90

کھانے پینے میں میانہ روی کا بیان

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ وَ کَفٰی وَ سَلٰمٌ عَلٰی عِبَا دِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی. اَمَّا بَعْدُ:
فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّ جِیْمِ o
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم
مَنْ یُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللہَ﴾ (سورۃ النساء: 80)
o وَسَلٰمٌ عَلٰی الْمُرْسَلِیْنَ ِ

سُبْحٰنَ رَبِّکَ رَبِّ الْعِزَّۃِ عَمَّا یَصِفُوْنَ ِ
وَسَلٰمٌ عَلٰی الْمُرْسَلِیْنَ ِ
وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَِ
الَلّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّ بَارِکْ وَ سَلِّمْ
الَلّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّ بَارِکْ وَ سَلِّمْ
الَلّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّ بَارِکْ وَ سَلِّمْ

سنت کو زندہ کرنے کا بڑا ثواب

رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جس نے میرے بعد کسی ایک سنت کو میری ان سنتوں میں سے زندہ کیا جو مٹ چکی تھیں، جن کو امت بھول چکی تھی، جن پر عمل نہیں ہورہا تھا، اگر کوئی ایسی ایک سنت کو زندہ کرے گا پس اس زندہ کرنے والے کو ان تمام لوگوں کا ثواب ملے گا جو اس کے زندہ کرنے کے بعد عمل میں لائیں گے۔ مثلاً باپ نے گھر میں سے ایک سنت کو زندہ کیا گھر والے وہ پوری نہیں کررہے تھے تو باپ سے لے کر ماں تک نے بھی عمل کیا، بچوں نے کیا، محلے والوں نے بھی کیا، اوروں نے بھی کیا، جتنے بھی لوگ اس سنت کی اتباع کریں گے، ان تمام لوگوں کا ثواب اور خود اپنے عمل کا ثواب یہ اس زندہ کرنے والے کو ملے گا اور باقی جو عمل کرنے والے حضرات ہیں ان میں سے کسی کے ثواب میں کمی نہیں کی جائے گی۔
اب سنت کو گھر میں زندہ کرنا ہو، محلے میں زندہ کرنا ہو، ملک میں زندہ کرنا ہو تو ہر طرح سے سنت زندہ کرنے کا ثواب ملے گا۔ اس وقت نبیu کی اکثروبیشتر سنتیں مٹ چکی ہیں، اب اگر ہم تلاش کرکر کے ایک ایک سنت کو اپنی زندگی میںلائیں گے تو اس عظیم ثواب کے حامل ہوجائیں گے۔
اتباع سنت دخول جنت:
امی عائشہr فرماتی ہیں کہ نبیpنے ارشاد فرمایا: جو شخص سنتوں کو مضبوطی سے تھامے رہے گا وہ جنت میں داخل ہوگا۔ مضبوطی سے پکڑنے کا مطلب کیاہے؟ یہ کہ شوق اہتمام اور پابندی کے ساتھ سنت پر عمل کرے، جستجو اور تلاش کر کے سنت کو معلوم کرے اور عمل کرے اِس صورت میں یہ انسان مضبوطی سے سنت کو پکڑنے والا ہوگا۔
آج کل کا ایک بہت ہی برا جملہ:
ایک ہوتا ہے کہ غفلت کرنا، خیال ہی نہ کرنا بلکہ ایک بہت نامناسب اور بہت ہی برا جملہ لوگ بول دیتے ہیں کہ سنت ہی تو ہے، یہ کونسا کوئی فرض ہوگیا ہے۔ یہ بہت خراب جملہ ہے۔ صحابہ کرامj اس لیے عمل کرتے تھے کہ یہ سنت ہے، نبیu کا عمل ہے۔ اور ہم اس لیے اسے چھوڑدیتے ہیں کہ سنت ہی تو ہے یہ کو نسا فرض ہوگیا ہے۔ ابھی الحمدللہ! اسگلدستۂ سنت کے بیانات چل رہے ہیں، لہذا ان کو اپنے اندر لانے کی پوری کوشش کی جائے۔ اللہ پاک اس میں برکتیں عطا فرمائے آمین۔
ایک غلط سوچ اور اس کا جواب:
ایک دن کسی جگہ پر بیان ہوا تو کسی نے ہماری جامعہ کی اسٹوڈنٹ سے اعتراض کیا کہ یہ کیا حضرت ہر وقت سنت سنت کی بات کرتے رہتے ہیں، ہم سے تو فرض پورے نہیں ہوتے تو سنتیں کہاں سے پوری کریں۔ تو جب انہوں نے مجھے بتایا تو میں نے ان سے کہا کہ جس نے آپ سے اعتراض کیا ہے اس کے پاؤں پکڑلیں، اس کی منتیں کریں کہ بھئی اللہ کی بندی! قیامت کے دن اللہ کو یہی کہہ دینا کہ ابراہیم کی زبان پر تو بس ایک رٹ لگی ہوئی تھی، سنت، سنت، سنت بس یہی کہہ دینا میراکام ان شاء اللہ اسی سے ہوجائے گا۔ یہ ایک بات تو کہہ دی۔ اب جامعہ کی طالبہ کو بھی تومطمئن کرنا تھا، بات کو سمجھانا تھا کیونکہ وہ علم کی تلاش میں ہے۔ تو اس کو یہ کہا کہ دیکھو! اگر کوئی انسان اپنی کسی بھی کمزوری کی وجہ سے غفلت کی وجہ سے، کوتاہیوں کی وجہ سے، فرائض پورے نہیں پڑھ رہا، نمازیں ادا نہیں کررہا پھر بھی اگر کسی سنت کو اپنالے تو اس میں نقصان کیا ہے؟ اس میں نقصان تو کوئی نہیں ہے فائدہ ہی فائدہ ہے۔ کیا یہ ممکن نہیں کہ ان سنتوں کی برکت سے اس کی زندگی میں فرائض زندہ ہوجائیں؟ ہم Negativeکیوں سوچیں؟ ہم تو اچھا ہی سوچیں گے۔ نبی کی سنتوں پر عمل کریں گے ۔
اس نے کہا کہ لوگ توسنت کے بارے میں یہ یہ بھی کہتے ہیں، بہت باتیں سنیں۔ پھر میں نے کہا: لوگوں کی بات دیکھیں یا اللہ اور اس کے نبیﷺ کی بات دیکھیں، اللہ کہتے ہیں کہ سنت پر عمل کرو میں تمہیں اپنا محبوب بنالوں گا۔ نبی کہتے ہیں کہ جس نے مجھ سے محبت کی وہ جنت میں میرے ساتھ ہوگا۔ جس نے میری سنتوں پر عمل کیا جنت میں میرے ساتھ ہوگا۔ اب ہم لوگوں کی باتوں پر آئیں یا اللہ اور اس کے نبی کی باتوں پر آئیں۔ یہ سو چنے والی بات ہے کہ نہیں؟ بہرحال وہ بچی الحمدللہ! قائل اور مطمئن ہوگئی۔
عیش پرستی سے بچنا:
بات چل رہی ہے میانہ روی کی تو اس میں ایک تو یہ بات یاد رکھیںکہ عمدہ، لذیذ مرغن غذاؤں کے اہتمام کی مذمت کی گئی ہے، اور یہ کسی طرح سے بھی ٹھیک نہیں۔ حضرت معاذ بن جبلt فرماتے ہیں کہ مجھے حضور پاکﷺ نے جب یمن کی جانب روانہ کیا تو فرمایا: خبردار! عیش اور نعمت پسندی سے بچنا، اللہ کے بندے عیش پرست نہیں ہوتے۔ (ترغیب جلد3صفحہ142)
امت کے بدترین لوگ:
حضرت ابو امامہ فرماتے ہیں کہ نبیﷺ نے ارشاد فرمایا کہ عنقریب ہماری امت میں ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو رنگ برنگے کھانے کھائیں گے، مختلف قسم کے مشروبات پئیں گے، رنگ برنگ کپڑے پہنیں گے اور خوب باتیں کیا کریں گے۔ یہ میری امت کے بدترین لوگ ہوں گے۔ (ترغیب جلد3صفحہ43)
اس سے کیا مراد ہے؟ اس کو ذرا سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ہر وقت کھانے کی فکر آج یہ کھانا ہے، شام کو وہ کھانا ہے، کل وہ کھانا ہے اور گھنٹوں اس کی فکر اور اس کاذکر۔ اسی طرح مشروبات کو لے لیجیے،تو آج ماشاء اللہ درجنوں قسم کے مشروبات موجود ہیں۔ آج یہ پینا ہے، آج وہ پینا ہے، ہر ایک بہتر سے بہتر کی فکر میں ہے۔ اور اسی طرح اس کو کپڑے کی فکر ہے، آج اِس فیشن کا پہننا ہے، آج اس طرح کا پہننا ہے، آج کیسا لگنا ہے، آج ویسا لگنا ہے، بس اپنے کپڑوں کی فکر میںلگے ہوئے۔ غرض یہ کہ پوری زندگی کھانے پینے اور لباس کے اندر گزررہی ہے، اس کی فکر میں ہمارا بہت زیادہ وقت ضائع ہورہا ہے۔
حضرت جی کا ملفوظ:
جو صورت اوپر بیان کی گئی ہے اگر ایسا ہی معاملہ ہے تب تو یہ بدترین لوگ ہیں۔ ہاں ایسی صورت نہیں ہے بلکہ کسی وقت بہت اچھا کھالیا، کسی وقت سادہ کھالیا اور اتنی فکر نہیں کہ وہ ہر وقت انہی کے اندر مگن رہے اور زندگی کا کوئی مقصد ہی نہ ہو، کوئی (Objective) نہ ہو، بس کھانا پینا سونا اور جماع کرنا۔ اگر یہی مقصد حیات ہو توپھر اس میں اور جانوروں میں کیا فرق رہا؟ اچھا کھانا منع نہیں ہے۔ہمارے حضرت جی دامت برکاتہم فرماتے ہیں: اچھا کھاؤ اور اچھے کام کرو، پھر تو ٹھیک ہے کہ انسان اچھا کھانا کھائے لیکن ساتھ دین کے خوب اچھے اچھے کام بھی کرے پھر تو بات بنتی ہے۔
آپﷺ کی ہمارے بارے میں فکر:
ایک حدیث کے اندر آتا ہے نبی نے ارشاد فرمایا کہ میںتم پر پیٹ اور شرمگاہ کی بے جا شہوتوں کا اور نفس کی گمراہی کا خوف کرتا ہوں۔ یعنی کھانے پینے کے ذہن اور خواہشات ِنفس میں مبتلارہنے کا خوف ہے کہ کہیں تم قیامت کے دن کو بھول نہ جاؤ، آخرت کو یکسر فراموش نہ کر دو۔(ترغیب جلد3صفحہ141)
مقصدِ حیات کو یاد رکھنا:
آج نوجوان کھانا پیناکہاں کر رہا ہے؟ آج اس کارنر پہ کھانا ہے، کل اس کارنر پہ جانا ہے۔ اور اس کے بعد حرام ملاقاتیں کرنی ہیں، پھر گھنٹوں بیٹھ کے باتیں ہوتی ہیں، موبائل پر، Facebookپر، مختلف Social Mediaپر۔ تو ہوتاکیاہے کہ جب انسان ان دونوں، تینوں چیزوں میں لگ جاتا ہے تو پھر ہمیں اس حدیث کو یاد رکھنا ہے کہ تم قیامت کے دن کو بھول جاؤ گے۔ تو یہ لوگ واقعی قیامت کو بھولے ہوئے ہیں، لیکن اگر کسی کو قیامت یاد ہے، اللہ کا خوف اس کے پاس ہے اور پھر اگر اچھے کھانے بھی کھاتا ہے تو گنجائش ہے کیوں کہ مقصد حیات کو نہیں بھولا ہوا۔ کھانا، پینا، پہننا یہ مقصد حیات نہیں۔
سادگی ایمان کی نشانی ہے:
حدیث میں آتا ہے کہ ایمان کی ایک علامت یہ ہے کہ انسان لباس کو سادہ رکھے۔ جتنے فیشن کے لباس، نئے سے نئے لباس ہوں گے اس بات کی دلیل ہے کہ اس کے ایمان کے اندر وہ عظمت اور کیفیت نہیں ہے۔ لباس کی سادگی ایمان کی علامات میں سے ہے۔
نفس کو لذتوں سے روکنا:
اسی طرح اس کے اندر ایک بات اور بھی سمجھنے والی ہے۔ نبی نے فرمایا کہ یہ چیز اسراف ہے، فضول خرچی ہے کہ ہر ہر کھانا تمہاری مرضی کا ہو کہ تم ہر وقت اپنی مرضی کا من پسند کھانا کھاؤ، اس کے علاوہ تم کھانا ہی نہ کھاؤ۔ (ترغیب جلد3صفحہ141)
اس چیز کو منع کیا گیا ہے۔اچھے کھانے ضرور کھاؤ لیکن کبھی کبھی سادہ بھی کھاؤ، اعتدال رکھو۔ بعض امیر اور رئیس لوگوں کے یہاں کیا ہوتا ہے کہ درجنوں قسم کی ڈشیں رکھتے ہیں اور ہر وقت اپنی مرضی کا کھاناچلتا ہے اس کے علاوہ کام ہی کوئی نہیںاور اسی چیز سے منع کیا گیا۔ کبھی کبھی نبی کی بھوک کو بھی یاد کر لیا کریں۔ اوردنیا میں کچھ لوگ ایسے ہیں بھی ہیںجن کے پاس کھانے کو نہیں ان کا بھی خیال کریں۔ وہاں بھی پہنچائیں، اپنی فکر کے ساتھ ساتھ ان کی بھی فکرکریں۔اوراس بات کی تمنا رکھنا کہ ہر وقت میری ہی بات پوری ہو میری ہی مرضی چلے یہ بالکل بھی ٹھیک نہیں۔ کتنے ہی شوہر ایسے ہیں کہ بیویاں روتی ہیں کہ ہم نے اتنی محنت سے کھاناپکایا اور صاحب نے منہ بنا لیا۔یہ بھی نہ سوچا کہ اگر بدترین لوگوں میں شامل ہوگئے تو کیا ہوگا۔ تو ہر وقت اپنی مرضی کا کھانا کہ یہ کیوں نہیں پکایا، وہ کیوں نہیں پکایا؟ تو اسلام نے ایسی تعلیم نہیں دی۔ اس میں احتیاط کی ضرورت ہے، اپنے آپ کو روکنے کی ضرورت ہے۔ ہمارے اکابرین ایسے بھی گزرے کہ کھانا اچھا پکتا تھا تو اس میں پانی ڈال دیتے تھے کہ نفس کو لذتیں کیا دینی ہیں۔ تو ہم پانی ڈالنے کو تو نہیں کہتے کہ آپ پانی ڈالیں لیکن اتنا ضرور کہتے ہیں کہ جو گھر میں پک جائے اس کو کھالیں، اعتراض نہ کریں۔ اور کبھی مرضی کا پکوالیں چلو ٹھیک ہے، لیکن کبھی جو حاضر ہو آپ کی پسند کا نہیں وہ بھی اختیار کریں۔ اور بہترین بات تو یہ ہے جس طرح سنتوں میںپیچھے ماشاء اللہ تفصیل سے بیان ہوا کہ آقا ﷺ کو کیا کیا پسند تھا، ہم انہیں چیزوں کو اپنی پسند بنالیں تو ان شاء اللہ ہماری زندگی بھی سنت کے مطابق گزر جائے گی۔
قیامت کے دن کے بھوکے لوگ:
ایک صحابی فرماتے ہیں کہ رسول اکرمﷺ کو ایک مرتبہ بہت شدید بھوک لگی اور کھانے کو کچھ بھی نہیں تھا۔ نبیu نے اپنے مبارک پیٹ پر پتھر باندھ لیا اور فرمایا: کتنے لوگ ایسے ہیں جو اس دنیا میں لذیذ کھانے اور نازو نعمت میں لگے رہتے ہیں قیامت کے دن وہ بھوکے بھی ہوں گے اور قیامت کے دن ننگے بھی ہوں گے۔ اور آگے فرمایا کہ کتنے ایسے لوگ ہیں جو اپنے نفس کی خواہشات کو پورا کرنے والے ہوں گے۔ اور فرمایا کہ کتنے ایسے لوگ ہیں جو اپنے نفس کو ذلت کے لیے تیار کررہے ہوں گے یعنی کہ دنیا میں اپنی خواہشاتِ نفس کا اکرام کرتے ہوں حقیقت میں وہ اپنے نفس کو ذلیل کررہے ہوں گے۔ اور کتنے لوگ ایسے ہوں گے جو نفس کی تذلیل کرنے والے ہوں اور حقیقت میں وہ اپنے نفس کو عزتیں دے رہے ہوں گے۔ (ترغیب جلد3صفحہ140)
نفس کی ہر خواہش کو پورا کرنا جس کو آج کل کہتے ہیں Its my lifeجو میں مرضی کروں۔ تو دنیاکے اندر نفس کی خواہشات کو پورا کرنا قیامت کے دن نفس کو ذلیل کرنے کے برابر ہوگا۔ نفس کی ہر خواہش پوری نہیں کی جاسکتی۔ جس طرح چھوٹے بچے کی ہر خواہش پوری نہیں کی جاسکتی اسی طرح نفس کی بھی ہر خواہش پوری نہیں کی جاسکتی۔ اس کو شریعت کی لگام دینا بہت ضروری ہے۔
ڈکار آنے پر آپﷺ کی تنبیہ:
ایک صحابی ابو جحیفہ فرماتے ہیں کہ میں نے گوشت اور روٹی کا ثرید کھایا۔ یہ ثرید کھانا سنت ہے اور بہت آسان ہے۔ سالن میں بھی بنتا ہے گوشت کا سالن ہو یا فقط سبزی ہو، سبزی ہو تو گھیا افضل ہے، مسنون ہے۔ انسان کیاکرے کہ گھیا اور گوشت کا سالن بنالے یا خالی گوشت کا سالن بنالے یا خالی گھیا کا سالن بنالے۔ کیسا بھی سالن بنایا پھر اس سالن بنانے کے دوران روٹی کے ٹکڑے اندر ڈال دیں کہ وہ نرم ہوجائیں اس میں بھیگ جائیں، تو پھر ان کو کھالیں۔ یہ ثرید ہے اور نبی نے اس کو پسند فرمایا۔ یا پھر سالن پکانے کے بعد اس کے اندر روٹی کے ٹکڑے ڈال دیں جب اچھی طرح بھیگ جائیں، تر ہوجائیں اور اس کے بعد انسان ان کو کھالے یہ سنت ہے۔
اب ہم دنیا کی بڑی بڑی ڈشیں تیار کرتے ہیں، لوگوں کو دعوت پر بلاتے ہیں۔ Chinesبھی تیار کرتے ہیں۔ Italianبھی تیار کرتے ہیں اور پتا نہیں کیا کیا محنتیں کرتے ہیں۔ تو کیا ہم نے مسلمان ہونے کے ناطے کبھی کسی دعوت میں اپنے مہمان کے آگے نبی کریمﷺ کا پسندیدہ کھانا بھی رکھا؟ ہم اس کو خود بھی زندگی میں لائیں اور مہمان کے آگے بھی رکھیں اور اس کو ترغیب بھی دیں۔ اس میں شرمانے کی ضرورت نہیں، ہمارے نبی کریمﷺ کی پسند ہے تو ہماری پسند ہے۔
بہر حال صحابی فرماتے ہیں کہ میں نے گوشت کا ثرید کھایا اور آپﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو مجھے ڈکار آگیا۔ نبی نے فرمایا کہ اس ڈکار سے بچو! جو آج دنیا میں جس قدر پیٹ بھر کر کھانا کھانے والاہوگا کل قیامت میں اسی قدر بھوکا ہوگا۔ چنانچہ آپﷺ کے فرمان کے بعد حضرت ابو جیحفہ نے کبھی پیٹ بھر کر کھانا نہیں کھایا یہاں تک کہ دنیا سے چلے گئے۔ اور ایک روایت میں آتا ہے کہ وہ تیس سال اس کے بعدزندہ رہے اور کھانا پیٹ بھر کر نہیں کھایا۔( ترغیب جلد3صفحہ137)
ہمیں کیا کرنا چاہیے؟
یہ حدیث تو ان کے کمال محبت اور کمال اتباع کی دلیل تھی کہ صحابہ کرامy واقعتا عاشق رسول تھے۔ ان کی ہمت کا مقابلہ تو ہم لوگ نہیں کرسکتے۔ ان کا تقویٰ تھا وہ تا حیات اس فضیلت پرقائم رہے۔ ویسے پیٹ بھر کے کھانا جائز ہے، آج اگر انسان پیٹ بھر کر کھانا نہ کھائے تو انسان کمزور ہوجائے گا، عبادات نہیں کرسکے گا، اپنی دینی ضروریات پوری نہیں کرسکے گا، دنیاوی کام کاج پورے نہیں کرسکے گا۔ آج کل اگر ہم لوگ بھوک رکھ کر کھانا کھائیں گے تو ہم کمزور ہوجائیں گے۔ ہماری صحت، ہماری Bodyیہ چیزیں ہمیں اس بات کی اجازت نہیں دیتیں۔ تو ہم کھانا تسلی سے پوراکھائیں لیکن اس کے بعد حق ادا کریں کھانے سے پہلے بھی اللہ کو یاد کریں کھانے کے بعد بھی اللہ کو یاد کریں۔ یہ بھی حدیث کا مفہوم ہے کہ کھانا کھا کر شکر ادا کرنے والا روزہ دار کی طرح اللہ کو پسند ہے۔ تو کھانا کھائیںاور اللہ کا خوب شکر بھی ادا کریں اور اچھے اچھے اعمال بھی کریں، کسی کو تکلیف نہ پہنچائیں، جہاں تک ممکن ہوسکتا ہے سنت کے مطابق زندگی گزاریں، تو ان شاء اللہ ہمارے لیے خیر ہوگی۔ باقی جہاں تک نبیu کی مبارک عادت تھی تو انسt فرماتے ہیں کہ نبیu نے سادہ یعنی کم قیمت والا کھانا زندگی بھر کھایا اور کم قیمت والا کپڑا پہنا۔ تو بازار سے ہر چیز سب سے اچھی خرید کے لانا کبھی کبھی تو ٹھیک ہے لیکن عام مزاج کیا ہونا چاہیے کہ انسان میانہ روی کو اختیار کرے اور درمیانہ سا طرزِ زندگی رکھے۔ ٹھیک ہے کہ اللہ نے نعمتیں دی ہیں۔
جائز خواہشات پر کنٹرول:
ایک مرتبہ میں نے اپنی امی کو کہا کہ مجھے فلاں گاڑی چاہیے، ابو سے بھی کہا، لیکن ابو نے بالکل منع کردیا۔ اب میں امی کے پاس گیا کہ امی میں نے گاڑی لینی ہے۔ بات بہت پرانی ہے غالباً 90کی ہوگی۔ تو امی نے کہا: بیٹا! رہنے دو جیسے گزارا چل رہا ہے ویسے ہی ٹھیک ہے۔ میں نے کہا: امی! کتنے ہی لوگ ایسے ہیں جن کے حالات اور وسائل ہم سے بھی کمزور ہیں، لیکن پھر بھی ان کے پاس گاڑیاں ہیں، تو میں نے اگر گاڑی کی بات کرہی دی ہے تو اس میں کوئی ایسی بات نہیں ہے جو ناجائز یاغلط ہو، لہذا آپ ابو سے کہیں کہ وہ مجھے گاڑی لے دیں، میں نے ضد کر دی۔ پھر میں نے یہ بھی کہا کہ دیکھیں بڑے خود ہی کہتے ہیں کہ چادر کے مطابق پاؤں پھیلاؤ تو میں نے چادر سے ہٹ کر بھی سوال نہیں کیا تو الحمدللہ! ہم گاڑی لے سکتے ہیں۔ میں نے ضد کچھ زیادہ ہی کردی۔ بہرحال بچپن کے دن تھے ایسا ہو ہی جاتا ہے۔ بہر حال امی نے ابو سے بات کی تو ابو نے کہا کہ بھئی! بات تو ٹھیک ہے کہ چادر کے مطابق پاؤں پھیلانے چاہئیں، لیکن یہ کہاں لکھا ہے کہ چادر بڑی ہو تو پاؤں بھی پھیلاؤ تو سمٹ کے پیچھے رہو ۔ چادر کے مطابق پاؤں پھیلانا تو چلو ٹھیک ہے لیکن اگر سمٹ کے پیچھے رہو تو اس میں کیا حرج ہے؟ اس وقت خیر بڑا غصہ آیا، سمجھ ہی نہ آئی، بعد میں پتا چلا کر ان کی باتیں ٹھیک تھیں۔ تو نبیu نے پوری زندگی سادہ کم قیمت والا کھانا کھایا یعنی آپﷺکی کھانے پینے کے لیے قسم قسم کے کھانوں کی طرف توجہ نہیں ہوتی تھی۔ آج یہ ڈش ہو، آج وہ ڈش ہو، فون کر کر کے خاوند حضرات گھر میں اطلاع دیتے ہیںکہ آج یہ پکاؤ، وہ پکاؤ، وہ نہ پکے ناراض ہوجاتے ہیں۔ آج 22جنوری 2015ہے، 16سال ہوگئے اَلْحَمْدُلِلّٰہِ ثُمَّ اَلْحَمْدُلِلّٰہِ ان 16سالوں میں مجھے یقین ہے اللہ کو حاضر ناظر جان کر یہ بات کررہا ہوں 16دفعہ بھی بیگم صاحبہ کو فون کرکے نہیں کہا کہ یہ پکانا۔ الحمدللہ! جو سامنے آیا کھالیا اور یہی ہماری ماں کی تربیت تھی۔ بچپن میں ہم کچھ نہیں کھاتے تھے تو اگلے وقت میں وہی سامنے ہوتا تھا۔ نہیں کھایا، پھر اگلے وقت میں وہی سامنے ہوتا تھا۔ آہستہ آہستہ الحمدللہ! اللہ نے رحمت عطافرمائی۔ سادہ چیزیں کھانے لگ گئے۔
نبی کا طریقہ کیا تھا؟
آسانی کے ساتھ جو سادہ کھانا میسر آجاتا وہی کھالیتے، درجنوں قسم کی چٹنیاں اور سلاد اور درجنوں قسم کے کھانے یہ نبوی طریقہ نہیں۔ امی عائشہr فرماتی ہیں کہ نبیu کے مبارک پیٹ میں دو کھانے جمع نہیں ہوئے، اگر گوشت کھاتے تو کسی اور چیز کی زیادتی نہ فرماتے۔ (سیرت جلد7صفحہ158)
یعنی کوئی ایک سالن ہوتا تو پھر دوسرے کی تمنا، طلب نہ ہوتی One dishسمجھ لیجئے!
علامہ عینی کا قول:
امی عائشہr فرماتی ہیں کہ پہلی بدعت جو نبیuکے زمانے کے بعد اس امت میں پیدا ہوئی وہ پیٹ بھر کرکھا نا ہے۔ فرماتی ہیں کہ جب پیٹ بھرے گا تو بدن موٹا ہوگا اور ان کے دل کمزور ہوں گے اور شہوتیں مضبوط ہوجائیں گی۔ (سیرت جلد7صفحہ137)
مطلب یہ کہ جب انسان بلادریغ کھائے گا، بے حساب کھائےگا تو وہ موٹا ہوگا۔ اس کی وجہ سے شہوتوں کا خیال غالب ہوگا اور عبادت سے غافل کردینے والی چیزوں میں انسان لگ جائے گا پھر دنیا اور آخرت کا نقصان کرے گا۔ علامہ عینیh نے لکھا ہے اتنا زیادہ کھانا کہ بدن بوجھل ہوجائے اورنیند بھی زیادہ آئے مکروہ ہے۔
موٹے آدمی کے بارے میں آپﷺ کے ارشادات:
ایک صحابی فرماتے ہیں کہ نبیu نے ایک آدمی کو دیکھا، جس کا پیٹ بڑا تھا، تو آپ نے انگلی سے اس کے پیٹ کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا: یہ زیادتی اگر کہیں اور ہوتی تو اچھا تھا۔ یعنی پیٹ کے بجائے عمل میں، فکر میں، عقل میں زیادتی ہوتی تو زیادہ اچھا تھا۔(ترغیب جلد3صفحہ138)
نبیu نے فرمایا: قیامت کے دن ایک بڑا لمبا، بھاری بھرکم خوب کھانے پینے والا شخص لایا جائے گا مگر اللہ کے نزدیک اس کی قیمت مچھر کے پر کے برابر بھی نہ ہوگی۔
(ترغیب جلد3صفحہ138)
اسی طرح بخاری ومسلم کی روایت میں ہے کہ ایک موٹا آدمی لایا جائے گا جس کا مرتبہ اللہ کے نزدیک مچھر کے پر کے برابر بھی نہ ہوگا، کیونکہ وہ لحیم اور شحیم تو ہوگا مگر عمل کے اعتبار سے کورا ہوگا، عمل اس کاسنت کے خلاف ہوگا۔
غفلت میں ڈالنے والی چیز:
یہ بات بھی سمجھنے والی ہے کہ حدیث میں پیٹ کے بڑا ہونے اور موٹاپے کی جو مذمت ہے وہ ہر ایک موٹاپے کے لیے نہیں ہے، بلکہ اس موٹاپے کے لیے ہے جو کھانے پینے کی بہت فراوانی اور کثرت کی وجہ سے ہو اور وہ انسان اللہ کی یاد اور فکر آخرت سے غافل بھی ہو، کیونکہ یہ چیزیں بے فکری لے آتی ہیں۔ مراد اس سے یہ ہے کہ کھانے پینے کے اندر فراوانی کو پسند نہیں کیاگیا، کیونکہ موٹاپے کا سبب زیادہ تر یہی ہوتا ہے کہ انسان خوب کھاتا ہے۔ تو انسان کبھی کھائے اور کبھی بھوکا بھی رہ لے، کبھی روزہ بھی رکھ لے۔ رمضان کے روزے تو فرض ہیں ہی، تو کبھی پیر اور جمعرات کا روزہ بھی رکھ لے وہ بھی سنت ہے۔ دسویں محرم کے روزے کے ساتھ ایک اور ملا کر رکھ لے، اس طرح اپنے آپ کو عبادات میں لگائے تاکہ ہر وقت کا پیٹ بھرتے رہنا قیامت کے دن تکلیف کا باعث نہ بنے۔
امت کے بد ترین لوگ:
عام طور سے مشاہدہ میں آیا جو فاسق، فاجر لوگ ہیں جن کے پیٹ بھرے ہوتے ہیں، مال کی کثرت ہوتی ہے ان کو آخرت اچھی نہیں لگتی اس کی تیاری کی فکر نہیں ہوتی، ان کو نبیu کے طریقے اچھے نہیں لگتے، اس میں سے وہ کیڑے نکال رہے ہوتے ہیں۔ نعوذ باللہ! تو یہ پیٹ بھروں کی باتیں ہوتی ہیں اس وجہ سے انسان پریشانی اور نقصان میں چلا جاتا ہے۔
مسلمان کم کھاتا ہے :
حدیث میں آتا ہے کہ مسلمان کم کھاتا ہے، مومن کم کھانے والا ہوتا ہے۔ اور یہ مشاہدے کی بات بھی ہے کہ کافر مسلمانوں سے بہت زیادہ کھاتا ہے۔ امی عائشہr سے روایت ہے کہ آنحضرتﷺ نے ایک غلام خریدنے کا ارادہ فرمایا اور خرید بھی لیا، خرید کے گھر لے آئے، جب کھانے کا وقت آیا تو سامنے کھجوریں رکھیں کہ کچھ کھالو۔ اس نے بہت زیادہ کھایا۔ جب بہت کھایا تو نبیu نے اس کو واپس کروادیا کہ اتنا زیادہ کھانے والا غلام نہیں رکھنا چاہیے۔ (مشکٰوۃ صفحہ368)
ایک حدیث میں آتا ہے کہ عبداللہ بن عمرt اس وقت تک کھانا نہیں کھاتے تھے جب تک ان کے ساتھ کوئی غریب شامل نہ ہوجائے (انتظار کرتے تھے)۔
(بخاری جلد2صفحہ812)
حضرت ابراہیمu غریب مہمان کا انتظار کرتے تھے۔ اب ایک دفعہ ایسا ہوا کہ ایک شخص کو لایا گیا جو غریب تو تھا بھوکا بھی تھا۔ ساتھ بیٹھا، اس نے بہت زیادہ کھانا کھایا ایک ہوتا ہے گزارے کے مطابق کھالینا کہ چلو بھوک بھی زیادہ ہے، توبھی ایک ترتیب ہوتی ہے، لیکن کچھ چیزیں بہت Overہوجاتی ہیں، تو انہوں نے فرمایا کہ دیکھو! آئندہ ایسے غریب کو یا اس غریب کو نہ لے کر آنا۔ حدیث میں آیا ہے کہ ایک مومن کا کھانا دو کے لیے کافی ہوجاتا ہے، دو کا چار کے لیے۔ اور ایک حدیث میں آتا ہے کہ دو کا تین کے لیے، تین کا چار کے لیے کافی ہوجاتا ہے۔ او ر ایک حدیث میں ہے کہ جماعت پر اللہ تعالیٰ کی مدد اور نصرت ہوتی ہے۔ (ترغیب جلد3صفحہ134)
مطلب یہ کہ مومن کا مقصد خواہشات کی تکمیل تو ہے نہیں، مومن کا تو کام ہے دنیا کی زندگی فقط گزارنی ہے۔ چنانچہ وہ کمی میں بھی گزارلیتا ہے، کم بھی کھالیتا ہے تو کوئی پریشانی نہیں۔ یا یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ لوگ زیادہ ہیں کھانا تھوڑا ہے تو برکت اتر آتی ہے۔ یایوں بھی کہا جاسکتا ہے کہ کھانا تھوڑا ہے لوگ زیادہ ہوگئے تو مومن ایثار اور قربانی دیتا ہے کہ بھئی سب کو تھوڑا تھوڑا حصہ مل جائے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے اللہ ہمیں اتباعِ سنت کی توفیق عطا فرمائے اور حضور پاکﷺ کی ایک ایک سنت کو شوق کے ساتھ، محبت کے ساتھ اپنانے کی توفیق عطا فرمائے تاکہ کل قیامت کے دن نبی کریمﷺ کی شفاعت ہمیں مل جائے۔ جو جتنی سنتوں کو زیادہ عمل میں لائے گا قیامت کے دن نبی کی شفاعت کا اتنا ہی زیادہ حق دار ہوگا۔
وَآخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُلِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْن

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں