66

کیا زیرِ بغل بال کھینچنا سنت ہے؟

سوال
1:کیا زیرِ بغل بال کھینچنا سنت ہے؟

2: کیا مرد حضرات با ل صفا کریم (ریزر کی بجائے) استعمال کرسکتے ہیں؟

جواب
حدیث شریف میں ہے کہ  رسول اکرم ﷺ نے فرمایا:

“پانچ چیزیں انسان کی فطرتِ سلیمہ کے تقاضے اور دینِ فطرت کے خاص احکام ہیں: ختنہ، زیر ناف بالوں کی صفائی، مونچھیں تراشنا، ناخن لینا اور بغل کے بال لینا۔”

(صحیح مسلم، باب خصال الفطرۃ، ج:1، 221، ط:داراحیاء التراث العربی)

اور اسی فطرتِ انسانی کی وجہ سے  ان چیزوں کو دیگر انبیاء و مرسلین علیہم السلام کی سنت بھی قرار دیاگیا ہے۔ نیز ان سب افعال کو فطرت انسانی قرار دینے کی وجہ طہارت و صفائی اور پاکیزگی حاصل کرنا ہے۔

1- لہذا بغل کے بالوں کو صاف کرنا مسنون ہے، البتہ  اکھیڑ کر صاف کرنا صرف مستحب ہے؛ کیوں کہ اس طرح کرنے سے بغلوں سے بدبو نہیں آتی، البتہ ریزر  اور برقی مشین وغیرہ  کے ذریعے بھی کاٹے جاسکتے ہیں، شرعاً اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔

2- مردوں کے لیے زیرِ بغل بالوں کی صفائی کے لیے “بال صفا کریم” استعمال کرنا جائز ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

“(قوله ويستحب حلق عانته) قال في الهندية ويبتدئ من تحت السرة ولو عالج بالنورة يجوز كذا في الغرائب وفي الأشباه والسنة في عانة المرأة النتف (قوله وتنظيف بدنه) بنحو إزالة الشعر من إبطيه ويجوز فيه الحلقوالنتف أولى. وفي المجتبى عن بعضهم وكلاهما حسن، ولا يحلق شعر حلقه، وعن أبي يوسف لا بأس به ط.”

(كتاب الحظر والاباحة، باب الاستبراءوغيره، فصل فى البيع، فروع، ج:6، ص:406، ط:ايج ايم سعيد)

فقط والله أعلم 

فتوی نمبر : 144205200549

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں