26

کیا نسوار اور سگریٹ کے جیب میں ہونے سے نماز درست نہیں ہوتی؟

کیا نسوار اور سگریٹ کے جیب میں ہونے سے نماز درست نہیں ہوتی؟
سوال
بعض لوگوں کی یہ عادت ہے کہ جب مسجد میں نماز کے لیے آتے ہیں تو نسوار یا سیگرٹ نکال کر مسجد میں چپل کے اندر رکھ  لیتے ہیں، ان کا کہنا یہ ہے کہ اگر مذکورہ چیزیں جیب میں ہو ں تو نماز نہیں ہوتی۔ تفصیل سے جواب عنایت فرمائیں!

جواب
واضح رہے کہ نمازی کی نماز کے درست ہونے کے لیے ضروری ہے کہ اس کا بدن اور کپڑے پاک ہوں، اگر اس کے بدن یا کپڑوں پر درہم کی مقدار سے زائد کوئی نجاستِ غلیظہ لگی ہو  یا نجاستِ خفیفہ جس حصے پر لگی ہو، اس کے چوتھائی سے زیادہ ہو تو اس کی نماز نہیں ہو گی، یہی حکم نمازی کی جیب میں ناپاک چیز کے ہونے کا ہے کہ اگر نمازی کی جیب میں کوئی ناپاک چیز موجود ہو تو اس چیز کے جیب میں ہوتے ہوئے نماز درست نہیں ہو گی۔

تاہم مذکورہ اشیاء (نسوار اور سگریٹ) ظاہراً ناپاک نہیں ہوتیں، اس لیے اگر یہ اشیاء نمازی کی جیب میں موجود ہوں، تب بھی ان اشیاء سے اس کی نماز کی صحت پر کوئی اثر نہیں پڑے گا، اس کے ساتھ بھی نماز درست ہو جائے گی۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 402):

فقط واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں