144

کیا سر منڈانا سنت ہے ؟ یا کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج اور عمرہ کے علاوہ سر منڈایا ہے ؟

سوال
کیا سر منڈانا سنت ہے ؟ یا کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج اور عمرہ کے علاوہ سر منڈایا ہے ؟

جواب
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول بالوں سے متعلق یہ تھا کہ پورے سر کا حلق کرواتے تھے یا پورے سر کے بال رکھتے تھے، ایسا نہیں کرتے کہ بعض سر پر بال ہو ں اور بعض سر پر نہ ہوں، نیز روایات میں حلق صرف حج و عمرے کے مواقع پر ہی ثابت ہے، اس کے علاوہ دیگر مواقع پر آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے سر منڈوانا ثابت نہیں۔

البتہ بال رکھنا جس طرح سنت ہے، اسی طرح بال کاٹنے کو بھی بعض محدثین نے اور بالخصوص ہمارے فقہاء کرام نے سنت کہا ہے، اور ہر جمعہ بالوں کے حلق کو مستحب کہا گیا ہے۔

حضرت علی کرم اللہ وجہہ  آپ ﷺ کا یہ ارشاد نقل کرکے کہ” جنابت کے غسل میں اگر ایک بال بھی خشک رہ گیا تو اس کا غسل نہیں ہوگا۔۔۔الخ” فرماتے ہیں: اسی وجہ سے میں نے اپنے  بالوں سے دشمنی کرلی ، یعنی انہیں خوب جڑ سے کاٹتا ہوں،   اور آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہمیشہ سر کے بال حلق کیا کرتے تھے، علامہ طیبی رحمہ اللہ نے اس سے استدلال کیا ہے کہ جس طرح بال رکھنا سنت ہے اسی طرح بالوں کو خوب اچھی طرح  کاٹنا بھی سنت  ہے، ایک تو اس لیے  کہ آپ ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اس عمل کو دیکھا اور اس پر سکوت  فرمایا،  گویا یہ آپ ﷺ کی تقریر ہے، اور اہلِ علم جانتے ہیں کہ قول  اور فعل کی طرح تقریرِ رسول اللہ ﷺ بھی حدیث ہی ہوتی ہے۔ نیز خود حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ خلفائے راشدین میں سے ہیں جن کی سنتوں کے اتباع کا بھی ہمیں حکم ہے۔ تاہم ملاعلی قاری رحمہ اللہ نے اس  کو سنت  کہنے پر اشکال کیا ہے اور حلق کو رخصت کہا ہے۔ لیکن یہ بات بھی ملحوظ رہنی چاہیے کہ حضور ﷺ کے وصال کے بعد بھی حضرت علی رضی اللہ عنہ کا یہی معمول رہا اور کسی بھی صحابی رضی اللہ عنہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے اس فعل پر کبھی نکیر نہیں کی۔

علامہ نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہمارے علماء فرماتے ہیں : اگر کسی شخص کے لیے  بال رکھ کر اس میں تیل لگانا اور خیال کرنا مشکل ہو تو  اس کے لیے حلق مستحب ہے، اور جس کے لیے  بالوں کا خیال رکھنا مشکل نہ ہو  ان کے لیے بال رکھنا افضل ہے۔

زاد المعاد في هدي خير العباد (1/ 167):
“وكان هديه في حلق الرأس تركه كله أو أخذه كله، ولم يكن يحلق بعضه ويدع بعضه، ولم يحفظ عنه حلقه إلا في نسك”.

سنن أبي داود (1/ 65):
“عن علي رضي الله عنه، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «من ترك موضع شعرة من جنابة لم يغسلها فعل بها كذا وكذا من النار». قال علي: فمن ثم عاديت رأسي ثلاثاً، وكان يجز شعره”.

مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح (2/ 430):
فقط واللہ تعالیٰ اعلم

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں