162

ہدیہ کے لین دین میں احتیاط

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ وَ کَفٰی وَ سَلٰمٌ عَلٰی عِبَا دِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی. أَمَّا بَعْدُ:
فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِيْمِ o بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِo
يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا ادْخُلُوْا فِي السِّلْمِ كَآفَّةً (البقرۃ: 208)
سُبْحٰنَ رَبِّکَ رَبِّ الْعِزَّۃِ عَمَّا یَصِفُوْنَo وَ سَلٰمٌ عَلَى الْمُرْسَلِیْنَo
وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَo
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَامُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِ نَامُحَمَّدٍوَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَامُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِ نَامُحَمَّدٍوَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَامُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِ نَامُحَمَّدٍوَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ

پورے دین پر عمل کرنے کا حکم
اللہ ربّ العزّت ارشاد فرماتے ہیں: اے ایمان والو! اے میرے ماننے والو! میرے محبوبﷺ کو ماننے والو! تم پورے کے پورے اسلام میں داخل ہوجائو۔ تم پورے کے پورے دین پر عمل کرو۔ اللہ ربّ العزّت نے مطالبہ پورے دین پر عمل کرنے کا رکھا ہے۔ من مرضی والا عمل کرنے کا نہیں رکھا۔ آج ہمارا معاملہ یہ ہے کہ جس سنت کو میٹھا میٹھا آسان سمجھتے ہیں  وہ کرلیتے ہیں، اور جس سنت پر عمل کرتے ہوئے ہمارے رسم ورواج پر ضرب پڑے، جس سنت پر عمل کرتے ہوئے ہمارے معاشرے کی تہذیب پر فرق پڑے، جس سنت پر عمل کرتے ہوئے ہمیں یہ محسوس ہو کہ کوئی ہمیں مولوی کہہ دے گا یا کوئی ملّا کہہ دے گا، تو اس سنت پر عمل نہیں ہوتا۔ مثال کے طور پر شادی بیاہ کے موقع پر کتنی مرتبہ ہم نے سنا ہوگا کہ مہندی، مائیوں، مکلاوا ہوتا ہے۔ ان سب چیزوں کا اسلام سے بہرحال کوئی تعلق نہیں ہے۔ نبی نے چار بیٹیوں کی شادیاں کیں، کیا کسی میں یہ باتیں سننے کو ملیں؟ صحابہ کرا نے شادیاں کیں، کیا کسی جگہ ہمیں یہ بات سننے کو ملی کہ مکلاوا ہوا ہو؟ یہ دو ہی باتیں ہیں: نکاح اور ولیمہ۔ آج کسی نوجوان کو کہہ دو کہ بیٹا! شادی سنت کے مطابق کرلو۔ وہ تیار نہیں ہوتا۔ تو جو سنتیں ہمارے لیے بہت ہی آسان ہیں جس میں کسی کی کوئی بات سننی نہ پڑے ان میں سے تو بعض ہم کرلیتے ہیں، لیکن اللہ تعالیٰ کی طرف سے تو مطالبہ ہے کہ پورے کے پورے دین میں داخل ہوجائو، ہر عمل کو سنت کے مطابق کرو۔ تمہارا چلنا سنت کے مطابق، تمہارا بولنا سنت کے مطابق، تمہارا لباس سنت کے مطابق، تمہارا چہرہ سنت کے مطابق۔
گردن کٹانے کو تیار مگر؟
آج کسی سے پوچھو کہ کیا تم نبی کریمﷺ کی محبت میں جان دینے کے لیے تیار ہو؟ گردن کٹوانے کے لیے تیار ہو؟ ہم مسجد میں بیٹھے ہیں، اللہ کے گھر میں بیٹھے ہیں۔ کسی سے بھی پوچھ لیں، فوراً کہے گا کہ جی! میں فوراً جان دینے کے لیے تیار ہوں، نبی کے لیے گردن کٹوانے کے لیے تیار ہوں۔ اس دعویدار سے صرف اتنا کہہ دو: اچھا! تم گردن کٹوانے کے لیے تیار ہو خدا کے لیے، جسم کے بال چہرے کے بال ہی نبیd کے مطابق بنوا لو، سر کے بال ہی نبی کے مطابق کٹوالو، تو بھاگ جائیں گے۔ اصل یہ ہے کہ دین پر عمل ہو، ہر کام سنت کے مطابق ہو۔ یہ جو ’’گلدستۂ سنت‘‘ کے بیانات ہیں الحمدللہ! Whatsappپہ بھی آرہے ہیں، ویب سائٹ پہ بھی ہیں، اور ان کی کتابیں بھی آنی شروع ہوگئی ہیں۔ یہ سب اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہو رہا ہے۔ اس کے اندر ترغیب دی جارہی ہے کہ ایک ایک سنت کو، آقاﷺ کی ایک ایک بات کو کھولا جائے۔ میرے اپنے علم میں بھی آئے، عمل میں بھی آئے اور بھی ساتھیوں کو معلوم ہوجائے اور ان کے عمل میں آجائے۔ اِن شاء اللہ نجات کا ذریعہ بن جائے گا۔
یاد رکھیں! قیامت کے دن ہر عمل کو دیکھا جائے گا سنت کے مطابق ہے یا سنت کے خلاف ہے؟ جو عمل سنت کے خلاف ہوگا، اس کو باہر اُٹھا کر پھینک دیا جائے گا۔ یہ ہمارےرسم و رواج اللہ تعالیٰ کے ہاں کوئی قیمت نہیں رکھتے۔
ہدیہ میں تین باتوں کا خیال رکھنا
اس تمہید کے بعد آج کی سنت کے عنوان سے بات کو لیتے ہیں۔ ہدیہ لینا اور ہدیہ دینا اس بارے میں کچھ باتیں ہوچکی ہیں۔ ہدیہ کے سلسلے میں تین باتیں قابلِ غور ہیں۔ اِمام غزالی نے فرمایا ہے کہ ہدیہ لینے اور دینے اس میں تین باتوں کا خیال رکھا جائے:
پہلی بات تو یہ کہ مال (دیکھا جائے کہ جو لے رہا ہے، یا دے رہا ہے، یہ حرام نہ ہو، یہ حلال ہو)
دوسری بات یہ کہ دینے والے کی غرض کیا ہے؟ کیوں دے رہا ہے؟ ہدیہ دیا جاتا ہے محبت کے لیے، اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے، تعلق کو بڑھانے کے لیے، دین کے لیے۔ دینے والے کی غرض کیا ہے؟ اسے دیکھنے کی ضرورت ہے۔
تیسری بات یہ کہ لینے والے کی غرض کیا ہے؟ کیوں قبول کر رہا ہے؟ حلال مال ہو، اس میں دینے والے کی نیت بھی شمار ہوگی اور لینے والے کی بھی نیت شمار ہوگی۔ اگر دینے والے کی نیت یہ ہے کہ میرے بھائی کا دل خوش ہو جائے، محبت بڑھ جائے، تعلق بڑھ جائے تو بہت اچھی نیت ہے۔ جتلانا مقصود ہے تو پھر غلط ہوگا۔ اسی طرح ہدیہ لینے والے کو بھی غور کرنا چاہیے کہ میں کیوں لے رہا ہوں؟ اگر کوئی رشتہ داری کا تعلق ہے، محبت کا تعلق ہے، تب تو بالکل ٹھیک ہے لینا چاہیے۔ اگر دین داری کی نسبت سے لے رہا ہے اور دینے والا اس کو عالم سمجھ کے دے رہا ہے کہ نیک، متقی آدمی ہے، اب اس پر مسئلہ ہے۔ باریک بات ہے، سمجھنے سے تعلق رکھتی ہے۔ اگر لینے والا شخص تنہائی میں کسی ایسے بڑے گناہ کا مرتکب ہوتا ہو جس کا اگر دینے والے کو پتا لگ جائے کہ یہ صاحب تو ایسے ہیں، پھر وہ نہ دے۔ اب اس لینے والے کو چاہیے کہ ہدیہ نہ لے، کیوںکہ دینے والا تقویٰ کی بنیاد پر دے رہا ہے، ذاتی حیثیت میں نہیں دے رہا اور لینے والا جانتا ہے کہ میں تو ایسا ہوں نہیں، تو پھر اسے نہ لینا چاہیے۔ دونوں کی نیت کا اعتبار ہوتا ہے۔ جیسے اگر کسی آدمی کو سید سمجھ کے دے رہا ہے اور اصل میں وہ سید نہیں ہے، اب اس کے لیے لینا جائز نہیں ہوگا۔ اس بات کو بہت سمجھنے کی ضرورت ہے۔
متکبرین کی دعوت قبول کرنے کی ممانعت
حدیث شریف میں فخر کرنے والوں کے ہاں کھانا کھانے سے منع فرمایا ہے۔ جیسے کہ کچھ لوگ بڑی محبت اور عقیدت سے گھر بلاتے ہیں، وہاں تو جانا چاہیے۔ اور کچھ لوگ فخر کے طور پر بلاتے ہیں کہ جی! ہم نے یہ دعوت کی، اتنے لوگوں کو بلایا، یا اتنی Dishes تھیں، بیس بیس طرح کے کھانے تھے۔ جیسے یہ منع ہے، ایسے ہی ہدیہ دینے والے کی غرض اگر Photosession کی ہے۔ علاقے میں لوگوں کو بتانا ہے کہ بھئی! فلاں صاحب کو میں نے ہدیہ دیا ہے تو یہ سب چیزیں ٹھیک نہیں ہیں، اور ایسے آدمی سے ہدیہ نہیں لینا چاہیے۔ اس بارے میں علماء نے لکھا ہے کہ ہدیہ دینے والا گناہ کر رہا ہے، اور لینے والا گناہ میں مدد کررہا ہے۔
وَ تَعَاوَنُوْا عَلَى الْبِرِّ وَ التَّقْوٰى ١۪ وَ لَا تَعَاوَنُوْا عَلَى الْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ١۪(المائدۃ: 2)
ترجمہ: ’’نیکی اور تقویٰ میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرو، اور گناہ اور ظلم میں تعاون نہ کرو‘‘۔
حضرت سفیان ثوری فرماتے تھے کہ اگر مجھے یقین ہو جائے کہ مجھے ہدیہ دینے والا فخر کے طور پر کہیں اس کا ذکر نہیں کرے گا تو میں لے لیتا ہوں، اور اگر مجھے یقین ہو جائے کہ یہ مجھے دے گا اور جگہ جگہ بتائے گا اور فخر کرے گا کہ جی! میں نے تو مولانا صاحب کو یہ دیا تھا، تو میں ایسے شخص کا ہدیہ قبول نہیں کرتا۔
تعلق بنانے کا نبوی نسخہ
حدیث شریف میں ارشادِ نبویﷺ ہے:
تَھَادَوْا تَحَابُّوْا. (الأدب المفرد للبخاري: رقم 594)
ترجمہ: ’’تم آپس میں ہدیہ دو، اس سے محبت بڑھے گی‘‘۔
عام طور سے ہدیہ لینا اور ہدیہ دینا دونوں سنت ہے۔ رشتہ داروں کو دینا، چاہے بھائی بھائی کو دے، بہن بہن کو دے، بہن بھائی کو دے۔ محرم رشتے دار آپس میں ہدیہ دیتے ہیں تو محبت بڑھتی ہے۔ آج ہر گھر میں بہو اور ساس کی لڑائی ہے، اس لڑائی کو ختم کرنے کے لیے بہترین طریقہ یہ ہے کہ بہو ساس کو ہدیہ پیش کرے۔ اِن شاء اللہ دلوں میں گنجائش پیدا ہوجائے گی۔ یہ نبوی فارمولا ہے، عمل کرکے دیکھ لیجیے۔ پکی بات ہے۔
حضرت ابوہریرہ روایت کرتے ہیں کہ نبیﷺ نے ارشاد فرمایا:
تم آپس میں ہدیہ دو، اس لیے کہ ہدیہ دل کی گھٹن کو ختم کرتا ہے۔
(سنن ترمذی: 2130)
علامہ ابنِ عبدالبر لکھتے ہیں کہ اتباعِ سنت میں ہدیہ دینے کی وجہ سے آپس میں محبت پیدا ہوتی ہے اور نفرت ختم ہوجاتی ہے۔ (فتح المالک: 358/9)
تو ساس بہو کے جھگڑوں، گھریلو جھگڑوں کو ختم کرنے کا نبوی طریقہ ہے کہ آپس میں ہدیہ دیا جائے۔ نبی نے اس کی ترغیب دی ہے۔ لیکن بعض معاملات ایسے ہوتے ہیں کہ انسان ایسے آدمی سے ہدیہ لے لیتا ہے جس نے اس کے پیسے دینے ہوں، جو اس کا مقروض ہو۔ مقروض آدمی سے ہدیہ لینا منع ہے۔ یہ سود میں شامل ہوجاتا ہے۔
اپنے قرضدار سے ہدیہ لینے کی ممانعت
حضرت انس فرماتے ہیں کہ نبی نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی آدمی دوسرے کو قرض دے اور یہ مقروض اسے ہدیہ پیش کرے، تو اسے قبول نہ کرے۔ اپنی سواری پر بٹھائے تو اس کی سواری پر نہ بیٹھے۔ ہاں! اگر قرضے کا معاملہ ہونے سے پہلے آپس میں ہدیہ لینے دینے کا معاملہ تھا، تب ٹھیک ہے (ورنہ نہیں)۔ (سنن ابن ماجہ: رقم 2432)
کیوںکہ جس شخص کو قرض دیا گیا ہے اس سے ہدیہ لینا، یا کسی قسم کا نفع حاصل کرنا یہ درست نہیں، یہ سود کی ایک شکل ہے۔
حضرت ابو بردہ فرماتے ہیں کہ میں مدینہ طیبہ آیا تو میری ملاقات حضرت عبداللہ بن سلام سے ہوئی۔ انہوں نے مجھ سے فرمایا: آپ جس جگہ سے آئے ہیں، وہاں سود عام ہے۔ پس اگر آپ کا کسی آدمی پر کوئی حق ہو (مثلاً آپ نے کسی کو قرضہ دیا ہو) اور اگر وہ (مقروض) آپ کو تحفہ میں ایک بوجھ بھوسہ دے، یا جَو دے، یا جانور کا چارہ دے ،تب بھی مت لینا اس لیے کہ وہ سود ہے۔ (صحیح بخاری: رقم 3814)
ملا قاری علیm شرح مشکوٰۃ میں لکھتے ہیں کہ ہدیہ میں جانوروں کے چارے کا جو ذکر کیا گیا ہے، یہ بہت ہی معمولی چیز ہے۔ انسان ایسی معمولی چیز کو غور ہی نہیں کرتا اور لے لیتا ہے۔ فرمایا کہ جس کو تم نے قرض دیا ہوا ہے مقروض آدمی سے چھوٹی، معمولی چیز بھی ملے تو وہ بھی مت لینا۔ (مرقاۃ: 315/3)
اس سے معلوم ہوا کہ احتیاط کرنے کی ضرورت ہے۔ قرض سے فائدہ اُٹھانا یہ سود ہے، یہ حرام ہے۔ اس چیز سے نبی نے منع کیا ہے۔ آج کل کے ماحول میں ایک تو احتیاط نہیں برتی جاتی، بلکہ اُلٹا اپنا حق سمجھا جاتا ہے۔ ایک آدمی نے کسی کو پیسے دے دیے، اب مقروض لوٹا نہیں پا رہا۔ اب یہ دینے والا چاہتا ہے کہ یہ میری خدمت ہی کرتا رہے، اور یہ اس سے فائدے ہی اُٹھاتا رہے، جانی و مالی خدمت لیتا رہے، یہ سب سود کے اندر شامل ہوجائے گا اور حرام ہوگا۔
امامِ اعظم کا کمالِ احتیاط
ایک مرتبہ امام اعظم ابوحنیفہ دھوپ میں بیٹھے ہوئے تھے۔ کسی نے کہا کہ حضرت! یہاں دیوار کے سایہ میں چھائوں ہے آپ اِدھر آجائیے۔ فرمایا: میں نہیں آتا۔ لوگ بلاتے رہے اور یہ منع کرتے رہے۔ لوگوں میں ایک شخص بڑا سمجھ دار تھا۔ اس نے سوچا کہ اتنے بڑے فقیہ ہیں، متقی ہیں، تو نہ آنے کی کوئی نہ کوئی بات تو ہوگی۔ چناںچہ اس نے قسم دے کر پوچھا: حضرت! کیوں نہیں آتے، وجہ بتائیں۔ جب قسم دے دی تو امام اعظم کہنے لگے: دیکھو! اس صاحبِ مکان پر میرا قرضہ ہے، مجھے اس سے پیسے لینے ہیں۔ اگر میں اس کی دیوار کے سائے میں آگیا تو ایسا نہ ہو کہ میں مقروض کے مال سے نفع اُٹھانے والا بن جائوں جو کہ حرام ہے۔ دھوپ برداشت کر رہا ہوں، لیکن اپنے مقروض آدمی سے اتنا فائدہ بھی لینا نہیں چاہتا۔
ایک اللہ والے کی حکایت
اسی طرح ایک اللہ والے چلتے ہوئے جا رہے ہیں۔ سائے میں چل رہے تھے۔ اچانک ایک Building آئی تو ہٹ کر دھوپ میں آگئے۔ جب Building پار کرلی تو پھر سایہ میں آگئے۔ کسی نے پوچھا: حضرت! یہ کیا بات ہوئی؟ کہنے لگے: یہ صاحبِ مکان میرا مقروض ہے، میں اس کے مکان کے سائے سے بھی فائدہ نہیں اُٹھانا چاہتا۔
آج ہم تو گروی رکھے مکان کو پورا ہی لے لیتے ہیں، اُس سے فائدہ اُٹھاتے ہیں۔  ارے بھائیو! جامعہ اشرفیہ جائیں، علماء سے پوچھیے، مفتی حضرات سے پوچھیے، کیا یہ جائز بھی ہے یا نہیں؟ ہم گناہ میں تو ملوث نہیں ہو رہے؟ بات کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔
کیا پچاس ہزار کی خاطر دل خراب کریں؟
امام اعظم ابو حنیفہ کا عجیب قصہ نقل کیا گیا ہے۔ سچی بات ہے کہ اگر ہمیں تعلقات نبھانے ہیں تو اپنے بڑوں کے حالات کا مطالعہ کریں۔ ان کی سیرت کے بڑے درخشاں پہلو ہیں۔ چناںچہ ایک عام آدمی تھا۔ اسے پیسوں کی ضرورت پڑی تو امام صاحب کے پاس آیا اور پچاس ہزار درہم بطور قرض لے گیا۔ اس کے بعد کبھی راستے میں آمنا سامنا ہونے لگتا تو کبھی اس گلی میں گھس جاتا، کبھی اس گلی میں گھس جاتا۔ غرض یہ کہ حضرت کا سامنا ہی نہ کرتا۔ کئی دفعہ ایسا ہوا۔ ایک دن حضرت دیکھ رہے تھے کہ وہ چھپنے کے لیے اِدھر اُدھر دوڑ رہا ہے۔ حضرت نے محسوس کرلیا اور اس کا پیچھا کرکے پکڑ لیا۔ کندھے پہ ہاتھ رکھا اور کہا کہ بھائی! کیا ہم سے دوڑے جاتے ہو؟ کیا معاملہ ہوا؟ یہ چھپ ہوگئے، کوئی جواب نہ بَن پڑا۔ حضرت کہنے لگے: اچھا! مجھے محسوس ہوتا ہے کہ تم نے جو میرے پچاس ہزار دینے ہیں یا تو تمہارے حالات ٹھیک نہیں ہیں، یا تم دے نہیں سکتے، یا کوئی اور بات ہے۔ اب اس نے کہا کہ حضرت! بات یہ ہے کہ پیسے تو ہیں، پر دینے کا دل نہیں کر رہا۔ امام صاحب نے فرمایا: اچھا بھئی! چلو چھوڑو، کیا پچاس ہزار کی خاطر دل خراب کریں؟ سارے تمہیں معاف، لیکن ملاقات تو رہنی چاہیے، آنا جانا رکھو، مسلمان ہیں، ملاقات رہنی چاہیے۔
اللہ اکبر! پیسہ سارا معاف کر دیا۔ تو یہ حضرات مقروض سے کسی قسم کا نفع نہیں اُٹھاتے تھے۔ ہمیں اس میں احتیاط کرنی چاہیے اور بچنا چاہیے۔ کچھ ہدیے ایسے ہوتے ہیں جنہیں واپس کرنے سے منع کیا گیا ہے۔
ہدیہ واپس کرنے کی ممانعت
حضرت عبداللہ بن عمر روایت کرتے ہیں کہ نبی نے فرمایا: تین چیزیں (ہدیہ کی ہوئیں) واپس نہیں کی جاتیں:
(۱) تکیہ (۲) دودھ (۳) اور خوشبو۔
(سنن الترمذي:باب ما جاء في کراھیۃ ردّ الطیب)
ایک اور حدیث میں نبی نے ارشاد فرمایا: جب تمہیں کوئی عطر پیش کرے تو اسے سونگھ لو۔ اور جب تمہارے پاس کوئی شیرینی (میٹھی چیز) لے کر آئے (اگر کوئی شرعی ممانعت یا قباحت نہ ہو، تو) اسے کھالو۔ (مجمع الزوائد: رقم 8767)
صحابہ کرام اللہ کے نبی کو کھانے کی دعوت دیا کرتے تھے اور آپﷺ ان کی دعوت کو رد نہیں فرمایا کرتے تھے۔ کوئی گھر سے گوشت پکا کر لاتا، یا ویسے ہی لے آتا تو نبی قبول فرما لیا کرتے تھے۔ خیبر کے موقع پر حضرت جابر کی دعوت کا قصہ مشہور ہے۔
بخاری شریف میں ہے کہ حضرت انس خوشبو کا ہدیہ واپس نہیں لوٹایا کرتے تھے۔ اور ان کا خیال یہ تھا کہ جنابِ رسول اللہﷺ خوشبو کا ہدیہ واپس نہیں لوٹایا کرتے تھے (اس لیے حضرت انس بھی نہیں لوٹاتے تھے)۔ (صحیح بخاری: رقم 5585)
حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ حضورِ پاکﷺ نے ارشاد فرمایا: جسے خوشبو دار پھول تحفہ کے طور پر دیا جائے، اسے واپس نہ کرے، اس لیے کہ یہ (پھول) اٹھانے میں ہلکا ہے، اور خوشبودار ہے۔ (صحیح مسلم: رقم 2253)
ایک روایت میں آتا ہے کہ جب تمہیں کوئی خوشبو دار پھول ہدیتاً دے تو اسے واپس نہ کرو کہ یہ پھول جنت سے آیا ہے۔ (سنن ترمذی: رقم 2791)
اس کی اصل جنت ہے۔ کتنی خوبی کی بات ہے۔
ہدیہ دینے والے کو بدلہ کیسے دیں؟
حضرت عبداللہ بن عمرi سے روایت ہے کہ نبی نے فرمایا: جو تمہارے ساتھ بھلائی کا معاملہ کرے، تم اس کو بدلہ دو (بہتر ادا کرنے کی کوشش کرو)۔ اگر ادا نہیں کرسکتے (گنجائش نہیں) تو اس کے لیے اتنی دعائیں کرو یہاں تک تمہیں یقین آجائے کہ اب تم نے اس (کے احسان) کا بدلہ دے دیا ہے۔
(سننِ ابی داؤد: رقم 1672)
یہ تو آقاﷺ کی اپنی امت تعلیم کو ہے کہ احسان کرنے والے کے احسان کو مانو۔ اس کے ساتھ بھلائی کرو۔ بھلائی نہیں کرسکتے، طاقت نہیں ہے، حیثیت نہیں ہے تو پھر اس کے لیے خوب دعائیں مانگو۔ بھلا کب تک؟ جب تک دل گواہی دینے لگے کہ اب بدلہ دے دیا ہے۔
اور ہمارے ہاں کیا ہوتا ہے؟ اگر لڑکی والے جہیز میں بہت کچھ بھی دے دیں، مگر پھر بھی لڑکا اور اس کی ماں زندگی بھر روتے ہی رہتے ہیں۔ حالانکہ اگر لڑکی والے جہیز کی صورت میں کچھ دے رہے ہیں تو یہ لڑکی کے باپ کا اِحسان ہے۔ اِحسان کو ماننے کی ضرورت ہے۔ یہ اس کا اِحسان ہے کہ اس نے اپنی بیٹی بھی دی ہے اور ساتھ کچھ سامان بھی دے رہا ہے۔ علماء نے فرمایا ہے کہ لڑکی والوں سے کچھ مانگنا یہ نہایت ہی بے غیرتی کی بات ہے۔ اسلام اس چیز کو گوارا نہیں کرتا۔ وہ بہ خوشی و رغبت کچھ دے دیں، تو ان کا اِحسان ماننے کی ضرورت ہے۔ ان کا شکریہ ادا کریں کہ اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر دے۔ اس طرح کے رویے کی ضرورت ہے۔ تو فرمایا کہ بدلہ دو، بدلہ نہیں دے سکتے تو اب تم اس کے لیے ذکرِ خیر ہی کر دو۔
نبی نے اس کو امت کے غریبوں کے لیے آسان کر دیا۔ حضرت اُسامہ بن زید کی روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا: جس نے احسان کرنے کے والے کو جَزَاکَ اللہُ خَیْرًا کہہ دیا، اس نے گویا پوری تعریف کی۔
(سنن ترمذی: رقم 1958)
آپ کو کسی نے ہدیہ دیا اور آپ نے اسے کہہ دیا جَزَاکَ اللہُ خَیْرًا (اللہ پاک آپ کو بہترین بدلہ دے) یہ دعا اس کے احسان کا بدلہ ہوگیا۔ Thank You بھی بول سکتے ہیں یا نہیں، شکریہ بھی بول سکتے ہیں کہ نہیں؟ یہ تو علماء بتائیں گے، لیکن جَزَاکَ اللہُ خَیْرًا بولنا یہ عین سنت ہے۔
دعا دینے میں بخل نہیں کرنا چاہیے
اسی طرح Message پر بعض دفعہ ہم نے ساتھیوں کو دیکھا کہ وہ جب جَزَاکَ اللہُ کہنا چاہتے ہیں تو پورا جَزَاکَ اللہُ خَیْرًا نہیں لکھتے۔ چاہیے کہ جَزَاکَ اللہُ خَیْرًا پورا لکھیں۔ سنت ادا ہوگی۔ پھر بعض احباب ایسے ہوتے ہیں کہ وقت کی کمی ہے، بڑے ہی مصروف ہوتے ہیں تو JZKلکھ دیتے ہیں۔ لفظ اللہ کا بھی Short Cut اور سارا کچھ اس میں آگیا۔ میرے بھائی! پورالکھیں جَزَاکَ اللہُ خَیْرًا۔ اول تو عربی میں لکھیں، عربی نہیں لکھنی آتی تو اردو میں ہی لکھ دیں۔ انگریزی میں لکھنا ہے تو پورے کلمات کے ساتھ لکھیں، اس کو مختصر نہ کریں۔ السلام علیکم لکھنا ہوتا ہے تو اس کا بھی مختصر بنایا ہوا ہے۔ کل کو پانچ نمازوں میں بھی کوئی شارٹ کٹ آجائے گا۔ اللہ تعالیٰ ہماری حفاظت فرمائے۔ دعا دینے میں کسی طور پر بخل نہ کریں۔ دعا پوری دینے کی عادت ڈالیں۔ اسے اپنی زندگی میں لانے کی کوشش کریں۔
ہدیہ میں شرکت
بعض مرتبہ ایسی صورت حال پیش آتی ہے، معاملہ پیش آتا ہے کہ کوئی مجلس میں بیٹھا ہوا ہے۔ بھری مجلس میں ایک آدمی ہدیہ دیتا ہے۔ جیسے کوئی عالم ہیں، کوئی شیخ ہیں، کوئی مفتی صاحب بیٹھے ہوئے ہیں۔ کوئی آدمی ہدیہ لاتا ہے، اس سلسلے میں نبی کی کیا تعلیمات ہیں؟ اس کو بھی ذرا غور سے سن بھی لیا جائے، عمل کی نیت سے سمجھ بھی لیا جائے۔ جیسی نیت ہوگی ویسا معاملہ ہوگا۔ ابھی نیت ہوگی کہ عمل کریں گے تو آسانی ہوگی۔
حضرت عبداللہ بن عباس سے روایت کہ نبی نے فرمایا: جسے کوئی ہدیہ پیش کیا گیا اور لوگ اس کے پاس موجود ہوں، تو وہ موجود لوگ اس ہدیہ میں شریک ہیں۔ فَھُمْ شُرَکَاءُ. موجودین اس ہدیہ میں شریک ہیں۔ (سنن کبریٰ للبیہقی: رقم 12036)
حضرت حسن بن علی فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ کا ارشاد ہے: جس کے پاس کوئی ہدیہ آئے اور لوگ وہاں مجلس میں بیٹھے ہوں تو وہ اس ہدیہ میں شریک ہیں۔
(مجمع الزوائد: 6729)
نبی سے بھی بعض اوقات اہلِ مجلس کو ہدیہ میں شریک کرنا ثابت ہے۔ مثلاً حضرت ابو سعید خدری سے روایت ہے کہ نبی کی خدمتِ اقدس میں ہندوستان کے بادشاہ نے گھڑا بھیجا جس میں زنجبیل تھی، نبی نے تھوڑی تھوڑی سب کو کھلائی، اور مجھے بھی تھوڑی کھلائی۔ (مستدرکِ حاکم: رقم 7272)
روایت ہے کہ کسریٰ نے آپﷺ کی خدمت میں شہد کی مانند ایک میٹھی چیز بھیجی۔ نبی نے اپنے اصحاب میں تھوڑا تھوڑا تقسیم فرمایا۔ حضرت جابر کو بھی دیا۔ ان کو پھر دوبارہ سے دیا۔ انہوں نے یاد دلایا کہ میں تو اپنا حصہ لے چکا ہوں۔ نبی نے فرمایا:  یہ میں آپ کو آپ کی بہنوں کے لیے دے رہا ہوں۔ (سبل الہدیٰ: 27/9)
نبی سے یہ بات ثابت ہے کہ بعض مرتبہ کوئی ہدیہ آتا تو ساتھیوں کو شریک کرلیتے تھے۔ حضرت ابو ذر غفاری فرماتے ہیں کہ نبی کی خدمت میں ایک مرتبہ ایک طبق یعنی ایک بڑا تھال اِنجیر کا آیا تو نبی نے اصحاب سے فرمایا کہ کھائو۔
(سبل الہدیٰ: 206/7)
کب تقسیم نہ کی جائے؟
اب اس میں ایک سمجھنے والی بات ہے۔ اگر کوئی بہت ہی قیمتی چیز ہے، خاص چیز ہے۔ خصوصی کسی بزرگ کے لیے آئی ہے۔ اگر قیمتی چیز ہے تو وہ اسے اپنے پاس رکھ لیں، تقسیم کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ حکمِ عام اُن چیزوں کے لیے بتایا گیا ہے جو عام ہیں۔ مثلاً کوئی شہد لے آیا، کوئی کیلے لے آیا، کوئی اَمرود لے آیا۔ ابھی ما شاء اللہ فلاں بھائی جوس کے ڈبے لے آئے ہیں۔ یہ ایسی چیزیں ہیں کہ تقسیم کر دی جائیں۔ ان کی تقسیم کا حکم ہے۔ اس بارے میں دو واقعات بھی سن لیجیے۔ اس سے اندازہ ہوجائے گا اور اِن شاء اللہ بات مکمل سمجھ میں آجائے گی۔
امام ابو یوسف کا پہلا قصہ
خلیفہ ہارون الرشید کے زمانے میں امام ابو یوسف قاضی القضاۃ (چیف جسٹس) تھے۔ امام ابو حنیفہ کے شاگردِ رشید تھے۔ ایک مرتبہ خلیفہ ہارون الرشید نے امام ابو یوسف کو بہت زیادہ مال ہدیہ میں بھیجا۔ لانے والا قاصد دورانِ مجلس آیا۔ ساتھیوں میں سے کسی نے کہا کہ آپﷺ نے فرمایا ہے: ’’مجلس کا ہدیہ مشترک ہوتا ہے‘‘۔ امام ابو یوسف نے فرمایا کہ اس حدیث کا یہ مطلب نہیں ہے جو آپ بتا رہے ہیں،  بلکہ اس سے مراد کھانے پینے کی عام چیزیں ہیں کہ اس میں سب کو شریک کرلیا جائے۔
امام ابو یوسف کا دوسرا قصہ
اسی طرح کا ایک اور واقعہ بھی نقل کیا گیا ہے۔ ایک مرتبہ امام ابو یوسف مجلس میں تشریف فرما تھے۔ یحییٰ بن معین جو مشہور محدّث ہیں یہ بھی بیٹھے ہوئے تھے۔ اتنے میں ایک شخص بادشاہ ہارون الرشید کی طرف سے قیمتی ہدیہ لے آئے۔ لوگوں نے کہا کہ جی! ہدیہ تو مشترک ہوتا ہے۔ ابو یوسف نے فرمایا کہ یہ بات کھجور وغیرہ کے لیے ہے، عام نہیں ہے۔ امام ابویوسف نے خادم سے فرمایا کہ اسے لے جائو۔
(عمدۃ القاری: 165/13)
قیمتی ہدیہ اپنے گھر بھجوادیا۔ بات کی وضاحت پوری ہوگئی کہ عام چیزیں مثلاً کھانے پینے کی چیزیں ہوں تو تقسیم کر دی جائیں۔ ہاں! اگر کوئی قیمتی چیز ہے تو اس کا اختیار ہے چاہے تو گھر بھیج دے، چاہے تقسیم کر دے۔
رشوت بہ نام ہدیہ جائز نہیں
اچھا! رشوت بعض دفعہ ہدیہ کی شکل میں آتی ہے۔ یہ بھی ایک قابلِ غور بات ہے۔ حضرت ابو حمید ساعدی فرماتے ہیں کہ نبی نے قبیلہ بنو سُلَیم کے ایک شخص کو زکوٰۃ وصول کرنے والا بنایا۔ یہ نبی کی طرف سے سفیر اور نمائندہ بن کر مختلف علاقوں میں گئے۔ وہاں سے زکوٰۃ وصول کی کہ نبی نے بھیجا ہے۔ لوگوں نے اپنی زکوٰۃ ادا کی۔ اب جب یہ مدینہ طیبہ واپس تشریف لائے تو نبی کی خدمت میں وصول کی گئی زکوٰۃ پیش کی۔ اور کہا کہ یہ آپ کا ہے جس کے لیے مجھے بھیجا اور یہ مجھے ہدیہ ملا ہے۔ (یعنی یہ میرا ہے) نبی نے یہ بات سنی تو غصہ ہوئے اور فرمایا: پھر کیوں نہیں اپنے ماں باپ کے گھر بیٹھتے، پھر ہم دیکھتے کہ اگر تم سچے ہو تو کوئی تمہیں دیتا ہے یا نہیں دیتا۔ پھر آپﷺ نے ایک خطبہ دیا، جس میں یہی واقعہ دہرایا اور فرمایا: خدا کی قسم! تم میں سے کوئی ناحق مال لے گا تو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملے گا کہ اس پر بوجھ ہوگا۔ میں ضرور اس شخص کو جانتا ہوں جس پر اونٹ کا بوجھ ہوگا اور وہ آواز نکال رہا ہوگا، یا گائے کا بوجھ ہوگا جس کی آواز آ رہی ہوگی، یا بکری کا بوجھ ہوگا جو مِنمِنا رہی ہوگی۔ پھر آپﷺ نے اپنے ہاتھوں کو اونچا فرمایا یہاں تک کہ آپ کی بغل مبارک کی سفیدی نظر آنے لگی (یعنی ہاتھ کافی اونچے اٹھائے) اور فرمایا: اے اللہ! میں نے بات پہنچا دی۔ میری آنکھوں نے دیکھ لیا اور میرے کانوں نے سن لیا۔
(صحیح بخاری: 6578)
جو اپنے عہدے کی وجہ سے تحفے قبول کرتا ہے تو یہ جائز نہیں۔ یہاں سے معلوم ہوا کہ جو لوگوں کے درمیان فیصلہ کرنے کے فرائض انجام دیتے ہیں، یا جیسے امامِ مسجد، خطیب اور دنیاوی عہد یداران کے لیے بھی ہدایا قبول کرنے میں بہت احتیاط اور خیال کرنے کی ضرورت ہے۔
حضرت ابو حُمید ساعدی روایت کرتے ہیں کہ نبی نے فرمایا: عُمّال کا (زکوٰۃ وصول کرنے والوں کا) ہدیہ لینا خیانت ہے۔ (مسند احمد: رقم 23090)
وہ مقرر کیے گئے ہیں، لوگوں کے پاس Duty bound ہیں، اور ان کو اُن کا وظیفہ مل رہا ہے۔ اگر کوئی آدمی واجب سے زیادہ دیتا ہے تو وہ سب اُمت کے لیے ہے، اکیلے اس وصولی کرنے والے کے لیے نہیں ہے۔لہٰذا وہ اسے اپنے گھر نہیں لے جاسکتا۔ اس میں حدیث سنیے!
حضرت بریدہ فرماتے ہیں نبی نے فرمایا: جس شخص کو ہم کسی عمل پر عامل بنائیں (زکوٰۃ اور صدقات کی وصولی کا) اور اسے طے شدہ وظیفہ دیں (وہ اس کے لیے حلال ہے) پھر اس کے بعد جتنا وہ کسی سے لے گا وہ خیانت ہے۔ (سنن ابی داؤد: رقم 2943)
حضرت علی فرماتے ہیں کہ نبی نے فرمایا: امیر کا ہدیہ لینا رشوت ہے، قاضی کا ہدیہ لینا رشوت ہے۔ (کنزالعمال: 112/6)
یعنی عہدے کی وجہ سے کسی سے کسی چیز کا لے لینا اسے رشوت فرمایا گیا ہے۔
حضرت معاذ کو نصیحت
حضرت معاذ بن جبل کو نبی نے یمن کی طرف حاکم بنا کر بھیجا۔ خود فرماتے ہیں کہ میں روانہ ہوگیا تو اچانک میں نے دیکھا کہ میرے پیچھے کوئی آدمی بلانے کے لیے آ رہا ہے۔ اس آنے والے شخص نے قریب آکر کہا: نبی آپ کو بلا رہے ہیں۔ میں واپس آیا، نبی کی خدمت میں حاضر ہوا۔ نبی نے پوچھا: معاذ! تمہیں معلوم ہے میں نے تمہیں کیوں بلایا ہے؟ پھر نبی نے فرمایا:
لا تصيبنّ شيئًا بغير إذني، فإنه غلولٌ، ومن يغلل يأت بما غلّ يوم القيامة، لهذا دعوتك فامض لعملك.
کوئی چیز میری اجازت کے بغیر مت لینا کہ یہ خیانت ہوگی۔ اور جو کوئی خیانت کرے گا وہ قیامت کے دن وہ چیز لے کر آئے گا جو اس نے خیانت کرکے لی ہوگی۔ اسی بات کو کہنے کے لیے میں نے تمہیں بلایا تھا، اب تم اپنے کام کے لیے جاؤ۔ (سنن ترمذی: رقم 1335)
لوگ حکام کو، عہدیداروں کو اس لیے تحائف اور ہدایا دیتے ہیں کہ ان کا کام بن جائے، ان کے ساتھ کوئی نرمی کرلے۔ وگرنہ یہ گھر بیٹھے ہوں، عہدہ اُن کے پاس کوئی نہ ہو، تو ان کو کوئی کچھ نہ دینے آئے۔ یہ کرسی کی وجہ سے، عہدہ کی وجہ سے جو فائدہ اٹھاتے ہیں تو فرمایا کہ یہ جائز نہیں۔
عمر بن عبدالعزیز کا قصہ
حافظ ابنِ حجر نے ایک واقعہ لکھا ہے کہ پانچویں خلیفۂ راشد عمر بن عبدالعزیز کو ایک مرتبہ خواہش ہوئی کہ میں سیب کھائوں۔ گھر میں معلوم کیا کہ سیب ہے یا نہیں ہے؟ پیسے بھی نہیں تھے، نہ جیب میں، اور نہ گھر میں۔ دل میں طلب ہوئی کہ چلو سیب کھاتے ہیں۔ اللہ کی شان کہ سرکاری کام سے کسی جگہ گئے۔ وہاں انہیں ایک تھال میں سیب پیش کیے گئے۔ اب یہ تو اپنے سرکاری کام پہ تھے۔ تھال میں سیب پیش ہوئے تو ایک سیب کو لے کر دیکھا اور سونگھا، پھر سب کو واپس کر دیا۔ کسی نے کہا کہ اے خلیفہ! رسولِ پاک ﷺ بھی ہدیہ قبول فرماتے تھے، یہ ہدیہ ہم آپ کو دے رہے ہیں، آپ اسے قبول فرما لیں۔ حضرت عمر بن عبدالعزیزm نے فرمایا: ہاں! اُن لوگوں کے لیے تو وہ ہدیہ تھا، لیکن ہم لوگوں کے لیے یہ رشوت نہ بن جائے۔ (فتح الباری: 5/221
عجیب بات ہے یا نہیں؟ کہ چاہت کے باوجود کہہ رہے ہیں کہ میں نہیں لیتا۔ نبیﷺ اور اُن کی جماعت کا مقام، مرتبہ اور تھا۔ اُن کی نیتیں، اُن کے معاملات وہ للّٰہیت والے تھے۔ میرے لیے ایسا نہ ہو کہ یہ ہدیہ رشوت کی شکل بن جائے۔
رشوت کیسے بنتی ہے؟
یہ بات یاد رکھیں! جس آدمی کے ذمے جو کام ہے، وہ اُس کام کے پیسے لے رہا ہے، تنخواہ لے رہا ہے۔ اب اسے چاہیے کہ اس کام کو پورا کرے۔ اس کام پر الگ سے پیسے لینا سود کہلاتا ہے، رشوت کہلاتا ہے جو منع ہے اور حرام ہے۔ مثلاً جج کے ذمے ہے صحیح فیصلے کرنا، وکیل کے ذمے ہے صحیح طور سے کیس کو کھول کے رکھنا، حق کو واضح کرنا۔ اب یہ تو ان کی ڈیوٹی ہے۔ اب اگر یہ حضرات مثلاً اپنی ڈیوٹی نبھانے کے لیے کسی سے کوئی پیسے مانگیں، یا لیں، یا کوئی اِن کو دے کہ جی! اگر ہم ان کو دیں گے تو ہمارا Case ہماری مرضی کا ہوجائے گا، تو یہ تمام صورتیں منع ہیں۔ یہ رشوت کے زُمرے میں آتی ہیں۔
ہدیہ تو خالص محبت اور اُلفت کی وجہ سے ہوتا ہے۔ کام نکلوانے کے لیے جو بنام ہدیہ ہوتا ہے وہ رشوت ہے، کیوںکہ یہی بندہ اگر گھر بیٹھا ہو اور کوئی غرض اس سے وابستہ نہ ہو تو کیا ہم جائیں گے اس کو دینے کے لیے؟ اگر جائیں گے بلا غرض تو پھر ٹھیک ہے، اگر نہیں جائیں گے تو پھر یہ دینا ٹھیک نہیں ہوگا۔ بعض مرتبہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ کسی عہدیدار یا آفیسر سے پرانا تعلق ہے۔ ان کے عہدیدار یا آفیسر بننے سے پہلے کا۔ وہ ہمارے گھر آتے ہیں، ہم ان کے گھر جاتے ہیں، معاملہ چل رہا ہے۔ تب تو کوئی حرج کی بات نہیں۔ اگر کوئی کیس ایسا آگیا اور ان صاحب کے پاس جانا پڑگیا، اگر سابقہ معاملہ کے مطابق عمل دخل ہے، آنا جانا ہے، لین دین ہے تب تو جائز ہے۔ لیکن پہلے تو چھوٹا ہدیہ دیتے تھے، اب جب کیس پھنس گیا تو بڑی چیزیں ہدیہ کی جا رہی ہیں تو مقصد دیکھا جائے گا۔ کوئی آن ڈیوٹی ہے تو اسے مرتبے کا پاس رکھنا ہے، خیانت نہیں کرنی۔اگر رشتہ دار یا پرانا واقف کار اپنے غلط مسئلے کے حل کے لیے بڑے تحائف دے رہا ہے، تو بچنا ضروری ہے۔
حسن بصری کا قصہ
اسی طرح علماء کا معاملہ بڑا سخت ہے۔ ان کو لوگ ہدیہ دیتے رہتے ہیں۔ ان کو ہدیہ دینے والے کی نیت اور اپنی نیت بھی دیکھنے کی ضرورت ہے۔ حضرت حسن بصری کے پاس ایک شخص آیا اور دراہم سے بھری ہوئی تھیلی دی۔ ساتھ میں خراسان سے باریک کپڑا یعنی Imported کپڑا لا کے پیش کیا۔ حضرت نے واپس فرما دیا اور فرمانے لگے: دیکھو! جو شخص اس مرتبے پر بیٹھے جہاں پہ میں بیٹھا ہوں یعنی وعظ کرنا، نصیحت کرنا، لوگوں کو اللہ اور اس کے رسولﷺ کے قریب کرنا، اللہ کی بات کو پہنچانا، نبی کے طریقے کو سمجھانا۔ کوئی ایسی نازک جگہ پہ بیٹھا ہو تو اسے چاہیے کہ لوگوں سے اس قسم کی چیزیں قبول نہ کرے۔ ایسا نہ ہو کہ یہ قبول کرے اور قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے پاس ایسے حال میں پہنچے کہ کہہ دیا جائے ’’تو جو بیان کرنے جاتا تھا، تجھے وہاں سے پیسے مل جاتے تھے، چیزیں مل جاتی تھی، ہدیہ مل جاتا تھا۔ معاملہ برابر ہوگیا، اب ہمارے پاس کیا لینے آیا ہے؟ (فضائل صدقات)
یہ بہت نازک مقام ہے۔ اگر ہدیہ لینا بھی ہو تو بھی اَسلاف کے طریقے کو دیکھیں کہ وہ قبول کرتے تھے تو کس طرح سے کرتے تھے۔ حضرت حسن بصری ان لوگوں کا ہدیہ قبول فرماتے تھے جو یہ سمجھتا ہو کہ میں مولانا صاحب کو دے کر، امام صاحب کو دے کر کوئی احسان نہیں کر رہا۔ بلکہ یہ مجھ پر احسان کر رہے ہیں کہ میرا ہدیہ قبول کر رہے ہیں۔ انہوں نے مہربانی فرما کر میرا ہدیہ قبول کرلیا۔ تو ایسے لوگوں کا ہدیہ قبول کرلینا ٹھیک ہے۔
سفارش کرنا
اسی طرح بعض دفعہ سفارش کرنا پڑتی ہے۔ یہ سفارش کرنا جائز کام کے اندر نیکی ہے۔ رشتہ کے لیے سفارش کرنا، Job کے لیے یعنی نوکری کے لیے سفارش کرنا اور کسی بھی جائز کام کے لیے، نیک کام کے لیے سفارش کرنا عبادت کا درجہ رکھتا ہے۔ لیکن سفارش کرنے والا اگر سفارش کے عوض ہدیہ لے تو یہ منع ہے۔ کسی کو مجھ سے کوئی کام پڑا کہ حضرت! آپ میری فلاں جگہ سفارش کر دیں، وہ آپ کے جاننے والے ہیں۔ ساتھ میں مٹھی بھی گرم کر رہا ہو اور ٹوکرا بھی دے کہ جناب! یہ قبول کرلیں۔ تو سفارش کرنے پر کسی چیز کو قبول کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ حدیث پاک سنیے!
حضرت ابو امامہ سے روایت ہے کہ نبی نے فرمایا: جو شخص کسی کی سفارش کرے اور اس سفارش کی وجہ سے اس کو ہدیہ میں کوئی چیز ملے، اگر اس نے لے لی تو سود کے دروازوں میں سے بڑے دروازے میں داخل ہوگیا۔ (سنن ابی دائود: رقم 3541)
سفارش کرنا نیک کام ہے۔ یہ خدمتِ خلق ہے۔ خدمتِ خلق اللہ کے لیے ہو، پیسوں کے لیے نہ ہو۔ بعض موقعوں پر کسی پریشان حال کی سفارش کرنا واجب بھی ہوجاتا ہے۔ سفارش کے پیسے لینا منع ہے۔ ہدیہ ایک الگ چیز ہے اور رشوت ایک الگ چیز ہے۔ کس کے لیے دے رہے ہیں؟ نیت ہماری دینے والی چیز کو ہدیہ بھی بناسکتی ہے جس پر محبت ملے گی، اللہ کا قرب ملے گا، سنت پوری ہوگی۔ اور ہماری ہی نیت ہمارے ہی دیے ہوئے مال کو رشوت بھی بناسکتی ہے جس پر جہنم کے فیصلے ہوں گے۔ نیت کا اعتبار ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں صحیح سمجھ عطا فرمائے۔
ہدیہ کے چند مسائل
ہدیہ کے بارے میں چند مسائل سن لیجیے اور اسے یاد رکھنے کی کوشش کریں۔ ہدیہ قبول کرنا سنت ہے بشرطیکہ کسی دنیاوی غرض، یا دنیاوی مقصد کے لیے نہ دیا گیا ہو، خالص اللہ کے لیے دیا گیا ہو، محبت کے لیے دیا گیا ہو، رشتے داری جوڑنے کے لیے دیا گیا ہو۔ رشتے داری میں جو خرابیاں ہیں ان کو ختم کرنے کے لیے دیا گیا ہو۔ اچھی نیت کے ساتھ ہدیہ کا لینا اور دینا، یہ عین سنت ہے۔ جو سرکاری اشخاص ہیں، عہدیدار ہیں، تو انہیں جب تحائف ملیں تو اپنے عہدے کی وجہ سے ان تحائف کا لینا ان کے لیے اب جائز نہیں۔ رہا کسی مفتی یا کسی عالم کو ہدیہ اس لیے دیا جا رہا ہے کہ وہ مسئلے میں اس کی رعایت کرے تو ایسا ہدیہ لینا اور دینا دونوں حرام ہیں۔ چاہے طلاق کا مسئلہ ہو یا کاروباری مسئلہ ہو۔ یہ سمجھ کر دینا کہ وہ شریعت میں سے کچھ گنجائش نکال کر ہمیں بتائیں گے اور ہمارا معاملہ ہماری چاہت کے مطابق آسان ہوجائے گا۔ اس نیت سے کسی عالم کو دینا منع ہے۔
ہاں! کسی مفتی یادین کی خدمت کرنے والے کو محبت واُلفت، عقیدت کی بنیاد پر ہدیہ دیا جا رہا ہے کہ یہ شخص دین کی خدمت کر رہا ہے۔ اور یہ دین کی خدمت اپنی سہولت کے ساتھ کرسکے گا اگر اس کی مدد کی جائے۔ یہ دینا بہت بڑا ثواب ہوگا۔ یہ اپنی ضروریات کو میرے ہدیہ سے پورا کرے، اور اپنے اوقات کو خوب شوق اور محبت کے ساتھ دین میں لگائے۔ یہ ہدیہ دینا باعثِ برکت بھی ہوگا۔
جس کو قرض دیا گیا ہو اس سے ہدیہ لینا منع ہے۔ اسی طرح ایسے ہدایا جو منگنی اور رسموں کے طور پر دیا جاتا ہے، اگر کبھی دینا پڑے تو کوشش یہ ہو کہ اللہ کے لیے دے، واپسی کی اُمید نہ رکھے۔ ہمارے ہاں نیوتا وغیرہ چلتا ہے، اس کو نوٹ کرتے ہیں، لکھتے ہیں۔ ہم نے اتنا دیا، اس نے اتنا دیا۔ میں نے اتنا دینا ہے، اس سے اتنا لینا ہے۔ اسے جائز نہیں کہا گیا۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں پوری زندگی تمام اعمال نبی کریمﷺ کے مبارک طریقوں کے مطابق کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔
وَاٰخِرُ دَعَوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں