117

:کیا مرد کے لیے اسلام میں شادی کرنا ضروری ہے ؟

سوال:کیا مرد کے لیے اسلام میں شادی کرنا ضروری ہے ؟ اگر کوئی انسان اپنی زندگی اللہ کی عبادت میں گزرنا چا ہیتو کیا اسلام اجازت دیتا ہے اور شادی جیسی پریشانی میں نہ پڑ ے کیا اسلام میں گنجائش ہے ؟ برا ئے مہربانی رہنمائی کریں۔
بسم الله الرحمن الرحيم

متعدد احادیث میں نکاح کرنے کا حکم مذکور ہے، ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے جوانو کی جماعت! تم میں جو شخص خانہ داری (نان ونفقہ) کا بار اٹھانے کی قدرت رکھتا ہو اس کو نکاح کرلینا چاہیے، کیونکہ نکاح کو نگاہ کے پست ہونے اور شرمگاہ کے محفوظ رہنے میں خاص دخل ہے، اور جو شخص قدرت نہ رکھتا ہو اس کو روزہ رکھنا اختیار کرنا چاہیے، کیونکہ وہ (روزہ) اس کے لیے گویا رگیں مل دیتا ہے۔ (مشکاة)اور دوسری حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب بندہ نکاح کرلیتا ہے تو آدھا دین کامل کرلیتا ہے اب اس کو چاہیے کہ نصف دین میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتا رہے، (ترغیب) اس طرح مختلف احادیث میں شادی نہ کرنے پر وعید آئی ہے، ایک حدیث میں ہے: من تبتل فلیس منا، جو شخص باوجود تقاضائے نفس وقدرت کے نکاح نہ کرے وہ ہمارے طریقہ سے خارج ہے۔ (کیونکہ یہ طریقہ نصاری کا ہے کہ وہ نفس نکاح کو وصول الی اللہ سے مانع سمجھ کر اس کے ترک کو (نکاح نہ کرنے کو) عبادت سمجھتے ہیں۔ ایک دوسری حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص نکا ح کرنے کی وسعت رکھتا ہو، پھر نکاح نہ کرے اسکا مجھ سے کوئی تعلق نہیں (ترغیب) ایک اور طویل حدیث میں روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عکاف (صحابی کا نام ہے) سے فرمایا: اے عکاف کیا تری بیوی ہے؟ انھوں نے عرض کیا نہیں، آپ نے فرمایا اور تو مال والا وسعت والا ہے، عرض کیا ہاں میں مال اور وسعت والا ہوں، آپ نے فرمایا تو اس حالت میں تو شیطان کے بھائیوں میں سے ہے، اگر تو نصاریٰ میں سے ہوتا تو ان کا راہب ہوتا، بلاشبہ نکاح کرنا ہمارا طریقہ ہے، تم میں سب سے بدتر وہ لوگ ہیں جو بے نکاح ہیں اور مرنے والوں میں سب سے بدتر وہ ہیں جو بے نکاح ہیں، کیا تم شیطان سے لگاوٴ رکھتے ہو، شیطان کے پاس عورتوں سے زیادہ کوئی ہتھیار نہیں جو صالحین میں کارگر ہو (یعنی عورتوں کے ذریعہ فتنہ میں مبتلا کرتا ہے) مگر جو لوگ نکا ح کیے ہوئے ہیں یہ لوگ پاکیزہ اور فحش سے بری ہیں اور فرمایا، اے عکاف تیرا برا ہو نکاح کرلے ورنہ پیچھے رہ جانے والوں میں سے ہوگا۔ (رواہ احمد جمع الفوائد)فقہاء نے بھی سوائے اس صورت کے کہ جب کہ عورت کے ساتھ ظلم کرنے کا اندیشہ یا یقین ہو تو اس صورت میں نکاح کو مکروہ یا حرام لکھا ہے، اس کے علاوہ کی صورتوں میں کم ازکم سنت موٴکدہ لکھاہے ور بعض مرتبہ فرض اور واجب بھی بتلایا ہے، نیز اس کو اشتغال بالتعلم والتعلیم والتخلی للنوافل (نفل عبادت وغیرہ سے) افضل کہا ہے۔ پتہ چلا کہ بغیر کسی وجہ کے شادی نہ کرکے اپنی زندگی اللہ کی عبادت میں گذارنے کی سوچ اسلامی سوچ نہیں ہے۔ حدیث شریف میں صراحتاً اس کی ممانعت آئی ہے، ”من تبتل فلیس منا“ حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ تحریر فرماتے ہیں ”بعض لوگ تو نکاح نہ کرنے کو عبادت وقربت سمجھتے ہیں حالانکہ یہ اعتقاد رہبانیت اور دین میں بدعت ہے، اصل عمل جس کا شریعت نے حکم دیا ہے نکاح ہی ہے تو اس کا ترک کرنا عبادت نہیں ہوسکتا“۔ (اصلاح انقلاب، بحوالہ اسلامی شادی: ۴۸)

واللہ تعالیٰ اعلم

دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں