کیا حضور ا نے بغیر عمامہ اور ٹوپی کے نماز پڑھی ہے؟

کیا حضور ا نے بغیر عمامہ اور ٹوپی کے نماز پڑھی ہے؟

سوال کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بغیر عمامہ اور ٹوپی کے نماز پڑھی ہے؟ اگر پڑھی ہے تو دلیل تحریر فرمائیں، یہاں پر شافعی المسلک کے لوگ حنفی المسلک کے لوگوں کو بہت بھڑکاتے ہیں۔

باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ

الجواب وباللّٰہ االتوفی

صراحۃً کسی دلیل سے یہ بات ثابت نہیں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلا ٹوپی کے نماز ادا فرمائی ہے؛ البتہ ایک روایت جس میں یہ ذکر ہے کہ ’’آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے صرف ایک کپڑے میں نماز پڑھی‘‘۔ (بخاری شریف ۱؍۵۴ حدیث: ۳۷۶) اس سے بعض لوگوں نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بغیر ٹوپی کے نماز ادا فرمائی؛ لیکن یہ استدلال تام نہیں ہے؛ اس لئے کہ حدیث میںننگے سر ہونے کا کوئی ذکر نہیں ہے؛ لہٰذا یہ بھی احتمال ہے کہ وہ ایک کپڑا ہی اتنا بڑا ہو جس سے سر سے پیر تک پورا بدن ڈھک گیا ہو، اور اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ واقعۃ اس وقت سر کھلا ہی ہوا تھا، پھر بھی اس سے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ بلاٹوپی ننگے سر نماز پڑھنا افضل ہے؛ کیوںکہ مذکورہ روایت کو صرف بیانِ جواز پر محمول کیا جاسکتا ہے، ورنہ اصل حکم یہی ہے کہ نماز کے وقت زیب وزینت اور آداب کا پورا خیال رکھا جائے، اور کوئی ایسی ہیئت اختیار نہ کی جائے جو وقار کے خلاف ہو، جیساکہ ارشادِ خداوندی ہے: {یٰبنِیْ اٰدَمَ خُذُوْا زِیْنَتَکُمْ عِنْدَ کُلِّ مَسْجِدٍ} [الأعراف: ۳۱] (اے آدم کی اولاد تم مسجد کی ہر حاضری کے وقت زینت اختیار کرو) اور بلاشبہ صلحاء کے عرف میں ننگے سر رہنا اَدب کے خلاف ہے۔
اسی بنا پر حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے بکثرت ٹوپی پہن کر نماز پڑھنا ثابت ہے۔ جیساکہ بخاری شریف میں تعلیقاً حضرت حسن بصریؒ کا اثر منقول ہے:

وقال الحسن البصري: کان القوم یسجدون علی العمامۃ والقلنسوۃ۔ (صحیح البخاري ۱؍۵۶)

وقد وصلہ عبد الرزاق عن ہشام بن حسان عن الحسن، وہٰکذا رواہ ابن أبي شیبۃ من طریقہ۔ (فتح الباري ۲؍۲۵۰ بیروت، المصنف لعبد الرزاق، الصلاۃ / باب السجود علی العمامۃ رقم: ۱۵۶۶)

اس لئے ٹوپی پہن کر نماز پڑھنا ہی افضل واولیٰ کہا جائے گا اور بلاعذر قصداً اس کے خلاف کرنا مکروہ ہوگا، چناںچہ حنفیہ کی کتبِ فقہ میں ننگے سر نماز پڑھنے کی کراہت مذکور ہے۔
وکرہ صلا تہ حاسراً أي کاشفاً رأسہ للتکاسل۔ (درمختار مع الشامي ۱؍۶۴۱ کراچی، شامي ۲؍۴۰۷ زکریا، ہندیۃ ۱؍۱۰۶، مجمع الأنہر ۱؍۱۲۴، الفتاویٰ التاتارخانیۃ ۲؍۲۰۲ رقم: ۲۱۴۷ زکریا) فقط

واللہ تعالیٰ اعلم

کتبہ: احقر محمد سلمان منصورپوری غفرلہ۲۵؍۱۲۱؍۱۴۱۴ھ
الجواب صحیح: شبیر احمد عفا اللہ عنہ

Leave a Reply