20

کیا گانا بجانا، گانا سننا وغیرہ جائز ہے۔ قرآن و سنت سے وضاحت کریں؟

کیا گانا بجانا، گانا سننا وغیرہ جائز ہے۔ قرآن و سنت سے وضاحت کریں؟

گانا بجانا سننا حرام ہے اور شیطانی افعال میں سے ہے۔ قرآن مجید میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:
”اور لوگوں میں سے کچھ ایسے ہیں جو لہو الحدیث خریدتے ہیں تا کہ بگیر علم کے اللہ کی راہ سے لوگوں کو گمراہ کریں اور اس سے استہزاء کریں۔ یہی لوگ ہیں جن کے لئے رسوا کن عذاب ہے۔”ّ(لقمان)
اس آیت کی تفسیر میں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے تفسیر طبری میں جز۶ص٦١ پر مذکور ہے۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے (ومن النّاس من یّشتری لھو الحدیث)کے بارے میں تین مرتبہ قسم کھا کر کہا کہ لو الحدیث سے مراد گانا بجانا ہے۔ اس طرح مفسر قرآن سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے لہو الحدیث کی تفسیر گانا بجانا اور گانا سننا منقول ہے۔
سیدنا جابر، مجاہد اور عکرمہ جیسے جلیل القدر مفسرین نے بھی لہو الحدیث سے گانا بجانا وغیرہ ہی مراد لیا ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے ابلیس کو مہلت دی تو اسے کہا:
”اور ان میں سے جس کو بھی تو بہکا سکتاہے اپنی آواز سے بہکاتا رہے۔”(بنی اسرائیل :۶۴)
اس آیت کی تفسیر میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اس آیت سے مراد:
”ہر وہ آدمی ہے جو اللہ کی نافرمانی کی طرف دعوت دیتا ہے۔”
سیدنا مجاہد نے اس آیت کی تفسیر یہ مروی ہے کہ اس سے مراد گانا بجانا اور لہو و لعب ہے۔ (تفسیر ابنِ کثیر ٣۳/۴۰٤٠) یعنی وہ تمام آوازیں (جیسا کہ گانا بجانا، عشقیہ اشعار وغیرہ) جو اللہ تعالیٰ کی نا فرمانی کی طرف بلاتی ہیں، وہ اس آیت کا مصداق ہیں۔
بخاری شریف میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”میری امت میں ایسی قومیں ہوں گی جو زنا ، ریشم، شراب اور باجے گاجے حلال سمجھیں گی۔” (کتاب الاشربہ بخاری مع فتح الباری (۲)۵۳/۱۰)
یعنی زنا ، ریشم ، شراب اور باجے گاجے جن کو شریعت نے حرام قرار دیا ہے، بعض لوگ انہیں حلال سمجھیں گے۔ اور آج وہ قومیں اکثر پائی جاتی ہیں جو گانا بجانا شراب وغیرہ کوئی عیب نہیں سمجھتیں بلکہ گانے بجانے کے آلات، ٹی وی ، وی سی آر اور گانوں کی کیسٹوں کی صورت میں ان کے گھروں میں موجود ہیں بلکہ شیطانیت اس قدر ترقی کر رہی ہے کہ ڈش انٹینا کی صورت میں اس برائی کو دن رات پھیلا یا جا رہا ہے اور مسلمانان عالم کی ذلت کے سبب بھی یہی ہے کہ انہوں نے اپنی اسلامی تہذیب ترک کر کے غیر مسلموں اور ہندوؤں وغیرہ کی تہذیب و تمدن کو اپنا لیا ہے اور ان کی پیروی میں گانا بجانا اور رقص وغیرہ کو اپنا لیا ۔ اللہ تعالیٰ حرام سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے:
حضرت ابی مالک اشعری کہتے ہیں:
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، البتہ میری اُمت میں سے لوگ ضرور شراب پئیں گے اور اس کے نام کے علاوہ کوئی اور نام رکھیںگے ۔ ان کے سروں پر باجے گاجے بجائے جائیں گے اور گانے والیاں (گانے گائیں گی) ۔ اللہ تعالیٰ انہیں زمین میں دھنسا دے گا ان میں سے بندر اور سور بنا دے گا۔” (ابنِ ماجہ، کتاب الفن۱۳۳۳/۲)
امام ابنِ قیم نے اس حدیث کی سند کو صحیح قرار دیا ہے اس طرح علامہ البانی نے بھی اس سلسلہ صحیحہ میں شمار کیا ہے۔ عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”اس اُمت میں زمین میں دھنسانا، صورتین بدلنا اور پتھروں کی بارش جیسا عذاب ہو گا تو مسلمانوں میں سے ایک مرد نے کہا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم یہ کب ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب گانے والیاں اور باجے ظاہر ہوں گے اور شرابیں پی جائیں گی۔” (سلسلۃ الاحادیث الصحیحہ۱۶۰۴، کتاب الفتن، صحیح ترمذی۲۴۲/۲)
ان احادیث سے معلوم ہوا کہ گانا بجانا ، آلاتِ لہو مثلاً ٹی وی ، وی سی آر، وی سی پی، ویڈیو گیمز اور گانے وغیرہ کی کیسٹیں تمام شیطانی آلات سے ہیں ۔ ان کا بجانا اور سننا حرام ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ان تمام برائیوں سے محفوظ رکھے۔”
ہذا ما عندی و اللہ اعلم بالصواب

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں