🌴 صلوة التسبیح کا طریقہ اور فضیلت 🌴

🌴 صلوة التسبیح کا طریقہ اور فضیلت 🌴

🌹 حضور اکرم ﷺ نے ایک مرتبہ اپنے چچا حضرت عباس رضی اللہ عنہ سے فرمایا: اے عباس! اے میرے چچا! کیا میں تمہیں ایک عَطِیَّہ کروں؟ ایک بخشش کروں؟ ایک چیز بتاؤں؟ تمہیں دس چیزوں کا مالک بناؤں؟ جب تم اِس کام کو کروگے تو حق تَعَالیٰ شَانُ تمہارے سب گناہ پہلے اور پچھلے، پُرانے اور نئے، غلَطی سے کیے ہوئے اور جان بوجھ کر کیے ہوئے، چھوٹے اور بڑے، چھپ کر کیے ہوئے اور کھُلَّم کھلا کیے ہوئے؛ سب ہی مُعاف فرما دیں گے، وہ کام یہ ہے کہ:
چار رکعت نفل (صلاۃ التسبیح کی نیت باندھ کر) پڑھو، اور ہر رکعت میں جب سورہ الحمد اور سورۃ پڑھ لو تورکوع سے پہلے {سُبْحَانَ اللہِ وَالحَمدُ لِلّٰه وَلَاإلٰهَ إِلَّا اللہُ وَاللہُ أَکْبَرُ } پندرہ مرتبہ پڑھو، پھر جب رکوع کرو تو دس مرتبہ اُس میں پڑھو، پھر جب رکوع سے کھڑے ہوتو دس مرتبہ پڑھو، پھر سجدہ کرو تو دس مرتبہ اُس میں پڑھو، پھر سجدے سے اٹھ کر بیٹھو تو دس مرتبہ پڑھو، پھر جب دوسرے سجدے میں جاؤ تو دس مرتبہ اُس میں پڑھو، پھر جب دوسرے سجدے سے اُٹھو تو (دوسری رکعت میں) کھڑے ہونے سے پہلے بیٹھ کر دس مرتبہ پڑھو، اِن سب کی میزان پچھتر ہوئی، اِس طرح ہر رکعت میں پچھتر دفعہ ہوگا، اگر ممکن ہوسکے تو روزانہ ایک مرتبہ اِس نمازکو پڑھ لیا کرو، یہ نہ ہوسکے تو ہر جمعہ کو ایک مرتبہ پڑھ لیا کرو، یہ بھی نہ ہوسکے تو ہر مہینے میں ایک مرتبہ پڑھ لیا کرو، یہ بھی نہ ہوسکے تو ہر سال میں ایک مرتبہ پڑھ لیا کرو، یہ بھی نہ ہوسکے تو عمر بھر میں ایک مرتبہ تو پڑھ ہی لو۔
(📚سُنن ابن ماجہ)

🍁صلوة التسبیح کا طریقہ🍁

‏‎صلوٰۃ التسبیح 4 رکعات نماز ھوتی ہے اس نماز کے پڑھنے کے 2 طریقے ہیں۰

‏‎🌺ایک طریقہ یہ ہے کہ 4 رکعات صلوٰۃ التسبیح کی نیت باندھ کر پہلی رکعت میں کھڑے ھو کر ثناء ، تعوذ، تسمیہ، سورہ فاتحہ اور کوئی سورت پڑھنے کے بعد رکوع میں جانے سے پہلے پندرہ 15 یہ تسبیح پڑھیں
سُبْحَانَ اَللّٰهِ
وَالْحَمدُلِلّٰهِ
وَ لَا الهَ إلَّاإللهُ
و الله اکبر۔

(وَ لا حول و لا قوة الّا بالله العلی العظیم کا اضافہ کرنا بھی درست ھے لیکن لازم نہیں) پڑھ کر پھر رکوع میں سُبحَان َرَبِّي َالعَظِیْم”کے بعد 10 مرتبہ تسبیح پڑھیں،پھر قومہ میں ” سَمِعَ اللہُ لِمَنْ حَمِدَہٗ رَبَّنَالَکَ الْحَمدُ” کےبعد 10 مرتبہ تسبیح پڑھیں، پھر پہلے سجدہ میں ” سُبْحَانَ رَبِّیَ الاَعلٰی “کے بعد 10 مرتبہ پڑھیں،پھر پہلے سجدہ سے اٹھا کر جلسہ میں 10 مرتبہ پڑھیں پھر دوسرے سجدہ میں “ سُبْحَان َرَبِّیَ الاَعْلٰی”کے بعد 10 مرتبہ تسبیح پڑھیں، پھر دوسرے سجدے سے سر اٹھاتے ھوئے “ اَللہ ُاَکْبَرْ  ” کہہ کر بیٹھ جائیں اور 10 مرتبہ تسبیح پڑھیں پھر بغیر
اَللہُ اَکْبَرْ ” کہے دوسری رکعت کے لئیے کھڑے ھو جائیں پھر اسی طرح دوسری، تیسری اور چوتھی رکعت مکمل کریں۔
‏‎دوسری اورچوتھی رکعت کے قعدہ میں پہلے 10 مرتبہ تسبیح پڑھیں اور پھر التحیات پڑھیں۔اسی ترتیب سےچاروں رکعات میں تسبیح پڑھیں،اس طرح 4 رکعات کے ہر رکعات میں 75 مرتبہ اور کل تسبیحات تین 300 مرتبہ ھو جائیں گے۔
‏‎🌺دوسرا طریقہ یہ ہے کہ پہلی رکعت میں کھڑے ھو کر ثناء کے بعد 15 مرتبہ تسبیح پڑھیں، پھر تعوذ تسمیہ، سورہ فاتحہ اور کوئی سورت پڑھ کر رکوع میں جانے سے پہلے 10 مرتبہ یہ تسبیح پڑھیں، رکوع، قومہ، پہلےسجدہ، جلسہ اور دوسرے سجدےمیں دس دس مرتبہ تسبیح پڑھیں،اس کےبعد اللہُ اَکبَر”کہتے ھوئے سیدھے کھڑے ھو جائیں۔
‏‎اسی ترتیب سے دوسری، تیسری اورچوتھی رکعت میں تسبیح پڑھیں۔دوسری رکعت میں کھڑے ھوتے ہی 15 مرتبہ تسبیح پڑھیں گے۔
اسی ترتیب سے باقی رکعات ادا کریں یہ دونوں طریقے صحیح اور قابلِ عمل ہیں،جو طریقہ آسان معلوم ھو اس کو اختیار کیا جائے۰
اس نماز کا کوئی خاص وقت نہیں ،اسےمکروہ اوقات کے علاوہ  جب بھی ھو سکے پڑھ  سکتے ہیں اگر تسبیحات میں کچھ کمی واقع ھو تو دوسرے رکن یا رکعت میں وہ مقدار زیادہ کر سکتے ہیں کمی بیشی پر کوئی سجدہِ سہو لازم نہیں۰
‏‎
🍁 چند اہم مسائل 🍁
اِس نماز کے مُتعلِّق چند مسائل بھی لکھے جاتے ہیں؛ تاکہ پڑھنے والوں کو سہولت ھو:

(1) اِس نماز کے لیے کوئی سورت یا آیات قرآن کی مُتعیَّن نہیں، جو کوئی سورت یا آیات دل چاہے پڑھے۰

(2) اِن تسبیحوں کو زبان سے ہرگز نہ گِنے، کہ زبان سے گِننے(مثلاً ایک دو تین کہنے) سے نماز ٹوٹ جائے گی، اُنگلیوں کو بند کرکے گننا اور تسبیح ہاتھ میں لے کر اُس پر گننا جائز ہے؛ مگر مکروہ ہے، بہتر یہ ہے کہ انگلیاں جس طرح اپنی جگہ پر رکھی ہیں ویسی ہی رہیں، اور ہرکلمے پر ایک ایک اُنگلی کو اُسی جگہ دَباتا رہے۔

(3) اگر کسی جگہ تسبیح پڑھنا بھول جائے تو دوسرے رُکن میں اُس کو پورا کرلے؛ البتہ بھولے ہوئے کی قضا رکوع سے اُٹھ کر اور دو سجدوں کے درمیان نہ کرے، اِسی طرح پہلی اور تیسری رکعت کے بعد اگر بیٹھے تو اُن میں بھی بھولے ہوئے کی قضا نہ کرے؛ بلکہ صرف اُن کی ہی تسبیح پڑھے، اور اُن کے بعد جو رکن ہو اُس میں بھولی ہوئی بھی پڑھ لے، مثلاً: اگر رکوع میں پڑھنا بھول گیا تو اُن کو پہلے سجدے میں پڑھ لے، اِسی طرح پہلے سجدے کی دوسرے سجدے میں اور دوسرے سجدے کی دوسری رکعت میں کھڑا ہوکر پڑھ لے، اور اگر رہ جائے تو آخری قعدے میں التحیات سے پہلے پڑھ لے۔

(4) اگر سجدۂ سہو کسی وجہ سے پیش آجائے تو اُس میں تسبیح نہیں پڑھنا چاہیے؛ اِس لیے کہ مقدار تین سو ہے، وہ پوری ہوچکی، ہاں! اگر کسی وجہ سے اِس مقدار میں کمی رہی ہوتو سجدۂ سہو میں پڑھ لے۔

(5) اِس نماز کو مکروہ اوقات کے عِلاوہ باقی دن رات کے تمام اوقات میں پڑھنا جائز ہے۰
مکروہ اوقات یعنی سورج طلوع اور غروب ھوتے وقت،زوال کے وقت جو کہ آجکل پاکستان کے مختلف شہروں میں دن 11:30 سے لیکر 12:30 یا 12:45 تک رہتا ھے۔
صبح صادق کے بعد یہاں تک کے سورج نکل کر اس پر تھوڑا وقت تقریبا دس منٹ گذر نہ جائیں ، نماز عصر کے بعد اور مغرب کا وقت داخل ھونے کے بعد نماز مغرب سے پہلے ان چھ(6) اوقات میں کوئی بھی نفل نماز یا صلوة التسبیح نہ پڑھے باقی تمام اوقات میں پڑھ سکتے ہیں۰

🍀 اس پوسٹ کو ثواب اور صدقہ جاریہ کی نیت سے خوب شئیر کریں
آپکی دعاؤں کا محتاج
🌹 محمد حسن جان
فاضل:-جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹاؤن کراچی۰

Leave a Reply