کھانے میں نبیﷺ کی پسند

کھانے میں نبیﷺ کی پسند

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ وَ کَفٰی وَ سَلٰمٌ عَلٰی عِبَا دِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی. اَمَّا بَعْدُ:
فَاَ عُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ o
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمo
﴿لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللہِ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ﴾ ( الاحزاب:21)
سُبْحٰنَ رَبِّکَ رَبِّ الْعِزَّۃِ عَمَّا یَصِفُوْنَo وَ سَلٰمٌ عَلَی الْمُرْسَلِیْنَo
وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ o
الَلّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَامُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِ نَامُحَمَّدٍوَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ
الَلّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَامُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِ نَامُحَمَّدٍوَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ
الَلّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَامُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِ نَامُحَمَّدٍوَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ

اللہ کا محبوب بننے کا نسخہ:
حضورِ پاکﷺ اللہ رب العزت کے محبو ب ہیں اور جو انسان حضور پاکﷺ کی سنتوں پر عمل کرے گا یہ انسان اللہ رب العزت کا محبوب بن جائے گا ۔یہ سنتیں کیا ہیں؟ اصل میں حضورپاک ﷺ کی اداؤں کا دوسرا نام سنت ہے۔ اگر ہم سنتوں کو اپنائیں گے تو اللہ رب العزت کے پیارے بن جائیں گے۔ جس طرح یہ بات پکی اور سو فیصد سچی ہے کہ جو انسان نبی کے طریقوں پر عمل کرے گا اللہ تعالیٰ کا محبوب بن جائے گا، اسی طرح یہ بات بھی پکی اور سچی ہے کہ جس کام کو جس طریقے سے حضورﷺ نے کیا اس سے بہتر طریقہ اس کام کو کرنے کا کوئی دوسرا نہیں ہوسکتا ،یہ بھی پکی اور سچی بات ہے۔ گذشتہ اتوار کو سنت اور سائنس کے موضوع پرجو بات ہوئی ،اس میں اس کو تفصیل سے بیان کیا گیا تھا۔ توکچھ باتیں ذہن نشین کرلیجئے کہ نبی کے طریقوں میں کامیابی ہے، اور دوسری بات آپﷺ کا ہر طریقہ سب سے بہتر ہے اس سے بہتر کوئی طریقہ ہو ہی نہیں سکتا۔
آپﷺ کی پسند سب سے بہتر:
اور اس کے بعد تیسری بات اس کے ساتھ جوڑ لیجئے کہ نبی ﷺ کی پسند بھی سب سے بہتر ہے۔ ابھی کھانے پینے کے بارے میں کافی تفصیلات ہو چکی ہیں اور آج بھی کھانے پینے کے بارے میں ہی بیان ہے ،تو یہاں ساری باتوں کو مدِّ نظر رکھتے ہوئے یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ کھانے کی جس چیز کو نبی نے پسند کیا وہ سب سے بہتر کھانا ہے،سب سے بہتر چیز ہے،اس سے بہتر کوئی چیزہو نہیں سکتی۔ اس کوجتنا مرضی سائنسی طورپہ دیکھ لیا جائے، میڈیکلی دیکھ لیا جائے جیسے مرضی دیکھ لیاجائے ،قیامت تک کے لیے یہ اصول ہے اورہمارا یقین ہے الحمدللہ۔ نبی کی گوشت سے متعلقہ سنتوں کے بارے میں تو پچھلی دفعہ بات ہوگئی تھی کہ باربی کیو کھانے، پائے کھانے، مچھلی کھانے، مرغی کھانے میں کیا سنت ہے اور کیا نہیں۔ اس کے بارے میں گذشتہ جمعہ آپ نے تفصیلات سن لی تھیں، اور آج دوسرے مرغوب کھانوں کا بیان ہے۔ کھانوں کے بارے میں اس کتاب شمائل کبریٰ میں بہت تفصیلات ہیں۔ اور الحمدللہ! آپ لوگوں کی دعائیں ہیں اور آپ لوگوں کا اخلاص کہ اللہ نے اس سلسلہ کو قبول کیا۔ جو Whats Appپر کلپ جارہے ہیں، کئی لوگوں نے بتایا کہ فلاں سنت پہلے ہماری زندگی میں نہیں تھی اب شروع کرنے کا ارادہ کیا ہے۔ اور ایک عالم پرسوں رات گھر پر آئے تو ان سے بات ہوئی، بیعت بھی ہیں سلسلے میں داخل ہیں۔ انہوں کہا کہ مجھے شمائل کبریٰ آپ منگوا کے دیں۔ بلکہ انہوں نے کہا: کتنے کی آئے گی، میں نے لینی ہے۔ میں نے کہا کہ آپ کو ہم ہدیہ دیں گے۔ کیونکہ انہوں نے ارادہ پہلے ظاہر کردیا تھاکہ ہم دن میں دومرتبہ صبح بھی اور رات بھی شمائل کبریٰ کی تعلیم لوگوں کو دیا کریں گے، سنتیں لوگوں کو سکھائیں گے۔ تو یہ بہت اچھی بات ہے کہ یہ سلسلہ جتنا آگے بڑھے گا اور ہم نبی کی سنتوں پر عمل کریں گے تو یقینا دنیاوآخرت میں کامیابی ہمارے قدم چومے گی۔ اللہ تعالیٰ مجھے بھی اور آپ سب کو بھی یہ سن کر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
شہد اور میٹھا:
ہماری بات نبیﷺ کے کھانوں کے متعلق ہورہی تھی۔ امی عائشہ صدیقہr فرماتی ہیں کہ حضور اقدسﷺ کو شہد اور میٹھا پسند تھا۔(بخاری جلد2 صفحہ817،ابن ماجہ جلد1صفحہ244)
فائدے میں لکھتے ہیں: بظاہر حلوے سے مراد ہر میٹھی چیز ہے یعنی نبیu کوہر میٹھی چیز پسند تھی، لیکن ایک خاص قسم کا حلوہ جو ہمارے یہاں بنتا ہے گھی وغیرہ سے بنایا جاتا ہے یہ بھی نبیu کو پسند تھا۔ اور کہتے ہیں کہ سب سے پہلے حضرت عثمان غنیt نے حلوہ بنوا کر حضور اقدسﷺ کی خدمت میں پیش کیاتھا اور آپﷺ نے اسے پسندفرمایا تھا اور وہ حلوہ آٹے اور گھی سے بنایا گیا تھا۔ (خصائل صفحہ126)
اسی طرح اگر کوئی کسی میٹھی چیز کاہدیہ کرے تونبیu نے فرمایا کہ اسے کھا لو ، واپس نہ کرو۔ اوراگر کوئی خوشبو کا ہدیہ کرے تو واپس نہ کرو، اس کو سونگھ لو، لے لو جتنی دینا چاہ رہا ہے،جو بھی ہے اس کو انکار مت کرو۔ میٹھے کو انکار نہ کروالبتہ شوگر والے انکار کرسکتے ہیں۔ (سیرۃ جلد7صفحہ534)
ہریسہ:
اس کے علاوہ ایک اور کھانا ہے اس کو کہتے ہیں ہریسہ۔ اس کے بارے میں بڑی عجیب بات حضرت حذیفہ فرماتے ہیں کہ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا کہ حضرت جبریلu نے ہمیں ہریسہ کھلایا جس سے رات کی نماز میں پیٹھ مضبوط ہوتی ہے۔
(مجمع الزوائد جلد5صفحہ41)
یعنی دن میں ہریسہ کھائیں رات کو تہجد کی نماز پڑھیں۔ اس سے کیا معنی نکلا کہ ہم اچھے اچھے کھانے کھائیں اور اچھے اچھے کام کریں۔ حضرت امِّ ایوبr فرماتی ہیں کہ میں آپﷺ کے لیے ہریسہ بناتی تھی اور میں دیکھتی کہ آپﷺ اسے بہت پسند کرتے تھے۔ اور ایک صحابیt فرماتے ہیں کہ نبی کریمﷺجب پچھنے لگواتے تو آپﷺ کے لیے ہریسہ بنایا جاتا۔ (سیرۃ الشامی جلد7صفحہ302)
اسی طرح ایک اور واقعہ تفصیل سے ملتاہے کہ حضرت اسعدبن زرارہt سے روایت ہے کہ وہ نبی کریمﷺکے لیے کبھی کبھی ہریسہ بنا کے بھیجتے رہتے تھے۔ اور عجیب اللہ کی شان کہ جس رات کو ہریسہ آنا ہوتا تھا تو نبیu اپنے گھر والوں سے یوں پوچھا کرتے تھے: کیا اسعدبن زرارہt کی طرف سے کوئی ہریسہ کا برتن آیا ہے؟ تو گھر والے کہتے: جی ہاں! آیا ہے۔ فرماتے: اچھا ٹھیک ہے پھر لے کے آؤ۔ گھر والے کہتے ہیں کہ اس سے ہمیں پتا چلا کہ ہریسہ آپﷺ کو پسند ہے۔(سیرۃ العباد جلد7صفحہ302)
ہریسہ عرب کا ایک کھانا ہے جو گوشت اورکوٹے ہوئے گیہوں کو ملا کر بنایا جاتا ہے اور یہ لذیذ بھی ہوتا ہے اور مقّویِ جسم بھی ہوتاہے۔
مقّوی غذاؤں کا استعمال:
آپ کو ان تمام سنتوں میں ایک چیز کامن نظر آئے گی۔ پہلے بھی سنی آج بھی سنیں گے کہ نبی کی پسند کے اندر کیا چیزکامن تھی؟ جو مجھے محسوس ہوئی کہ آپﷺ ہر وہ چیز کھاتے تھے جو جسم کے لیے فائدہ مند تھی، قوت کے حساب سے، اعصابی قوت کے حساب سے، ہر لحاظ سے فائدہ مند چیز ہوتی تھی۔ سنت میںہمیں ایک چیز یہ بھی ملی کہ نبیu ان چیزوں کو نہیں کھاتے تھے جو صحت کے لیے نقصان دہ ہوتی تھیں۔ آج کل ہم کتنی ایسی چیزیں کھاتے ہیں جن کے بارے میں خود جانتے ہیںکہ ان کا نقصان ہے۔ خود مانتے ہیں کہ ان کا نقصان ہے۔ مثلاً بہت سے ایسے مشروب آتے ہیں معلوم ہے کہ ان کا نقصان زیادہ ہے، فائدہ کوئی نہیں۔ اب چائے ہی کو لے لیجئے، چائے کے علماء نے35نقصانات لکھے ہیں اس کے مقابل ایک چیز ہے دودھ، یہ ہم سے پیا نہیں جاتا حالانکہ دودھ پینا توسنت بھی ہے۔ بہرحال اگر ہم سنت کی نگاہ سے غذاؤں کو دیکھتے ہیں تو ساری غذائیں ایسی ہیں جو ہماری صحت کے لیے بہتر ہیں۔
حیس:
ایک اور چیز اسکا نام ہے حیس۔ یہ کھجور کا ملیدہ ہوتا ہے۔ امی عائشہr فرماتی ہیں کہ نبی کریمﷺ گھر میں تشریف لائے اور پوچھا کہ کچھ کھانے کو ہے؟ میں نے کہا: ہاں۔ اور پھر میں نے کھجور کا ملیدہ پیش کیا جسے میں نے آپﷺ کے لیے رکھا تھا، آپﷺنے اسے تناول فرمایا۔ (مسند حمیدی،سیرۃ خیرالعباد جلد7صفحہ303)
ایک اور صحابی حضرت عبداللہ بن بسر کہتے ہیں کہ نبی میرے ابو کے پاس گھر میں تشریف لائے اور انہوں نے نبی کے لیے کھجور کا ملیدہ رکھا اور آپﷺ نے اس کو نوش فرمایا۔ (مسلم ،ترمذی،سیرۃ خیرالعباد جلد7صفحہ303)
حیس عربوں کا اور حضورﷺ کا مرغوب طعام تھا، امی عائشہr فرماتی ہیں کہ آپﷺ کو حیس بہت پسند تھا۔ (سیرۃ خیرالعباد جلد7صفحہ303)
علّامہ عینی نے ذکر کیا ہے کہ یہ کھجور پنیر اور گھی سے بنایا جاتا تھا، اور کبھی پنیر کے بجائے آٹا ڈال دیتے یعنی کھجور آٹا اور گھی او ر پھر اسے آپس میں ملالیا جاتا اس کو ہم لوگ ملیدہ کہتے ہیں۔ (فتح،عمدۃ القاری جلد21صفحہ57)
خزیرہ:
ایک اور چیزہے اس کو خزیرہ کہتے ہیں۔ حضرت عتبہ بن مالکt فرماتے ہیں کہ میں نبیuکے پاس آیا اور کہا کہ اے اللہ کے نبی ﷺ! میری آنکھوں میں تکلیف ہے آنسو گرتے رہتے ہیں مجھے مسجد میں آنا مشکل ہوجاتا ہے، اگر آپ مناسب سمجھیں تو میرے عذر کی وجہ سے آپ ﷺمیرے گھر تشریف لائیںاور میرے گھر میں کسی جگہ آپﷺ نماز پڑھ دیں تاکہ میں اسی جگہ کو اپنی نماز کی جگہ بنالوں، اورپھر میں وہاں نماز پڑھتا رہا کروں گا اور برکت حاصل کروں گا۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ہاںٹھیک ہے۔ دوسرے ہی دن نبیuنے دن چڑھنے کے بعد ظہر سے پہلے حضرت ابوبکر صدیق کو ساتھ لیا اور عتبہ بن مالک کے گھر کی طرف روانہ ہوگئے۔ Knockکیا، اجازت چاہی۔ فرماتے ہیں کہ میں نے دروازہ کھولا ،اندر بٹھایا، آپﷺ اندر تشریف لائے اور ابھی آپﷺ بیٹھے بھی نہ تھے، بیٹھنے سے پہلے ہی فرمایاکہ عتبہ کیاچاہتے ہو؟ میں کہاں نماز ادا کروں ؟پھر میں نے نماز پڑھنے کی اپنی پسندیدہ جگہ کا بتادیا تو نبی نے وہاں نماز ادا کی تو پھر میں بعد میںوہاں نماز پڑھتا تھا۔ اور پھر نماز پڑھنے والی جگہ ہی اکرام کے لیے نبیﷺ کو بٹھایا کیونکہ ان کے لیے میں نے خزیرہ بنوایاہوا تھا۔ آپﷺ کو اس کے کھانے کے لیے میںنے روک لیاتھا۔
(بخاری جلد 2صفحہ 813)
حدیث مبارکہ سے حاصل ہونے والے اسباق:
یہ بخاری شریف کی روایت ہے۔ فائدے میں لکھتے ہیں کہ علامہ عینیh نے اس حدیث پاک کی روشنی میں کئی باتیںنکالی ہیں:
1 گھر میں کسی جگہ کو خاص نماز کے لیے مخصوص کرلینا عورتوں کے لیے یہ بات زیادہ بہتر ہے، مرد تو مسجد میں جا کر نماز پڑھیں گھر میں نماز پڑھنے کی عادت مردوں کے لیے ٹھیک نہیں۔ جماعت واجب ہے، جماعت کو چھوڑنا گناہ ہے۔ اور گھر میں کسی جگہ کو نماز کے لیے خاص کرلینا کہ اس میں نفلی نمازیں پڑھیں گے تو یہ اچھی بات ہے۔ دیکھیں! آپ گھر میں کمرہ بناتے ہیں کہ یہ امی ابو کا کمرہ، یہ میاں بیوی کا کمرہ، یہ بچوں کا کمرہ، یہ مہمان کا کمرہ، تو کوئی اللہ کی عبادت کے لیے بھی جگہ ہونی چاہیے۔ اللہ کی یاد کی جگہ تو ہمارے اکابرین پہلے بناتے تھے۔ بہرحال ہمارے پاس بھی عبادت کے لیے مخصوص جگہ ضرور ہونی چاہیے۔ یہ ضروری نہیں ہے کہ وہ بارہ فٹ کی جگہ ہو، بلکہ ایسی جگہ جہاں ایک عورت آسانی سے پردے میں عبادت کرسکے، ایسی جگہ مخصوص ہوجائے تو زیادہ بہتر ہے۔
2 فرماتے ہیں کہ تبرکاً کسی نیک صالح آدمی کو بلوا کے ان سے نماز پڑھوانا اور اس جگہ سے تبرک حاصل کرنا۔
3 لکھتے ہیں کہ بڑوں اور بزرگوں کو برکت کے لیے اپنے گھر بلانا۔
4 اس سے پتا چلتا ہے کہ بڑوں کو بھی ایسی بات قبول کرلینی چاہیے۔
5 لکھتے ہیں کہ محلے یا گھر میں کوئی نیک اور صالح بزرگ آئیں تو دوسرے لوگوںکا وہاں جانا، ان کی صحبت میں بیٹھنا، زیارت وملاقات کرنا۔
6 صاحب خانہ اگر کسی نیک آدمی کو بلائیں اور جماعت کا موقع آجائے تو صاحب خانہ کو چاہیے کہ اس نیک آدمی سے نماز کی درخواست کریں کہ امامت کروائیں۔
7 اور ساتواں فائدہ لکھتے ہیںکہ معذور آدمی کا گھر میں ہی نماز پڑھنا عذر پہ Dependکرتا ہے کہ ایسے کھانسی وانسی کا عذر نہیں چلتا ،ہاں اگر کوئی بہت بڑا عذر ہو توگھر پہ نماز پڑھ سکتے ہیں۔ جیسے وہ فرماتے تھے کہ ہر وقت آنکھوں سے پانی گرتا ہی رہتا ہے ورنہ مسجد میں جانا مردوں کے لیے ضروری ہے ۔
8 اور آٹھواں فائدہ لکھتے ہیں کہ اہل علم اور فضل کو گھر بلا کر ان کا کھانے سے اکرام کرنا، یعنی نیک لوگوں کو کھانا کھلانابھی سنت کے درجہ میں ہے۔ (عمدۃ القاری جلد4صفحہ170)
خبیص:
اچھا ایک چیز اور بھی لکھی یعنی خبیص۔ یہ ایک حلوہ تھا جو آٹے اور میدے سے بنتا تھا۔ حضرت عثمان غنیt فرماتے ہیں کہ انہوں نے گھی، گیہوں اور شہد کو ملا کر خبیص بنایا۔ اور فرماتے ہیں: میں وہ پیالہ لے کر نبی کریمﷺ کے پاس حاضر ہوا، آپﷺ نے فرمایا: عثمان! یہ کیا ہے؟ تو حضرت عثمانt نے عرض کیا: یہ وہ کھانا ہے اے اللہ کے رسولﷺ! جسے عجمی لوگ کھاتے ہیں شہد اور گیہوں اور گھی کو ملاکر بنایا جاتا ہے،اور اسے خبیص کہتے ہیں تو نبی نے اسے نوش فرمایا۔ (مطالب عالیہ جلد2صفحہ324)
حضرت عبداللہ بن سلام فرماتے ہیں کہ آپﷺ کھجور کو خشک کرنے کی جگہ تشریف لائے تو حضرت عثمان غنیt کو دیکھا کہ ایک اونٹنی ہے کہ جس کو کھینچ کے لے جا رہے ہیں اور اُونٹنی کے اوپر میدہ بھی ہے، گھی بھی ہے، شہد بھی ہے۔ آپﷺ نے ان کو فرمایا عثمان! ٹھہر جاؤ، چنانچہ حضرت عثمان رک گئے۔ آپﷺ نے برکت کی دعا دی اور اس کے بعد ایک ہانڈی منگوائی اور ہانڈی کو چولہے کے اوپر چڑھادیا گیا اور پھر کہا کہ بھئی! اس میںگھی، شہد اور آٹا ڈالو۔ یہ ڈال دیا گیا۔ پھر فرمایا کہ چولہے کو جلاؤ، پھر چولہا جلادیا گیا یہاں تک کہ پک گیا،یا پکنے کے قریب ہی تھا کہ نبی نے فرمایا کہ اتار دو۔ اس کے بعد آپﷺ نے فرمایا کہ کھاؤ۔ پھر نبی خود نے بھی کھایا اور اوروں نے بھی کھایا پھر آقا نے فرمایا: یہ وہ کھانا ہے جس کو اہل فارس یعنی عجمی لوگ خبیص کہتے ہیں ۔(طبرانی،حاکم ،سیرۃ جلد 7صفحہ310)
یہ خبیص آٹے کے میدے کا حلوہ کہلاتا ہے کبھی اس میں کھجور بھی ڈال لی جاتی ہے اور کبھی شہد بھی ڈال دیا جاتا ہے، اگرآج شہد سے نہ بنایا جائے چینی سے بنالیا جائے تب بھی یہ وہی قسم کہلائے گی۔
ستو:
ایک اور چیز ستو ہمارے یہاں بھی معروف ہے۔ حضرت سوید بن نعمانt فرماتے ہیں کہ ہم لوگ حضورﷺ کے ساتھ خیبر کی جانب نکلے یہاں تک کہ ہم مقام صہبا یا روحہ کے قریب پہنچے تو آپﷺ نے فرمایا کہ دیکھو! ساتھ کھانے پینے کے لیے کیا ہے؟ تو سب نے دیکھا کہ سوائے ستو کے اور کچھ بھی نہ ملا، فقط ستو رہ گیا تھا۔ چنانچہ آپﷺ نے اسے کھایا اور ہم نے بھی حضور پاکﷺ کے ساتھ بیٹھ کراس کو کھایا ،پھر آپ ﷺنے کلی کی اور مغرب کی نماز پڑھی۔ (بخاری جلد 2صفحہ 812)
یہ ستو جَو کا تھا جو نبیu نے استعمال فرمایا گندم کا نہیں۔ اس حدیث میں جو لکھا ہے وہ جو کا ستو تھا۔ اور جو کا ستو گرم مزاج والوں کے لیے گرمی کے ایام میں بہت نفع بخش ہے یعنی عورتوں کو چاہیے کہ گرمی میں اپنے خاوندوں کو جَو کا ستو پلا دیا کریں تاکہ مزاج ٹھنڈا ہوجائے اور اگر بیگم صاحبہ کا مزاج گرم رہتا ہے تو خاوند صاحب منگواکر انہیں پلا دیا کریں۔
دشیشہ:
ایک اور چیز یہاں(شمائل کبریٰ کتاب میں) لکھی ہوئی ہے دشیشہ ۔حضرت جابرفرماتے ہیں کہ نبی کریمﷺ کے لیے ہم نے مٹی کے برتن میں دشیشہ بنایا اورآپﷺ نے اس کو تناول فرمایا ۔ (سیرۃ جلد7صفحہ304)
دشیشہ اور حشیشہ ایک کھانے کا نام ہے جو آٹے، گوشت اور کھجور کو ملا کر پکایا جاتا ہے۔ چلیں یہ تو کچھ میٹھی میٹھی باتیں تھیں، اب کچھ مصالحے دار باتیں بھی ہوجائیں کہ مصالحے دار کھانا، کالی مرچ ڈالنا بھی سنت ہے۔اللہ اکبر کبیرا !
کالی مرچ:
سلمیٰr فرماتی ہیں کہ حضرت حسنt، عبداللہ بن عباس اور عبداللہ بن جعفرjیہ تینوں نوجوان تھے۔ یہ سلمیٰr کے پاس آئے اور کہا کہ حضورﷺ کو جو کھانا پسند تھا اور جو آپﷺ رغبت سے کھایا کرتے تھے وہ ہمیں پکا کر کھلائیں۔ تو حضرت سلمیٰr نے کہا: پیارے بچو! اب تمہیں وہ کھانا پسند نہیں آئے گا، وہ کھانا تو تنگی میںلوگ کھایا کرتے ہیں تم کیسے کھاؤ گے۔ انہوں نے کہا: نہیں، ضرور پسند آئے گا کیونکہ ہمارے پیارے نبی ﷺکی پسند ہے۔ چنانچہ وہ اٹھیں اور تھوڑا سا چوکرلے کر ہانڈی میں ڈالا اور اس میں تھوڑا سا زیتون کا تیل ڈالا پھرکچھ مرچیں زیرہ وغیرہ مسالہ پیس کر ڈالا اور پکا کر کہا کہ حضورﷺ کو یہ بہت پسند تھا۔ (شمائل ترمذی صفحہ12)
فائدے میں لکھتے ہیں: اس سے معلوم ہوا کہ مصالحے دار کھانا آپﷺ کو مرغوب تھا۔ اس حدیث کی تشریح میں علامہ مناویh نے لکھا ہے کہ کھانا بسہولت عمدہ اور مزے دار کرنا یہ زہد کے منافی نہیں۔ (شرح مناوی صفحہ223)
اسی حدیث کے دوسرے طریق میں ہے کہ حضرت سلمیٰk نے کہا: ان لوگوں کے کہنے پر جب کھانا بنایا تو اس کے لیے میں نے ’’جو ‘‘ لیا اورچھان کے روٹی بنائی، پھر روٹی کو ایک ہانڈی میں ڈال دیا اس پر زیتون کا تیل ڈالا اور اوپر کالی مرچ چھڑک دی اور ان کے قریب کر کے کہا کہ بچو! اس کو نبی کریم ﷺ شوق اور رغبت سے کھاتے تھے۔ (ترمذی،سیرۃ صفحہ308)
چنانچہ اس سے معلوم ہوا کہ کالی مرچ کا استعمال کرنا سنت ہے۔ نیزکھانے وغیرہ میں اس کو ڈالنا بہت نفع رکھتا ہے،بہت نافع ہے، البتہ لال مرچ کا استعمال آپﷺ کے زمانے میں نہیں تھا، نہ اہل عرب اس کو پسند کرتے تھے ویسے بھی طبی اعتبار سے لال مرچ کی کثرت نقصان دہ ہے۔
سِر کہ:
ایک اور چیز جس کو کہتے ہیں سِرکہ Vinegar۔ حضورﷺ نے ارشاد فرمایا: سِرکہ کیا ہی بہترین سالن ہے۔ (ترمذی جلد2صفحہ6)
نبی کریمﷺ نے فرمایا کہ اس گھر میں فاقہ نہیں جس گھر میں سِرکہ ہو۔
(ترمذی جلد2صفحہ6،ابن ماجہ)
امی عائشہrفرماتی ہیں کہ نبیﷺ نے ارشاد فرمایا کہ سِرکہ ہم سے پہلے نبیوں کا سالن رہا ہے۔(ابن ماجہ جلد2صفحہ243)
ایک مرتبہ نبیu ام ہانیrکے یہاں تشریف لے گئے اور فرمایا کہ بھئی! تمہارے پاس کچھ کھانے کو ہے؟ تو ہم نے کہا کہ ہمارے پاس تو ابھی کچھ نہیں ہاں خشک روٹی کے ٹکڑے اور سِرکہ ہے۔ آپﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جو موجود ہے وہی ہمارے سامنے لے آؤ۔ جس گھر میں سرکہ ہو، اس گھر کو فاقہ والا گھر نہیں کہا جاتا۔
(ترمذی جلد2صفحہ6،سیرۃ خیر العباد صفحہ311)
اور پچھلی اتوار کو سِرکے کے بارے میں تفصیل آپ سن چکے ہیں کہ اس کے فوائد کی وجہ سے یورپ کے بہت سے ممالک اور وہاں کے لوگ اس کے استعمال کو بہت کثرت سے شروع کرچکے اور ہم اس کو چھوڑ چکے ہیں۔ لیکن ایک سِرکہ تو آرٹیفشل سرکہ ہے، اس کا تو سننے میں آیا ہے شاید نقصانات بھی ہوں لیکن صحیح سِرکہ کہیں سے ملے تو یہ صحت کے لیے بہت بڑی نعمت ہے۔
آپﷺ کا مہمان کو گھر لانے کا انداز:
حضرت جابرtفرماتے ہیں کہ میں نبی کریمﷺ کے ساتھ تھا تو نبی اپنے گھروں میں سے کسی گھر میں داخل ہوئے۔ اولاً آپﷺ خود داخل ہوئے پھر میرے لیے اجازت چاہی۔ گھر والوں کو کہا کہ پردہ کرو۔ Point to be noted جب آقاu اپنے گھر میں داخل ہوئے تو پیچھے تھے، پہلے خود داخل ہوئے، گھر والوں کو کہا کہ پردہ کریں پھرکو بلایا۔ اس کے بعد آپﷺ نے پوچھا کہ بھئی! کھانے کو کچھ ہے؟ انہوں نے کہا کہ جی ہے، تین روٹیاں ہیں۔ تو نبیu نے ان روٹیوں کو دسترخوان پر رکھا، پھر آپﷺ ایک روٹی خود لی اور ایک روٹی حضرت جابرt کے سامنے رکھی اور تیسری روٹی لی اور اسے دوٹکڑے کیا آدھا اپنے سامنے اور آدھا میرے سامنے رکھا، یعنی برابر تقسیم کیا۔ پھر آپﷺ نے گھر والوں سے پوچھا کہ سالن بھی ہے؟ تو انہوں نے کہا سِرکے کے سوا کچھ نہیں۔ توآپﷺ ارشاد فرمایا کہ ٹھیک ہے، سِرکہ بھیج دو۔ اور کھانے لگے اور کھاتے ہوئے فرمارہے تھے کہسِرکہ کیا ہی بہترین سالن ہے، سِرکہ کیا ہی بہترین سالن ہے۔ حضرت جابرt فرماتے ہیں کہ جب سے میں نے آپﷺ کی مبارک زبان سے یہ سنا تب سے میں سِرکے سے محبت کرنے لگا۔ اللہ اکبر !(سیرۃ خیر العباد جلدصفحہ 310)
ایک اور صحابی حضرت طلحہtکے بارے میں بھی آیا کہ انہوں نے بھی یہی کہا کہ جب سے میں نے سنا کہ نبی ﷺ کو سِرکہ محبوب ہے مجھے سِرکے سے محبت ہوگئی۔اللہ اکبر !
(آداب بیہقی صفحہ314)
سرکے کے فوائد:
سِرکے کے فوائد بھی بہت ہیں: بھوک لگاتا ہے، پیٹ کے کیڑوں کو مارتا ہے، بلغم کے لیے بھی اچھی چیز ہے، کھانا ہضم کرنے میں بھی مفید ہے۔ (خصائل صفحہ119 )
ایک حدیث میںہے کہ آپﷺ نے اس میں برکت کی دعا دی۔
(خصائل صفحہ119 )
صحابہ کرام کی آپﷺ سے محبت :
صحابہ کو نبی سے کتنی محبت تھی ،آپ نے پچھلی دفعہ سنا کہ آپﷺ ایک جگہ کدو کھارہے تھے۔ ایک صحابی نے دیکھا کہ نبی کدو کو تلاش کرکرکے کھارہے ہیں، تو وہ فرماتے ہیں کہ تب سے کدو مجھے بھی محبوب ہوگیا۔ یہ ہوتی ہے محبت کہ جو چیز محبوب کو محبوب ہو وہ آج سے ہمیں محبوب ہوجائے مزہ تو تب ہے ۔
ثرید:
ایک اور کھانا جسے ثرید کہتے ہیں، نبیﷺ کو بہت پسند تھا۔ ابو موسیٰ اشعریt فرماتے ہیں کہ نبیuنے ارشاد فرمایا کہ جس طرح عائشہ کو تمام عورتوں پر فضیلت حاصل ہے اسی طرح ثرید کو تمام کھانوں پر فضیلت حاصل ہے۔ (شمائل صفحہ11)
ایک صحابی فرماتے ہیں کہ ایک درزی نے حضورﷺ کی دعوت کی۔ کھانے پر اپنے گھر بلایا، نبی تشریف لے گئے تو اس نے ثرید پیش کیا جس میں لوکی یعنی گھیا ڈالا ہوا تھا اور آپﷺ لوکی کھارہے تھے۔ آپﷺ کو لوکی بہت پسند تھی گھیا بہت پسند تھا۔
(آداب بیہقی صفحہ311)
سحری میں برکت ہے:
نبی نے ارشاد فرمایا: سحری میں برکت ہے۔ ایک تو ہم رمضان میں سحری کرتے ہیں، یقیناً برکت کی بات ہے لیکن حضرت مرشد عالم مولانا حبیبکے بار ے میں میری چچی نے مجھے بتایا انھیں ماشاء اللہ چالیس سال سے زیادہ ہوگئے۔ علمائے کرام اور مشائخ کرام کی خدمت کرتے ہوئے۔ اب بھی کراچی جاتا ہوں تو شرمندہ ہو جاتا ہوں، وہ کھلاتی پلاتی ہی اتنا ہیں، عمر بھی بہت زیادہ ہوگئی لیکن ان کا بس نہیں چلتا کہ کسی طرح وہ سب کچھ کھلادیں۔ انہوں نے مجھے بتایا کہ ہمارے دادا جی کی ترتیب تھی اور ترتیب کی وجہ کیا تھی کہ مرشد عالم مولانا غلام حبیب تہجد کے وقت سارا سال کچھ نہ کچھ کھالیا کرتے تھے چاہے پانی کا گلاس، کجھور یا تھوڑی سی چیز ہی کیو ں نہ ہو۔ اور دلیل کیادیتے تھے کہ نبی نے فرمایا کہ سحری کے کھانے میں برکت ہے ،تو رمضان میں سحری تو سارے کھا لیتے ہیں لیکن جن کو برکت والے کھانے کھانا ہوتے ہیں وہ نبی کی باتوں میں سے نکتے نکال لیتے ہیں ، تلاش میں رہتے ہیں کہ آقاu کا فرمان کیا ہے ۔ وہ سارا سال تہجد میںکچھ کھا لیا کرتے تھے چاہے روزہ رکھنے کا ارادہ ہو چاہے نہ ہو کہ برکت کو کیوں ضائع کریں۔ اللہ والوں کی سوچ بہت اونچی ہوتی ہے اللہ ہمیں ان لوگوں کی قدر کی توفیق عطا فرمائے۔ تو نبی نے فرمایا کہ سحری میں برکت ہے، ثرید میں برکت ہے اور جماعت میں برکت ہے۔ (مجمع الزوائد جلد5صفحہ21)
آپ ﷺ نے فرمایا کہ ثرید بنا ؤ خواہ پانی سے ہی بناؤ۔ (مجمع الزوائد جلد5صفحہ22)
تو بھئی! نبیu کی خواہش بھی پتا لگ گئی اور حکم بھی پتا لگ گیا،تو اب چاہیے کہ ہم اتباع سنت کی نیت سے ثرید بنا لیا کریں۔
ثرید بنانے کا طریقہ:
ثرید بنانا بے حد آسان ہے۔ گوشت کے شوربے میںروٹی کے بھیگے ہوئے ٹکروںکو ثرید کہا جاتا ہے،خواہ ٹکروں کو شوربے میں ڈال کر پکایا جائے،یا ایسے ہی ڈال دیا جائے۔ ثرید کے ٹکڑے پیٹ کے لیے مفید ہیں، آسانی سے ہضم ہوجاتے ہیں، نگلنا بھی آسان ہوجاتا ہے، جلدی تیار بھی ہوجاتا ہے۔ لذیذ اور مقوی بھی ہوتا ہے۔
جلدی تیار ہونے والی چیزیں:
یہ آپ جلدی کے لفظ سے پھر ایک پوائنٹ نوٹ کریں کہ نبیکے لیے وہ کھانے بنائے جاتے تھے جو جلدی تیار ہو جاتے تھے ،پانچ پانچ گھنٹے کھانے کو نہیں لگائے جاتے تھے کہ کھانے پکانے میں گھنٹوں کچن میں لگے ہوتے ہیں۔ تو بھئی! ایسا کھانا جو جلدی تیار ہو جائے۔ لیکن اس سے آج کل کی فاسٹ فوڈ مرا دنہیں ہے، اس کی بات نہیں ہورہی بلکہ بات یہاں سنت کے مطابق سادہ کھانوں کی ہورہی ہے۔ یہ جو نئی قسم کے کھانے ہیں یہ تو جس سے مرضی پوچھ لیں، ڈاکٹرز بتاتے ہیں کہ یہ سب کے سب انسان کے لیے نقصان دہ ہیں۔ یہود ونصاریٰ کی تقلید میں جتنے کھانے ہم کھاتے ہیں ان کے کھانے سے ہماری صحت کا بہت نقصان ہے، جبکہ حضور اکرمﷺ کے پسندیدہ کھانوں کو کھاکر ہماری صحت میں ان شاء اللہ اضافہ ہی ہوگا اور اس سے بہتر کسی کی پسند ہوہی نہیں سکتی۔ اور اگر کسی کو ان ناموں پر اعتراض ہو کہ یہ تو بڑے پرانے نام ہیں اچھا بھئی! اب آپ کوئی نیا نام رکھنا چاہیں تو نیا رکھ لیں لیکن کھانے وہی کھائیں جو نبی نے کھائے، نام بھی وہی رکھیں اور کھانے بھی وہی کھانے کی کوشش کریں پھردیکھیں نبی کی محبت کیسے بڑھتی ہے ۔
پنیر اور دودھ:
اس کے علاوہ نبی پنیر بھی کھاتے تھے۔ ایک صحابی حضرت عبداللہ بن عباسt فرماتے ہیں کہ نبیu کو میری خالہ نے گوہ، دودھ اور پنیر کا ہدیہ بھیجا۔ گوہ ایک جانور ہے آپﷺ اسے پسند نہیں فرماتے تھے ۔ عرب میں اگرچہ کھایا جاتا تھا۔ تو جب دستر خوان پر یہ چیزیں رکھی گئیں۔ توآپﷺ نے دودھ کو نوش فرمایا اور پنیر کھایا اور گو کو نہیں کھایا، کیونکہ وہ پسندیدہ چیز نہیں تھی۔ تو نبی نے دودھ بھی نوش فرمایا اور پنیر بھی کھایا۔ دودھ کے بارے میں امی عائشہ صدیقہفرماتی ہیں کہ نبی کریمﷺ کو دودھ پینے کے لیے دیا جاتا تو آپﷺ برکت کی دعا فرماتے۔ (ابن ماجہ جلد2صفحہ243)
دودھ آپﷺ کی بہت مرغوب غذا تھی آپﷺ بہت خوش بھی ہوتے اور برکت کی دعابھی فرماتے تھے۔ تو بھئی! بچوں کو چاہیے کہ وہ پیپسی اور مرنڈا کی جگہ دودھ کی عادت ڈالیں۔ اور کچھ دن پہلے ایک خاتون جن کی عمر 82سال کی ہے، کافی بیمار ہیں ان کے بیٹے تشریف لاتے رہتے ہیں توانہوں نے بتایا کہ والدہ کے بہت سارے ٹیسٹ ہوئے تو کیلشیم کے ٹیسٹ کی رپورٹ بہت ہی اچھی آئی۔ ڈاکٹر بڑے حیران ہوئے اور ساتھ میں لیبارٹری والے بھی اور ڈاکٹرز کے ساتھ ساتھ اسپیشلسٹ ڈاکٹر بھی تھیں۔ وہ کہنے لگے کہ کیلشیم کی رپورٹ ان کی ہوہی نہیں سکتی 82سال کی عمر اور ان کو اتنی بیماریاں لگی ہوئی ہیں تواتنی اچھی ان کی کیلشیم کی رپورٹ آہی نہیں سکتی۔ جتنے نوجوانوں کے ٹیسٹ کیے گئے اتنی اچھی رپورٹ تو ان کی بھی نہیں آتی تو یہ ان کی رپورٹ نہیں ہوسکتی۔ بلال بٹ صاحب نے بتایا کہ میری والدہ سے ڈاکٹر نے پوچھا کہ آپ کا یہ کیلشیم اتنا اچھا ہے مجھے تو یقین نہیں آرہا، تو کیا آپ اس کی وجہ بتانا پسند کریں گی؟ انہوں نے بتایا کہ بچپن سے لے کر آج تک روزانہ دودھ کا گلاس لیتی ہوں۔ تو82سال کی عمر میں بھی کیلشیم کی کمی نہیںتھی۔ اور آج پچیس تیس سال کی عمر میں ہی ہم سے ڈاکٹر کہہ دیتے ہیں کہ کیلشیم کی گولی کھائو، وٹامن سی کھاؤ آپ کے اندر کیلشیم کم ہوگیا ہے ، کیونکہ ہم نے دودھ کا استعمال چھوڑ دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس سنت پر بھی ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے۔آمین
مشروب بھی غذا بھی:
نبیu نے ارشاد فرمایا کہ دودھ کے علاوہ کوئی مشروب ایسا نہیں جو غذا کے طور پر بھی کافی ہوجائے۔ (ابن ماجہ جلد2صفحہ243مختصراً)
آپ پیپسی پی لیں یا کوئی اور مشروب پی لیں تو وہ غذائیت نہیں پوری کرسکتا۔ آپﷺ نے فرمادیا اب اس کو میڈیکلی سائنسدان اور ڈاکٹرز جتنا مرضی چیک کرتے چلے جائیں آقاﷺ نے جو فرمادیا وہی سچ ہے۔ اور بچوں کی نشو نما بھی خالص دودھ سے ہو جاتی ہے اور مریض کے لیے بھی بہترین غذا دودھ ہے، تو آقا ﷺ نے خالص دودھ بھی نوش فرمایا اور پانی ملا کے بھی نوش فرمایا اس لیے ڈرنے کی ضرورت نہیں کہ دودھ پانی ملا آتا ہے۔ تو کوئی بات نہیں یہ بھی سنت سمجھ کر پی لیا کریں۔ حضرت عبداللہ بن عباس فرماتے ہیں کہ میں اور خالد بن ولید دونوں حضور اقدسﷺ کے ساتھ حضرت میمونہ کے گھر گئے وہ ایک برتن میں دودھ لے کر آئیں اور آپﷺ نے اس میں نوش فرمایا۔ (مختصراً،خصائل صفحہ155)
بکری کے دودھ کے بارے میں فرمایا کہ بکری کے دودھ میں برکت ہے ۔ نبی نے فرمایا: جس گھر میں بکری کا دودھ ہو اس کے لیے دن میں دو برکتیں ہیں۔
(کشف الاستار جلد3صفحہ338)
اور چھوٹے بچوں کے لیے تو بکری کا دودھ بہت بابرکت ہے۔ نبی نے فرمایا: بکری کا گھر میں ہونا برکت ہے ،دو بکریاں دو برکتیں ہیں،تین بکریاں تین برکتیں ہیں۔ امی عائشہ فرماتی ہیں کہ نبی نے کسی سے پوچھا کہ بھئی! تمہارے گھر میں کتنی برکت ہے یعنی تمہارے گھر میں کتنی بکریاں ہیں؟ (مطالب عالیہ صفحہ303)
روٹی کا بیان:
اسی طرح روٹی کھانا بھی سنت ہے ۔ نبی نے ارشاد فرمایا کہ روٹی کا اکرام کرو، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کا اکرام کیا ہے۔ جو شخص روٹی کا اکرام کرے گا اللہ تعالیٰ اس کا اکرام کرے گا۔ اللہ تعالیٰ نے اسے آسمان کی برکتوں سے نازل کیا ہے اور اس میں زمین کی برکات بھی رکھ دی ہیں۔ جو دستر خوان کے گرے ہوئے ٹکڑوں کو تلاش کرکے کھائے گا اس کی مغفرت ہوجائے گی۔ (مجمع الزوائد جلد 5صفحہ37)
روٹی کے اکرام کا مطلب :
روٹی کا اکرام یہ ہے کہ اس کو ضائع نہ کیا جائے،اس کے ٹکڑوں کو پھینکا نہ جائے۔ اور جب دستر خوان پر روٹی آجائے تو سالن کا انتظار نہ کیا جائے اور روٹی سے شروع کردیا جائے۔ امی عائشہr سے منقول ہے کہ تمہارا بہترین کھانا روٹی ہے اور بہترین پھل انگور ہے۔ (کنز العمال جلد19صفحہ207)
اب ہمارے یہاں ایک کامن سی بات ہے کہ جو لوگ دعوت وغیرہ پر جاتے ہیںاور شادی وغیرہ میں بہت کھانا ضائع کرتے ہیں یہ اللہ تعالیٰٰ کی طرف سے رحمتوں کے رک جانے کا سبب ہے۔ اور گھروں میںبھی جب کھاناکھاتے ہیں تو روٹی کے ٹکروں کا خیال نہیں کرتے ہیں۔ علماء نے لکھا کہ گھروں کے اندر تنگدستی ،غربت، قرض اور پریشانیاں آنے کی ایک وجہ یہ بھی ہوتی ہے کہ ہم لوگ کھانے کا اکرام نہیں کرتے۔ کھانا بچا ہوا چھوڑدیتے ہیں اور پلیٹ صاف نہیں کرتے کھانا ضائع کردیتے ہیں، پھینک دیتے ہیں۔ اب اکرام والی چیز کا جب ہم نے اکرام نہیں کیا تو Ultimately ہمیں اس کے نقصانات اٹھانے پڑیں گے۔
جَو کی روٹی:
اسی طرح جَو کی بنی ہوئی روٹی کھانا بھی سنت ہے، اور آپﷺ کی اکثر وبیشتر غذا جَو کی روٹی ہوتی تھی۔ (مختصراً شمائل ترمذی)
ابوامامہt فرماتے ہیں کہ حضوراقدس ﷺ کے گھر میں جَو کی روٹی کبھی نہیں بچتی تھی۔
(شمائل صفحہ10)
یعنی اگر پکتی تھی تو مقدار میں اتنی ہوتی نہیں تھی کہ بچ جائے،اس لیے کہ وہ تھوڑی ہوتی تھی،خود پیٹ بھرنے کے لیے بھی کافی نہیں ہوتی تھی۔ اور اگر کبھی زیادہ بھی ہوتی تو نبی کے یہاں مہمانوں کی کثرت کی وجہ سے ختم ہوجاتی ورنہ اہلِ صفّہ تو موجود ہی ہوتے تھے، وہاں اسے استعمال کرلیا جاتا تھا۔ (خصائل صفحہ115)
حضرت انسt فرماتے ہیں کہ نبیu کی ایک درزی نے دعوت کی، نبی نے دعوت کو قبول فرمایا۔ آپﷺ وہاں گئے اور انہوں نے جَو کی روٹی پیش کی اور لوکی گوشت پیش کیا یعنی گوشت ایسا بنایا جس میں گھیا ڈالا ہوا تھا،گھیا، گوشت کا سالن اور جَوکی روٹی پیش کی۔ (بخاری جلد2صفحہ817)
حضرت سہل بن سعدt کی روایت ہے کہ ان سے پوچھا گیا کہ جَو کی روٹی کو نبی کیسے پکاتے تھے؟ تو فرمایا: آٹے میں پھونک مار دیا کرتے تھے تاکہ جو موٹے موٹے تنکے ہوں وہ اڑجائیںباقی کو گوندھ لیا کرتے تھے۔ (بخاری صفحہ815،شمائل صفحہ 10مختصراً)
ایک روایت میں ہے کہ نبی کے زمانے میں چھلنی نہیں ہوتی تھی اور وہ اس کو پھونک لیا کرتے تھے ۔(سیرۃ العباد جلد7صفحہ273)
اور پھر اس کے بعد روٹی بنا لیا کرتے تھے۔ حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر یہ دونوں حضرات بھی جَوکی روٹی کو بِنا چھانے کھایا کرتے تھے۔ (سیرۃ خیر العباد جلد7صفحہ288)
آٹا چھنا ہوا نہیںہوتا تھا ۔خصائلِ نبویﷺ میں ہے کہ آج کل گیہوں کی روٹی بھی بغیر چھنے کھانا مشکل سمجھا جاتا ہے حالانکہ بغیر چھنے آٹے کی روٹی جلد ہضم ہوتی ہے۔
(خصائل صفحہ116)
گیہوں:
حضرت ابو ہریرہt سے روایت ہے کہ آپﷺ اور آپﷺ کے اہل وعیال کو مسلسل تین دن گیہوں کی روٹی کھانے کی نوبت نہیں آئی یہاں تک کہ دنیا سے جانے کا وقت آگیا۔ (بخاری جلد2صفحہ956)
آقاuکے گھر میں کبھی ایسا نہ ہوا کہ تین دن روزکھانا ہو، فاقہ ہوتا تھا۔ بہر حال آج کل کے رواج میں آٹا چھنا ہوا آتا ہے، تو ہم کم سے کم اتنا ضرور کرلیں کہ گیہوں کی روٹی تو ہم کھاتے ہیں الحمدللہ! یہ بھی کھائیں، لیکن ساتھ جَو کی بھی شروع کردیں تاکہ سنت کا ثواب ہمیں مل جائے۔ اب جَو کی روٹی بعض اوقات پکانا مشکل ہوتی ہے تو ہمیں بعض عورتوں سے معلوم ہوا، ہمارے گھر میں بھی تجربہ کیا گیاکہ گندم اور جَو کو مکس کرکے بنائی۔ بہر حال جس طرح سے بھی آسانی ہو خالص جو کی بھی بنالیں چند دفع تو بنا ہی لیں تاکہ اتباع سنت کا ہمیں ثواب مل جائے۔
حضرت سہل بن سعدt سے کسی نے پوچھا کہ حضورﷺ نے کبھی سفید میدے کی روٹی کھائی ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ حضورﷺ نے آخر عمر تک میدہ نہیں دیکھا یعنی میدہ یا اس کی روٹی کھانے کی نوبت نہیں آئی۔ (شمائل مختصراً صفحہ 10)
حالات کی تنگی کی وجہ بھی اس میں شامل ہوسکتی ہے۔
روٹی اور کھجور:
اس کے علاوہ ایک چیز ہے روٹی اور کھجور۔ حضرت عبداللہ بن سلامt کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ کو دیکھا کہ آپﷺ نے جو کی روٹی لی اور اس پر کھجور کورکھا اور فرمایا: روٹی تو جَو کی ہو گئی اور اس کا سالن یہ کھجور ہوگئی۔ (شمائل،مجمع جلد5صفحہ43)
روٹی کے طور پر جو کی روٹی استعمال ہوئی اور سالن کے طور پر کھجور استعمال ہوئی، کھجور کے ساتھ روٹی کو آپﷺ نے کھایا۔ ٹھیک ہے ہم الحمدللہ! سالن کے ساتھ کھاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے بہت نعمتیں دی ہیں لیکن اگر کبھی ایک مرتبہ یا زیادہ مرتبہ ہم روٹی کے ساتھ کھجور کھالیں گے تو اتباع سنت کا ثواب مل جائے گا۔
گوشت اور روٹی:
اسی طرح آپﷺ نے گوشت کو بھی روٹی کے ساتھ تناول فرمایا ہے۔ حضرت جابر فرماتے ہیں کہ آپﷺ کی خدمت میں روٹی اور گوشت پیش کیا گیا اور آپﷺنے اس کو تناول فرمایا۔ (ابوداؤد جلد1صفحہ25)
ابنِ قیِّم نے لکھا ہے کہ آپ ﷺ نے روٹی کو چربی، گھی، سِرکہ اور زیتون کے ساتھ بھی تناول فرمایا۔ (زادالمعاد جلد1صفحہ54)
روٹی کتنی بڑی ہونی چاہیے؟
ایک حدیث کامفہوم ہے کہ روٹی چھوٹی رکھی جائے، اس میں برکت ہوگی۔
(مسند بزار جلد3صفحہ333)
روٹی کا سائز بہت زیادہ بڑا نہ کیا جائے۔ ایک جگہ روٹی بنتے ہوئے دیکھی ماشاء اللہ ایسی تھی کہ 8سال کا بچہ اس کو کمبل بنا کے اوڑھ کے سو سکتا تھا۔ تو اس سے معلوم ہوا کہ روٹی کا چھوٹا ہونا بہتر ہے، سنت کے قریب ترین معاملہ ہے ۔
اجتماعیت میں برکت:
اب کچھ پراٹھوں کی باتیں بھی ہو جائیں، کیو نکہ کبھی کبھی ناشتے میں پراٹھے کا بھی دل کرتا ہے، تو دیکھیں کہ پراٹھوں کے معاملے میں ہمیں نبی کا کیا عمل ملا۔حضرت انس بن مالک فرماتے ہیں کہ میری والدہ ام سلیم نے روٹی پکائی، پھر کہا کہ نبی کے پاس جاؤ اور آپﷺ کو دعوت دو۔ فرماتے ہیں کہ میں نبی کے پاس گیا اور جا کے عرض کیا کہ اے اللہ کے نبیﷺ! میری والدہ آپﷺ کو بلاتی ہیں۔ چنانچہ آپﷺ کھڑے ہوئے اور جتنے صحابہ ساتھ تھے، سب کو کہا: چلو بھئی میرے ساتھ چلو۔ فرماتے ہیں: پہلے میں گیا اور امی کو بتایا کہ پوری جماعت آرہی ہے۔ آپﷺ تشریف لائے سب ساتھی بھی تشریف لائے، پھر آپﷺ نے فرمایا: انس! جو کچھ پکاہے اسے لے آؤ۔ ام ِسلیم نے کہاکہ میں نے صرف آپ ﷺ کے لیے پکایا ہے،اتنا نہیں ہے کہ سارے لوگ کھاسکیں۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ اچھا بھئی! جو کچھ بھی پکایا ہے وہی لاؤ۔ اس کو دستر خوان پر لگوایا۔ پھر نبی کے حکم سے دس دس آدمیوں کی جماعت کو حضرت انس بلاتے تھے۔ دس آدمیوں کو بلاتے وہ کھانا کھالیتے پھر دس کواور بلاتے۔ فرماتے ہیں کہ میں دس دس کو بلاتا رہا ،چنانچہ سب نے سیر ہو کر کھایا اوروہ ٹوٹل 80آدمی تھے۔ (ابن ماجہ جلد2صفحہ247)
یہ آپﷺ کا معجزہ ہے کہ اتنی کم مقدارمیں کھانا ہونے کے باوجود 80افرادنے کھالیا اور کئی دفعہ ایسے واقعات پیش آئے ۔
گھیا :
حضرت انس فرماتے ہیں کہ نبی کو سبزیوں میں گھیا بہت پسند تھا۔
(ابن ماجہ جلد2صفحہ240)
حضرت جابر بن طالب فرماتے ہیں کہ میں آپﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو کدو رکھا ہوا تھا۔ میں نے پوچھا کہ یہ کیا ہے؟ آپﷺ نے ارشاد فرمایا: یہ لوکی ہے اس سے سالن میں اضافہ کیا جائیگا۔ اور ایک روایت میں ہے کہ لوکی کے ٹکڑے کٹے ہوئے رکھے تھے۔ (سیرۃابن ماجہ جلد2صفحہ240)
لوکی کے فوائد:
نبیu نے ارشاد فرمایا کہ تم پر لوکی لازم ہے، یہ دماغ کو قوی کرتی ہے۔ اور ایک روایت میں ہے لوکی کھاؤ اگر اس سے زیادہ نفع دینے والا کوئی درخت ہوتا تو اللہ تعالیٰٰ یونس کے دور میں اسی کو اگاتے، اگر تم میں کوئی شوربہ بنائے تو اس میں لوکی کا اضافہ کرے یہ عقل اوردماغ کو قوی کرتی ہے۔ (شرح مواہب جلد4صفحہ333)
ایک حدیث میں ہے حضرت انسt فرماتے ہیںاور یہ خادمِ رسولﷺ بھی ہیں کہ نبی لوکی بہت کھاتے تھے اور فرماتے تھے: یہ دماغ کو تیز کرتی ہے اورعقل میں اضافہ کرتی ہے۔ (سیرۃ جلد7صفحہ331)
حضرت انسt سے مروی ہے کہ ایک درزی نے آپ ﷺ کی دعوت کی میں بھی ساتھ گیا۔ انہوں نے آپ ﷺ کی خدمت میں جو کی روٹی اور ایسا شوربہ پیش کیا جس میں لوکی یعنی گھیا تھا تو میں نے آقاکو دیکھا کہ پیالے کے اطراف میں تلاش کرکرکے لوکی کھارہے تھے، چنانچہ اس دن سے مجھے بھی گھیا محبوب ہوگیا۔ اب محبت رسول ﷺ تو یہ ہے کہ اتنی باتیں سن کر یہ چیزیں ہمیں بھی محبوب ہونی چاہئیں۔ ملّا علی قاری نے لکھا ہےکہ لوکی یعنی گھیا سے عقل کی زیادتی ہوتی ہے۔ اس میں ایسی خوبی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت یونس کی پرورش اسی درخت کی بیل کے نیچے کی۔ نیز حدیث سے معلوم ہوا ہے کہ اپنے سے کم تر کی دعوت بھی قبول کرنی چاہیے، اس میں کسی قسم کا کوئی عارمحسوس نہیں کرنا چاہیے، نیز یہ کہ لوکی سے رغبت رکھنا سنت ہے۔ اور فرماتے ہیں کہ نگاہ کو بھی تیز کرتی ہے اور دماغ کو گرم کرتی ہے اور دل کو نرم رکھتی ہے۔ اللہ اکبر!
(مواہب جلد4صفحہ333)
لوکی غم کا علاج ہے سبحان اللہ! آپﷺ نے امی عائشہ سے فرمایا کہ جب تم شوربہ پکاؤ تو اس میں لوکی زیادہ ڈال لو یہ غمگین دل کو طاقت پہنچاتی ہے۔
(سیرۃ صفحہ 33،مسند احمد،شرح مواہب جلد4صفحہ333)
چقندر:
ایک سبزی جسے چقندر کہتے ہیں، یہ کھانا بھی سنت ہے۔ حضرت ام منذر فرماتی ہیں کہ حضور میرے گھر تشریف لائے ہمارے یہاںکھجور کے خوشے آویزاں تھے، چنانچہ آپﷺ تناول فرمانے لگے۔ حضرت علیt بھی ساتھ تھے، آپ نے حضرت علیکو روک دیا کہ ابھی تم کو بیماری سے افاقہ ہوا ہے اور تم ابھی فی الحال کھجور نہ کھاؤ۔ حضرت علی بیٹھے رہے اور آپ ﷺوہ کھجور کے خوشے اٹھا کے کھاتے رہے، یہاں سے پتا چلا کہ پرہیز کرنا بھی سنت ہے۔ ایک آدمی کو کوئی چیز تکلیف دیتی ہے تو نبی نے خود روکا حالانکہ کھجور نعمت ہے اور آپکھا بھی رہے تھے اور اخلاق کریمانہ نبی سے بڑھ کر کسی میں نہیں ہوسکتے، تو آپﷺ نے ان کی صحت کا خیا ل کرتے ہوئے فرمایا کہ اپنی صحت کا خیال رکھو یہ چیز تمہارے لیے ٹھیک نہیں ابھی بیماری سے اٹھے ہو ،اور توانائی واپس آنے میں ٹائم لگتا ہے۔ انسان کو نارمل ہونے میں وقت لگتا ہے، یہ ابھی تمہارے لیے ٹھیک نہیں مت کھاؤ تو یہاں سے پرہیز بھی ثابت ہوا۔
اگر ڈاکٹر نے شوگر منع کی ہوئی ہے تو ہم شوگر کھاتے ہیں اور شوگر کی وجہ سے بیماری بڑھ گئی یا موت ہی آگئی تو اس میں سنت کا ثواب نہیں ملے گا کہ میٹھا آپﷺ کو پسند تھا،اس میں اپنے آپ کو نقصان پہنچانے کا گناہ بھی مل سکتا ہے، بد پرہیزی کا گناہ بھی مل سکتا ہے۔ اس کا خیال کرنے کی ضرورت ہے کہ پرہیز کرنا بھی سنت ہے تو نبی نے خود تو کھجوریں تناول فرمائیں اور حضرت علی کو ان کی بیماری کی وجہ سے ان کی صحت کا خیال رکھتے ہوئے منع فرمایا۔ ام منذرr فرماتی ہیں کہ میں نے چقندر اور جو لیا اسے پکایا اور آپﷺ نے حضرت علی نے فرمایا: اے علی! تمہارے لیے یہ مناسب ہے یہ کھاؤ ۔ (جمع الوسائل صفحہ 227)
پرہیز کرنا توکل کے منافی نہیں:
اس سے معلوم ہوا کہ پرہیز کرنا توکل کے منافی نہیںاور چقندر کھانا بھی نبی کی سنت ہے۔ حضرت سہل بن سعدt فرماتے ہیں کہ ہم لوگ جمعہ کے دن بہت خوش ہوتے تھے کہ جب ہم لوگ نماز جمعہ سے فارغ ہوتے تو ایک ضعیفہ تھی اس کے پاس ملاقات کوچلے جاتے۔ وہ چقندرلیتی اسے ہانڈی میں ڈالتی اور کچھ جَو لیتی اور اسے بھی ہانڈی میں ڈال دیتی، نماز جمعہ کے بعدہم لوگوں کو وہ پیش کرتی،اس وجہ سے ہم لوگ جمعہ کے دن خوش ہوتے تھے۔ اور ہم لوگ جمعہ کے دن نماز جمعہ کے بعد ہی کھانا کھاتے اوراسکی چقندر کھانے کے بعد قیلولہ کیا کرتے تھے۔ (بخاری جلد2صفحہ813)
اس سے معلوم ہوا کہ جن سے بے تکلفی ہو ان کے یہاں کھانا کھانے میں کوئی قباحت نہیں۔ اور یہاں سے یہ بھی پتا چلا کہ جمعہ کے دن جمعہ کے بعدہی کھانا کھائیں یعنی جلدی نماز ِ جمعہ کے لیے چلے جانا اور بعد میں کھانا کھا لینا بھی مناسب ہے۔
تکلف کرنا خلاف سنت ہے:
بعض لوگ تکلف کرتے ہیں۔ نبی نے فرمایا کہ میں تکلف کرنے والوں میں سے نہیں ہوں، تو تکلف کرنا خلاف سنت ہے ۔ انسان کو سادہ اور بے تکلف ہی رہنا چاہیے۔
اَروِی:
اسی طرح سبزیوں کے اندر ایک سبزی ہے اَروِی۔ ایلہ کے بادشاہ نے نبی کی خدمت میں اروی کا ہدیہ پیش کیا۔ نبی کریمﷺنے اس کو تناول فرمایا اور خوب پسند کیا اور پوچھا: یہ کیا ہے؟ لوگوں نے کہا: یہ زمین کی چربی ہے۔ تو آپ نے فرمایا: زمین کی چربی اروی تو بہت خوب ہے۔ (سیرۃ جلد7صفحہ330)
نبیu نے اس کو پسند کیا ہے اور طبی اعتبار سے بھی اس کے فوائد بہت ہیں، اور گوشت میں پکائی جائے تو س کی لذت اور بھی زیادہ بڑھ جاتی ہے۔
پیاز:
اسی طرح پیاز کو پکانا اور پکا ہوا پیاز کھانا بھی سنت ہے۔ امی عائشہr فرماتی ہیں: نبیu نے جو آخری کھانا کھایا وہ پیاز میں پکا ہوا تھا۔ (مشکٰوۃ صفحہ367،ابوداؤد)
امی عائشہ فرماتی ہیں کہ آپ ﷺنے آخری کھانا جمعے کے دن کھایا تھا اس میں بھنا ہوا پیاز تھا۔ (ادب المفرد سیرۃ جلد 7صفحہ329)
ہم نے دیکھا کہ گھر میں عورتیں پیاز کو تیار کرکے رکھتی ہیں کہ کھانا پکائیں گی، تو اس میں سنت کی نیت شامل کرلیں تو آپکا کام بھی ہوگیا اور کھانا بھی پک گیا اور سنت کا ثواب بھی مل گیا۔ لیکن آپ ﷺ نے کچا پیاز کچا لہسن کبھی استعمال نہیں کیا، البتہ پیاز کو پکا دیا جاتا جیسے سالن وغیرہ میں یا اسے تل دیا جاتا تو آپ ﷺ بدبو نہ ہونے کی وجہ سے اسے تناول فرمالیتے۔ اور آپ ﷺ نے کچا پیاز کھا کر مسجد جانے سے سختی سے منع فرمایا ہے۔ بہت سے لوگ افطاری میںکچا پیاز استعمال کرتے ہیں جیسے سلاد کے طور پر استعمال کرلیا، پھر نماز کو جاتے ہیں یہ بات درست نہیں۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں حضور پاکﷺ کی ایک ایک سنت کو شوق اور محبت سے عمل میںلانے کی توفیق عطا فرمائے۔ اور اس گلدستۂ سنت کی ہماری اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے۔ قیامت کے دن نبی کریمﷺ کی شفاعت نصیب فرمائے۔ اور ہم کو اپنی رحمتوں میں شامل فرمائے،اللہ تعالیٰ ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے۔

وَاٰخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُلِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ

Leave a Reply