھ میرے لیے قربان کر دیا۔ اس لیے انہیں نہ کفنایا جاتا ہے، نہ نہلایا جاتا ہے۔ یہ اللہ کی محبت میں نہا چکے ہوتے ہیں۔
باقی جو دوسرے درجے کے شہید ہیں ان کو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اپنی ادنیٰ رحمت سے شہداء کی صف میں کھڑا فرما دیں گے۔ لیکن دنیا میں ان کو کفن بھی دیا جائے گا اور غسل بھی دیا جائے گا۔ عام میت والا معاملہ ہوگا جس طرح دوسرے لوگوں کا ہوتا ہے۔ شہیدِ حقیقی والا معاملہ نہیں ہوگا، البتہ قیامت کے دن نبی کی دعائوں کی برکت سے اُمت کے اِن لوگوں کو اللہ تعالیٰ شہیدوں میں کھڑا کردیں گے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ  ہمیں اچھی موت عطا فرمائے۔
اللہ تعالیٰ سے ملاقات کا شوق
حضرت عُبَادہ بن صامت سے روایت ہے کہ نبی نے فرمایا:
مَنْ أَحَبَّ لِقَاءَ اللّٰهِ أَحَبَّ اللّٰهُ لِقَاءَهُ، وَمَنْ كَرِهَ لِقَاءَ اللّٰهِ كَرِهَ اللّٰهُ لِقَاءَهُ.
(صحیح البخاري: رقم 6026)
ترجمہ: ’’جو اللہ سے ملاقات کو پسند کرتا ہے، اللہ بھی اس سے ملاقات کو پسند کرتا ہے۔ اور جو اللہ سے ملاقات کو پسند نہیں کرتا، تو اللہ بھی اس سے ملاقات کو پسند نہیں کرتا‘‘۔
حضرت عُبَادہ فرماتے ہیں کہ امی عائشہ نے یا کسی اور زوجہ مطہرہ نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! ہم میں سے تو کوئی بھی موت کو پسند نہیں کرتا۔ نبی نے فرمایا: ایسی بات نہیں ہے۔ جب مؤمن کی موت کا وقت آتا ہے اس کو جنت کی اور اس کی نعمتوں کی خوشخبری سنائی جاتی ہے، تو اسے وہ نعمتیں دنیا کے مقابلے میں بڑی اچھی لگتی ہیں اور وہ اللہ تعالیٰ کو پسند کرنے لگتا ہے تو اللہ بھی اس سے ملاقات کو پسند کرتے ہیں۔ اور جب کافر کو اللہ کے عذاب اور سزا کی خوشخبری دی جاتی ہے تو وہ اس سے گھبرا جاتا ہے اور مرنا نہیں چاہتا اور اللہ سے ملنا نہیں چاہتا، تو اللہ تعالیٰ بھی اس سے ملاقات کو ناپسند فرماتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں عافیت والی موت عطا فرمائے۔ عافیت والی زندگی عطافرمائے۔ اور ایسی موت عطا فرمائے کہ جب قیامت والے دن اللہ سے ملاقات ہو تو اللہ ہمیں دیکھ کر مسکرائیں اور ہم اللہ کو دیکھ کر مسکرائیں۔

وَاٰخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ.

Leave a Reply