کھانا کم کھانے کے فائدے

کھانا کم کھانے کے فائدے

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ وَ کَفٰی وَ سَلٰمٌ عَلٰی عِبَا دِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی . اَمَّا بَعْدُ :
فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّ جِیْمِ o
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْمِ o
﴿کُلُوْا وَاشْرَبُوْا وَ لَا تُسْرِ فُوْا﴾ (سورۃ الاعراف:31)
سُبْحٰنَ رَبِّکَ رَبِّ الْعِزَّۃِ عَمَّا یَصِفُوْنَ o وَ سَلٰمٌ عَلَی الْمُرْسَلِیْنَ o
وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ o
الَلّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَامُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِ نَامُحَمَّدٍوَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ
الَلّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَامُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِ نَامُحَمَّدٍوَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ
الَلّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَامُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِ نَامُحَمَّدٍوَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ

کھانے پینے میں اعتدال کی راہ کیا ہے اور ہمارے لیے صحیح طریقہ کیا ہے،اس سلسلے میں ایک واقعہ سن لیجیے ان شاء اللہ بات پوری طرح سمجھ میں آجائے گی۔ اس کے بعد پھر کچھ بھوکے رہنے کے فضائل جو علمائے امت نے لکھے ہیں بہت ہی اختصار کے ساتھ ذکر کیے جائیں گے۔
صحت کے اصول قرآن اور حدیث سے
واقعہ کچھ ایسا ہے کہ خلیفہ ہارون رشید کے دربار میں ایک مرتبہ ایک عیسائی آیا جو پادری بھی تھا اور حکیم بھی تھا اور وہ زمانہ ایسا تھا کہ وقت کے بادشاہوںاور خلفاء کے پاس علماء کرام بھی ہوتے تھے اور اس وقت کے لوگ اہل علم کی قدر دانی کیا کرتے تھے۔ علم دین کے قدر دان ہوا کرتے تھے۔ وہ عیسائی پادری آیا اور کہنے لگا: دیکھو تم لوگ یہ کہتے ہو کہ تمہارے رب نے تمہیں سب کچھ بتادیاہے تو کیا قرآن مجید جس کو تم اللہ کی کتاب کہتے ہو، اس میں صحت کے متعلق بھی کوئی اصول ہے ؟ تو خلیفہ ہارون رشید نے علماء کی طرف دیکھا تو ایک عالم کھڑے ہوئے، کہنے لگے: میں جواب دوں؟ کہا :ہاں جی آپ جواب دے دیجیے۔ تو انہوں نے جواب دیا۔
قرآن مجید کے اندر صحت کے بارے میں حکم
قرآن پاک میں صحت سے متعلق یوں بیان کیا گیا ہے: ﴿کُلُوْا وَاشْرَبُوْاوَ لَا تُسْرِ فُوْا﴾(سورۃ الاعراف:)31
’’کھاؤ اور پیو اور اسراف نہ کرو‘‘۔
اوور ایٹنگ ( Overeating) نہ کرو، ضرورت کے درجے میں ضرور کھاؤ لیکن غیر ضروری چیزیں نہ کھاؤ، اسراف نہ کرو۔ اس نے یہ بات سنی تو خاموش ہوگیا۔ پھر کہنے لگا کہ تم کہتے ہو کہ حضور پاکﷺ تمہارے نبی ہیں اور تمہیں انہوں نے ہر چیز کے بارے میں رہنمائی دی ہے تو کیا صحت کے بارے میں بھی کوئی رہنمائی ہے ؟ تو ہارون رشید نے پھر علماء کی طرف دیکھا وہی عالم دوبارہ کھڑے ہوئے کہنے لگے کہ میں جواب دوں؟ جی جواب دیں۔ تو انہوں نے بتایا کہ دیکھو حضور پاکﷺ نے صحت کے متعلق ہمیں تین باتیں سمجھائی ہیں۔ آج آپ کسی بھی ڈاکٹر کو یہ اصول بتادیں ان شاء اللہ وہ اس کی تائید ہی کرے گا اور قیامت تک اس کی تائیدہوتی رہے گی۔
تین اہم باتیں
پہلی بات: یہ فرمائی’’ کہ معدہ تمام بیماریوں کی جڑ ہے‘‘۔
دوسری بات: یہ فرمائی’’تم معدہ کو وہی دو جس کی معدہ کو ضرورت ہے‘‘اور
تیسری بات: ارشاد فرمائی ’’کہ پرہیز علاج سے بہتر ہے‘‘۔
یہ تین اصول ایسے بیان فرمائے کہ اگر ہم ان کو اپنالیں تو ہمارے لیے آسانی ہوجائے گی۔ اس عیسائی پادری نے جب یہ بات سنی تو سر جھکا یا پھر کہنے لگا کہ تمہارے خدا اور تمہارے نبی نے جالینوس کے لیے کچھ نہیں چھوڑا۔ یعنی اب حکمت کے پاس کچھ نہیں رہا، حکیم کے پاس کچھ نہیں رہا،اور واقعی ایسا ہی تھا۔
مدینہ شریف کے ایک حکیم کا واقعہ
نبی کریمﷺ کے دور مبارک میں ایک حکیم صاحب مدینہ آگئے۔ ان کو معلوم ہوا کہ اس علاقے میں کوئی ڈاکٹر نہیں، کوئی کلینک نہیں، کوئی طبیب نہیں، کوئی حکیم نہیں۔ چلو ہماری دوکانداری چلے گی، تو آکے بیٹھ گئے اور اپنی دکان کھول لی ۔ اللہ کی شان کوئی مریض نہ آیا۔یہ بات تو واضح ہے کہ اگر دکان پر سیل نہ ہو، آمدوروفت نہ ہو دکاندار تو پریشان ہوجائے گا۔ اب وہ تو حکیم تھے کوئی بیمار آیا ہی نہیں تو ایک دن نبی u کے پاس انہوں نے ذکر کیا تو نبیu نے فرمایا کہ یہ لوگ بیمار نہیں ہوتے کیونکہ یہ لوگ اس وقت کھانا کھاتے ہیں جب انہیں بھوک لگتی ہے اور اس وقت چھوڑ دیتے ہیں جب تھوڑی سی بھوک باقی ہو۔یہ ایک ایسا پیارا اور سنہرا اصول ہے کہ انسان اگر اس کو اپنا لے تو بہت کم بیمار ہوگا۔
ہماری بیماریوں کی بڑی وجہ
آج کل ہماری بیماریاں اوورایٹنگ (Overeating) کی وجہ سے ہیں بلکہ یوں کہیے ڈائی ایٹنگ ( Die Eating ) کی وجہ سے ہیں۔ کچھ لوگ ڈائٹنگ کرتے ہیں اور کچھ لوگ ڈائی ایٹنگ کرتے ہیںاوربے تحاشا کھالیتے ہیں۔ اور یہ بھی یاد رکھیں کہ جتنی بھی بیماریاں ہیں زیادہ کھانے کی وجہ سے ہیں ۔ کولیسڑول (Cholesterol) اوور ایٹنگ کی وجہ سے ہے۔ شوگر(Suger) اوور ایٹنگ کی وجہ سے ہے۔ تو جتنی بھی بیماریاں ہیں زیادہ تر اوور ایٹنگ کی وجہ سے ہیں۔ اگر ہم اپنی غذا کو کنٹرول کرلیںمقدار کو کم کرلیں تو صحت کا معاملہ آسان ہوجائے گا۔اور اگر اپنی چوائس (Choice) کونبیu کی چوائس کے مطابق بنانے کی کوشش کریں، تو پھر معاملہ اور آسان ہوجائے گا۔
زیادہ کھانا آپﷺکی نظر میں
نبی u نے فرمایا کہ آدمی کو بھرنے کے لیے سب سے جو بری چیز ملی ہے وہ اس کا پیٹ ہے پس اس کو ضرورت کے درجے میں رکھا جائے۔
آپﷺاور صحابہ کا معمول
باقی رہی بات نبی u کی، حضرات صحابہj کی،اور اللہ والوں کی کہ وہ دودو دن تین تین دن بلکہ کتنے کتنے دن کھانا ہی نہیں کھاتے تھے، تو ہم ایسا نہیں کرسکتے۔ ہم نے جو کرنا ہے اپنی قوت اور جسمانی صلاحیت کے اعتبارسے کرناہے۔
ہمیں کیا کرنا چاہیے؟
ہمیں چاہیے کہ اتنا کھائیں کہ ہمارے جسم کی جو قوت ہے باقی رہے، تاکہ ہم عبادات اور دوسرے کام کاج آسانی سے کرسکیں۔ ہماری اور بلکہ میری اپنی حالت تو یہ ہے کہ اگر میں ایک وقت کا کھانا نہ کھاؤں تو دوسرے وقت سر میں درد ہونے لگتا ہے اور کچھ بھی اچھا نہیں لگتا۔ بس کھانے کی طلب ہوتی ہے کہ کسی طرح کھانا کھالوں۔ ہم کمزور لوگ ہیںہمارے ضعف کو سامنے رکھتے ہوئے آج ہمیں مشائخ قلتِ طعام کا مشورہ نہیں دیتے کہ دو دو دن نہ کھاؤ لیکن ہمیں پتہ تو ہو نا چاہیے کہ اصل بات کیا ہے۔لہذا ہم اس وقت کھائیں جب بھوک لگ رہی ہو اور اس وقت چھوڑ دیں جب تھوڑی سی بھوک باقی ہو۔ اتنا تو ہم کرہی سکتے ہیں ۔
بھوک لگنے کا ثبوت
اور جب بھوک لگ رہی ہو اس وقت اس کی دلیل کیا ہوگی ؟کہ واقعی بھوک لگ رہی ہے۔ یہ بات بھی علماء نے لکھی ہے کہ ہم کہیں ہمیں بھوک لگ رہی ہے تو اس کی سچائی کی دلیل کیا ہے؟ سبحان اللہ! اور پھر بڑی پیاری دلیل دیتے ہوئے فرمایا کہ واقعتاً بھوک لگنے کی دلیل یہ ہے کہ جو سامنے آجائے کھالے۔ آپ کہہ رہے ہیں کہ مجھے بھوک لگ رہی ہے۔ بیگم صاحبہ نے کھانا سامنے لا کر رکھا۔ ’’مجھے یہ نہیں چاہیے مجھے وہ نہیں چاہیے‘‘ کا مطلب یہ ہے ابھی نفس کے اندر بھوک کی خواہش کم اور لذتوں کی خواہش زیادہ ہے۔ جس وقت بھوک لگ رہی ہو جو سامنے آجائے انسان کھالیتا ہے کہ ابھی تو جو آگیا ہے ٹھیک ہے الحمدللہ۔ بسم اللہ پڑھی اور کھالیا۔ تو بھوک لگنے کی سچائی کی دلیل بھی علماء نے لکھ دی تا کہ ہمارا نفس ہمارے ساتھ مکر نہ کرے اور ہمیں تمام باتیں کھل کر معلوم ہوجائیں۔
کم کھانے کے چند مزید فائدے
اب بہت مزید اختصار کے ساتھ چندبھوک کے بڑے فائدے نقل کیے جاتے ہیں جو علماء نے لکھے ہیں۔ تفسیریں تو اس کی بہت ہیں، بہت کتابیں بھی لکھی ہوئی ہیں لیکن مختصر کرکے عرض کررہا ہوں۔
پہلا فائدہ :تو یہ ہے کہ دل میں صفائی حاصل ہوتی ہے، باطن کی بصیرت حاصل ہوتی ہے یہ پیٹ بھرے کو نہیں ملتی۔
دوسرا فائدہ : یہ کہ دل نرم ہوتا ہے۔ مناجات میں مزہ آتا ہے۔ تہجد میں رونے کا دل کرتا ہے۔
تیسرا فائدہ : یہ کہ نفس قابو میں آجاتا ہے، مغلوب ہوجاتا ہے۔
چوتھافائدہ: دنیا اور آخرت کی تکلیفوں کا استحضار رہتا ہے(یعنی سامنے رہتی ہیں) کسی پیٹ بھرے کو دنیا میں بھوکے کی تکلیف کا احساس نہیں ہوسکتا ۔اسے لگتا ہے سار ے لوگوں کے ہی پیٹ بھرے ہوئے ہیں ۔
پانچواں فائدہ :یہ کہ تمام شہوتیں اور خواہشات کمزور پڑجاتی ہیں اور جب پیٹ میں بھوک ہو تو انسان مستیاں نہیں کرسکتا کہ ’’کرو بات ساری رات‘‘ یہ ممکن نہیں۔ پھر انسان اللہ کی نافرمانیوں میں زیادہ آگے نہیں جاسکتا۔ بچ جائے گا رک جائے گا ۔ حرام اور ناجائز آشنائیاں تعلقات چھوڑدے گا۔ علماء نے یہ باتیں لکھی ہیں جوچاہے کرکے دیکھ لے۔
پیٹ بھر کے کھانے کے نقصانات
حضرت ابو سلیمان دارانی h فرماتے ہیں کہ جنہوں نے ہمیشہ پیٹ بھر کر کھانا کھایا ان کے اندر چھ باتیں پیدا ہوگئیں:
اول: یہ کہ عبادت کی حلاوت اور مٹھاس جاتی رہی۔ عبادت کا مزہ ان کو نہیں ملتا، وہ بے چارے مراقبے کی فکر اور لذتوں سے محروم ہوتے ہیں۔
دوسری بات: حکمت، فراست اور ذکاوت اور نورِ معرفت کاحصول ان کے لیے مشکل ہوگیا۔
تیسری بات: مخلوق پر شفقت اور ہمدردی سے محروم ہوگئے، کیونکہ ان کا پیٹ بھرا ہوتا ہے وہ سمجھتے ہیں کہ سبھی کا پیٹ بھرا ہوا ہے۔
چوتھی بات: معدہ بھاری ہوگیا۔
پانچویں بات: خواہشات نفسانیہ، شیطانیہ، شہوانیہ بڑھ گئیں۔
چھٹی بات: لوگ مسجد کی طرف جاتے ہیں اور یہ بیت الخلاء کی طرف جاتا ہے۔ علماء نے ایک فائدہ اور بھی لکھا کہ جب انسان بھوکا رہے گا تو دنیاوی تفکرات ختم ہوجائیں گے اور آخرت کی فکر زیادہ ہوجائے گی۔ ایک مرتبہ ایک بزرگ بڑی تفصیل سے بھوک کے فضائل بیان کررہے تھے تو وہاں ایک آدمی آیا کہنے لگا: ’’بھوک کے بھی کوئی فضائل ہوتے ہیں کیا؟ کہنے لگے: ہاں! فرعون کو اگر بھوک لگتی تو
اَنَا رَبُّکُمُ الْاَ عْلٰی﴾ ’’میں تمھارا سب سے بڑا رب ہوں‘‘
کا دعویٰ نہ کرتا،یہ سب پیٹ بھرے کی باتیں ہوتی ہیں۔اور واقعی ایسا ہے تو اب کیا کرنا ہے۔
کھانے میں کمی کیسے کی جائے؟
اگرہمیں اوور ایٹنگ (Overeating) کی بلکہ ڈائی ایٹنگ (Die Eating) کی عادت ہے تو ہم کوشش کرکے روزانہ ایک نوالہ کم کرنا شروع کریں۔ ایک مہینہ میں دو مہینوں میںہماری غذا اعتدال پر آجائے گی۔ ایک دم چھوڑدینا ممکن نہیں۔ یہ جذبات کی بات ہوتی ہے۔ انسان ایک دن چھوڑدے گا، دو دن چھوڑدے گا، تیسرے دن پھر اسی عادت پر آجائے گا اس لیے آہستہ آہستہ کم کرلے، ان شاء اللہ ضرور اللہ کی مدد شامل حال ہوگی اور انسان کی اپنی صحت بھی باقی رہے گی۔ اتنا ضرور کھائے کہ جس سے صحت باقی رہے۔ اس کے اندر کیا طریقہ کار اور ترتیب بنائیں؟دیکھیں کہ نبیu کی جتنی سنتیںپہلے تفصیل سے گزریں ان میں ایک بات ہمیں کامن(Common) ملی ہے کہ نبیu نے غذا کے طور پر اس چیز کو اختیار فرمایا جو صحت کے لیے اچھی ہے اور جو چیز صحت کے لیے مفید نہیں، نبیu نے وہ چیز استعمال کرنے سے اپنے آپ کو بچایا، روکا۔ ہم بھی یہ عادت بنائیں۔ جنک فوڈ (Junk Food) نہ کھائیں، بازار کے کھانے نہ کھائیں اور ایسی چیزیں جن کا ہمیں معلوم ہے کہ نقصان ہی نقصان ہے یا نقصان زیادہ ہے نفع کم ہے ان کو چھوڑدیں۔ اب عقل کو استعمال کرنا تو ضروری ہے۔ اب ہم عقل کو استعمال نہ کریں اور جو لبدا اے کھاجاؤ،(جوملے کھا لیں) جو سامنے آگیا کھا لو تو بھئی یہ بات ٹھیک نہیںہے۔ ہم عقل کو استعمال کرتے ہوئے اور سنت کے مطابق اپنے آ پ کو رکھیں، دیکھیں اللہ کی رحمت ہمارے پاس آئے گی ان شاء اللہ۔
اب علماء نے جو باتیں لکھی ہیں وہ تو ایسی ہیں کہ اگر وہ کھول کر بیان کردی جائیں تو ہم ان چیزوں کو اختیار کرنے کاسوچ بھی نہیں سکتے، وہ تو کہتے ہیں کہ تین دن بعد کھانا کھایا کرو اچھا زیادہ بھوک لگی ہے تو دودن بعد کھالو، نہیں تو ایک دن بعد کھاؤ ! لیکن خیر یہ پرانے وقت کی باتیں ہیں جب قوتیں زیادہ ہوتی تھیں۔ اب ہم کیا کریں؟
فاروق اعظم کی نصیحت
اس کے بارے میں فاروق اعظمtکی نصیحت سن لیں جو انہوں نے اپنے بیٹے کو کی تھی۔ فرمایا کہ بیٹا! کبھی گوشت اور روٹی کھایا کرو، کبھی روٹی اور گھی کھایا کرو، کبھی روٹی اور دودھ کھایا کرو، کبھی سرکہ اور روٹی کھایا کرو، کبھی زیتون کو روٹی کے ساتھ کھایا کرو اور کبھی نمک کے ساتھ روٹی کھایا کرو اور کبھی فقط روٹی کے اوپر قناعت کیا کرو۔ کیا مطلب کہ ہر وقت اپنی مرضی کے کھانے نہ ہوں بلکہ کبھی باربی کیو بھی کھالے، کبھی چائنیز کھالے، کبھی پاکستانی سادہ کھانے بھی کھالیں، کبھی گوشت بھی کھالیں اور کبھی کبھی دال سبزی بھی کھالیں اور کبھی کبھی انسان بہت ہی ہلکا کام کرلے کہ بس زیتون کا تیل ہو اور روٹی ہو اور تھوڑی سی کوئی اور ہلکی پھلکی چیز ہو، تو اپنے آپ کو کنٹرول کرنے کی عادت ڈالیں۔ کبھی ایسا بھی ہونا چاہیے کہ انسان ایک وقت کا ناغہ کرے۔ دیکھو تو سہی کہ لوگوں کے ساتھ بھوک میں ہوتا کیا ہے، تو اس سے لوگوں کے لیے ہمدردی پیدا ہوگی۔ دل نرم ہوگا اور اس کے اپنے ہی بے شمار فائدے ہیں۔ علماء نے بھوک کے بارے میں جوکتابیں لکھی ہیں وہ ایسے ہی نہیں لکھ دیں۔
بہترین ترتیب
اس کا بہترین طریقہ اس عاجز کے انداز سے تو یوں بنے گا کہ رمضان کے روزے تو ہر ہر مسلمان کے لیے رکھنا فرض ہیں یہ تو ہم لازمی رکھیں گے، اس کے علاوہ ہم کوشش کریں پیر اور جمعرات کا روزہ رکھ لیں۔ سردیوں میں تو یہ آسان ہے بلکہ بونس کے روزے ہیں۔ ثواب کا ثواب، دن بھی چھوٹے اور بھوک پیاس کا اتنا مسئلہ بھی نہیں ہوتا۔ ہم سردیوں میں نفلی روزے رکھنے کی عادت بنائیں۔ گرمیوں میں چلو مشکل ہے تو گرمیوں میں مہینے میں ایک دفعہ رکھ لیں۔ یہ سب ہماری صحت کے لیے ہی ہے اور فائدے الگ ہیں۔ ہم سنت کی نیت سے پیر اور جمعرات کا روزہ رکھنا شروع کریںیا جتنے آسانی سے رکھ سکیں۔کبھی پیر کا رکھ لیا اور کبھی جمعرات کا رکھ لیا، یا ایام بیض کے روزے بھی رکھ سکتے ہیں جو کہ چاند کی تیرہ، چودہ اور پندرہ کو رکھے جاتے ہیںاور پھر سردیوں کے اندر ہم زیادہ کی ترتیب بنالیں۔ یہ روزے فرض نہیں ہیں لیکن یہ جو صحت کے فائدے اور برکتیں ہیں یہ اللہ ہمیں ضرور عطا فرمائیں گے۔ اور ہم اپنی ضرورت کے مطابق کھائیں اور اپنے روزوں کا اہتمام کرلیں۔
اسی طرح بہت سارے لوگ ایسے ہیں جن کے فرائض باقی ہیں۔ فرض روزے ابھی باقی ہیں، تو پہلے وہ لوگ ان روزوں کو پورا کریں۔ عورتوں کے اند ر تویہ معاملہ بہت ہی زیادہ چوپٹ ہے، الا ماشاء اللہ کوئی خاتون ہوگی جس کے فرض روزے باقی نہ ہوں۔ نہ ہی ان کو خیال ہے، نہ ان کے والدین، خاوند، بھائی کو خیال ہے۔ عورتوں کو توخاص طور پر اس بات کی توجہ دلانے کی ضرورت ہوتی ہے۔ پوچھنے کی ذمہ داری خاوند کی ہے کہ وہ پوچھے، یاد دلائے اور بہت حکمت و بصیرت سے،بہت اچھے انداز سے، ان کو ترغیب دلائے کہ دیکھو یہ فرض ہیں ان کو پورا کرو۔ تو عورتوں کو بھی چاہیے کہ جتنا ان کے لیے آسانی کے ساتھ ممکن ہو، قضا روزے رکھنے شروع کریں۔ پہلے تو قضا مکمل کریں اس کے بعد نفلی روزوں کی ترتیب رکھیں۔ اگر ہم نے یہ ترتیب رکھ لی تو میرے خیال کے مطابق کہ ان شاء اللہ ہمیں کسی نہ کسی درجہ میں بھوک کی فضیلت بھی حاصل ہو جائے گی۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے اللہ تعالیٰ ہمیں اتباع سنت کی توفیق عطافرمائیں اور گلدستۂ سنت کے بیانات کو اللہ رب العزت اپنی رحمت سے ان کو قبول فرمائیںاور ان کو پوری امت کے لیے نافع بنائے۔
وَآخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُلِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْن

Leave a Reply